Fatwa #2468
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیرسورۃھودآیت ۴۳۔ قَالَ سَاٰوِیْٓ اِلٰی جَبَلٍ یَّعْصِمُنِیْ مِنَ الْمَآء ِ قَالَ لَاعَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللہِ اِلَّا مَن رَّحِمَ
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
9,367
سوال (Question):
تفسیرسورۃھودآیت ۴۳۔ قَالَ سَاٰوِیْٓ اِلٰی جَبَلٍ یَّعْصِمُنِیْ مِنَ الْمَآء ِ قَالَ لَاعَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللہِ اِلَّا مَن رَّحِمَ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
رب تعالی کے عذاب سے ڈرنانہیں لڑناہے ‘‘کہنے والے کنعان اورلبرل وسیکولر کی فکرمیں مماثلت
{قَالَ سَاٰوِیْٓ اِلٰی جَبَلٍ یَّعْصِمُنِیْ مِنَ الْمَآء ِ قَالَ لَاعَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللہِ اِلَّا مَن رَّحِمَ وَحَالَ بَیْنَہُمَا الْمَوْجُ فَکَانَ مِنَ الْمُغْرَقِیْنَ }(۴۳) ترجمہ کنزالایمان:بولا اب میں کسی پہاڑ کی پناہ لیتا ہوں وہ مجھے پانی سے بچالے گا کہا آج اللہ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں مگر جس پر وہ رحم کرے اور ان کے بیچ میں موج آڑے آئی تو وہ ڈوبتوں میں رہ گیا۔ ترجمہ ضیاء الایمان:بیٹے نے کہا:میں ابھی کسی پہاڑ کی پناہ لے لیتا ہوں وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔ حضرت نوح علیہ السلام نے فرمایا:آج اللہ تعالی کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں مگر صرف وہی بچے گاجس پر وہ رحم فرمادے اور ان کے درمیان میں طوفان کی لہرحائل ہوگئی تو وہ بھی غرق کئے جانے والوں میں سے ہوگیا۔حضرت سیدنانوح علیہ السلام کے سامنے اکڑنے والاتباہ ہوگیا
فَکانَ مِنَ الْمُغْرَقِینَ)قِیلَ:إِنَّہُ کَانَ رَاکِبًا عَلَی فَرَسٍ قَدْ بَطِرَ بِنَفْسِہِ، وَأُعْجِبَ بِہَا، فَلَمَّا رَأَی الْمَاء َ جَاء َ قَالَ: یَا أَبَتِ فَارَ التَّنُّورُ، فَقَالَ لَہُ أَبُوہُ:یَا بُنَیَّ ارْکَبْ مَعَنافَمَا اسْتَتَمَّ الْمُرَاجَعَۃَ حَتَّی جَاء َتْ مَوْجَۃٌ عَظِیمَۃٌ فَالْتَقَمَتْہُ ہُوَ وَفَرَسُہُ، وَحِیَلَ بَیْنَہُ وَبَیْنَ نُوحٍ فَغَرِقَ۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی: ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ {فَکانَ مِنَ الْمُغْرَقِین}نوح علیہ السلام کابیٹاغرق ہونے والوں میں سے ہوگیاوہ گھوڑے پرسوارتھاتواس نے اپنی شخصیت پرحضرت سیدنانوح علیہ السلام کے سامنے غرورکیااوراس کی وجہ سے تکبرمیں مبتلاء ہوگیا، جب اس نے دیکھاکہ پانی آگیاہے تواس نے کہا: اے میرے باپ!تنورابل پڑا، توحضرت سیدنانوح علیہ السلام نے اسے فرمایا: اے بیٹے!سوارہوجائوہمارے ساتھ ، وہ واپس نہ لوٹاتھاکہ ایک بڑی موج آئی تواس نے اس کو اوراس کے گھوڑے کو نگل لیااوروہ حضرت سیدنانوح علیہ السلام اوراس کے درمیان حائل ہوگئی ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۹:۴۰)وہ رب تعالی کے عذاب سے لڑنے لگاتھاجیسے لبرل لڑتے ہیں
وَقِیلَ: إِنَّہُ اتَّخَذَ لِنَفْسِہِ بَیْتًا مِنْ زُجَاجٍ یَتَحَصَّنُ فِیہِ مِنَ الْمَاء ِ، فَلَمَّا فَارَ التَّنُّورُ دَخَلَ فِیہِ وَأَقْفَلَہُ عَلَیْہِ مِنْ دَاخِلٍ، فَلَمْ یَزَلْ یَتَغَوَّطُ فِیہِ وَیَبُولُ حَتَّی غَرِقَ بِذَلِکَ۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی: ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اور یہ بھی بیان کیاگیاہے کہ جب اسے پتہ چلاکہ طوفان آنے والاہے تواس نے شیشے کامحل تعمیرکرلیاتھاجس سے پانی کے عذاب سے بچنے کے لئے اس نے پناہ لینی تھی ۔ پس جب تنورابل پڑاتووہ اس میں داخل ہوگیااوراندرسے اس نے تالالگادیااوراس میں غوطے کھاتارہااورپیشاب کرتارہایہاں تک کہ اسی میں غرق ہوگیا۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۹:۴۰)حضورتاجدارختم نبوتﷺسے تعلق توڑنے والاذلیل ہوکرمرتاہے
بہر این فرمود پیغمبر کہ من ہمچوکشتی أم بطوفان زمن ما واصحابیم چون کشتی نوح ہر کہ دست اندر زند یابد فتوح چونکہ با شیخی تو دور از زشتیء روز وشب سیاری ودر کشتیء مکسل از پیغمبر ایام خویش تکیہ کم کن بر فن وبر کام خویش گر چہـ شیری چون روی رہ بی دلیل خویش رو بہ در ضلالی وذلیل ترجمہ :مولاناروم رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس لئے حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایاکہ میں زمانہ کے طوفان کے لئے کشتی کی طرح ہوں ، اسی طرح میں اورمیرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حضرت سیدنانوح علیہ السلام کی کشتی کی طرح ہیں کہ جو بھی ہمارے دامن رحمت کوپکڑے گاکامیاب ہوگا، جب تم کو کسی شیخ کامل کادامن نصیب ہوجائے توسمجھ لوکہ تم حفاظت کی کشتی میں سوارہوگئے ہو، تم کو چاہئے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺسے تعلق نہ توڑنا، اپنے کسی فن اورعلم وفضل پرہرگزبھروسہ نہ کرنا، اگرتمھارے اندرشیرکی طاقت بھی ہولیکن اگربے دلیل ہوکرچلوگے توسمجھ لینالومڑی سے زیادہ ذلیل اورزیادہ گمراہ ہوکرمروگے ۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۴:۱۲۳)لبرل وسیکولر جو قرآن وحدیث پراپنی کوتاہ عقل کوترجیح دیتاہے کوجواب
پس بکوشی وباخر از کلال خود بخود کوئی کہ العقل عقال ہمچوآن مرد مفلسف روز مرک عقل را می دیدی پس بی بال وبرک بی غرض میکرد آن دم اعتراف کز زکاوت را ندایم اسب از کزاف از غروری سر کشیدیم از رجال آشنا کردیم در بحر خیال آشنا ہیچست اندر بحر روح نیست آنجا چارہ جز کشتیء نوح ہمچوکنعان سوی ہر کوہی مرو از نبی لا عاصم الیوم شنو می نماید پست آن کشتی ز بند می نماید کوہ فکرت پس بلند در بلندی کوہ فکرت کم نکر کہ یکی موجش کند زیر وزبر کر تو کنعانی نداری باورم کرد وصد چندین نصیحت آورم کوش کنعان کی پذیرد این کلام کہ بر او مہر خدایست وختام آخر این اقرار خواہی کرد ہین ہم ز أول روز آخر را ببین ہر کہ آخر بین بود مسعود بود نبودش ہر دم برہ رفتن عثور کر نخوائی ہر دمی این خفت وخیز کن ز خاک پای مردی چشم تیز ترجمہ :مولاناروم رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جدوجہدکریں وگرنہ بالآخرتمھیں اقرارکرناپڑے گاکہ عقل قید ہے ، اس فلسفے کی طرح تم کو موت کے وقت مانناپڑے گاکہ عقل بے سروسامان ہے جوموت کے وقت اقرارکرتاتھاکہ ہم نے خواہ مخواہ عقل کے گھوڑے دوڑائے ، تکبرکرکے علماء سے منہ موڑا، خیالی دریامیں ہم تیرتے رہے ، بحرروح میں تیرنابیکارہے ، اس میں کشتی نوح کے بغیرکوئی چارہ نہیں ہے ، کنعان کی طرح پہاڑوں کی طرف مت جائو، حضورتاجدارختم نبوتﷺسے {لاعاصم الیوم }سنوتجھے پہلے تووہ کشتی معمولی نظرآتی ہے اوراپنے فکرکے پہاڑ تم کو بلندنظرآتے ہیں ، اپنے فکرکے پہاڑ کی بلندی کومت دیکھ اس لئے کہ اسے موج کی ایک ہی ٹکرپاش پاش کردے گی،ا گرتوکنعان کی پیروی میں میری بات کااعتبارنہیں کرے گاچاہے تمھیں ہزارہانصیحتیں کروں تونہیں سنے گاکیونکہ تیرے دل پراللہ تعالی نے مہرلگادی ہے ، بالآخرتم کو اقرارکرناپڑے گا، پہلے ہی سے اپنے انجام پرنگاہ رکھنی چاہئے ، نیک بخت اپنے انجام پرنگاہ رکھتاہے ، وہ سیدھے راہ پرچلنے کو سعادت جانتاہے ، اگرتم کو اپناانجام سعید چاہئے تواہل حق کے قدموں کی خاک اپنی آنکھوں پرملو۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۴:۱۳۳) کیونکہ اس نے اپنی عقل کوترجیح دی تھی اوریہ کہاکہ میں پہاڑوں پرچڑھ جائوں اوراس طرح رب تعالی کے عذاب سے بچ جائوں گااوریہی سوچ وفکرآج کے لبرل وسیکولرکی ہے ، یہ بھی یہی کہتاہے کہ ہم نے رب تعالی کے عذاب سے لڑناہے ڈرنانہیں ہے ۔ حضرت حافظ شیرازی رحمہ اللہ تعالی کاجواب یار مردان خدا باش کہ در کشتیء نوح … ہست خاکی کہ بابی نخرد طوفانرا ترجمہ :فرماتے ہیں کہ نیک بخت لوگوں کی طرح کشتی نوح میں آجاکہ اس کے اندرطوفان کی موج کوئی نقصان نہیں دیتی ۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۴:۱۲۳)شریعت کو ترک کرکے عقل کی پیروی کرنے والالبرل تباہ ہوجاتاہے
کل نفس لا تعتصم بسفینۃ الشریعۃ وترید ان تعتصم بجبل العقل لتتخلص بہ من طوفان الفتن المہلکۃ کما ہو حال الفلاسفۃ لا یتہیأ لہ متمناہ وہو من الہالکین۔ ترجمہ :امام اسماعیل حقی الحنفی المتوفی : ۱۱۲۷ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ہروہ شخص جو شریعت کی کشتی سے تمسک نہیں کرتابلکہ اپنی عقل کادامن تھامناچاہتاہے تووہ مہلک فتنوںکے طوفان سے کبھی بھی چھٹکارانہیں پاسکتاجیسے فلاسفہ اورلبرل وسیکولراورجاہل صوفیاء کاحال ہے ، یہ لوگ شریعت سے روگردانی کرکے کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکتے بلکہ تباہ وبربادہوجاتے ہیں۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۴:۱۳۳) عقل بھی وحی کے تابع ہوتوہدایت پررہتی ہے قابل تعلیم وفہمست این خرد لیک صاحب وحی تعلیمش دہد جملہ حرفتہا یقین از وحی بود أول او لیک عقل آنرا فزود ہیچ حرفت را ببین کین عقل ما ماند او آموختن بی اوستا گر چہـ اندر فکر موی اشکاف بد ہیچ پیشہ رام بی اوستا نشد ترجمہ ـ:مولاناروم رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہ عقل فہم وتعلیم کے قابل توہے لیکن اسے صاحب ِ وحی تعلیم دیتاہے ، یقین جانیں کہ تمام حرفت وصنعت وحی کے ذریعے آئے ہیں لیکن اس میں عقل کو بھی دخل ہے ، چنانچہ ہرحرفت میں عقل سے کام لیاجاتاہے لیکن استاد کے بغیرکوئی کام نہیں آسکتا، اگرچہ عقل وفکرہرکام میںضروری ہے لیکن جب تک اس کے لئے کسی استادسے سبق نہ لیاجائے وہ کام ناتمام اورناقص ہوتاہے ۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۴:۱۲۳)معارف ومسائل
(۱)حضورتاجدارختم نبوتﷺکی اتباع کیلئے عقل درکار ہے نہ دلیل ۔اگر کوئی شخص اپنی عقل کو دخل دے گا تو وہ گمراہ ہوجائیگا لہذا حکم خداوندی اور اطاعت رسول کریم ﷺپر لبیک کہنے والا ہی سچا مومن کہلاتا ہے اور وہی دنیاو آخرت میں سرخرو ہوتا ہے۔ (۲) اگروہ کعنان بھی حضرت سیدنانوح علیہ السلام کی بات مان لیتااوراپنی عقل کو دخل نہ دیتاتووہ بھی غرق ہونے سے بچ جاتا، اس کو بھی اس کی عقل لے ڈوبی کہ میں پہاڑ پرچڑھ جائوں گا، اسے معلو م نہیں تھاکہ جب رب تعالی کاعذاب آتاہے توپھرکسی کوبھی مہلت نہیں ملتی۔ (۳) اس سے ان لبرل وسیکولر کو حیاء کرنی چاہئے کہ جب زلزلہ آجائے یاکروناکوئی بھی وباہوتویہی کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں کہ ہم نے اس عذاب سے ڈرنانہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ لڑناہے ۔ بلکہ اب تواتنے منہ پھٹ ہوگئے ہیں کہ وہ اسے عذاب ہی نہیں مانتے۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9