Fatwa #2481
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیرسورۃالرعد آیت ۲۷۔۲۸۔۲۹۔وَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَیْہِ اٰیَۃٌ مِّنْ رَّبِّہٖ قُلْ اِنَّ اللہَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآء ُ وَیَہْدِیْٓ اِلَیْہِ مَنْ اَنَابَ
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
11,063
سوال (Question):
تفسیرسورۃالرعد آیت ۲۷۔۲۸۔۲۹۔وَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَیْہِ اٰیَۃٌ مِّنْ رَّبِّہٖ قُلْ اِنَّ اللہَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآء ُ وَیَہْدِیْٓ اِلَیْہِ مَنْ اَنَابَ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
ذکرسے مراد علم قرآن وحدیث اورفقہ ہے
{وَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَیْہِ اٰیَۃٌ مِّنْ رَّبِّہٖ قُلْ اِنَّ اللہَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآء ُ وَیَہْدِیْٓ اِلَیْہِ مَنْ اَنَابَ }(۲۷){اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوْبُہُمْ بِذِکْرِ اللہِ اَلَا بِذِکْرِ اللہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ }(۲۸){اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طُوْبٰی لَہُمْ وَحُسْنُ مَاٰبٍ }(۲۹) ترجمہ کنزالایمان:اور کافر کہتے ان پر کوئی نشانی ان کے رب کی طرف سے کیوں نہ اتری تم فرماؤ بیشک اللہ جسے چاہے گمراہ کرتا ہے اور اپنی راہ اسے دیتا ہے جو اس کی طرف رجوع لائے۔ وہ جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کی یاد سے چین پاتے ہیں سن لو اللہ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے۔وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کو خوشی ہے اور اچھا انجام۔ ترجمہ ضیاء الایمان:اور کافر کہتے ہیں:رسول اللہ ﷺ پر ان کے رب تعالی کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتری؟ اے حبیب کریمﷺ!آپ فرمائیں:بیشک اللہ تعالی جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور اسے اپنی راہ دکھاتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرے۔ اللہ تعالی ان لوگوں کو ہدایت دیتا ہے جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ تعالی کی یاد سے سکون پاتے ہیں، سن لو!اللہ تعالی کی یاد ہی سے دل سکون پاتے ہیں۔وہ لوگ جو ایمان لائے اور اچھے عمل کئے ان کیلئے خوشی اور اچھا انجام ہے ۔ شان نزول (وَیَقُولُ الَّذِینَ کَفَرُوا لَوْلا أُنْزِلَ عَلَیْہِ آیَۃٌ مِنْ رَبِّہِ)بَیَّنَ فِی مَوَاضِعَ أَنَّ اقْتِرَاحَ الْآیَاتِ عَلَی الرُّسُلِ جَہْلٌ، بَعْدَ أَنْ رَأَوْا آیَۃً وَاحِدَۃً تَدُلُّ عَلَی الصدق، والقائل عبد اللہ ابن أَبِی أُمَیَّۃَ وَأَصْحَابُہُ حِینَ طَالَبُوا النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالْآیَاتِ(قُلْ إِنَّ اللَّہَ)عَزَّ وَجَلَّ (یُضِلُّ مَنْ یَشاء ُ)أَیْ کَمَا أَضَلَّکُمْ بَعْدَ مَا أَنْزَلَ مِنَ الْآیَاتِ وَحَرَمَکُمُ الِاسْتِدْلَالَ بِہَا یُضِلُّکُمْ عِنْدَ نُزُولِ غَیْرِہَا. ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی اس آیت کریمہ {وَیَقُولُ الَّذِینَ کَفَرُوا لَوْلا أُنْزِلَ عَلَیْہِ آیَۃٌ مِنْ رَبِّہِ}کے تحت لکھتے ہیں کہ اللہ تعالی نے کئی مقامات پرواضح فرمادیاہے کہ کفارکاسچائی پردلالت کرنے والی ایک نشانی کودیکھ لینے کے بعد رسل کرام علیہم السلام پرکئی نشانیوں کے پیش کرنے کامطالبہ جہالت پرمبنی ہے اوریہ کہنے والے عبداللہ بن ابی امیہ اوراس کے وہ ساتھی ہیں جنہوںنے حضورتاجدارختم نبوتﷺسے نشانیوں کامطالبہ کیا{قلْ إِنَّ اللَّہَ یُضِلُّ مَنْ یَشاء ُ}یعنی جس طرح اس نے کئی آیات کریمہ کے نزو ل کے بعد تم کو گمراہ کیااوران کے استدلال سے تم کومحروم رکھا، اسی طرح وہ ان کے علاوہ کئی آیات کریمہ کے نزول کے وقت تم کوگمراہ کرے گا۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکرشمس الدین القرطبی (۹:۳۱۵) ان آیات کریمہ کااگربغورمطالعہ کیاجائے تومعلوم ہوتاہے کہ کفارمکہ کوجواللہ تعالی کی توحیداورحضورتاجدارختم نبوتﷺکی نبوت ورسالت میں شک تھااوروہ احکامات شرعیہ میں طعن کرتے تھے اورنت نئے معجزات کامطالبہ کرتے تھے ان کاذکرکرنے کے بعد اللہ تعالی نے اہل ایمان کاذکرخیرفرمایاکہ اہل ایمان تواللہ تعالی کی توحیدپراورمیرے حبیب کریمﷺکی نبوت ورسالت پراورمیرے تمام احکامات شرعیہ پرمطمئن ہیں ، ان آیات کریمہ سے معلوم ہواکہ اصل جوزنگ ہے وہ کفروشرک اوراحکامات شرعیہ میں طعن کرنے اوران پراعتماد نہ کرنے کاہے اوراس زنگ کاعلاج اللہ تعالی کی توحیداورحضورتاجدارختم نبوتﷺکی نبوت ورسالت پرایمان لاناہے ۔یہی وجہ ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اللہ تعالی کی توحیداورحضورتاجدارختم نبوتﷺکی نبوت ورسالت پراورآپ علیہ السلام کے کسی بھی حکم شریف پراعتراض نہ کرتے اورنہ ہی معجزات کامطالبہ کرتے تھے۔ ان آیات کریمہ کی روسے معلوم ہواکہ سب سے بڑازنگ جولوگوں کے دلوں میں لگتاہے وہ کفروشرک اورشریعت مبارکہ کے احکامات کے متعلق شک کاہے ۔ اوراس زنگ کودورکرنابھی فرض ہے خواہ وہ قرآن کریم اوراحادیث شریفہ سے دلائل کے ساتھ ہویاعقلی دلائل کے ساتھ ۔ اب ہم نے دیکھنایہ ہے کہ وہ زنگ جوکفروشرک اوردین کے معاملات میں شک کاہے اس کو دورکرنے کے لئے ہم کتنے مخلص ہیں ، اورکتنے ادارے ایسے قائم ہیں جہاں دین متین کے بارے میں شک میں مبتلاء لوگوں کوجمع کرکے ان کے شکوک وشبہات دورکرنے کاانتظام ہے ؟ آج لبرل سیکولرطبقہ دین متین کے ہرہرحکم شریف پراعتراض کرتادکھائی دیتاہے اورہردوسراشخص دین متین کے متعلق شک میں مبتلاء نظرآتاہے ان کے علاج کے لئے آخرکون آگے بڑھے گا؟ آج خانقاہیں ان کاعلاج کرنے سے قاصرہیں ، ان کے مقاصدکوئی اورہی ہیں ، مساجد کے منبرومحراب سے دین کے متعلق پائے جانے والے شکوک وشبہات کاجواب دینے والاکوئی نہیں ہے ۔ رفتہ رفتہ لوگ دین سے پھرتے جارہے ہیں ۔ جس کو بھی دیکھووہ چندایک مسائل لئے کھڑاہے اورساراسال انہیں پرکلام کرتادکھائی دیتاہے ۔ یہی ظلم ہواہے کہ ان آیات کریمہ میں جس چیز کو زنگ فرمایاگیااس کو دورکرنے کے لئے کوئی بھی سنجیدہ نہیں ہے ۔اوران آیات کریمہ میں اللہ تعالی نے جس چیز پراہل ایمان کی تحسین فرمائی وہ یہی ہے کہ وہ اللہ تعالی کی توحیداورحضورتاجدارختم نبوتﷺکی رسالت ونبوت پرمطئمن ہیں اس کاذکرہی نہیں اورہرہرگلی ، محلہ میں خانقاہیں قائم کردی گئیں کہ جن میں مریدوں کے ہاتھ میں تسبیح تھماکران کو بٹھادیااوریہی باورکرایاکہ یہی اصل ذکرہے اوریہی دلوں کے اطمینان کاباعث ہے ۔ اس سے ہمیں کوئی انکارنہیں ہے کہ اللہ تعالی کاذکرشریف دلوں کے اطمینان کاباعث ہے مگراس آیت کریمہ میں جس اطمینا ن کاذکرہے اس کوبیان ہی نہیں کیاگیااورآیت کریمہ کے مفہوم کومحدودکردیاگیااورجعلی مشائخ نے اپنی روٹی روزی چلالی اورلوگ دین سے بیزارہوتے گئے ۔آج یہی وجہ ہے جوچیز اصل تھی یعنی کفروشرک کے زنگ کودورکرنااس سے خانقاہیں بے زارہیں اوراپنے اپنے مریدوں کو علم دین سے دورکرتے ہیں اورعلماء کرام کی مجالس میں شرکت کرنے سے منع کرتے ہیںاوریہ لوگ اللہ تعالی کے خوف سے ایسے بے خوف ہوئے ہیںکہ انہوںنے اہل اللہ کی طرف بھی جھوٹ منسوب کرنے سے دریغ نہیں کیاجیساکہ کتب تصوف میں یہ روایت موجودہے: وَقَالَ أَبُو بَکْرٍ الدَّقَّاقُ آفَۃُ الْمُرِیدِ ثَلَاثَۃٌ التَّزْوِیجُ وَکَتْبُہُ الْحَدِیثَ وَالْأَسْفَارُ۔ ترجمہ :حضرت سیدناابوبکرالوراق رحمہ اللہ تعالی کی طرف یہ منسوب کیاگیاہے کہ مرید کے لئے تین چیزیں آفت ہیں (۱)نکاح کرنا(۲) حضورتاجدارختم نبوتﷺکی حدیث لکھنااورپڑھنااوراسے یادکرنا(۳)سفرکرنا۔ (نعوذباللہ من ذلک) (بریقۃ محمودیۃ:محمد بن محمد بن مصطفی بن عثمان، أبو سعید الخادمی الحنفی (۳:۹۹) اب اس عبارت پرغورکریں کہ کس طرح حضورتاجدارختم نبوتﷺکی سنت اورآپ ﷺکی حدیث شریف سے باغی کیاجارہاہے کہ مریدکے لئے یہ تین چیزیں آفت ہیں اوران میں حضورتاجدارختم نبوتﷺکی سنت پرعمل کرنااورحدیث شریف کولکھنااوریادکرنا۔ اللہ تعالی ہم پررحم فرمائے ۔ اوراسی طرح یہ بھی روایت مشہورکردی گئی بِأَنْ رَابِعَۃَ العدویۃ رَحِمَہَا اللَّہُ َٔتَتْ لَیْلَۃً بِالْقُدُسِ تُصَلِّی حَتَّی الصَّبَاحِ وَإِلَی جَانِبِہَا بَیْتٌ فِیہِ فَقِیہٌ یُکَرِّرُ عَلَی بَابِ الْحَیْضِ إلَی الصَّبَاحِ فَلَمَّا أَصْبَحَتْ رَابِعَۃُ قَالَتْ لَہُ:یَا ہَذَا وَصَلَ الْوَاصِلُونَ إلَی رَبِّہِمْ وَأَنْتَ مُشْتَغِلٌ بِحَیْضِ النِّسَاء ِ۔ ترجمہ :روایت کیاگیاہے کہ ایک رات حضرت سیدتنارابعہ العدویہ رحمہااللہ تعالی القدس شریف میں ساری رات نماز پڑھتی رہیں اورمسجد شریف کے ایک کونے میں ایک فقیہ ساری رات خواتین کے مسائل میں غوروفکرکرتے رہے ، جب صبح ہوئی تومائی صاحبہ نے کہاکہ لوگ اللہ تعالی کی بارگاہ تک جاپہنچے ہیں اورتم ابھی عورتوں کے حیض کے مسائل میں الجھے ہوئے ہو۔ (فقہ الأدعیۃ والأذکار:عبد الرزاق بن عبد المحسن البدر:۱۰۷)ایک دین دشمن کی بکواس
روی أَنَّ زَعِیمًا مِنْ زُعَمَاء ِ أَہْلِ الْبِدْعَۃِ کَانَ یُرِیدُ تَفْضِیلَ الْکَلَامِ عَلَی الْفِقْہِ، فَکَانَ یَقُولُ:إِنَّ عِلْمَ الشَّافِعِیِّ وَأَبِی حَنِیفَۃَ، جُمْلَتُہُ لَا یَخْرُجُ مِنْ سَرَاوِیلِ امْرَأَۃٍ. ترجمہ :امام إبراہیم بن موسی بن محمد اللخمی الغرناطی الشہیر بالشاطبی المتوفی : ۷۹۰ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ بدمذہب لوگوں کاایک بہت بڑاسردارتھااس نے اپنے علم کلام کو علم فقہ پرفضیلت دینے کے لئے کہا:بے شک امام ابوحنیفہ اورامام الشافعی ( رضی اللہ عنہما) کاساراعلم عورتوں کے شلواروں سے نکلتاہے ۔ (الاعْتِصَام:إبراہیم بن موسی بن محمد اللخمی الغرناطی الشہیر بالشاطبی (۳:۱۷۷) نعوذباللہ من ذلک ، اللہ تعالی ان کو تباہ وبربادکرے ، اسی طرح ہمارے دورمیں بہت پیرجوعلم وعلماء کرام کے دشمن ہیں ، ان کویہی خطرہ رہتاہے کہ اگرہمارے مریدعلماء کے پاس جاکربیٹھے اورہماری جہالت کاراز کھل گیاتوپھرہمارے نذرانے بندہوجائیں گے ، علماء یہود کی طرح یہ پیراورمشائخ بھی اپنے نذرانے بچانے کے لئے اپنے جاہل مریدوں کو دین کادشمن بناتے ہیں۔ اب اس طرح قرآن کریم کی ان آیات کریمہ پربھی ظلم ہواکہ ان کے معانی اورمفاہیم کومحدودکردیاگیااورہرشخص کوتسبیح ہاتھ میں دے کران کو علم دین سے دورکردیااورلوگوں کویہی باورکرایاکہ یہی اصل ذکرہے اوردین دشمنوں کو کھلی چھٹی دے دی گئی کہ وہ جوچاہیں کرتے رہیں ۔ نعوذباللہ من ذلک ۔ذکرسے مراد کیاہے؟
پہلاقول:ذکر سے مراد اللہ تعالی کی توحیدہے (وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُہُمْ بِذِکْرِ اللَّہِ)أَیْ تَسْکُنُ وَتَسْتَأْنِسُ بِتَوْحِیدِ اللَّہِ فَتَطْمَئِنُّ، قَالَ: أَیْ وَہُمْ تَطْمَئِنُّ قلوبہم علی الدوام بذکر اللہ بألسنتہم، قالہ قَتَادَۃ۔ ترجمہ :حضرت سیدناقتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ {وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُہُمْ بِذِکْرِ اللَّہ}اللہ تعالی کی توحیدکے ذریعے دل سکون پذیراورمانوس ہوتے ہیں تومطمئن ہوجاتے ہیں یعنی وہ اپنی زبانوں کے ذریعے اللہ تعالی کاذکرتے ہیں ، ہمیشہ ذکرکرکے اپنے دلوں کو اطمینا ن دیتے ہیں ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکرشمس الدین القرطبی (۹:۳۱۵) دوسراقول : ذکرسے مراد قرآن کریم ہے وَقَالَ مُجَاہِدٌ وَقَتَادَۃُ وَغَیْرُہُمَا:بِالْقُرْآنِ۔ ترجمہ :حضرت سیدناامام مجاہدرضی اللہ عنہ اورحضرت سیدناقتادہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ اس ذکرسے مرادوہ جس سے اہل ایمان کے دل مطمئن ہوجاتے ہیں وہ قرآن کریم کی تعلیم ہے ۔ تیسراقول : ذکرسے مراد رب تعالی کاحکم شریف ہے وَقَالَ سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ:بِأَمْرِہِ ترجمہ :حضرت سیدناسفیان بن عیینہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس ذکرسے مراد اللہ تعالی کاحکم شریف ہے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکرشمس الدین القرطبی (۹:۳۱۵) چوتھاقول : ذکرسے مراداللہ تعالی کے عدل اورانتقام کویادکرناہے ابْنُ عَبَّاسٍ:بِالْحَلِفِ بِاسْمِہِ، أَوْ تَطْمَئِنُّ بِذِکْرِ فَضْلِہِ وَإِنْعَامِہِ، کَمَا تَوْجَلُ بِذِکْرِ عَدْلِہِ وَانْتِقَامِہِ وَقَضَائِہِ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ ذکرسے مراد اللہ تعالی کے نام کی قسم ہے ، یااس کامطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی کے فضل وانعام کے ذکرکے ذریعے وہ اطمینان حاصل کرتے ہیں جس طرح اس کے عدل ، انتقام اورقضاء کے ذکرسے کانپتے ہیں ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکرشمس الدین القرطبی (۹:۳۱۵) پانچواں قول : ذکرسے مراد قرآن کریم میں غوروفکرکرناہے وَقِیلَ:بِذِکْرِ اللَّہِ أَیْ یَذْکُرُونَ اللَّہَ وَیَتَأَمَّلُونَ آیَاتِہِ فَیَعْرِفُونَ کَمَالَ قُدْرَتِہِ عَنْ بَصِیرَۃٍ. ترجمہ :اورایک قول یہ ہے کہ ذکرسے مراد یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کاذکرکرتے ہیں اوراس کی آیات کریمہ میں غوروفکرکرتے ہیں توبصیرت سے اس کی قدرت کے کمال کو پہنچانتے ہیں ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکرشمس الدین القرطبی (۹:۳۱۵) چھٹاقول : ذکرسے مراد سماعت قرآن کے وقت دل میں خشوع پیداہونا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: یُرِیدُ إِذَا سَمِعُوا الْقُرْآنَ خَشَعَتْ قُلُوبُہُمْ وَاطْمَأَنَّتْ. ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عبا س رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ ذکرسے مراد یہ ہے کہ جب اہل ایمان قرآن کریم سنتے ہیں توان کے دلوں میں خشوع پیداہوتاہے اوران کے دل مطمئن ہوجاتے ہیں۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۱۹:۳۹)دلوں کے اطمینان کے حصول کے لئے چندنسخے
پہلانسخہ:اللہ تعالی اورحضورتاجدارختم نبوتﷺاورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت عَنْ أَنَسٍ قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہ علیہ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِہِ حِینَ نَزَلَتْ ہَذِہِ الْآیَۃُ: أَلا بِذِکْرِ اللَّہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ ہَلْ تَدْرُونَ مَا مَعْنَی ذَلِکَ؟قَالُوا:اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ، قَالَ:مَنْ أَحَبَّ اللَّہَ وَرَسُولَہُ وَأَحَبَّ أَصْحَابِی ۔ ترجمہ :حضر ت سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اس آیت کریمہ کے نزول کے وقت فرمایا: تم کو علم ہے کہ اس آیت کریمہ کاکیامعنی ہے ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی : یارسول اللہ ﷺ!اللہ تعالی اوراس کے رسول کریم ﷺزیادہ جانتے ہیں۔ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا: جواللہ تعالی اوراس کے رسول کریم ﷺسے محبت کرتاہے وہ میرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بھی محبت کرتاہے۔ (الدر المنثور:عبد الرحمن بن أبی بکر، جلال الدین السیوطی (۴:۶۴۲) دوسرانسخہ:حضورتاجدارختم نبوتﷺ اوراہل بیت کرام رضی اللہ عنہم کی محبت وَأَخْرَجَ ابْنُ مَرْدَوَیْہِ عَنْ عَلِیٍّ:أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمَّا نَزَلَتْ ہَذِہِ الْآیَۃُ أَلا بِذِکْرِ اللَّہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ قَالَ:ذَاکَ مَنْ أَحَبَّ اللہ وَرَسُولَہُ، وَأَحَبَّ أَہْلَ بَیْتِی صَادِقًا غَیْرَ کَاذِبٍ، وَأَحَبَّ الْمُؤْمِنِینَ شَاہِدًا وَغَائِبًا، أَلَا بِذِکْرِ اللَّہِ یَتَحَابُّونَ۔ ترجمہ :حضرت سیدنامولاعلی رضی اللہ تعالی سے حضرت سیدناامام ابن مردویہ رحمہ اللہ تعالی روایت کرتے ہیں کہ جب یہ آیت کریمہ {أَلا بِذکر اللہ تطمئِن الْقُلُوب}نازل ہوئی توحضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں جواللہ تعالی اوراس کے رسول کریم ﷺسے محبت کرتے ہیں ، غائب وحاضرہرہرصورت میں ، مومنین سے محبت کرتے ہیں اوردھیان سے سنو!وہ اللہ تعالی کے ذکرسے محبت کرتے ہیں۔ (روح المعانی:شہاب الدین محمود بن عبد اللہ الحسینی الألوسی (۷:۱۴۲) ان دوروایات سے معلوم ہواکہ اللہ تعالی کی محبت، حضورتاجدارختم نبوتﷺکی محبت ، حضورتاجدارختم نبوتﷺکی اہل بیت کرام رضی اللہ عنہم اورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت شریفہ جوہے وہ دلوں کے اطمینان کاسبب ہے ۔ اب جس شخص کادل اللہ تعالی کی محبت، حضورتاجدارختم نبوتﷺکی محبت ، حضورتاجدارختم نبوتﷺکی اہل بیت کرام رضی اللہ عنہم اورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت سے خالی ہووہ دل زنگ آلودہے ۔ اوراسی طرح جس دل میں اللہ تعالی ،حضورتاجدارختم نبوتﷺ ، حضورتاجدارختم نبوتﷺکی اہل بیت کرام رضی اللہ عنہم اورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے حوالے سے میل ہووہ دل بھی زنگ آلود ہے ۔ اورجوشخص اللہ تعالی کے احکامات شرعیہ اورحضورتاجدارختم نبوتﷺکی شریعت حقہ کے احکامات میں سے کسی بھی حکم شریف کے متعلق شک میں مبتلاء ہووہ دل بھی زنگ آلود ہے ۔ تیسرانسخہ :دینی کتب کامطالعہ واعلم أن القلوب لا تبقی علی صفائہا بل تصدأ فتحتاج إلی جلاء وجلاء ہا النظر فی کتب العلم۔ ترجمہ :امام جمال الدین أبو الفرج عبد الرحمن بن علی بن محمد الجوزی المتوفی : ۵۹۷ھ)رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یاد رکھیں کہ دل ہمیشہ صاف نہیں رہتے، بلکہ زنگ آلود ہوجاتے ہیں، پھر انہیں صفائی کی ضرورت پڑتی ہے اور ان کی صفــائی عــلمی کتب کا مطالعـــہ ہے۔ چونکہ کتب دینیہ میں اللہ تعالی کی توحیداورحضورتاجدارختم نبوتﷺکی رسالت ونبوت کے متعلق کلام ہوتاہے اس لئے ان کتب دینیہ کو پڑھنے سے دل میں موجود شکوک وشبہات دورہوجاتے ہیں۔ اوریہی اصل زنگ ہے اوراسی زنگ کودورکرنے کاسب سے پہلاحکم ہے ۔ (تلبیس إبلیس:جمال الدین أبو الفرج عبد الرحمن بن علی بن محمد الجوزی :۲۹۰)طوبی درخت کاتعارف
عَنْ عَامِرِ بْنِ زَیْدٍ الْبِکَالِیِّ، أَنَّہُ سَمِعَ عُتْبَۃَ بْنَ عَبْدٍ یَقُولُ:جَاء َ أَعْرَابِیٌّ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَہُ الْحَوْضَ فَذَکَرَ الْحَوْضَ،قَالَ الْأَعْرَابِیُّ:أَفِیہَا فَاکِہَۃٌ؟ قَالَ:نَعَمْ، فِیہَا شَجَرَۃٌ تُدْعَی طُوبَی قَالَ:فَذَکَرَ شَیْئًا لَا أَدْرِی مَا ہُوَ، قَالَ:أَیَّ شَجَرِ أَرْضِنَا تُشْبِہُ؟ قَالَ:لَیْسَ تُشْبِہُ شَیْئًا مِنْ شَجَرِ أَرْضِکَ، قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:أَتَیْتَ الشَّامَ؟ قَالَ:لَاقَالَ:فَإِنَّ بِہَا شَجَرَۃً تُدْعَی الْجَوْزَۃَ، تَنْبُتُ عَلَی سَاقٍ وَاحِدَۃٍ وَیَنْفَرِشُ أَعْلَاہَا قَالَ:فَمَا عِظَمُ أَصْلِہَا؟ قَالَ:لَوِ ارْتَحَلَتْ جَذَعَۃٌ مِنْ إِبِلِ أَہْلِکَ فَمَا أَحَطُّتْ بِأَصْلِہَا حَتَّی تَنْکَسِرَ تَرْقُوَتُہَا ہَرَمًا ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعتبہ بن عبدالسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی حضورتاجدارختم نبوتﷺکی بارگاہ میں حاضرہوئے، انہوں نے آپ ﷺسے جنت اورحوض کوثرکے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا: کیااس میں پھل بھی ہیں؟ آپﷺنے فرمایا: ہاں ایک درخت ہے جسے طوبی کہاجاتاہے ، انہوںنے عرض کی : یارسول اللہ ﷺ!ہماری زمین میں کونسادرخت اس کے مشابہ ہے ؟ آپﷺنے فرمایا: تیری زمین کے درختوں میں سے کوئی بھی درخت اس کے مشابہ نہیں ہے ۔ کیاتوشام گیاہے وہاں ایک درخت جسے ’’جوزہ‘‘ کہاجاتاہے جوتنے پراگتاہے اوراپنے اوپروالے حصے کوپھیلاتاہے ، انہوںنے عرض کی : یارسول اللہ ﷺ!اس کے تنے کی موٹائی کیاہے ؟ آپﷺنے فرمایا: اگراپنے گھروالوں کے جذعہ اونٹ کے ساتھ سفرکرے توتب بھی تواس کے تنے کااحاطہ نہیں کرسکتایہاں تک کہ بوڑھاپے کے سبب ہنسلی کی ہڈیاں ٹوٹ جائیں ۔الی آخرہ۔۔۔۔ (الأمالی فی آثار الصحابۃ للحافظ الصنعانی:أبو بکر عبد الرزاق بن ہمام بن نافع الحمیری الیمانی الصنعانی :۹۲)’’طوبی ‘‘ کی تخلیق کیسے ہوئی ؟
عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ قُرَّۃَ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:طُوبَی شَجَرَۃٌ فِی الْجَنَّۃِ غَرَسَہَا اللَّہُ بِیَدِہِ وَنَفَخَ فِیہَا مِنْ رُوحِہِ تُنْبِتُ الْحُلِیَّ وَالْحُلَلَ وَإِنَّ أَغْصَانَہَا لَتُرَی مِنْ وَرَاء ِ سُورِ الْجَنَّۃِ۔ ترجمہ :حضرت سیدنامعاویہ بن قرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا: ’’طوبی‘‘ جنت میں ایک درخت ہے جسے اللہ تعالی نے اپنے دست قدرت سے لگایااوراس میں اپنی روح پھونکی ، زیورات اورحلے اگاتاہے اوراس کی ٹہنیاں جنت کی دیواروں کے پیچھے سے دکھائی دیتی ہیں ۔ (مراح لبید لکشف معنی القرآن المجید:محمد بن عمر نووی الجاوی البنتنی إقلیما، التناری بلدا (۱:۵۶۰)’’طوبی ‘‘حضورتاجدارختم نبوتﷺکے گھرمیں ہوگا
عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ الْبَاہِلِیِّ قَالَ:طُوبَی شَجَرَۃٌ فِی الْجَنَّۃِ لَیْسَ مِنْہَا دَارٌ إِلَّا وَفِیہَا غُصْنٌ مِنْہَا، وَلَا طَیْرٌ حَسَنٌ إِلَّا ہُوَ فِیہَا، وَلَا ثَمَرَۃٌ إِلَّا ہِیَ مِنْہَا، وَقَدْ قِیلَ: إِنَّ أَصْلَہَا فِی قَصْرَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الْجَنَّۃِ، ثُمَّ تَنْقَسِمُ فُرُوعُہَا عَلَی مَنَازِلِ أَہْلِ الْجَنَّۃِ، کَمَا انْتَشَرَ مِنْہُ الْعِلْمُ وَالْإِیمَانُ عَلَی جَمِیعِ أَہْلِ الدُّنْیَا. ترجمہ :حضرت سیدناابوامامہ الباہلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ طوبی ایک درخت ہے جنت میں ، ہرہرگھرمیں اس کی ٹہنی ہوگی ، کوئی خوبصورت پرندہ نہیں ہوگاجواس پرموجود نہ ہواورکوئی پھل ایسانہیں ہوگاجواس پرلگاہوانہ ہواوریہ بھی بیان کیاگیاہے کہ یہ جنت میں حضورتاجدارختم نبوتﷺکے گھرمیں ہوگا، پھراس کی ٹہنیاں حضورتاجدارختم نبوتﷺکے گھرمبارک سے تمام اہل جنت میں تقسیم ہونگی جس طرح تمام اہل دنیامیں آپﷺکی بارگاہ ختم نبوت سے علم اورایمان تقسیم ہوتاہے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۹:۳۱۶) اب ان آیات کریمہ کو ایک بارتلاوت کریں اوراس میں غورکریں تویہ بات سمجھ آجائے گی کہ اللہ تعالی نے یہ انعام ان لوگوں کے لئے رکھاہے جولوگ اللہ تعالی کی توحیداورحضورتاجدارختم نبوتﷺکی نبوت ورسالت اورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت اوراہل بیت کرام رضی اللہ عنہم کی محبت پراللہ تعالی کے احکامات پرمطمئن ہیں اورانہیں دل وجان سے تسلیم کرتے ہیں تواللہ تعالی نے ان کے لئے یہ انعام تیارفرمایاہے کہ جب جنت میں جائیں گے توان کو ’’طوبی‘‘درخت جو حضورتاجدارختم نبوتﷺکے مبارک گھرمیں ہوگااس کی شاخیں ان کے گھروں میں پہنچ کران کو فیضان نبوت سے فیضیاب کریں گی ۔علم دین کے باغی جاہل صوفیہ کاردبلیغ
فقہ کے حلقے جنت کے باغات ہیں عَنْ عَبْدَ اللَّہِ یَعْنِی ابْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:إِذَا مَرَرْتُمْ بِرِیَاضِ الْجَنَّۃِ فَارْتَعُوا یَعْنِی:حَلَقَ الذِّکْرِ أَمَا إِنِّی لَا أَقُولُ حِلَقَ الْقُصَّاصِ وَلَکِنْ حِلَقَ الْفِقْہِ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعمروبن العاص رضی اللہ عنہ حضورتاجدارختم نبوتﷺسے روایت کرتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا: جب جنت کے باغات کے پاس سے گزروتووہاںسے فراخی کے ساتھ کھایاپیاکرو۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی : یارسول اللہ ﷺ!جنت کے باغات کیاہیں؟ توحضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا: ذکرکے حلقے ۔ حضرت سیدناعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ کبھی بھی نہیں ہوگاکہ اس سے مراد قصہ گو لوگوں کی مجالس ہیں بلکہ اس سے مراد فقہ اسلامی کے حلقے ہیں۔ (الفقیہ و المتفقہ:أبو بکر أحمد بن علی بن ثابت بن أحمد بن مہدی الخطیب البغدادی (۱:۹۴)ذکرکی مجالس سے مراد کیاہے؟
نا یَزِیدُ بْنُ سَمُرَۃَ أَبُو ہَزَّانَ أَنَّہُ سَمِعَ عَطَاء ً الْخُرَاسَانِیَّ یَقُولُ:مَجَالِسُ الذِّکْرِ ہِیَ مَجَالِسُ الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ وَہَذَا آخِرُ حَدِیثٍ الطَّبَرَانِیِّ وَزَادَ ابْنُ رَاشِدٍ:کَیْفَ تَشْتَرِی وَتَبِیعُ وَتُصَلِّی وَتَصُومُ وَتُنْکَحُ وَتُطَلِّقُ وَتَحُجُّ وَأَشْبَاہُ ہَذَا۔ ترجمہ :حضرت سیدناابوہزان رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت سیدناعطاء خراسانی رحمہ اللہ تعالی کوفرماتے ہوئے سناکہ ذکرکی مجالس سے مراد وہ مجالس ہیں جہاں پرحلال وحرام کے مسائل بیان کئے جائیں اوراس کے آخر میں ابن راشدرحمہ اللہ تعالی نے یہ زائد بیان کیاہے کہ تاکہ تم کو علم ہوکہ تم خریداری کیسے کروگے اوربیچوگے کیسے ، نماز اورروزہ کیسے اداکروگے ،نکاح کیسے کروگے اورطلاق کیسے دوگے ، اورحج کیسے کروگے اوراس جیسے مسائل۔ (سیر أعلام النبلاء :شمس الدین أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن عثمان بن قَایْماز الذہبی (ا۶:۲۸۷) فقہ پڑھنے والوں کوآج بھی حضورتاجدارختم نبوتﷺکی معیت حاصل ہے عَنِ الْأَوْزَاعِیِّ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ فِی قَوْلِہِ تَعَالَی:(وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِینَ یَدْعُونَ رَبَّہُمْ بِالْغَدَاۃِ وَالْعَشِیِّ)(الکہف: ۲۸) قَالَ:مَجَالِسُ الْفِقْہِ وَفِی حَدِیثِ أَحْمَدَ بْنِ مَہْدِیٍّ قَالَ:ہِیَ مَجَالِسُ الْفِقْہِ۔ ترجمہ ـحضرت سیدناامام الاوزاعی رحمہ اللہ تعالی اپنے شیخ کریم حضرت سیدناامام یحیی ابن ابی کثیررحمہ اللہ تعالی سے اللہ تعالی کے اس فرمان شریف: {وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِینَ یَدْعُونَ رَبَّہُمْ بِالْغَدَاۃِ وَالْعَشِیِّ} ترجمہ ضیاء الایمان :اے حبیب کریم ﷺ!اور اپنی جان ان سے مانوس رکھیں جو صبح و شام اپنے رب تعالی کو پکارتے ہیں اس کی رضا چاہتے ہیں۔ کے تحت فرماتے تھے کہ اس سے مراد فقہ کی مجالس ہیں اورامام احمدبن مہدی رحمہ اللہ تعالی بھی یہی فرماتے ہیں کہ اس سے مراد دفقہ کی مجالس ہیں ۔ (الفقیہ و المتفقہ:أبو بکر أحمد بن علی بن ثابت بن أحمد بن مہدی الخطیب البغدادی (۱:۹۴)قرآن کریم اورعلم فقہ سیکھنے والے ہی ذکرکرنے والے ہیں
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لَأَنْ أَجْلِسَ مَعَ قَوْمٍ یَذْکُرُونَ اللَّہَ مِنْ غُدْوَۃٍ إِلَی طُلُوعِ الشَّمْسِ أَحَبُّ إِلَیَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَیْہِ الشَّمْسُ وَمِنَ الْعَصْرِ إِلَی غُرُوبِہَا أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ کَذَا وَکَذَا وَقَالَ: نا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنِ الْمُعَلَّی بْنِ زِیَادٍ عَنْ یَزِیدَ الرَّقَاشِیِّ قَالَ: کَانَ أَنَسٌ إِذَا حَدَّثَ ہَذَا الْحَدِیث َٔقْبَلَ عَلَیَّ وَقَالَ:وَاللَّہِ مَا ہُوَ بِالَّذِی تَصْنَعُ أَنْتَ وَأَصْحَابُکَ وَلَکِنَّہُمْ قَوْمٌ یَتَعَلَّمُونَ الْقُرْآنَ وَالْفِقْہَ۔ ترجمہ :حضرت سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا:میں ایسی قوم کے پاس صبح کے وقت بیٹھوںیہاں تک کہ سورج طلوع ہوجائے مجھے یہ ہر اس چیز سے زیادہ پسند ہے جس جس پرسورج طلوع ہوتاہے ، حضرت سیدناحماد بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب یہ حدیث شریف حضرت سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کی توپھرمیری طرف متوجہ ہوئے اورفرمایا: اللہ تعالی کی قسم ! اس سے مراد اورکوئی نہیں ہے ، بلکہ اس سے مراد تم اورتمھارے ساتھی ہوجوقرآن کریم اورفقہ کاعلم سیکھتے ہو۔ (تحذیر الخواص من أکاذیب القصاص:عبد الرحمن بن أبی بکر، جلال الدین السیوطی :۲۰۴) امام الضحاک رحمہ اللہ تعالی کاقول قَالَ الضَّحَّاکُ، فِی ہَذِہِ الْآیَۃِ:(بِمَا کُنْتُمْ تُعَلِّمُونَ الْکِتَابَ وَبِمَا کُنْتُمْ تَدْرُسُونَ)(آل عمران:۷۹)قَالَ:ہُوَ ہَذَایَعْنِی مَجْلِسَہُمْ یَتَفَقَّہُونَ۔ ترجمہ:حضرت سیدناامام ضحاک رحمہ اللہ تعالی اس آیت کریمہ {بِمَا کُنْتُمْ تُعَلِّمُونَ الْکِتَابَ وَبِمَا کُنْتُمْ تَدْرُسُونَ}(ترجمہ ضیاء الایمان:تم کتاب سکھاتے ہو اور اس سے کہ تم درس کرتے ہو )کے تحت فرماتے ہیں کہ اس سے مرادیہی ہے یعنی ایسی مجلس جس میں علم فقہ سیکھااورسیکھایاجائے۔ (شرح مذاہب أہل السنۃ:أبو حفص عمر بن أحمد بن عثمان بن أحمد المعروف بـ ابن شاہین (ا:۵۲)حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی ایک حدیث شریف لکھنا۔۔۔
قَالَ أَبُو ثَوْبَانَ مَزْدَاذُ بْنُ جَمِیلٍ:سَأَلَ عَمْرَو بْنَ إِسْمَاعِیلَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ الْحَدِیثِ الْمُعَافَی بْنُ عِمْرَانَ، فَقَالَ لَہُ:یَا عَمْرُو، أَیُّ شَیْء ٍ أَحَبُّ إِلَیْکَ، أَسْہَرُ أُصَلِّی، أَوْ أَکْتُبُ الْحَدِیثَ؟ فَقَالَ:کِتَابُ حَدِیثٍ وَاحِدٍ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ صَلَاۃِ لَیْلَۃٍ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعمرو بن اسماعیل رحمہ اللہ تعالی نے حضرت سیدنامعافی بن عمران رحمہ اللہ تعالی سے سوال کیاکہ آپ کیافرماتے ہیں کہ میں ساری رات جاگ کرعبادت کروں یاحضورتاجدارختم نبوتﷺکی حدیث شریف لکھاکروں؟ حضرت سیدنامعافی بن عمران رحمہ اللہ تعالی نے فرمایاکہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی ایک حدیث شریف لکھنامیرے نزدیک ساری رات کھڑے ہوکرنماز پڑھنے سے زیادہ پسندیدہ ہے ۔ (شرف أصحاب الحدیث:أبو بکر أحمد بن علی بن ثابت بن أحمد بن مہدی الخطیب البغدادی :۸۴) امام محمدبن عزیزرحمہ اللہ تعالی کاعمل شریف ان أَبَا مُحَمَّدٍ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ إِدْرِیسَ، یَقُولُ:خَرَجْتُ إِلَی أَیْلَۃَ، إِلَی مُحَمَّدِ بْنِ عَزِیزٍ الْأَیْلِیِّ، فَکَتَبَ لِی أَبِی وَأَبُو زُرْعَۃَ إِلَیْہِ یَعْنِی فِی الْوُصَاۃِ فَجَعَلَ مُحَمَّدُ بْنُ عَزِیزٍ یَقْرَأُ لِی یَوْمَ الْجُمُعَۃَ، مَا صَلَّی ذَلِکَ الْیَوْمَ إِلَّا الْجُمُعَۃَ رَکْعَتَیْنِ، وَالْعَصْرَ أَرْبَعًاوَکَانَ یَقْرَأُ لِی الْحَدِیثَ، عَلَی أَنَّ قِرَاء َۃَ الْحَدِیثِ أَفْضَلُ مِنْ صَلَاۃِ التَّطَوُّعِ۔ ترجمہ :امام ابومحمدعبدالرحمن رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں میں حضرت سیدنامحمدبن عزیزرحمہ اللہ تعالی کی خدمت میں حاضرہواتوآپ رحمہ اللہ تعالی نے مجھے جمعۃُ المبارک کے دن حدیث شریف لکھواناشروع کی تومسلسل لکھواتے رہے یہاں تک کہ جمعہ کے صرف فرض اورعصرکے صرف چارفرض اداکئے ، اس سے مجھے معلوم ہوگیاکہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکی حدیث شریف کولکھنانفلی نماز سے افضل ہے ۔ (شرف أصحاب الحدیث:أبو بکر أحمد بن علی بن ثابت بن أحمد بن مہدی الخطیب البغدادی :۸۴) علمی مشغولیت کی وجہ سے وترپہلے اداکرنا وأن من العلماء من أوجبہ فلا تضیع الوتر ثم إن کنت ترجو أن تستوتر من آخر اللیل فاجعل الوتر فی آخر اللیل وإن کنت تخاف ألا تقوم فاجعل الوتر من أول اللیل لا تنم إلا موترا ولہذا أوصی النبی صلی اللہ علیہ وسلم أبا ہریرۃ أن یوتر قبل أن ینام لأن أبا ہریرۃ کان یقرأ أحادیث الرسول صلی اللہ علیہ وسلم فی أول اللیل وینام فی آخرہ فأمرہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم أن یوتر قبل أن ینام۔ ترجمہ :الشیخ محمد بن صالح بن محمد العثیمین المتوفی: ۱۴۲۱ھ)لکھتے ہیں کہ علماء کرام کے نزدیک وتراداکرناضروری ہیں اورتووتروں کوضائع نہ کرو، اگرتم وترپچھلی رات کو اداکرنے پرقدرت رکھتے ہوتوپچھلی رات کوہی اداکرووگرنہ رات کوسونے سے قبل ہی اداکرو، کیونکہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے حضرت سیدناابوھریرہ رضی اللہ عنہ کوحکم فرمایاتھاکہ تم وتررات کے ابتدائی حصہ میں اداکیاکروکیونکہ آپ رضی اللہ عنہ ابتدائی حصہ میں حضورتاجدارختم نبوتﷺکی احادیث شریفہ یادکیاکرتے تھے اورپچھلی رات کے وقت سویاکرتے تھے ، اس لئے حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا:تم وتررات کے ابتدائی حصہ میں اداکیاکرو۔ (شرح ریاض الصالحین:محمد بن صالح بن محمد العثیمین(۵:۱۴۹) یعنی عمومی حکم شریف یہی تھاکہ وترپچھلی رات میں اداکئے جائیں مگرحضرت سیدناابوھریرہ رضی اللہ عنہ کو علم دین کی مشغولیت کی وجہ سے حکم دیاگیاکہ آپ اپنی علمی مصروفیت کوویسے ہی رہنے دیں اوراپنے وتررات کے ابتدائی حصے میں اداکرلیاکریں۔نفلی روزہ اورنفل نماز سے حدیث شریف لکھنازیادہ پسندیدہ عمل ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِی الثَّلْجِ، قَالَ:حَدَّثَنِی جَدِّی، قَالَ سَأَلْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، قُلْتُ:یَا أَبَا عَبْدِ اللَّہِ أَیُّہُمَا أَحَبُّ إِلَیْکَ:الرَّجُلُ یَکْتُبُ الْحَدِیثَ أَوْ یَصُومُ وَیُصَلِّی؟ قَالَ:یَکْتُبُ الْحَدِیثَ قُلْتُ:فَمِنْ أَیْنَ فَضَّلْتَ کِتَابَ الْحَدِیثِ عَلَی الصَّوْمِ وَالصَّلَاۃِ؟ قَالَ:لِئَلَّا یَقُولَ قَائِلٌ:إِنِّی رَأَیْتُ قَوْمًا عَلَی شَیْء ٍ فَاتَّبَعْتُہُمْ قَالَ الخَطِیبُ قُلْتُ:طَلَبُ الْحَدِیثِ فِی ہَذَا الزَّمَانِ أَفْضَلُ مِنْ سَائِرِ أَنْوَاعِ التَّطَوُّعِ لِأَجَلِ دُرُوسِ السُّنَنِ وَخُمُولِہَا، وَظُہُورِ الْبِدَعِ وَاسْتِعْلَاء ِ أَہْلِہَا۔ ترجمہ :امام ابوالثلج رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیدناامام احمدبن حنبل رضی اللہ عنہ سے سوال کیاکہ اے ابوعبداللہ!ایک شخص حدیث شریف لکھنے والاہے اوردوسرانماز روزہ میں مصروف رہتاہے ان میںآپ کے نزدیک پسندیدہ شخص کون ہے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرے نزدیک وہ شخص پسندیدہ ہے جوحضورتاجدارختم نبوتﷺکی حدیث شریف لکھتارہے ۔ میںنے عرض کی کہ آپ حدیث شریف لکھنے والے کونمازوروزہ میں مصروف رہنے والے پرکس دلیل کی بناء پرفضیلت دیتے ہیں؟ توآپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تاکہ کوئی یہ نہ کہے میں نے ایک قوم کودیکھاتومیں نے ان کی پیروی کی ، امام خطیب بغدادی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ہمارے زمانے میں حدیث شریف پڑھنا، پڑھاناتمام نفلی عبادات سے افضل ہے کیونکہ سنتوں کاسیکھنے سکھانے کاعمل سست روی کاشکارہوچکاہے اوربدعقیدگی بڑھتی جارہی ہے اوربدمذہب لوگ غلبہ پاچکے ہیں۔ (شرف أصحاب الحدیث:أبو بکر أحمد بن علی بن ثابت بن أحمد بن مہدی الخطیب البغدادی :۸۴)نماز پر حدیث شریف بیان کرنے کی افضلیت
ان عَبْدَۃَ، یَقُولُ:سَمِعْتُ ابْنَ الْمُبَارَکِ، یَقُولُ:لَوْ عَلِمْتُ أَنَّ الصَّلَاۃَ أَفْضَلَ مِنَ الْحَدِیثِ مَا حَدَّثْتُکُمْ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبدہ رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیدناعبداللہ بن مبارک رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سناکہ اگرمجھے علم ہوتاکہ نماز اداکرناحدیث شریف بیان کرنے سے افضل ہے تومیں کبھی بھی حدیث شریف بیان ہی نہ کرتا۔ (شرف أصحاب الحدیث:أبو بکر أحمد بن علی بن ثابت بن أحمد بن مہدی الخطیب البغدادی :۱۱۳) طلب علم اورنفلی نماز! ان الرَّبِیعَ بْنَ سُلَیْمَانَ، یَقُولُ:سَمِعْتُ الشَّافِعِیَّ، یَقُولُ:طَلَبُ الْعِلْمِ أَفْضَلُ مِنْ صَلَاۃِ النَّافِلَۃِ۔ ترجمہ :امام الربیع بن سلیمان رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیدناامام الشافعی رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سناکہ علم حاصل کرنانفلی نماز سے بہترہے ۔ (النکت الوفیۃ بما فی شرح الألفیۃ:برہان الدین إبراہیم بن عمر البقاعی(۲:۲۹۴) حصول علم فقہ اورشب بیداری میں افضل کیاہے ؟ عَنِ الْأَوْزَاعِیِّ قَالَ:قَالَ أَبُو الدَّرْدَاء ِ:لَأَنْ أَذْکُرَ الْفِقْہَ سَاعَۃً أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ قِیَامِ لَیْلَۃٍ۔ ترجمہ :حضرت سیدناامام الاوزاعی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ حضرت سیدناابودرداء رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ میںایک ساعت فقہ کویادکروں میرے نزدیک ساری رات کے قیام کرنے سے افضل ہے۔ (الفقیہ و المتفقہ:أبو بکر أحمد بن علی بن ثابت بن أحمد بن مہدی الخطیب البغدادی (۱:۱۹۱) تحصیل علم فقہ بھی نماز ہی ہے نا حُمَیْدٌ الْکِنْدِیُّ قَالَ:سَمِعْتُ یَحْیَی بْنَ أَبِی کَثِیرٍ یَقُولُ:تَعْلِیمُ الْفِقْہِ صَلَاۃٌ وَدِرَاسَۃُ الْقُرْآنِ صَلَاۃٌ۔ ترجمہ :حضرت سیدناحمیدالکندی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ میں نے حضر ت سیدناامام یحیی بن ابی کثیررحمہ اللہ تعالی کو فرماتے ہوئے سناکہ علم فقہ سیکھنابھی نماز ہے اورقرآن کریم کاعلم حاصل کرنابھی نمازہے۔ (الفقیہ و المتفقہ:أبو بکر أحمد بن علی بن ثابت بن أحمد بن مہدی الخطیب البغدادی (۱:۱۹۱)شب بیداری کیسے ہو؟
حَدَّثَنِی إِبْرَاہِیمُ بْنُ ہَانِئٍ قَالَ:قُلْتُ لِأَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ:أَیُّ شَیْء ٍ أَحَبُّ إِلَیْکَ أَجْلِسُ بِاللَّیْلِ أَنْسَخُ أَوْ أُصَلِّی تَطَوُّعًا؟ قَالَ:إِذَا کُنْتَ تَنْسَخُ فَأَنْتَ تَعَلَّمُ بِہِ أَمْرَ دِینِکَ فَہُوَ أَحَبُّ إِلَیَّ۔ ترجمہ :حضرت سیدناابراہیم رحمہ اللہ تعالی نے بیان کیاکہ میں نے حضرت سیدناامام احمدبن حنبل رضی اللہ عنہ کی خدمت میں عرض کی : میں شب بھرحدیث شریف نقل کروں یاساری رات نماز پڑھوں کونسی چیز میرے لئے پسندیدہ ہے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ جب تورات کے وقت حضورتاجدارختم نبوتﷺکی حدیث شریف نقل کرے گاتواپنے دین کے معاملات سیکھے گااورلوگوںکوسکھائے گایہی چیز میرے نزدیک پسندیدہ ہے ۔ (الفقیہ و المتفقہ:أبو بکر أحمد بن علی بن ثابت بن أحمد بن مہدی الخطیب البغدادی (۱:۱۹۱)جاہل صوفی اورسچے عالم دین میں فرق
عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لَوْ أَنَّ ہَذِہِ وَقَعَتْ عَلَی ہَذِہِ یَعْنِی:السَّمَاء َ عَلَی الْأَرْضِ وَزَالَ کُلُّ شَیْء ٍ مِنْ مَکَانِہِ مَا تَرَکَ الْعَالِمُ عِلْمَہُ وَلَوْ فُتِحَتِ الدُّنْیَا عَلَی عَابِدٍ لَتَرَکَ عُبَادَۃَ رَبِّہِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی۔ ترجمہ :حضر ت سیدناامام یحیی بن ابی کثیررحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا:اگرآسمان زمین پرگرپڑے اورزمین کی ہرہرچیز اپنی جگہ سے ہٹ جائے توجوعالم دین ہوگاوہ کبھی بھی اپنی علمی مشغولیت ترک نہیں کرے گااوراگرزمین اپنے خزانے کھول دے توجوشخص علم کے بغیرعبادت میں مصروف ہے وہ اپنے رب تعالی کی عبادت ترک کردے گا۔ (الفقیہ و المتفقہ:أبو بکر أحمد بن علی بن ثابت بن أحمد بن مہدی الخطیب البغدادی (۱:۱۹۱)علم کے باغی جاہل صوفیاء کافساد
عَنْ ضِرَارِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ:إِنَّ قَوْمًا تَرَکُوا الْعِلْمَ وَمُجَالَسَۃَ أَہْلِ الْعِلْمِ وَاتَّخِذُوا مَحَارِیبَ فَصَامُوا وَصَلَّوْا حَتَّی بَلِیَ جِلْدُ أَحَدِہِمْ عَلَی عَظْمِہِ وَخَالَفُوا السُّنَّۃَ فَہَلَکُوا فَلَا وَالَّذِی لَا إِلَہَ غَیْرُہُ مَا عَمِلَ عَامِلٌ قَطُّ عَلَی جَہْلٍ إِلَّا کَانَ مَا یُفْسِدُ أَکْثَرُ مِمَّا یُصْلِحُ۔۔ ترجمہ :حضرت سیدناضراربن عمرو رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ لوگوں نے علم کوحاصل کرناترک کردیاہے اوراہل علم کی مجالس میں بیٹھنابھی چھوڑدیاہے اورانہوںنے مساجدکے محراب قابوکرکے وہاں نماز وروزہ میں مشغول ہوگئے اورانہوںنے حضورتاجدارختم نبوتﷺکی سنت کریمہ کی مخالفت کی ہے اوریہ لوگ ہلاک ہوگئے ہیں ، پس قسم اس ذات کی جس کے علاوہ کوئی الہ نہیں ہے جوبھی شخص ایسی حرکت کرے گاوہ اصلاح سے زیادہ فساد پھیلائے گا۔ (الفقیہ و المتفقہ:أبو بکر أحمد بن علی بن ثابت بن أحمد بن مہدی الخطیب البغدادی (۱:۱۹۱)جاہل صوفی علم دشمن کوتنبیہ
عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ:الْعِلْمُ ذِکْرٌ یُحِبُّہُ ذُکُورَۃُ الرِّجَالِ وَیَکْرَہُہُ مُؤَنَّثُوہُمْ۔ ترجمہ :حضرت سیدناابن شہاب رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ علم ذکرہے اسے مردوں میں جومردہیں وہی پسندکرتے ہیں اورجونامردہیں وہ اس کو مکروہ جانتے ہیں۔ (جامع بیان العلم وفضلہ:أبو عمر یوسف بن عبد اللہ بن محمد بن عبد البر القرطبی (ا:۱۰۸) فقہ کے مسائل پرکلام کرنابھی نماز ہے عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی مُوسَی، أَنَّ أَبَا مُوسَی أَتَی عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بَعْدَ الْعِشَاء ِ، قَالَ:فَقَالَ لَہُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ:مَا جَاء َ بِکَ؟ قَالَ:جِئْتُ أَتَحَدَّثُ إِلَیْکَ، قَالَ:ہَذِہِ السَّاعَۃَ؟ قَالَ:إِنَّہُ فِقْہٌ، فَجَلَسَ عُمَرُ فَتَحَدَّثَا لَیْلًا طَوِیلًا حَسِبْتُہُ قَالَ:ثُمَّ إِنَّ أَبَا مُوسَی قَالَ: الصَّلَاۃُ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ؟ قَالَ:أَنَا فِی صَلَاۃٍ۔ ترجمہ :حضرت سیدناابوبکربن ابی موسی الاشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدناابوموسی الاشعری رضی اللہ عنہ عشاء کی نماز کے بعد حضرت سیدناعمربن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس گئے توحضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ نے فرمایا:اس وقت کونسی باتیں کرنی ہیں؟ توحضرت سیدناابوموسی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : فقہ کے متعلق توحضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ ان کے ساتھ طویل وقت تک بیٹھے دین کے احکامات کے متعلق کلام کرتے رہے ۔ جب تہجدکاوقت ہواتوحضرت سیدناابوموسی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : حضورنمازاداکرلیں ؟ حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ جوہم دین متین کے احکامات کے متعلق کلام کررہے ہیں یہ ساری نماز ہی ہے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ:أبو بکر بن أبی شیبۃ، عبد اللہ بن محمد العبسی (۲:۷۹) امام ابوالسواررحمہ اللہ تعالی کاجاہل صوفی پرغضبناک ہونا عَنِ ابْنِ شَوْذَبَ قَالَ:کَانَ أَبُو السَّوَّارِ الْعَدَوِیُّ فِی حَلْقَۃٍ یَتَذَاکَرُ فِیہَا الْعِلْمَ قَالَ:وَمَعَہُمْ فَتًی شَابٌّ فَقَالَ:قُولُوا:سُبْحَانَ اللَّہِ وَالْحَمْدُ لِلَّہِ قَالَ:فَغَضِبَ أَبُو السَّوَّارِ فَقَالَ:وَیْحَکَ فِی أَیِّ شَیْء ٍ کُنَّا إِذًا؟ ترجمہ :امام ابن شوذب رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ حضرت سیدناابوالسوارالعدوی رحمہ اللہ تعالی مذاکرہ علم کے حلقہ میں جلوہ افروز تھے تووہاں ایک نوجوان موجودتھا، اس نے کہاکہ سب کہو!الحمدللہ ، سبحان اللہ ! حضرت سیدناابوالسوارالعدوی رحمہ اللہ تعالی بہت زیادہ غضبناک ہوئے اورفرمایا: افسوس ہے تم پر، اب تک ہم کیاکرتے رہے ہیں؟۔ (الزہد:أبو عبد اللہ أحمد بن محمد بن حنبل بن ہلال بن أسد الشیبانی:۲۵۷)علم وذکرمیں ایک لطیف فرق
ما من شکٍّ فی أنَّ الاشتغال بطلب العلم وتحصیلہ، ومعرفۃ الحلال والحرام، ومدارسۃ القرآن الکریم، وتدبُّرہ، ومعرفۃ سنّۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وسیرتہ وأخبارہ ہو خیرُ الذکر وأفضلُہ، ومجالسہ خیر المجالس، وہی أفضل من مجالس ذکر اللہ بالتسبیح والتحمید والتکبیر؛ لأنَّہا دائرۃ بین فرض عین أو فرض کفایۃ، والذکر المجرّد تطوّع محض.ولہذا فقد ثبت عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی تفضیل العلم وتقدیمہ علی العبادۃ، وتقدیم العالم علی العابد۔وقد تضمّن ہذا الحدیث مثلاً بدیعاً یتضّح من خلالہ مدی الفرق بین العالم والعابد، حیث شبّہ صلی اللہ علیہ وسلم العالم بالقمر لیلۃ البدر، أی لیلۃ الخامسَ عشر والتی فیہا یکون نہایۃ کمال القمر وتمام نورہ، وشبّہ العابد بالکواکب، وفی ہذا التشبیہ سرٌّ لطیف نبّہ علیہ أہل العلم.یقول الإمام ابن رجب رحمہ اللہ:والسّر فی ذلک واللہ أعلم، أنَّ الکوکب ضوء ہ لا یعدو نفسہ، وأما القمر لیلۃ البدر فإنَّ نورہ یشرقُ علی أہل الأرض جمیعًا فیعمّہم نورُہ، فیستضیئون بنورہ، ویہتدون بہ فی سیرہم، وإنَّما قال علی سائر الکواکب، ولم یقل علی سائر النّجوم؛ لأنَّ الکواکب ہی التی تسیر ولا یُہتدی بہا، فہی بمنزلۃ العابد الذی نفعہ مقصور علی نفسہ۔ ترجمہ :الشیخ عبد الرزاق بن عبد المحسن البدرالکویتی لکھتے ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ علم کی طلب وتحصیل ، حلال وحرام کی معرفت ، قرآن کریم کوپڑھنااوراس غوروفکرکرنا، حضورتاجدارختم ﷺکی سنت کریمہ ، سیرت مبارکہ ، حضورتاجدارختم نبوتﷺ کی احادیث کویادکرناسب سے بہترین ذکراورافضل ترین عبادت ہے اوریہی مجالس تمام مجالس سے بہترین اوریہی مجالس اللہ تعالی کے ذکر، تسبیح ،تکبیراورتحمیدکی مجالس سے افضل ہیں ۔ کیونکہ ان اشیاء کاسیکھنایاتوفرض عین ہوگایافرض کفایہ اورصرف ذکرکرناتومحض ایک نفل وتطوع ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺسے ذکرسے علم کااورذاکرسے عالم کامقدم ہوناثابت ہے اورحدیث شریف میںحضورتاجدارختم نبوتﷺنے عالم دین کو چودہویں کے چاندکے ساتھ تشبیہ دی ہے جواپنے کمال کے انتہاء کوپہنچاہوتاہے اوراس رات اس کانور مکمل طورپرجگمگ کررہاہوتاہے اورحضورتاجدارختم نبوتﷺنے عابدکوستاروں کے ساتھ تشبیہ دی ہے ، اس تشبیہ میں ایک لطیف راز ہے جس کواہل علم ہی جانتے ہیں ۔ امام ابن رجب الحنبلی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس میں جوراز ہے وہ اللہ تعالی ہی خوب جانتاہے ، بے شک جوستارے ہوتے ہیں ان کی روشنی صرف ان کی حدتک رہتی ہے اوررہاچودہودیں کا چاندتووہ اہل زمین کو بھی منورکرتاہے اوراس کانورسب اہل زمین پرچھاجاتاہے ، اہل زمین اس کے نورسے منورہوتے ہیں اوراپنے سفروں میں اس سے ہدایت پاتے ہیں اوراسی طرح ستاروں کانفع صرف ان کی اپنی ذات تک ہی محدود ہوتاہے اسی طرح عابدکی عبادت کانفع بھی صرف اورصرف اس کی ذات تک ہی محدودہوتاہے ۔ (فقہ الأدعیۃ والأذکار:عبد الرزاق بن عبد المحسن البدر(۱:۱۰۴)حصول علم جہاد، عبادت، روزہ ،تسبیح کے برابرہے
عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:تَعَلَّمُوا الْعِلْمَ؛ فَإِنَّ تَعْلِیمَہُ لِلَّہِ خَشْیَۃً وَطَلَبَہُ عِبَادَۃً، وَمُذَاکَرَتَہُ تَسْبِیحٌ وَالْبَحْثَ عَنْہُ جِہَادٌ، وَتَعْلِیمَہُ لِمَنْ لَا یَعْلَمُہُ صَدَقَۃٌ، وَبَذْلَہُ لِأَہْلِہِ قُرْبَۃٌ؛ لِأَنَّہُ مَعَالِمُ الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ وَمَنَارُ سُبَلِ أَہْلِ الْجَنّ
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9