صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2454 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیرسورۃیونس آیت ۳۲۔ فَذٰلِکُمُ اللہُ رَبُّکُمُ الْحَقُّ فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ فَاَنّٰی تُصْرَفُوْنَ

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 7,883

سوال (Question):

تفسیرسورۃیونس آیت ۳۲۔ فَذٰلِکُمُ اللہُ رَبُّکُمُ الْحَقُّ فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ فَاَنّٰی تُصْرَفُوْنَ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

چندکھیلوں کے سواہرہرکھیل باطل ہے

{فَذٰلِکُمُ اللہُ رَبُّکُمُ الْحَقُّ فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ فَاَنّٰی تُصْرَفُوْنَ }(۳۲) ترجمہ کنزالایمان:تو یہ اللہ ہے تمہارا سچا رب پھر حق کے بعد کیا ہے مگر گمراہی پھر کہاں پھرے جاتے ہو۔ ترجمہ ضیاء الایمان:تو یہ اللہ تعالی ہے جو تمہارا سچا رب ہے ۔پھر حق کے بعد گمراہی کے سوا اور کیا ہے؟ پھر تم کہاں پھرے جاتے ہو؟

ہرطرح کاکھیل باطل ہے

وَقَالَ أَبُو حَنِیفَۃَ:یُکْرَہُ اللَّعِبُ بِالشِّطْرَنْجِ وَالنَّرْدِ وَالْأَرْبَعَۃَ عَشَرَ وَکُلِّ اللَّہْوِ۔ ترجمہ :حضرت سیدناامام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ شطرنج اورنرداوراربعۃ عشرہ کھیلنامکروہ ہے اوراسی طرح ہرطرح کاکھیل باطل ہے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۸:۳۳۷)

شطرنج اورچوسرکھیلناگمراہی ہے

رَوَی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ الْحَکَمِ وأشہب عن مالک فی قولہ تعالی:فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ نقَالَ:اللَّعِبُ بِالشِّطْرَنْجِ وَالنَّرْدِ مِنَ الضَّلَالِ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عبدالحکم اوراشہب حضرت سیدناامام مالک رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالی کے اس فرمان شریف {فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلال}کے متعلق روایت کرتے ہیں کہ شطرنج اورچوسرکھیلناگمراہی ہے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۸:۳۳۷)

تمام کے تمام کھیل باطل ہیں

وَرَوَی یُونُسُ عَنْ أَشْہَبَ قَالَ:سُئِلَ یَعْنِی مَالِکًاعَنِ اللَّعِبِ بِالشِّطْرَنْجِ فَقَالَ:لَا خَیْرَ فِیہِ،وَلَیْسَ بِشَیْء ٍ وَہُوَ مِنَ الْبَاطِلِ، وَاللَّعِبُ کُلُّہُ مِنَ الْبَاطِلِ،وَإِنَّہُ لَیَنْبَغِی لِذِی الْعَقْلِ أَنْ تَنْہَاہُ اللِّحْیَۃُ وَالشَّیْبُ عَنِ الْبَاطِلِ وَقَالَ الزُّہْرِیُّ لَمَّا سُئِلَ عَنِ الشِّطْرَنْجِ:ہِیَ مِنَ الْبَاطِلِ وَلَا أُحِبُّہَا۔ ترجمہ :امام یونس رحمہ اللہ تعالی نے امام اشہب رحمہ اللہ تعالی سے روایت کیاہے کہ انہوںنے بیان کیاکہ حضر ت سیدناامام مالک رضی اللہ عنہ سے شطرنج کے متعلق سوال کیاگیاتوآپ رضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ اس میں خیراوربھلائی نہیں ہے ، اوریہ کوئی شئی نہیں ہے اوریہ باطل ہے اورکھیل تما م کے تمام باطل ہیں ، بلاشبہ عقل والے کو چاہئے کہ اس کی داڑھی اوربڑھاپااسے باطل سے روکے اورامام الزہری رحمہ اللہ تعالی سے جب شطرنج کے متعلق سوال کیاگیاتوانہوںنے فرمایاکہ یہ باطل میں سے ہے میں اسے پسندنہیں کرتا۔ تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۸:۳۳۷)

کینچے اوربینٹے کھیلنامنع ہے

ذَکَرَ ابْنُ وَہْبٍ بِإِسْنَادِہِ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ مَرَّ بِغِلْمَانٍ یَلْعَبُونَ بِالْکُجَّۃِ،وَہِیَ حُفَرٌ فِیہَا حَصًی یَلْعَبُونَ بِہَا، قَالَ:فَسَدَّہَا ابْنُ عُمَرَ وَنَہَاہُمْ عَنْہَا۔ ترجمہ :حضرت سیدناامام ابن وہب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت سیدناعبداللہ بن عمررضی اللہ عنہمابچوںکے پاس سے گزرے جو چھوٹاساگھڑاکھودکرسنگریزوں کے ساتھ کھیل رہے تھے ، آپ رضی اللہ عنہمانے اس گڑھے کو بندکردیااوران کو منع فرمادیا۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۸:۳۳۷)

بچوں کے کھیل میں بھی جواہے

فِی حَدِیثِ ابْنِ عَبَّاسٍ:فِی کُلِّ شی قِمَارٌ حَتَّی فِی لَعِبِ الصِّبْیَانِ بِالْکُجَّۃِ،قَالَ ابْنُ الْأَعْرَابِیِّ:ہُوَ أَنْ یَأْخُذَ الصَّبِیُّ خِرْقَۃً فَیُدَوِّرَہَا کَأَنَّہَا کُرَۃٌ، ثُمَّ یَتَقَامَرُونَ بِہَاوَکَجَّ إِذَا لَعِبَ بِالْکُجَّۃِ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے تھے کہ ہرچیز میں جواہے یہاں تک کہ بچے جوگھڑاکھودکرکھیلتے ہیں اس میں بھی جواہے ۔ امام ابن الاعرابی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیںکہ ایک بچہ کپڑے کاٹکڑالیتاہے اوراسے گول بنالیتاہے گویاکہ وہ گیندہے ، پھراس کے ساتھ جواکھیلتے ہیں۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۸:۳۳۷) نعوذ باللہ من ذلک : یہ کھیل اب بہت عام ہوگیاہے ، بچے جگہ جگہ گلیوں میں کھیل رہے ہوتے ہیں مگرنہ توماں باپ منع کرتے ہیں اورنہ ہی کوئی دوسرابلکہ اب تواسے عیب بھی نہیں جانتے۔ اب گلی گلی جواخانے کھل گئے ہیں کیرم ،کرکٹ، ویڈیوگیمزپرجواہورہاہے ۔

شطرنج ، نرد، لڈو،کیرم بوڈ،ٹینس اوربلیڈکھیلنے کاشرعی حکم

کوئی بھی کھیل باطنی یا ظاہر طور پر کسی واجب چیز سے مشغول کر دے اور اس میں رکاوٹ کا باعث بنے تو علماء کرام کا اس کی حرمت پر اتفاق ہے، مثلا اگر فرض نماز سے مشغول کر دے اور روک دے، یا پھر واجب شدہ نفس کی مصلحت یا اہل و عیال کی واجب مصلحت میں رکاوٹ ڈالے، یا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر، یا صلہ رحمی اور والدین کے ساتھ حسن سلوک میں رکاوٹ کا باعث بنے، یا پھر امامت یا ذمہ داری وغیرہ واجبات میں سے کسی فعل کو نظری سرانجام دینا واجب ہو تو مسلمانوں کے اجماع کے مطابق یہ حرام ہے اور اسی طرح جب وہ کسی حرام امر پر مشتمل ہو، مثلا جھوٹ یا جھوٹی قسم، یا خیانت، یا ظلم یا ظلم پر اعانت، یا دوسری حرام اشیاء پر معاونت کا باعث ہو تو مسلمانوں کے اجماع کے مطابق یہ حرام ہے ۔ اسلام کی نظر میں انسان کی بامقصد زندگی کی بڑی اہمیت ہے ۔اس لئے کہ اس نے لہو ولعب لغو وفضول کاموں سے اپنے ماننے والوں کو سختی سے روکا ہے۔جائز حد میں رہتے اور لغویات و فضولیات سے اجتناب کرتے ہوئے ہر امر کی اجازت دی گئی ہے۔قلب ،جسم ودماغ اور فکر وخیال کی تفریح وتازگی بخشنے کی بھی اسلام نے اجازت دی ہے۔اس مقصد کے لئے ہر ایسے کھیل کی اجازت ہے جو لہو ولعب لغو وفضول چیزوں پہ مشتمل نہ ہو۔جس سے نہ اللہ تعالی کے حقوق ضائع ہوتے ہوں اورنہ بندوں کے ۔جو تمام منہیات شرعیہ سے بھی پاک ہو ۔ ان شرطوں کی رعایت کے ساتھ ہراس کھیل کود کی اجازت ہے جس کو شرعیت نے منع نہیں کیا۔ہارجیت کی شرط اور حقوق اللہ اور حقوق العباد میں تفریط کے بغیر عادت بنائے بغیر کبھی کبھار صرف تفریح قلب کے لئے کھیلنے کی گنجائش ہے۔ لیکن یہ بھی تب جائز ہے جب کسی واجب اور فرض چیز میں رکاوٹ نہ بنے، اور نہ ہی کسی حرام کام پر مشتمل نہ ہو، تو علماء کرام کا اس کے حکم میں اختلاف ہے:چنانچہ جمہور ائمہ کرام (حضرت سیدناامام ابو حنیفہ، حضرت سیدناامام مالک، حضرت سیدناامام احمد، اورحضرت سیدنا امام شافعی رضی اللہ عنہم کے بعض ساتھی )اس کو حرام قرار دیتے ہیں، اور انہوں نے اس کی حرمت میں کتاب اللہ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اقوال پیش کیے ہیں۔

کتاب اللہ کے دلائل

{یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلٰمُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ}اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَکُمُ الْعَدٰوَۃَ وَالْبَغْضَآء َ فِی الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ وَیَصُدَّکُمْ عَنْ ذِکْرِ اللہِ وَعَنِ الصَّلٰوۃِ فَہَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَہُوْنَ }(سورۃ المائدۃ : ۹۰،۹۱) ترجمہ ضیاء الایمان:اے ایمان والو شراب اور جُوااور بُت اور پانسے پلید ہی ہیں، شیطانی کام تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ ،شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ وہ شراب اور جوے و قماربازی کے ذریعہ تمہارے درمیان عداوت و دشمنی اور بغض پیدا کر دے، اور تمہیں اللہ تعالی کے ذکر اور نماز سے روک دے، تو اب بھی تم باز آ جاؤ ۔

آیت کریمہ کی تفسیر

ہَذِہِ الْآیَۃُ تَدُلُّ عَلَی تَحْرِیمِ اللَّعِبِ بِالنَّرْدِ وَالشِّطْرَنْجِ قِمَارًا أَوْ غَیْرَ قِمَارٍ، لِأَنَّ اللَّہَ تَعَالَی لَمَّا حَرَّمَ الْخَمْرَ أَخْبَرَ بِالْمَعْنَی الَّذِی فِیہَا فَقَالَ:یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُالْآیَۃَثُمَّ قَالَ:إِنَّما یُرِیدُ الشَّیْطانُ أَنْ یُوقِعَ بَیْنَکُمُ الْعَداوَۃَ وَالْبَغْضاء َالْآیَۃَفَکُلُّ لَہْوٍ دَعَا قَلِیلُہُ إِلَی کَثِیرٍ،وَأَوْقَعَ الْعَدَاوَۃَ وَالْبَغْضَاء َ بَیْنَ الْعَاکِفِینَ عَلَیْہِ،وَصَدَّ عَنْ ذِکْرِ اللَّہِ وَعَنِ الصَّلَاۃِ فَہُوَ کَشُرْبِ الْخَمْرِ، وَأَوْجَبَ أَنْ یَکُونَ حَرَامًا مِثْلَہُ۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی: ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہ آیت نرد اور شطرنج پر جوا لگا کر اور جوے کے بغیر کھیلنے کی حرمت پر دلالت کرتی ہے، کیونکہ جب اللہ تعالی نے شراب کو حرام کیا تو اس میں پائے جانے والے معنی کی خبر دیتے ہوئے فرمایا:شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ وہ شراب اور جوے و قماربازی کے ذریعہ تمہارے درمیان عداوت و دشمنی اور بغض پیدا کر دے، اور تمہیں اللہ تعالی کے ذکر اور نماز سے روک دے . تو ہر وہ کھیل اور لہوو لعب اس کی کم مقدار اس کی زیادہ کی دعوت دے، اور اسے کھیلنے والوں میں عداوت و بغض پیدا کر دے، اور اللہ تعالی کے ذکر اور نماز سے روک دے تو یہ شراب نوشی کی طرح ہی ہے، تو اس سے یہ واجب ٹھہرا کہ وہ شراب کی طرح ہی حرام ہو ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکرشمس الدین القرطبی (۶:۲۹۱) مولاعلی رضی اللہ عنہ نے شطرنج کھیلنے والوں کو مورتیوں کاپجاری قراردیا عَنِ الْأَصْبَغِ بْنِ نُبَاتَۃَ، عَنْ عَلِیٍّ:أَنَّہُ مَرَّ عَلَی قَوْمٍ یَلْعَبُونَ بِالشِّطْرَنْجِ فَقَالَ:مَا ہَذِہِ التَّمَاثِیلُ الَّتِی أَنْتُمْ لَہَا عَاکِفُونَ لَأَنْ یَمَسَّ جَمْرًا،حَتَّی تُطْفَأَ خَیْرٌ لَہُ مِنْ أَنْ یَمَسَّہَا ۔ ترجمہ :حضرت سیدنامولاعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کچھ افراد کے پاس سے گزرے جو شطرنج کھیل رہے تھے تو وہ کہنے لگے:ان مجسموں کو کیا ہے جن پر تم جھکے ہوئے ہو ، آپ رضی اللہ عنہ نے ان کو فرمایاکہ تم آگ کاانگارہ اپنے ہاتھ میں پکڑواوراسے بجھنے تک اپنے ہاتھ میں ہی رکھوتویہ تمھارے لئے اس کھیل سے بہترہے ۔ (شعب الإیمان:أحمد بن الحسین بن علی بن موسی أبو بکر البیہقی (۸:۴۶۷)

اقوال صحابہ کرام رضی اللہ عنہم

عَنْ عَلِیٍّ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ:الشَّطْرَنْجُ ہُوَ مَیْسِرُ الْأَعَاجِمِ وَرُوِّینَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّہُ سُئِلَ عَنِ الشَّطْرَنْجِ فَقَالَ:ہِیَ شَرٌّ مِنَ النَّرْدِ، وَرُوِّینَا عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَنَّ أَبَا مُوسَی الْأَشْعَرِیَّ قَالَ:لَا یَلْعَبُ بِالشِّطْرَنْجِ إِلَّا خَاطِیئٌ، وَعَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ أَبِی جَعْفَرٍ أَنَّ أَبَا سَعِیدٍ الْخُدْرِیَّ کَانَ یَکْرَہُ أَنْ یَلْعَبَ بِالشِّطْرَنْجِ، وَعَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَنَّہُ سُئِلَ عَنْ لَعِبِ الشَّطْرَنْجِ، فَقَالَ:ہِیَ مِنَ الْبَاطِلِ وَلَا یُحِبُّ اللہُ الْبَاطِلَ وَرُوِّینَا مِثْلَ ذَلِکَ عَنِ ابْنِ الْمُسَیِّبِ، وَرُوِّینَا عَنْ مَالِکٍ أَنَّہُ قَالَ:الشَّطْرَنْجُ مِنَ النَّرْدِ، بَلَغَنَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ وَلِیَ مَالَ یَتِیمٍ فَأَحَرَقَہَا۔ ترجمہ :٭…حضرت سیدنامولاعلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ شطرنج عجمیوں کاجواہے ۔ ٭…حضرت سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے شطرنج کے بارے میں دریافت کیا گیا تو ان کا قول تھا:یہ نرد سے بھی زیادہ برا ہے ۔ ٭…حضرت سیدناابوموسی الاشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ شطرنج سوائے خطاکارکے کوئی نہیں کھیلتا۔ ٭…حضرت سیدناابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ شطرنج کے ساتھ کھیلنامکروہ جانتے تھے ۔ ٭…حضرت سیدناامام ابن شہاب رحمہ اللہ تعالی سے شطرنج کے متعلق سوال کیاگیاتوآپ رحمہ اللہ تعالی نے فرمایایہ کھیل باطل ہے اوراللہ تعالی باطل چیز کو پسندنہیں فرماتا۔ ٭…حضرت سیدناامام مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ شطرنج بھی نرد ہی ہے اورہمیں حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماکے متعلق یہ بات پہنچی ہے کہ ایک یتیم کامال انکی کفالت میں دیاگیاتواس میں شطرنج تھی ، آپ رضی اللہ عنہ نے اس شطرنج کوجلادیاتھا۔ (شعب الإیمان:أحمد بن الحسین بن علی بن موسی أبو بکر البیہقی (۸:۴۶۷) یہ ذہن میں رہے کہ نردکی موجودہ صورت لڈوکی ہے اورشطرنج کو لڈوسے بھی قبیح ترین بیان کیاگیاہے ،جس طرح شطرنج اورنردحرام ہے اسی طرح لڈوبھی حرام ہے ۔ جس نے نرد(لڈو) کھیلی وہ خداورسول کانافرمان ہے عَنْ أَبِی مُوسَی الْأَشْعَرِیِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ:مَنْ لَعِبَ بِالنَّرْدِ فَقَدْ عَصَی اللَّہَ وَرَسُولَہُ۔ ترجمہ :حضرت سیدناابوموسی الاشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیںکہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا:جس نے نرد کھیلی اس نے اللہ تعالی اور اس کے رسول کریم ﷺ کی نافرمانی کی۔ (سنن أبی داود:أبو داود سلیمان بن الأشعث بن إسحاق بن بشیر (۴:۲۸۵)

خنزیرکے خون اورگوشت میں ہاتھ ڈالنے والاکون؟

عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بُرَیْدَۃَ، عَنْ أَبِیہِ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَنْ لَعِبَ بِالنَّرْدَشِیرِ، فَکَأَنَّمَا صَبَغَ یَدَہُ فِی لَحْمِ خِنْزِیرٍ وَدَمِہِ۔ ترجمہ :حضرت سیدناسلیمان بن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والدماجد حضرت سیدنابریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا:جس نے نردشیر کھیلی گویا کہ اس نے خنزیر کے گوشت اور اس کے خون میں اپنا ہاتھ ڈبویا۔ (صحیح مسلم : مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشیری النیسابوری (۴:۱۷۷۰) شرح الحدیث الشریف وَہَذَا الْحَدِیث حُجَّۃ لِلشَّافِعِیِّ وَالْجُمْہُور فِی تَحْرِیم اللَّعِب بِالنَّرْدِ وَمَعْنَی (صَبَغَ یَدہ فِی لَحْم الْخِنْزِیر وَدَمہ)أی:فِی حَال أَکْلہ مِنْہُمَا ،وَہُوَ تَشْبِیہ لِتَحْرِیمِہِ بِتَحْرِیمِ أَکْلہمَا۔ ترجمہ :امام أبو زکریا محیی الدین یحیی بن شرف النووی المتوفی:۶۷۶ھ) رحمہ اللہ تعالی اس حدیث شریف کے تحت فرماتے ہیں کہ یہ حدیث نردشیرکھیلنے کی حرمت میں امام شافعی اور جمہور علماء کی دلیل ہے.’’گویا کہ اس نے اپنا ہاتھ خنزیر کے گوشت اور اس کے خون میں رنگا ‘‘یعنی ان دونوں اشیاء کو کھانے کی حالت میں، اور یہ انہیں کھانے کی حرمت کے ساتھ اس کی حرمت کی تشبیہ ہے ۔ (المنہاج :أبو زکریا محیی الدین یحیی بن شرف النووی(۱۵:۱۶) امام ابن قدامہ الحنبلی المتوفی: ۶۲۰ھ) رحمہ اللہ تعالی کاقول فَأَمَّا الشِّطْرَنْجُ فَہُوَ کَالنَّرْدِ فِی التَّحْرِیمِ، إلَّا أَنَّ النَّرْدَ آکَدُ مِنْہُ فِی التَّحْرِیمِ؛ لِوُرُودِ النَّصِّ فِی تَحْرِیمِہِ۔ ترجمہ :الامام أبو محمد موفق الدین عبد اللہ بن أحمد بن محمد بن قدامۃ الحنبلی المتوفی : ۶۲۰ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اور رہی شطرنج تو یہ نرد کی طرح ہی حرام ہے ۔مگریہ کہ نردکے حرام ہونے کاحکم شطرنج سے بھی زیادہ سخت ہے کیونکہ اس میں نص واردہوئی ہے ۔ (المغنی لابن قدامۃ:أبو محمد موفق الدین عبد اللہ بن أحمد بن محمد بن قدامۃ الدمشقی الحنبلی،(۱۰:۲۵۱)

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف اس کھیل کو منسوب کرنابہتان ہے

ومفسدۃ الشطرنج أعظم من مفسدۃ النرد ، وکل ما یدل علی تحریم النرد فدلالتہ علی تحریم الشطرنج بطریق أولی وہذا قول مالک وأصحابہ، وأبی حنیفۃ وأصحابہ، وأحمد وأصحابہ، وقول جمہور التابعین ولا یُعلم أحدٌ من الصحابۃ أحلہا ولا لعب بہا ، وقد أعاذہم اللہ من ذلک وکل ما نسب إلی أحد منہم من أنہ لعب بہا کأبی ہریرۃ فافتراء وبہت علی الصحابۃ ، ینکرہ کل عالم بأحوال الصحابۃ ، وکل عارف بالآثار وکیف یبیح خیر القرون وخیر الخلق بعد رسول اللہ اللعب بشیء صدُّہ عن ذکر اللہ وعن الصلاۃ أعظم من صد الخمر إذا استغرق فیہ لاعبُہ، والواقع شاہد بذلک، وکیف یحرم الشارع النرد ویبیح الشطرنج وہو یزید علیہ مفسدۃ بأضعاف مضاعفۃ ۔ ترجمہ :امام محمد بن أبی بکر بن أیوب بن سعد شمس الدین ابن قیم الجوزیۃ المتوفی : ۷۵۱ھ) رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں کہ اور شطرنج کی خرابیاں تو نرد سے بھی زیادہ ہیں، نرد کی حرمت پر دلالت کرنے میںجو بھی دلیل ہے وہ بالاولی شطرنج کی حرمت پر دلالت کرتی ہے۔امام مالک اور ان کے ساتھیوں اورحضرت سیدنا امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ اور ان کے اصحاب اور حضرت سیدناامام احمد رضی اللہ عنہ اور ان کے اصحاب اور جمہور تابعین رضی اللہ عنہم کا قول یہی ہے۔ کسی بھی صحابی (رضی اللہ عنہ)سے یہ معلوم نہیں کہ کسی ایک نے بھی اسے حلال کہا ہو اور یہ کھیلی ہو، اللہ سبحانہ و تعالی نے انہیں اس سے محفوظ رکھا، اور جس صحابی کی طرف بھی یہ منسوب کیا جاتا ہے کہ انہوں نے یہ کھیلی مثلاحضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ تو یہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر بہتان اور افترا پردازی ہے، صحابہ کرام کے حالات کا علم رکھنے والااور ان کے آثار کا ہر عالم اس کا انکار کریگا. حضورتاجدارختم نبوتﷺ کے بعد سب سے افضل ترین خلق اور خیرالقرون کے لوگ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کسی ایسی چیز کو کیسے حلال کر سکتے ہیں جو اس کھیل میں غرق ہونے والے کو شراب سے بھی زیادہ اللہ تعالی کے ذکر اور نماز سے روکے اور واقعات اس کے شاہد ہیں اور یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ شارع نرد کو تو حرام کرے اور شطرنج جو کہ اس سے بھی کئی لحاظ سے بری ہے اسے مباح اور جائز قرار دے۔ (الفروسیۃ:محمد بن أبی بکر بن أیوب بن سعد شمس الدین ابن قیم الجوزیۃ :۳۰۵) امام أبو عبد اللہ محمد الذہبی المتوفی : ۷۴۸ھ) رحمہ اللہ تعالی کاقول وَأما الشطرنج فَأکْثر الْعلمَاء علی تَحْرِیم اللعب بہَا سَوَاء کَانَ برہن أَو بِغَیْرِہِ أما بِالرَّہْنِ فَہُوَ قمار بِلَا خلاف وَأما الْکَلَام إِذا خلا عَن الرَّہْن فَہُوَ أَیْضا قمار حرَام عِنْد أَکثر الْعلمَاء وَحکی إِبَاحَتہ فِی رِوَایَۃ عَن الشَّافِعِی إِذا کَانَ فِی خلْوَۃ وَلم یشغل عَن وَاجِب وَلَا عَن صَلَاۃ فِی وَقتہَا وَسُئِلَ النَّوَوِیّ رَحمَہ اللہ عَن اللعب بالشطرنج أحرام أم جَائِز فَأجَاب رَحمَہ اللہ تَعَالَی ہُوَ حرَام عِنْد أَکثر أہل الْعلم وَسُئِلَ أَیْضا رَحمَہ اللہ عَن لعب الشطرنج ہَل یجوز أم لَا وَہل یَأْثَم اللاعب بہَا أم لَا أجَاب رَحمَہ اللہ إِن فَوت بِہِ صَلَاۃ عَن وَقتہَا أَو لعب بہَا علی عوض فَہُوَ حرَام وَإِلَّا فمکروہ عِنْد الشَّافِعِی وَحرَام عِنْد غَیرہ ۔ ترجمہ :امام أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن عثمان بن قَایْماز الذہبی المتوفی : ۷۴۸ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ رہی شطرنج تو اکثر علماء کرام اسے کھیلنا حرام کہتے ہیں، چاہے یہ رہن کیساتھ ہو یا بغیر رہن کے اور اگر رہن کے ساتھ ہو تو یہ بلاخلاف یہ قمار بازی ہے اور اگر رہن سے خالی ہو تو بھی اکثر علماء کے ہاں یہ قمار بازی اور حرام ہے۔ امام نووی رحمہ اللہ سے شطرنج کھیلنے کے متعلق دریافت کیا گیا کہ آیا یہ حرام ہے یا جائز ؟توامام نووی رحمہ اللہ نے جواب دیا:اگر اسے کھیلتے ہوئے نماز ضائع ہو گئی یا وقت سے ادائیگی میں تاخیر ہوئی یا اسے عوض پر کھیلا گیا تو یہ حرام ہے، وگرنہ امام شافعی رضی اللہ عنہ کے ہاں مکروہ ہے اور ان کے علاوہ دوسروں کے ہاں حرام ہے۔ (الکبائر:الشمس الدین أبی عبد اللہ محمد بن أحمد بن عثمان بن قَایْماز الذہبی:۸۹) واضح رہے کہ شریعتِ مطہرہ نے ایسے کھیلوں کی حوصلہ افزائی کی ہے جن سے جسمانی فائدہ ہوتا ہو ، جیسے:تیراکی، تیراندازی ،گھڑسواری اور ان کھیلوں کی حوصلہ شکنی کی ہے جن میں لگنے سے وقت کا ضیاع ہوتا ہو اور ایسے کھیلوں کو ناجائز قرار دیا ہے جن کی وجہ سے گناہوں کا ارتکاب لازم آتا ہو یا وہ کھیل فساق و فجار کے کھیل ہوں۔

شطرنج کھیل اگر جوئے کی شرط کے ساتھ کھیلا جائے تو ناجائز اور حرام ہے اور ہارجیت کی شرط کے بغیر بھی کھیلنا مکروہِ تحریمی ہے۔

لڈو میں اگر خلافِ شرع امور کا ارتکاب ہو ، حقوق اللہ (نماز و غیرہ)اور حقوق العباد میں کوتاہی ہو، فرائض و واجبات کا ترک لازم آتا ہو اور گناہ کا ارتکاب (مثلاً شرط لگا کر کھیلنا یا جوا لگانا )ہو تو یہ بالکل ناجائز ہے، اگر تفریحِ طبع کے لیے ہو تو بھی وقت کا ضیاع ہے جو کہ جائز نہیں ہے، نیز اس طرح کے کھیلوں میں عموماً انہماک اس درجہ کا ہوتا ہے کہ نماز و دیگر امور میں غفلت ہوجاتی ہے، اور اس بے مقصد کھیل میں قیمتی وقت کا ضیاع ہوتا ہی ہے، نیز ایسے کھیلوں میں انہماک کی وجہ سے دل ودماغ اکثر اوقات ان ہی چیزوں کی طرف متوجہ رہتاہے اور خدا کی یاد سے غافل رہتاہے، لایعنی امور میں ایسا انہماک شرعاً ناپسندیدہ ہے، مسلمان کا دل ودماغ ہر وقت یادِ خدا اور آخرت کی تیاری میں مشغول رہنا چاہیے، اور وقت کو با مقصد کاموں میں لگانا چاہیے جن میں دینی و دنیوی یا کم از کم دنیوی فائدہ ہو ، لہذا ایسے بے مقصد اور لایعنی کھیلوں سے بہرصورت اجتناب کرناچاہیے، اپنے قیمتی وقت کو اچھے اور نیک کاموں میں خرچ کرنا چاہیے۔ اوراسی طرح ہمارے رجحان کے مطابق شرعی طور پر ایسے تمام کھیل ناجائز ہیں جو وقت اور سرمائے کے ضیاع کا باعث ہوں۔ اگر جائز کھیلوں میں بھی وقت ضائع ہوتا ہو تو وہ بھی ناجائز قرار پائیں گے۔ بہرحال جس شریعت میں چوسر کھیلنے کی اجازت نہیں، اس میں کرکٹ ، ہاکی اوروالی بال جیسے کھیل کی اجازت کس طرح ہو سکتی ہے جس میں بڑی بے دردی سے بے شمار لوگوں کا وقت ضائع ہوتا ہے؟ اس کھیل میں نماز، روزے کی کوئی پروا نہیں ہوتی۔ نیز یہ کھیل جوئے جیسی بدترین لعنت کا سبب اور ذریعہ بن چکا ہے۔ لہٰذا اس قسم کے فضول کھیل مسلمان کی شان کے خلاف ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ایسے کھیلوں سے دور رکھے جس کا کوئی دینی، دنیوی، ذہنی یا جسمانی فائدہ نہ ہو۔

پسندیدہ کھیل کونسے ہیں؟

(۱)تیراندازی اور نشانہ بازی:اصول شریعت کی روشنی میںمروجہ کھیلوں میں مندرجہ زذیل کھیل مستحب اورپسندیدہ ہیں۔ بعض اوقات ان میں سے بعض کی اہمیت وجوب تک پہنچ جاتی ہے۔ نشانہ بازی (چاہے وہ تیر کے ذریعہ ہو یا نیزہ، بندوق اور پستول یا کسی اور ہتھیار کے ذریعہ ہو۔ احادیث میں اس کے فضائل بیان کیے گئے ہیں اور اس کے سیکھنے کو باعثِ اجر وثواب قرار دیاگیا ہے یوں کہ یہ کھیل انسان کے ذاتی دفاع اور ملکی دفاع کے لیے بہت ضروری ہے۔ یہ کھیل جہاں جسم کی پھرتی، اعصاب کی مضبوطی اور نظر کی تیزی کا ذریعہ ہے۔ وہیں یہ خاص حالات میں، مثلاً بھیڑ کے وقت یا جہاد کے موقع پر دشمنوں سے مقابلہ آرائی کے کام آتا ہے۔ (۲)…سواری کی مشق:یہ کھیل بھی اسلام کا پسندیدہ کھیل ہے، اس سے بھی جسم کی پوری ورزش کے ساتھ انسان میں مہارت، ہمت وجرأت اور بلند حوصلہ جیسی اعلیٰ صفات پیدا ہوتی ہیں اور سفر میں اور جہاد میں بھی خوب کام آتا ہے، اگرچہ قرآن وحدیث میں عام طور پر گھوڑے کاذکر آیا ہے؛ مگر اس میں ہر وہ سواری مراد ہے؛ جو جہاد میں کام آسکے۔جہاد کے اس اعلیٰ مقصد کے پیش نظر جو شخص گھوڑا پالے اس کے لیے بڑی بشارتیں ہیں۔ احادیث طیبہ میں اس زمانہ کے حالات کے لحاظ سے اگرچہ گھوڑوں کے فضائل مذکور ہیں؛ مگر اشتراکِ علت کے پیش نظر ہر وہ سواری جو جہاد میں کام آتی ہو، یا ذاتی تحفظ اور اچھے مقاصد کے لیے آمد ورفت کے کام آتی ہو۔ اگر اسے بھی اچھی نیت سے چلانے کی مشق کی جائے؛ تو وہ بھی اسی حکم میں داخل ہوگی۔ جیسے:ہیلی کاپٹر، ہوائی جہاز، بحری جہاز، لڑاکا طیارہ، ٹینک، بکتربند گاڑیاں، جیپ کار، بس، موٹر سائیکل، سائیکل وغیرہ۔ ان سب سواریوں کے چلانے کی مشق اورتدریب اسلامی نقطئہ نظر سے پسندیدہ کھیل ہے۔ اس شرط کے ساتھ کہ جائز اور نیک مقاصد کے لیے انھیں سیکھا جائے اور استعمال کیا جائے۔ (۳)…دوڑلگانا:اپنی صحت اور توانائی کے مطابق، ہلکی یا تیز دوڑ بہترین جسمانی ورزش ہے۔ اس کی افادیت پر سارے علماء اور اطباء متفق ہیں۔ احادیث سے بھی اس کا جوازبلکہ استحباب مفہوم ہوتا ہے۔پیدل دوڑنے کی اسی افادیت کی وجہ سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عام طور پر دوڑ لگایا کرتے تھے اور ان میں آپس میں پیدل دوڑ کا مقابلہ بھی ہوا کرتا تھا۔ موجودہ زمانے کے چند کھیل اوران کے مختصراحکام (۱)…پتنگ بازی:جو حکم کبوتر کے پیچھے دوڑنے کا ہے، وہی حکم پتنگ کے پیچھے دوڑنے کا ہے یعنی ناجائز۔ حدیث میں ایسے شخص کو شیطان قرار دیاگیا ہے۔اس میں بھی اور ناجائز کھیلوں کی طرح متعدد مفاسد ومضرتیں پائی جاتی ہیں اور بعض علاقوں میں خاص مواقع پر بسنت منانے کے عنوان سے وہ ہلڑبازی ہوتی ہے کہ خدا کی پناہ! اس کے علاوہ قوم کے لاکھوں کروڑوں روپے محض پتنگ بازی کے نذر ہوجاتے ہیں۔ بعض اوقات چھتوں سے گرکر جان کا ضیاع بھی ہوتا ہے، کٹے ہوئے پتنگ کو زبردستی لوٹ لیا جاتا ہے، بے پردگی الگ ہوتی ہے، بعض اوقات اس کی ڈورپھرنے سے لوگوں کی گردنیں کٹ جاتی ہیں ، اس طرح بہت زیادہ قیمتی جانوں کاضیاع ہوتاہے ، ان امورِ قبیحہ کی وجہ سے پتنگ بازی بھی شرعی نقطئہ نظر سے ممنوع ہے۔ (۲)…تاش بازی:یہ کھیل بھی شرعی نقطئہ نظر سے ممنوع ہے۔ اس لیے کہ تاش عام طور پر باتصویر ہوا کرتے ہیں۔ تاش کھیلنا عام طور پر فاسق وفاجر لوگوں کا معمول ہے۔ بالعموم جوا اور قمار کی شمولیت ہوتی ہے۔ اس کھیل میں تفریح کی جگہ پرالٹا ذہنی تکان ہوتی ہے۔ اگر جوئے کے بغیر بھی کھیلاجائے، تو شطرنج کے حکم میں ہوکر مکروہ تحریمی کہلائے گا۔ بعض احادیث میں شطرنج کی ممانعت آئی ہے۔ جو مصلحت شطرنج کو منع کرنے میں ہے، وہی بات تاش کھیلنے میں پائی جاتی ہے۔ (۳)…باکسنگ، فائٹنگ:موجودہ زمانہ میں باکسنگ مُکّا بازی، فری اسٹائل فائٹنگ کے جو مقابلے منعقد ہوتے ہیں، وہ شریعتِ اسلامی میں بالکل حرام ہیں، اسے جائز ورزش کا نام نہیں دیا جاسکتا، ایسے باکسنگ مقابلوں کو ٹیوی پر براہِ راست نشر کرنا بھی جائز نہیں؛ کیوں کہ اس میں فریق مقابل کو شدید جسمانی اذیت پہنچانے کو جائز تصور کیاجاتا ہے؛ جس سے ہوسکتا ہے کہ مدِمقابل اندھے پن، سخت نقصان، دماغی چوٹ یا گہرے ٹوٹ پھوٹ؛ بلکہ موت سے بھی دوچار ہوجائے۔اس میں مارنے والے پراس نقصان کی کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی ہے، جیتنے والے کے حامیوں کو اس کی جیت پر خوشی اور مقابل کی اذیت پر مسرت ہوتی ہے، جو اسلام میں ہرحال میں حرام اور ناقابل قبول ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: {وَلاَ تُلْقُوْا بِأیْدِیْکُمْ الیٰ التَّہْلُکَۃ}ِ یعنی اور تم اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں مت ڈالو۔ (۴)…بیلوں کے ساتھ کشتی:اسی طرح بیلوں کے ساتھ کشتی جس میں تربیت یافتہ مسلح افراد اپنی مہارت سے بیل کو موت کے گھاٹ اتاردیتے ہیں، یہ بھی حرام ہے کیوں کہ اس میں جانور کو ایذا پہنچاکر اور جسم میں نیزے گھونپ کر قتل کیاجاتا ہے اور بعض اوقات بیل بھی مدِمقابل انسان کو ختم کردیتا ہے یہ عمل کسی بھی حال میں درست نہیں؛ اس لیے کہ روایت میں ایک بلی کو بھوکا مارنے پر جہنم میں ڈالنے کاذکر آیا ہے۔ (۵)…کیرم بورڈ:یہ کھیل بھی ناجائز ہے اوراس کی بھی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ (۶)…لوڈو: کیونکہ یہ بھی علماء عرب کے نزدیک نرد کی ہی ایک صورت ہے اس لئے یہ بھی حرام ہے ۔ (۷)…ویڈیوگیم:عموماً ویڈیوگیم، جن میں جانداروں کی تصویریں ہوتی ہیں۔ یہ کھیل تصویر کی حرمت کی وجہ سے ناجائز ہوں گے۔ ہاکی، فٹ بال، والی بال، ٹینس، بیڈمنٹن، کرکٹ:اوپر ذکر کیے گئے کھیلوں کے علاوہ جو بھی کھیل ہے اگر وہ کسی معصیت، حرام یا ناجائز کام پرمشتمل ہوںوہ بھی اس مقصد حرام کی وجہ سے ناجائز ہوں گے۔ مثلاً کسی کھیل میں سترکھولا جائے یا اس کھیل میں جوابازی ہو، یا اس میں مرد وعورت کا مخلوط اجتماع ہو، یا اس میں موسیقی کا اہتمام ہو یا کفار کی خاص مشابہت ہو، یا اس کی وجہ سے فرائض وواجبات میں غفلت ہورہی ہو۔ اسی طرح وہ کھیل جو بلامقصد محض وقت گزاری کے لیے کھیلے جاتے ہیں، وہ بھی ناجائز ہوں گے۔ اس لیے کہ قرآن کریم میں تو مومنوں کی صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ بیکار باتوں سے اعراض کرتے ہیں(مومن )۔ اس طرح کے کھیلوں کا اصولی طور پر حکم جاننے کے لیے ایک عالم صاحب کا یہ فتویٰ چشم کشا ہے: (الف)وہ کھیل جس سے دینی یا دنیوی معتد بہا فائدہ مقصود نہ ہو وہ ناجائز ہے اور یہی حدیث کا مصداق ہے۔ (ب)جس کھیل سے کوئی دینی یا دنیوی فائدہ معتد بہا مقصود ہو، وہ جائز ہے۔ بشرطیکہ اس میں کوئی امر خلافِ شرع ملا ہوا نہ ہو اور من جملہ امور خلاف شرع تشبّہ بالکفار (کفار کی نقالی)بھی ہے۔ معلوم ہوا کہ موجودہ دور میں مروّج کھیل مثلاً:ہاکی، فٹ بال، والی بال، ٹینس، بیڈ منٹن، کشتی، کرکٹ کی بعض شکلیں وغیرہ، جس میں بھرپور ورزش کا امکان ہوتا ہے، لیکن چوں کہ عام طور پر ان کھیلوں میں اور ان کے لیے منعقد ہونے والے مقابلوں میں مندرجہ ذیل خرابیاں موجود ہیں:(۱)انہماک زیادہ ہونا (۲)لوگ فرائض وواجبات سے غافل ہوجاتے ہیں (۳)اسراف وتبذیر کی نوبت آتی ہے (۴)وقت کا بے پناہ ضیاع ہوتا ہے (۵)اکثر کھیلوں میں سترپوشی کا اہتمام نہیں کیا جاتا ہے۔ (۶)اکثر جگہوں پر مرد وعورت کا اختلاط ہوتا ہے (۷)محرمات:مثلاً بدنظری، گانا، ڈانس، ہلڑبازی کا ارتکاب ہوتا ہے (۸)بعض کھیل کے ماہرین کو قومی ہیرو اور آئیڈیل کا درجہ دے کر نونہالوں کے مستقبل سے کھلواڑ کیاجاتا ہے۔ (۹)سٹے بازی، جوئے بازی، میچ فکسنگ اور اسپاٹ فکسنگ کا سیلاب بلاخیز آیا ہوا ہے لہٰذا مذکورہ خرابیوں کی وجہ سے ان کھیلوں کے عدمِ جواز اورحرام کا حکم لگایا جاتا ہے۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh