Fatwa #2458
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیرسورۃیونس آیت ۵۸۔ قُلْ بِفَضْلِ اللہِ وَبِرَحْمَتِہٖ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوْا ہُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
8,307
سوال (Question):
تفسیرسورۃیونس آیت ۵۸۔ قُلْ بِفَضْلِ اللہِ وَبِرَحْمَتِہٖ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوْا ہُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
حضورتاجدارختم نبوتﷺکی آمد، آپﷺکی نبوت شریفہ ، اسلام کے ظہوراورقرآن کریم کے نزول پرخوشی منانے کاحکم
{قُلْ بِفَضْلِ اللہِ وَبِرَحْمَتِہٖ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوْا ہُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ (}۵۸) ترجمہ کنزالایمان:تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہئے کہ خوشی کریں وہ ان کے سب دھن دولت سے بہتر ہے۔ ترجمہ ضیاء الایمان :اے حبیب کریمﷺ!آپ فرمادیں کہ اللہ تعالی کے فضل اور اس کی رحمت پر ہی خوشی منانی چاہیے ، یہ اس مال دولت سے بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں۔فضل اللہ اوررحمت کے مصداق
حضرت سیدناابوسعید الخدری اورحضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کاقول قَالَ أَبُو سَعِیدٍ الْخُدْرِیُّ وَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا:فَضْلُ اللَّہِ الْقُرْآنُ،وَرَحْمَتُہُ الْإِسْلَامُ وَعَنْہُمَا أَیْضًا: فَضْلُ اللَّہِ الْقُرْآنُ،وَرَحْمَتُہُ أَنْ جَعَلَکُمْ مِنْ أَہْلِہِ. ترجمہ:٭…حضرت سیدناابوسعیدالخدری رضی اللہ عنہ اورحضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ اللہ تعالی کے فضل سے مراد قرآن کریم ہے اوراس کی رحمت سے مراد اسلام ہے ۔ ٭…اورانہیں سے ایک قول یہ بھی ہے کہ اللہ تعالی کے فضل سے مراد قرآن کریم ہے اوراس کی رحمت سے مراد یہ ہے کہ اس نے مسلمانوں کو اسلام اورقرآن کریم کااہل بنایا۔ (تفسیر القرآن من الجامع لابن وہب:أبو محمد عبد اللہ بن وہب بن مسلم المصری القرشی (۱:۹) مزید اقوال وقال ابن عمر:فضل اللہ الإسلام ورحمتہ تزیینہ فی قلوبناوقیل:فضل اللہ الإسلام ورحمتہ الجنۃ. وقیل:فضل اللہ القرآن ورحمتہ السنن. ترجمہ ـ٭…حضرت سیدناعبداللہ بن عمررضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ اللہ تعالی کے فضل سے مراد اسلام ہے اوررحمت سے مراد اللہ تعالی کااسلام کو ہمارے دلوں میں مزین کرناہے ۔ ٭…اورایک قول یہ بھی ہے کہ اللہ تعالی کے فضل سے مراد اسلام ہے اوراس کی رحمت سے مراد جنت ہے ۔ ٭…اوریہ بھی بیان کیاگیاہے کہ اللہ تعالی کے فضل سے مراد قرآن کریم ہے اوراس کی رحمت سے مراد حضورتاجدارختم نبوتﷺکی سنتیں ہیں۔ (تفسیرالخازن:علاء الدین علی بن محمد بن إبراہیم المعروف بالخازن (۲:۴۴۶)رحمت سے مراد حضورتاجدارختم نبوتﷺہیں
وَأخرج أَبُو الشَّیْخ عَن ابْن عَبَّاس رَضِی اللہ عَنْہُمَا فِی الْآیَۃ قَالَ:فضل اللہ الْعلم وَرَحمتہ مُحَمَّد صلی اللہ عَلَیْہِ وَسلم قَالَ اللہ تَعَالَی (وَمَا أَرْسَلْنَاک إِلَّا رَحْمَۃ للْعَالمین)(الْأَنْبِیَاء الْآیَۃ :۱۰۷) ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیںکہ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالی کے فضل سے مراد وہ علم جومنزل من اللہ ہے اوراس کی رحمت سے مراد حضورتاجدارختم نبوتﷺہیں ۔اللہ تعالی نے فرمایا:{وَمَا أَرْسَلْنَاک إِلَّا رَحْمَۃ للْعَالمین} (الدر المنثور:عبد الرحمن بن أبی بکر، جلال الدین السیوطی (۴:۳۶۷) فضل سے مراد حضورتاجدارختم نبوتﷺکی نبوت شریفہ ہے (ذلک)الفضل الذی أعطاہ محمداً وہو أن یکون نبی أبناء عصرہ ونبی أبناء العصور والغوابر ہو (فَضْلُ اللہ یُؤْتِیہِ مَن یَشَاء ) ترجمہ :امام أبو البرکات عبد اللہ بن أحمد بن محمود حافظ الدین النسفی المتوفی:۷۱۰ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ(ذٰلِکَ)سے مراد وہ فضل ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضورتاجدارختم نبوتﷺکو عطا فرمایا۔ اور وہ آپﷺ کا اپنے زمانے کے لوگوں کے لیے (تا قیامت)اور پہلے زمانوں کے لوگوں کے لیے بھی نبی ہونا ہے۔ ( تفسیر النسفی:أبو البرکات عبد اللہ بن أحمد بن محمود حافظ الدین النسفی (۳:۴۸۰) حضور تاجدارختم نبوتﷺ کا ظہور اور بعثت مبارکہ اُن سب کو اپنے دامنِ رحمت میں لیے ہوئے ہے جو آپ ﷺ کی بعثت سے پہلے تھے اور جو آپ ﷺکے وصال مبارک کے بعد قیامت تک آئیں گے۔ یعنی آپ ﷺسے پہلے زمانوں میں آنے والے اور بعد میں آنے والے تاقیامِ قیامت آپ ﷺکے فیوضاتِ رسالت سے مستفیض ہوں گے۔ امام اہل سنت محمد بن محمد بن محمود، أبو منصور الماتریدی المتوفی: ۳۳۳ھ) کاقول وقال قائلون:فضل اللَّہ القرآن ورحمتہ الإیمان۔ ترجمہ :دوسرے مفسرین کریم رحمہم اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی کے فضل سے مراد قرآن کریم ہے اوراس کی رحمت سے مراد ایمان ہے ۔ (تأویلات أہل السنۃ:محمد بن محمد بن محمود، أبو منصور الماتریدی (۶:۵۳) امام خالد بن معدان رحمہ اللہ تعالی کاقول خالد بن معدان:فضل اللہ الإسلام وَبِرَحْمَتِہِ السنّۃ. ترجمہ :حضرت سیدناامام خالدبن معدان رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی کے فضل سے مراد اسلام ہے اوراللہ تعالی کی رحمت سے مراد حضورتاجدارختم نبوتﷺکی سنت شریفہ ہے ۔ (الکشف والبیان عن تفسیر القرآن:أحمد بن محمد بن إبراہیم الثعلبی، أبو إسحاق (۵:۱۳۵) الامام الماوردی المتوفی : ۴۵۰ھ) رحمہ اللہ تعالی کاقول أن فضل اللہ معرفتہ ورحمتہ توفیقہ. ترجمہ: ـامام أبو الحسن علی بن محمد بن محمد بن حبیب البصری البغدادی المتوفی: ۴۵۰ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی کے فضل سے مراد اللہ تعالی کی معرفت ہے اوراس کی رحمت سے مراد اللہ تعالی کی دی ہوئی توفیق ہے ۔ (تفسیر الماوردی :أبو الحسن علی بن محمد بن محمد بن حبیب الشہیر بالماوردی (۲:۴۴۰)فضل الہی سے مراد علم ہے
أن فضل اللہ:العلم، ورحمتہ:محمّد صلی اللہ علیہ وسلم، رواہ الضحاک عن ابن عباس. ترجمہ ـ:حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ اللہ تعالی کے فضل سے مراد علم ہے اوراس کی رحمت سے مراد حضورتاجدارختم نبوتﷺہیں۔ (زاد المسیر فی علم التفسیر:جمال الدین أبو الفرج عبد الرحمن بن علی بن محمد الجوزی (۲:۲۳۵)خوشی منانے سے مراد کیاہے ؟
فلتفرح قریش بأن محمداً منہم قالہ ابن عباس۔ ترجمہ :حضر ت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے فرمایاکہ قریش کو چاہئے کہ وہ اس بات پرخوشیاں منائیںکہ حضورتاجدارختم نبوتﷺانہیں میں سے ہیں۔ (تفسیر الماوردی :أبو الحسن علی بن محمد بن محمد بن حبیب الشہیر بالماوردی (۲:۴۴۰) اہل ایمان کس بات پرخوشیاں منائیں فَبِذلِکَ فَلْیَفْرَحُوا، أَیْ:لِیَفْرَحَ الْمُؤْمِنُونَ أَنْ جَعَلَہُمُ اللَّہُ مِنْ أَہْلِہِ،ہُوَ خَیْرٌ مِمَّا یَجْمَعُونَ، أَیْ:(خیر)مِمَّا یَجْمَعُہُ الْکُفَّارُ مِنَ الْأَمْوَالِ۔ ترجمہ :امام محیی السنۃ ، أبو محمد الحسین بن مسعود بن محمد بن الفراء البغوی الشافعی المتوفی: ۵۱۰ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یعنی وہ خوشیاں منائیں اس سے مراد یہ ہے کہ اہل ایمان خوشیاں منائیں کہ اللہ تعالی نے ان کو اسلام قبول کرنے کا اہل بنایااوراسلام کے ملنے پرخوش ہونااس سے بہترہے جو کچھ کفارمال ودولت جمع کرکے رکھتے ہیں۔ (تفسیر البغوی :محیی السنۃ ، أبو محمد الحسین بن مسعود بن محمد بن الفراء البغوی الشافعی (۲:۴۲۳) اس سے معلوم ہواکہ اہل اسلام کو اس بات پرغمگین نہیں ہوناچاہئے کہ ان کے پاس مال نہیں ہے بلکہ ان کواس بات پرخوش ہوناچاہئے کہ کافروں کو رب تعالی نے مال دیااورہمیں اس نے اسلام ، قرآن کریم اورحضورتاجدارختم نبوتﷺکادامن رحمت عطافرمایاہے ۔ اوراس سے یہ بھی معلوم ہواکہ اہل ایمان کاصرف اس بات پرخوش ہوناہی کافروں کے تمام مال واسباب اوران کی دنیوی ترقی سے بہترہے ۔جس کواسلام کادامن اورقرآن کاعلم ملے مگروہ خود کوفقیرکہے۔۔
وَرَوَی أَبَانُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قال(من ہَدَاہُ اللَّہُ لِلْإِسْلَامِ وَعَلَّمَہُ الْقُرْآنَ ثُمَّ شَکَا الْفَاقَۃَ کَتَبَ اللَّہُ الْفَقْرَ بَیْنَ عَیْنَیْہِ إِلَی یَوْمِ یَلْقَاہُ ثُمَّ تَلَا:قُلْ بِفَضْلِ اللَّہِ وَبِرَحْمَتِہِ فَبِذَلِکَ فَلْیَفْرَحُوا ہُوَ خَیْرٌ مِمَّا یَجْمَعُونَ۔ ترجمہ :حضرت سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا: جس کو اللہ تعالی قرآن کریم کاعلم اوراسلام کی دولت سے مالامال فرمائے اورپھربھی وہ یہ کہے کہ میں بہت غریب ہوںاورفاقہ سے ہوں تواللہ تعالی اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان فقرلکھ دے گااوریہ قیامت کے دن تک لکھارہے گایہاں تک کہ قیامت کے دن اللہ تعالی کی بارگاہ میں پیش ہوگا۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۸:۳۴۵) مفتی احمدیارخان نعیمی رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں اس حدیث شریف کے تحت فرماتے ہیں کہ فقیراحمدیارعرض کرتاہے میری آزمائش اورتجربہ یہ ہے کہ قرآن کریم کی خدمت کرنے والا، حضورتاجدارختم نبوتﷺکی نوکری کرنے والاایساغنی ہوجاتاہے جس کابیان کرناناممکن ہے ۔ حضورتاجدارختم نبوتﷺکے دروازے سے اسے روٹی ،کپڑا، روپیہ اورساتھ ہی غنااوراستغنا،قناعت اوردل کاسکون اورچین عطاہوتاہے ، یہ تنخواہیں کوئی بادشاہ بھی نہیں دے سکتا۔ میں سالہاسال سے اس طرح خانہ نشین ہوں کہ ظاہری اسبا ب میں کوئی آمدنی مستقل نہیں ہے ، نہ امامت ، نہ خطابت ، نہ ملازمت ہے ، کہیں مجالس میں جاناوغیرہ بندکردیاہے ۔ رب تعالی نے قرآن کریم کی خدمت اورحضورتاجدارختم نبوتﷺکی نوکری محض اپنے فضل وکرم سے عطافرمادی ہے تواتناخوشحال ہوں کہ زندگی میں کبھی اتنانہ ہواتھا۔ ساتھ ہی قلبی سکون جوعطاہواہے وہ توبیان سے باہرہے۔ (تفسیرنعیمی از مفتی احمدیارخان نعیمی( ۱۱: ۳۸۰)معارف ومسائل
(۱)حضورتاجدارختم نبوتﷺکی آمدشریفہ سے قبل پورا عالم انسانی گمراہی و ضلالت میں مبتلا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے میں اپنے محبوب کریمﷺکو مبعوث فرمایا۔ آپ ﷺنے لوگوں کو تلاوتِ آیات اور کتاب وحکمت کی تعلیم کے ذریعے جہالت و گمراہی کے اندھیروں سے باہر نکالا، ان کے دلوں کو ایمان کے نور سے منور کیا اور ان کی جانوں اور روحوں کو نبوی تعلیم و تربیت کی بدولت تمام دنیوی آلائشوں سے پاک اور صاف کیا۔ یہ عالم انسانیت پر اللہ تعالیٰ کا اتنا بڑا فضل اور رحمت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود اسے اپنے اِحسانِ عظیم کے طور پر ذکر کیاہے۔ حضورتاجدارختم نبوتﷺ کی بعثت اللہ تعالیٰ کا اتنا بڑا انعام ہے۔ (۲) {فَلْیَفْرَحُواْ}کا حکم اِلٰہی وارِد ہوا ہے۔ لہٰذا ان کے لیے بھی لازم ہے کہ وہ حضورتاجدارختم نبوتﷺ کی نبوت شریفہ پر، آپﷺکے لائے ہوئے مذہب اسلام پر، قرآن کریم کے نزول پر، علم کے ملنے پر، معرفت الہیہ کے حصول پر، مسلمان ہونے پر، دل میں قرآن کریم اورحضورتاجدارختم نبوتﷺکی محبت ہونے پرخوشیاں منائیں کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺ کا ظہور اوراسلام اورقرآن کریم اس عالم ارضی میں ان کے لیے مژدۂ عظیم بن کر آیا ہے جو ماضی، حال اور مستقبل کی صدیوں میں آتے رہے یا آتے رہیں گے اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ (۳)آیت کا عمومی مفہوم یہ ہے کہ اﷲ تعالی کے فضل اور اس کی رحمت پر خوشی منانا جمع کرکے رکھنے سے بہتر ہے۔ سوال یہ کہ کیا چیز جمع ہو سکتی ہے؟ دو چیزیں ہی جمع کی جاسکتی ہیں: (۱)… دنیا کے حوالے سے جمع کرنا چاہیں تو مال و اَسباب اور دولت وغیرہ جمع کی جاسکتی ہے۔ اور (۲)… اگر آخرت کے حوالے سے جمع کرنا ہو تو اَعمالِ صالحہ مثلًا نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، صدقات و خیرات وغیرہ جمع ہو سکتے ہیں۔ مگر قرآن حکیم نے یہاں نہ مال و دولت کی تخصیص کی ہے اور نہ ہی اَعمالِ صالحہ اور تقویٰ وغیرہ کی نشان دہی کی ہے۔ بلکہ آیت مبارکہ میں بیان کیا گیا کلمہ عام ہے جواپنے اندر عمومیت کا مفہوم لیے ہوئے ہے اور دنیا و آخرت دونوں کو حاوی ہے۔ مذکورہ بالا دونوں نکات ذہن نشین رکھ کر دیکھا جائے تو اس آیت سے مرادیہ ہوگا:لوگو!تم اگر دنیا کے مال و دولت جمع کرتے ہو، جائیدادیں، کارخانے اور فیکٹریاں بناتے ہو یا سونے چاندی کے ڈھیروں کا ذخیرہ کرتے ہو غرضیکہ انواع و اقسام کی دولت خواہ نقد صورت میں ہو یا کسی جنس کی صورت میں، قرآن کریم کے نزول ، اسلام کے ملنے اورمیرے حبیب کریمﷺ کی آمد اور ولادت اورحبیب کریمﷺکی نبوت شریفہ پر خوشی منانا تمہارے اس قدر مال و دولت جمع کرنے سے بہر حال بہتر ہے۔ اور اگر آخرت کے حوالے سے سجود، رکوع، قیام و قعود کا ذخیرہ کر لو، نفلی عبادات جمع کر لو، فرائض کی بجا آوری سے اجر و ثواب کا ذخیرہ کرلو، غرضیکہ نیکی کے تصور سے جو چاہو کرتے پھرو لیکن اس نعمت پر شکراداکرنااور اس پر اپنا مال و دولت خرچ کرنا،حضورتاجدارختم نبوتﷺکی عزت وناموس کے دفاع کے لئے اوردین اسلام کے دفاع میں اپناتن من دھن قربان کرنا یہ تمہارے اَعمالِ صالحہ اوردنیوی اموال ودولت کے ذخیرے سے زیادہ گراں اور زیادہ بہتر ہے۔ اس لیے کہ اگر تم نے اس نعمتِ عظمیٰ کی آمد پر خوشی نہ کی تو تم نے اَعمالِ صالحہ کی بھی قدر نہ کی۔ چونکہ سب اعمال تو تمہیں اسی کے سبب سے نصیب ہوئے۔ (۴) قرآن کریم ، حضورتاجدارختم نبوتﷺکی آمداوراسلام کے ملنے کی خوشی منانے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ اپنامال ودولت اسلام کے دفاع میں خرچ کیاجائے، مدارس اسلامیہ کومضبوط کیاجائے ۔ اورموجودہ دورمیں سب سے اہم امرحضورتاجدارختم نبوتﷺکی عزت وناموس پرپہرہ دیناہی اسلام ، قرآن اورحضورتاجدارختم نبوتﷺکے ملنے پرشکراداکرنے کی بہترین صورت ہے ۔ (۵)اس آیت کریمہ سے یہ بھی معلوم ہواکہ خوشی منانے کااصل محرک اورباعث صرف اورصرف اللہ تعالی کی رحمت اوراس کافضل ہی ہوناچاہئے یعنی انسان صرف اللہ تعالی کی رحمت پراوراس کے فضل پرخوش ہونہ کہ مادی سبب کی وجہ سے کیونکہ مادی لذتیں فناہونے والی ہیں ، ان کے زوال کاخطرہ انسان کو لاحق رہتاہے اورروحانی لذتیں جب انسان کو حاصل ہوں اوروہ ان پرخوش نہ ہوکہ یہ روحانی لذتیں ہیں بلکہ اس حیثیت سے خوش ہوکہ یہ اللہ تعالی کی دی ہوئی نعمتیں ہیںاوراس حیثیت سے اس کاخوش ہونابہت بڑاکمال اوربہت بڑی سعادت مندی ہے ۔ (۶) اس سے وہ لوگ بھی عبرت پکڑیں جو دین پڑھ کرلوگوں کے سامنے کہتے پھرتے ہیں کہ اگرہم نے دین نہ پڑھاہوتاتوہم بھی آج کہیں افسرلگے ہوتے ۔ نعوذ باللہ من ذلک ، یہ بھی ناشکری ہے ۔ (۷) موجودہ دورمیں میلاد شریف منانے پردلائل دینے کی بجائے میلاد شریف میں درآئی خرابیوں کو دورکرنے کے لئے محنت کرنے کی ضرورت ہے ۔ (۸) ایک ضروری گزارش ہے کہ میلاد شریف کی محافل میں حضورتاجدارختم نبوتﷺکی سیرت پاک بیان کی جائے ، حضورتاجدارختم نبوتﷺکی ناموس کامسئلہ اجاگرکیاجائے ۔ حضورتاجدارختم نبوتﷺکی ختم نبوتﷺکے مسئلہ کو زیادہ سے زیادہ بیان کیاجائے ۔ (۹) جتنا زورمیلاد شریف کی محافل منعقدکرنے پردیاجاتاہے اس سے زیادہ زورحضورتاجدارختم نبوتﷺکی عزت وناموس پرپہرہ دینے کے لئے لوگوں میں جذبہ پیدا کیاجائے۔ (۱۰) اگرمیلاد شریف منانے سے حضورتاجدارختم نبوتﷺ خوش ہوتے ہیں توجوشحض حضورتاجدارختم نبوتﷺکی عزت وناموس اورآپ ﷺکی ختم نبوت کے لئے کام کرتاہے اسے براہ راست حضورتاجدارختم نبوتﷺکی مدداورآپﷺکی خصوصی توجہ حاصل ہوتی ہے ۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9