صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2494 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیرسورہ حجر آیت ۱۷۔۱۸۔ وَ حَفِظْنٰہَا مِنْ کُلِّ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍ

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 12,653

سوال (Question):

تفسیرسورہ حجر آیت ۱۷۔۱۸۔ وَ حَفِظْنٰہَا مِنْ کُلِّ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

اے اہل اسلام! کاش کہ تم بھی ایسامیلاد شریف منائوکہ دنیاکے کافرسرنگوں ہوجائیں

{وَ حَفِظْنٰہَا مِنْ کُلِّ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍ }(۱۷){اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَاَتْبَعَہ شِہَابٌ مُّبِیْنٌ}(۱۸) ترجمہ کنزالایمان: اور اسے ہم نے ہر شیطان مردود سے محفوظ رکھا۔ مگر جو چوری چھپے سننے جائے تو اس کے پیچھے پڑتا ہے روشن شعلہ ۔ ترجمہ ضیاء الایمان:اور اسے(آسمان میں ہونے والی گفتگوکو) ہم نے ہر شیطان مردود سے محفوظ رکھا ۔ البتہ جو چوری چھپے سننے جائے تو اس کے پیچھے ایک روشن شعلہ لگ جاتا ہے۔

میلاد شریف کی رات شیاطین پرآگ برسانا

قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا:کَانَتِ الشَّیَاطِینُ، لا تحجب عن السموات، فَکَانُوا یَدْخُلُونَہَا وَیَسْمَعُونَ أَخْبَارَ الْغُیُوبِ مِنَ الْمَلَائِکَۃِ فَیُلْقُونَہَا إِلَی الْکَہَنَۃِ،فَلَمَّا وُلِدَ عِیسَی عَلَیْہِ السَّلَامُ مُنِعُوا مِنْ ثلاثۃ سموات، فَلَمَّا وُلِدَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وسلم منعوا من السموات کُلِّہَا، فَکُلُّ وَاحِدٍ مِنْہُمْ إِذَا أَرَادَ اسْتِرَاقَ السَّمْعِ رُمِیَ بِشِہَاب ٍفَلَمَّا مُنِعُوا مِنْ تِلْکَ الْمَقَاعِدِ ذَکَرُوا ذَلِکَ لِإِبْلِیسَ، فَقَالَ:لقد حدث فی الأرض حادث، قَالَ:فَبَعَثَہُمْ فَوَجَدُوا رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَتْلُو القرآن فقالوا:ہذا واللہ حَدَثَ۔ ترجمہ :حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ شَیاطین آسمانوں میں داخل ہوتے تھے اور وہاں کی خبریں کاہنوں کے پاس لاتے تھے ، جب حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے تو شیاطین تین آسمانوں سے روک دیئے گئے اور جب حضورتاجدارختم نبوتﷺ کی ولادت باسعادت ہوئی تو تمام آسمانوں سے منع کردیئے گئے۔ اس کے بعد ان میں سے جب کوئی باتیں چوری کرنے کے ارادے سے اوپر چڑھتا تو اسے شِہاب کے ذریعے مارا جاتا۔ شیطانوں نے یہ صورت ِحال ابلیس کے سامنے بیان کی تو ا س نے کہا:ضرور کوئی نئی بات ہوئی ہے۔ پھر ابلیس نے شیطانوں کو معلومات اکٹھی کرنے کے لئے بھیجا تو ایک جگہ انہوں نے دیکھا کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺ َ قرآنِ پاک کی تلاوت فرما رہے ہیں ۔ یہ دیکھ کر وہ بول اٹھے خدا تعالی کی قسم یہی وہ نئی بات ہے۔ (الکشف والبیان عن تفسیر القرآن:أبو إسحاق أحمد بن إبراہیم الثعلبی (۱۵:۴۳۶)

الامام الزجاج رحمہ اللہ تعالی کازبردست کلام

قَالَ الزَّجَّاجُ: وَالرَّمْیُ بِالشُّہُبِ مِنْ آیَاتِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِمَّا حَدَثَ بَعْدَ مَوْلِدِہِ، لِأَنَّ الشُّعَرَاء َ فِی الْقَدِیمِ لَمْ یَذْکُرُوہُ فِی أَشْعَارِہِمْ، وَلَمْ یُشَبِّہُوا الشَّیْء َ السَّرِیعَ بِہِ کَمَا شَبَّہُوا بِالْبَرْقِ وَبِالسَّیْلِ. وَلَا یَبْعُدُ أَنْ یُقَالَ: انْقِضَاضُ الْکَوَاکِبِ کَانَ فِی قَدِیمِ الزَّمَانِ وَلَکِنَّہُ لَمْ یَکُنْ رُجُومًا لِلشَّیَاطِینِ، ثُمَّ صَارَ رُجُومًا حِینَ وُلِدَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ.۔ ترجمہ :امام الزجاج رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ شہابوں کے ساتھ بھگاناحضورتاجدارختم نبوتﷺکی نبوت شریفہ کی علامات اورنشانیوں میں سے ہے جوآپﷺکی ولادت باسعادت کے بعد ظاہرہوئیں ، کیونکہ قدیم شعراء نے اپنے اشعارمیں اس کاذکرنہیں کیااورنہ انہوںنے کسی بھی تیزرفتارشئی کو اس کے ساتھ تشبیہ دی ہے جیساکہ انہوںنے بجلی اورسیلات کے ساتھ تشبیہ دی ہے اوریہ بعیدنہیں کہ کہاجائے کہ ستاروں کاٹوٹناتوقدیم زمانے میں تھالیکن وہ شیطانوں کو بھگانے کیلئے نہ تھا، پھرجس وقت حضورتاجدارختم نبوتﷺکی ولادت باسعادت ہوئی تویہ انہیں بھگانے کے لئے ہوگیا۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۱۰:۱۰)

آسمان کی حفاظت کیسے کی گئی ؟

لَمَّا مَنَعَہُ مِنَ الْقُرْبِ مِنْہَا، فَقَدْ حَفِظَ السَّمَاء َ مِنْ مُقَارَبَۃِ الشَّیْطَانِ فَحَفِظَ اللَّہُ السَّمَاء َ مِنْہُمْ کَمَا قَدْیَحْفَظُ مَنَازِلَنَا عَنْ مُتَجَسِّسٍ یُخْشَی مِنْہُ الْفَسَادُ ۔ ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالی نے آسمانوں کے قرب سے شیاطین کوروک دیاتوشیاطین کے قرب سے آسمان محفوظ ہوگیاتواللہ تعالی نے آسمان کوان سے اسی طرح محفوظ رکھاجس طرح اپنے گھروں کو فسادی جاسوس سے محفوظ کیاجاتاہے۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۱۹:۱۳۰)

الرجم کامعنی سب وشتم بھی ہے

وَالرَّجْمُ أَیْضًا السَّبُّ وَالشَّتْمُ لِأَنَّہُ رُمِیَ بِالْقَوْلِ الْقَبِیحِ وَمِنْہُ قولہ: لَأَرْجُمَنَّکَ أَیْ لَأَسُبَّنَّکَ۔ ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ الرجم کامعنی سب وشتم بھی ہے کیونکہ یہ قبیح بات کو پھینکناہے اسی طرح اللہ تعالی کافرمان عالی شان ہے کہ {لأَرْجُمَنَّک}اس کامعنی ہے کہ میں تجھ پرسب وشتم کروں۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۱۹:۱۳۰)

شیاطین حضورتاجدارختم نبوتﷺکے قریب جاتے توجل کرراکھ ہوجاتے

وہو آیس من وسوستہ صلی اللہ علیہ وسلم لانہ یحترق من نورہ علیہ السلام فلا یقرب منہ۔ ترجمہ :امام اسماعیل حقی الحنفی المتوفی : ۱۱۲۷ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ شیطان اوراس کی اولاد حضورتاجدارختم نبوتﷺکے قریب نہیں جاسکتے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ اگروہ آپﷺکے قریب جاتے توآپﷺکے نورمبارک سے جل کرراکھ ہوجاتے ۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۴:۴۴۸)

شیطان کے آسمانی کلام چوری کرنے پرپہلی حدیث شریف

عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ،یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:إِذَا قَضَی اللَّہُ الأَمْرَ فِی السَّمَاء ِ، ضَرَبَتِ المَلاَئِکَۃُ بِأَجْنِحَتِہَا خُضْعَانًا لِقَوْلِہِ، کَالسِّلْسِلَۃِ عَلَی صَفْوَانٍ قَالَ عَلِیٌّ:وَقَالَ غَیْرُہُ: صَفْوَانٍ یَنْفُذُہُمْ ذَلِکَ فَإِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِہِمْ، قَالُوا:مَاذَا قَالَ رَبُّکُمْ، قَالُوا لِلَّذِی قَالَ:الحَقَّ،وَہُوَ العَلِیُّ الکَبِیرُ، فَیَسْمَعُہَا مُسْتَرِقُو السَّمْعِ، وَمُسْتَرِقُو السَّمْعِ ہَکَذَا وَاحِدٌ فَوْقَ آخَرَ وَوَصَفَ سُفْیَانُ بِیَدِہِ، وَفَرَّجَ بَیْنَ أَصَابِعِ یَدِہِ الیُمْنَی، نَصَبَہَا بَعْضَہَا فَوْقَ بَعْضٍ فَرُبَّمَا أَدْرَکَ الشِّہَابُ المُسْتَمِعَ قَبْلَ أَنْ یَرْمِیَ بِہَا إِلَی صَاحِبِہِ فَیُحْرِقَہُ، وَرُبَّمَا لَمْ یُدْرِکْہُ حَتَّی یَرْمِیَ بِہَا إِلَی الَّذِی یَلِیہِ، إِلَی الَّذِی ہُوأَسْفَلَ مِنْہُ، حَتَّی یُلْقُوہَا إِلَی الأَرْضِ وَرُبَّمَا قَالَ سُفْیَانُ: حَتَّی تَنْتَہِیَ إِلَی الأَرْضِ فَتُلْقَی عَلَی فَمِ السَّاحِرِ، فَیَکْذِبُ مَعَہَا مِائَۃَ کَذْبَۃٍ، فَیُصَدَّقُ فَیَقُولُونَ:أَلَمْ یُخْبِرْنَا یَوْمَ کَذَا وَکَذَا، یَکُونُ کَذَا وَکَذَا، فَوَجَدْنَاہُ حَقًّا؟ لِلْکَلِمَۃِ الَّتِی سُمِعَتْ مِنَ السَّمَاء ِ ۔ ترجمہ :حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے ارشاد فرمایا: جب اللہ تعالیٰ آسمانی فرشتوں کو کوئی حکم دیتا ہے تو وہ عاجزی کی وجہ سے اپنے پَرمارنے لگتے ہیں جیسے زنجیر کو صاف پتھر پر مارا جائے۔ پھر اللہ تعالیٰ اس حکم کو نافذ فرما دیتا ہے ۔ جب ان کے دلوں سے کچھ خوف دور ہوتا ہے تو ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ تمہارے رب تعالی نے کیا فرمایا ؟وہ جواب دیتے ہیں کہ تمہارے رب تعالی نے جو فرمایا وہ حق فرمایا اور وہی بلند و بر تر ہے ۔پھر بات چرانے والے شیطان چوری چھپے سننے کی کوشش کرتے ہیں اور چوری چھپے سننے کے لئے شیطان یوں اوپر نیچے رہتے ہیں، چنانچہ سفیان نے اپنے ہاتھ کی انگلیوں کو کھول کر اوپر نیچے کر کے دکھایا۔ بعض اوقات تو ایسا ہوتا ہے کہ سننے والے شیطان کو چنگاری جا لگتی ہے اور وہ جل جاتا ہے ا س سے پہلے کہ وہ یہ بات اپنے ساتھ والے کو بتائے اور بعض اوقات چنگاری لگنے سے پہلے وہ اپنے نزدیک والے شیطان کو جو اس کے نیچے ہوتا ہے، بتا چکا ہوتا ہے اورا س طرح وہ بات زمین تک پہنچا دی جاتی ہے ،پھر وہ جادو گر کے منہ میں ڈالی جاتی ہے ،پھر وہ جادو گر ایک کے ساتھ سو جھوٹ اپنی طرف سے ملاتا ہے، اس پر لوگ اس کی تصدیق کر کے کہنے لگتے ہیں کہ کیا اس نے فلاں روز ہمیں نہیں بتایا تھا کہ فلاں بات یوں ہو گی چنانچہ ہم نے اس کی بات کو درست پایا حالانکہ یہ وہی بات تھی جو آسمان سے چوری چھپے سنی گئی تھی۔ (صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۶:۸۰)

شیطان کے آسمانی کلام چوری کرنے پردوسری حدیث شریف

حَدَّثَنِی عَلِیُّ بْنُ حُسَیْنٍ، أَنَّ عَبْدَ اللہِ بْنَ عَبَّاسٍ،قَالَ:أَخْبَرَنِی رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَنْصَارِ، أَنَّہُمْ بَیْنَمَا ہُمْ جُلُوسٌ لَیْلَۃً مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رُمِیَ بِنَجْمٍ فَاسْتَنَارَ، فَقَالَ لَہُمْ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:مَاذَا کُنْتُمْ تَقُولُونَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ، إِذَا رُمِیَ بِمِثْلِ ہَذَا؟ قَالُوا:اللہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ، کُنَّا نَقُولُ وُلِدَ اللَّیْلَۃَ رَجُلٌ عَظِیمٌ، وَمَاتَ رَجُلٌ عَظِیمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:فَإِنَّہَا لَا یُرْمَی بِہَا لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَیَاتِہِ، وَلَکِنْ رَبُّنَا تَبَارَکَ وَتَعَالَی اسْمُہُ، إِذَا قَضَی أَمْرًا سَبَّحَ حَمَلَۃُ الْعَرْشِ، ثُمَّ سَبَّحَ أَہْلُ السَّمَاء ِ الَّذِینَ یَلُونَہُمْ، حَتَّی یَبْلُغَ التَّسْبِیحُ أَہْلَ ہَذِہِ السَّمَاء ِ الدُّنْیَا ثُمَّ قَالَ:الَّذِینَ یَلُونَ حَمَلَۃَ الْعَرْشِ لِحَمَلَۃِ الْعَرْشِ:مَاذَا قَالَ رَبُّکُمْ؟ فَیُخْبِرُونَہُمْ مَاذَا قَالَ:قَالَ فَیَسْتَخْبِرُ بَعْضُ أَہْلِ السَّمَاوَاتِ بَعْضًا، حَتَّی یَبْلُغَ الْخَبَرُ ہَذِہِ السَّمَاء َ الدُّنْیَا، فَتَخْطَفُ الْجِنُّ السَّمْعَ فَیَقْذِفُونَ إِلَی أَوْلِیَائِہِمْ، وَیُرْمَوْنَ بِہِ، فَمَا جَاء ُوا بِہِ عَلَی وَجْہِہِ فَہُوَ حَقٌّ، وَلَکِنَّہُمْ یَقْرِفُونَ فِیہِ وَیَزِیدُونَ ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ مجھے ایک انصاری صحابی رضی اللہ تعالی عنہ نے بتایا کہ ہم ایک رات حضورتاجدارختم نبوتﷺکے ساتھ بیٹھے تھے، ایک تارا ٹوٹا، اور روشنی پھیل گئی تو ہم سے حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا کہ جاہلیت کے زمانے میں جب اس جیسا تارا ٹوٹتا تھا تو تم کیا کہتے تھے ؟ہم نے عرض کی: اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب کریم ﷺ خوب جانتے ہیں ۔ ہم تو یہ کہتے تھے کہ آج رات یا تو کوئی بڑا آدمی پیدا ہوا یا کوئی بڑا آدمی مرا ہے۔ حضورتاجدارختم نبوتﷺ نے ارشاد فرمایا یہ تارے نہ تو کسی کی موت کے لیے مارے جاتے ہیں نہ کسی کی زندگی کیلئے لیکن ہمارا رب تعالی کہ اس کا نام مبارک اور بلندہے ، جب کسی چیز کا فیصلہ کرتا ہے تو عرش اٹھانے والے تسبیح کرتے ہیں، پھر آسمان والوں میں سے جو ان کے قریب ہیں وہ تسبیح کرتے ہیں حتّٰی کہ تسبیح کا یہ سلسلہ اس دنیا کے آسمان والے فرشتوں تک پہنچ جاتا ہے ، پھر عرش اٹھانے والے فرشتوں کے قریب والے ان سے پوچھتے ہیں کہ تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ نے کیا فرمایا؟ وہ انہیں خبر دیتے ہیں ۔ پھر بعض آسمان والے بعض سے خبریں پوچھتے ہیں حتّٰی کہ اس آسمانِ دنیا تک خبر پہنچ جاتی ہے تو جِنّات ان کی سنی ہوئی باتوں کو اچک لیتے ہیں اور اپنے دوستوں تک پہنچا دیتے ہیں، (ان میں سے بعض)مار دیئے جاتے ہیں ۔پھر کاہن جو کچھ اس کے مطابق کہتے ہیں وہ تو کچھ درست ہوتا ہے لیکن وہ تو اس میں جھوٹ ملادیتے ہیں اور بڑھا دیتے ہیں ۔ (صحیح مسلم :مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشیری النیسابوری (۴:۱۷۴۸)

معارف ومسائل

جس طرح ہمارے علماء میلاد منانے پردلائل دیتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکی ولادت باسعادت پراللہ تعالی نے تمام لوگوںکوبیٹے عطافرمائے ، اسی طرح اگریہاں بھی نظرکریں کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکی ولادت شریفہ پراللہ تعالی نے شیاطین پرشہاب ثاقب پھینکنے شروع کیے جوآج تک ان پرپھینکے جارہے ہیں توہم بھی کفارپرجوشیاطین کے دوست ہیں جہادکے ساتھ حملہ کریں گے ۔ رب تعالی نے میلاد شریف کے وقت جولوگوں کوبیٹے عطاکئے وہ توایک بارعطاکئے وہ تم نے یادرکھااورجورب تعالی نے میلاد شریف سے کام شروع کیااورآج تک بندبھی نہیں کیامسلسل شیاطین کو شہاب ثاقب سے داغاجارہاہے یہ تم بھول گئے ۔ کاش کہ تم بھی ایسامیلاد منائوکہ دنیاکے کافرتمھاری طرف دیکھنے کی ہمت ہی نہ کریں ۔ ایسامیلاد شریف منائوکہ جس طرح اللہ تعالی نے شیاطین کو آسمانی سرحد کے قریب جانے سے منع کیاتم بھی ان کافروں کو انہیں کی سرحدوں تک محدودکردو، مگرہوایہ ہے کہ یہ کافرتمھاری مسجد اقصی شریف پرقابض ہوئے ، کافرتمھارے حرمین شریفین کی سرحدوں پرکھڑے ہیں۔ کب تم ایسامیلاد منائوگے کہ کافروں کی سازشوں سے محفوظ ہوسکوجس طرح اللہ تعالی نے آسمانی سرحدوں کو شیاطین سے محفوظ کیا۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh