صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2496 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیرسورۃ الحجر آیت ۴۴۔ وَ اِنَّ جَہَنَّمَ لَمَوْعِدُہُمْ اَجْمَعِیْنَ

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 12,865

سوال (Question):

تفسیرسورۃ الحجر آیت ۴۴۔ وَ اِنَّ جَہَنَّمَ لَمَوْعِدُہُمْ اَجْمَعِیْنَ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

لبرل وسیکولر، ملحد،گستاخ اوردین دشمن علماء جہنم کے کس کس درجے میں ہوں گے؟

{وَ اِنَّ جَہَنَّمَ لَمَوْعِدُہُمْ اَجْمَعِیْنَ }(۴۳){لَہَا سَبْعَۃُ اَبْوَابٍ لِکُلِّ بَابٍ مِّنْہُمْ جُزْء ٌ مَّقْسُوْمٌ }(۴۴) ترجمہ کنزالایمان: اور بیشک جہنم ان سب کا وعدہ ہے۔ اس کے سات دروازے ہیں ہر دروازے کے لیے ان میں سے ایک حصہ بٹا ہوا ہے۔ ترجمہ ضیاء الایمان: اور بیشک جہنم ان سب کا وعدہ ہے۔اس کے سات دروازے ہیں، ہر دروازے کے لیے ان میں سے ایک ایک حصہ تقسیم کیا ہوا ہے۔

دوزخ کے دروازوں کی تفصیل

أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ أَبُو ہَارُونَ الْغَنَوِیُّ قَالَ:سَمِعْتُ حِطَّانَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ الرَّقَاشِیَّ یَقُولُ سَمِعْتُ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ:ہَلْ تَدْرُونَ کَیْفَ أَبْوَابُ جَہَنَّمَ؟ قُلْنَا:ہِیَ مِثْلُ أَبْوَابِنَا قَالَ لَا، ہِیَ ہَکَذَا بَعْضُہَا فَوْقَ بَعْضٍ زَادَ الثَّعْلَبِیُّ:وَوَضَعَ إِحْدَی یَدَیْہِ عَلَی الْأُخْرَی وَأَنَّ اللَّہَ وَضَعَ الْجِنَانَ عَلَی الْأَرْضِ، وَالنِّیرَانَ بَعْضَہَا فَوْقَ بَعْضٍ، فَأَسْفَلُہَا جَہَنَّمُ، وَفَوْقَہَا الْحُطَمَۃُ، وَفَوْقَہَا سَقَرُ، وَفَوْقَہَا الْجَحِیمُ، وَفَوْقَہَا لَظًی، وَفَوْقَہَا السَّعِیرُ، وَفَوْقَہَا الْہَاوِیَۃُ، وَکُلُّ بَابٍ أَشَدُّ حَرًّا مِنَ الَّذِی یَلِیہِ سَبْعِینَ مَرَّۃً. ترجمہ :حضرت سیدناحطان بن عبداللہ الرقاشی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سیدنامولاعلی رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ کیاتم جانتے ہوکہ دوزخ کے دروازے کیسے ہیں؟ ہم نے عرض کی : وہ ہمارے دروازوں کی مثل ہوں گے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں ، وہ اس طرح ہیں یعنی ان میں سے بعض بعض سے اوپرہیں ۔ امام الثعلبی رحمہ اللہ تعالی نے یہ بھی بیان کیاہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھوںکو ایک دوسرے کے اوپررکھااوریہ کہ اللہ تعالی نے جنتیوں کوزمین پررکھااوردوزخیوں میں سے بعض کوبعض کے اوپررکھاہے ، پس سب سے نیچے دوزخ ہے اوراس کے اوپرحطمہ ہے ، اس کے اوپرسقرہے ، اس کے اوپرالجحیم ہے ، اس کے اوپرلظی ہے ، اس کے اوپر سعیرہے ، اس کے اوپرالہاویہ ہے ۔ اورہرطبقہ اس سے سترگنا زیادہ گرم ہے جواس کے ساتھ ملاہواہے ۔ (روائع التفسیر :زین الدین عبد الرحمن بن أحمد بن رجب بن الحسن الحنبلی (۱:۶۰۷)

ابوجہل کس جہنم میں ہوگا؟

وعن ابن جریجِ فی قولِہِ:(لَہَا سَبْعَۃُ أَبْوَابٍ)قال:أوَّلہا جہنمُ ثمَّ لظی، ثمَّ الحطمۃُ، ثم السعیرُ، ثم سقرُ، ثم الجحیمُ، وفیہا أبو جہل، ثم الہاویۃُ، خرَّجہ ابن أبی الدنیا وغیرہ. ترجمہ :امام ابن جریج رحمہ اللہ تعالی اس آیت کریمہ کے تحت فرماتے ہیں کہ اس کاپہلادروازہ جہنم ہے ، پھرلظی ہے، پھرالحطمہ ہے ، پھرالسعیرہے ، پھرسقرہے ، پھرالجیم ہے اوراسی میں ابوجہل ہوگااورپھرالہاویہ ہے ۔ (روائع التفسیر :زین الدین عبد الرحمن بن أحمد بن رجب بن الحسن الحنبلی (۱:۶۰۷)

یہودونصاری دوزخ کے کس کس درجے میں ہوں گے ؟

قَالَ الضَّحَّاکُ:فِی الدَّرْکِ الْأَعْلَی الْمُحَمَّدِیُّونَ،وَفِی الثَّانِی النَّصَارَی، وَفِی الثَّالِثِ الْیَہُودِ، وَفِی الرَّابِعِ الصَّابِئُونَ، وَفِی الْخَامِسِ الْمَجُوسُ، وَفِی السَّادِسِ مُشْرِکُو الْعَرَبِ،وَفِی السَّابِعِ الْمُنَافِقُونَ وَآلُ فِرْعَوْنَ وَمَنْ کَفَرَ مِنْ أَہْلِ الْمَائِدَۃِ قَالَ اللَّہُ تَعَالَی:إِنَّ الْمُنافِقِینَ فِی الدَّرْکِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ۔ ترجمہ :امام الضحاک رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ درک اعلی میں حضورتاجدارختم نبوتﷺکے گناہگارامتی ہوں گے ۔ دوزخ کے دوسرے درجے میں نصاری ، تیسرے میں یہودی ، چوتھے میں صابی ، پانچویں میں مجوسی ، چھٹے میں مشرکین عرب اورساتویں میں منافقین اورآل فرعون اوراہل مائدہ میں سے کافرلوگ ہوں گے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۱۰:۳۰)

لبرل و سیکولرعلماء کے جہنم میں طبقات کی تفصیل

وقال معاذ بن جبل وذکر العلماء السوء من العلماء :من إذا وعظ عنف، وإذا وعظ أنف، فذلک فی الدرک الأول من النار، ومن العلماء من یأخذ علمہ بأخذ السلطان، فذلک فی الدرک الثانی من النار، ومن العلماء من یخزن علمہ فذلک فی الدرک الثالث من النار، ومن العلماء من یتخیر العلم والکلام لوجوہ الناس ولایری سفلۃ الناس لہ موضعاً فلذلک فی الدرک الرابع من النار، ومن العلماء من یتعلم کلام الیہود والنصاری وأحادیثہم لیکثر حدیثہم فذلک فی الدرک الخامس من النار، ومن العلماء من ینصب نفسہ للفتیا یقول للناس سلونی فذلک الذی یکتب عند اللہ متکلف واللہ لا یحب المتکلفین فذلک فی الدرک السادس من النار، ومن العلماء من یتخذ علمہ مروء ۃ وعقلاً فذلک فی الدرک السابع من النارذکرہ غیر واحد من العلماء قلت:ومثلہ لا یکون رأیاً وإنما بدر توقیفاً، ثم من ہذہ الأسماء ما ہو اسم علم للنار کلہا بجملتہانحو جہنم وسقر ولظی وسموم، فہذہ أعلام لیست لباب دون باب فاعلم ذلک. ترجمہ :حضرت سیدنامعاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ٭پہلاطبقہ علماء سوء: علماء سوء میں سے ایک وہ ہیںجودوسروں کونصیحت اوروعظ کرتے ہیں توبڑاسخت رویہ اختیارکرتے ہیں مگرجب ان کی کسی غلط بات اورکردارپرکوئی ان کی خدمت میں کام کی بات کہہ دے توپھریہ ناک چڑھالیتے ہیں ، چنانچہ ایسے علماء دوزخ کے اول درجے میں رکھے جائیں گے ۔ ٭دوسراطبقہ علماء سوء :یہ وہ علماء سوء ہیں جو علم دین کو محض حکومت اوردنیاوی جاہ وحشم کے پالینے کازینہ سمجھ کرحاصل کرتے ہیں ، ایسے علماء دوزخ کے دوسرے درجے میں ہوں گے ۔ ٭تیسراطبقہ علماء سوء: یہ وہ علماء ہیں جواپنے علم کو آگے پھیلانے کی بجائے اپنے سینے میں چھپائے رکھتے ہیں ، چنانچہ کتمان علم کی وجہ سے ان کو دوزخ کے تیسرے درجے میں ڈالاجائے گا۔ ٭چوتھاطبقہ علماء سوء :یہ وہ علماء ہیں حصول علم سے جن کانصب العین مشن حیات اورمطمع نظرمحض یہ ہوتاہے کہ وہ اپنے علم وکلام کے زورپرزیادہ سے زیادہ لوگوں کواپناگرویدہ کرسکیں اورعوام میں ان کاحلقہ اثروسیع ہواورکمزورلوگوں کی ان علماء کے دربارمیں کوئی پذیرائی نہیں ہوتی ، ایسے علماء سوء کامقام دوزخ کاچوتھادرجہ ہے ۔ ٭پانچواں طبقہ علماء سوء : یہ وہ علماء ہیں جو یہودونصاری کے تیارکردہ نصاب کو پڑھتے ہیں اورکافروں کی باتوںکو لیتے ہیں اورانہیں کے حوالہ جات کی ، ان کی تصانیف اورتقاریرمیں بھرمارہوتی ہے ، ایسے علماء سوء کو دوزخ کے پانچویں درجے میں رکھاجائے گا۔ ٭چھٹاطبقہ علماء سوء : یہ وہ علماء ہیں جنہوںنے خود کوبطورمفتی منصب افتاء پرفائز رکھاہوتاہے اورخود کوعوام کے سامنے پیش کرتے ہیں کہ اشتہارات واعلانات اوربورڈ آویزاں کرکے دعوت دیتے ہیں کہ آئوہم سے سوالات پوچھو،ہم آپ کے پوچھے گئے سوالات کے جوابات دینے کووقف ہوئے بیٹھے ہیں ، ایسے علماء سوء کانام اللہ تعالی کے پاس متکلفین یعنی خودساختہ بناوٹی مفتیوں میں لکھاجاتاہے ۔ اوراللہ تعالی تکلف کرنے والوں کو پسندنہیں فرماتا، چنانچہ ایسے علماء بدکردارکودوزخ کے چھٹے درجہ میں ڈالاجائے گا۔ ٭ساتواں طبقہ علماء سوء : یہ وہ علماء ہیں جوعلم دین کو رضائے خداوندی کے بجائے عقل ومروت کے طورپرلیتے ہیں کہ علمی حلقوں میں شہرت وچرچااوردانش وراورفلسفی اورعلامہ وفہامہ کہلانے کے لئے علم حاصل کرتے ہیں ، اس قبیل کے علماء جہنم کے درجہ ہفتم میں رکھے جائیں گے ۔ امام ابوعبداللہ محمدبن القرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس روایت کومتعددعلماء کرام نے اپنی تصانیف میں نقل کیاہے، اس طرح کی بات اپنی طرف سے نہیں کہی جاسکتی کیونکہ یہ چیزیں توقیفی ہیں۔ (التذکرۃ بأحوال الموتی وأمور الآخرۃ:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر القرطبی (۱:۸۳۹) تنبیہ : آج بھی بہت سے علماء ہیں جو یہودونصاری کی پیروی میں انہیں کی کتب کامطالعہ کرتے ہیں اورانہیں کے نظریات کولوگوں کے سامنے بیان کرتے ہیں اورلبرل وسیکولرطبقہ کو حضورتاجدارختم نبوتﷺکی احادیث شریفہ سے زیادہ انگریزوں کے اقوال بدترازابوال یادہوتے ہیں اورانہیں کو رات دن مشعل راہ کے طورپرلوگوں میں پھیلاتے رہتے ہیں۔ خوارج جہنم کے کس درجے میں ہوں گے ؟ وَقَالَ أُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ: لِجَہَنَّمَ سَبْعَۃُ أَبْوَابٍ بَابٌ مِنْہَا لِلْحَرُورِیَّۃِ۔ ترجمہ :حضرت سیدناابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ دوزخ کے سات دروازے ہیں ، ان میں سے ایک دروازہ حروریہ ( خوارج) کے لئے ہے ۔ (الدر المنثور:عبد الرحمن بن أبی بکر، جلال الدین السیوطی (۵:۸۳)

لبرل وسیکولر اورگستاخ دوزخ کے کس درجے میں ہوں گے؟

وَرَوَی سَلَّامٌ الطَّوِیلُ عَنْ أَبِی سُفْیَانَ عَنْ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی قَوْلِ اللَّہِ تَعَالَی:لَہا سَبْعَۃُ أَبْوابٍ لِکُلِّ بابٍ مِنْہُمْ جُزْء ٌ مَقْسُومٌ جُزْء ٌ أَشْرَکُوا بِاللَّہِ، وَجُزْء ٌ شَکُّوا فِی اللَّہِ، وَجُزْء ٌ غَفَلُوا عَنِ اللَّہِ، وَجُزْء ٌ آثَرُوا شَہَوَاتِہِمْ عَلَی اللَّہِ، وَجُزْء ٌ شَفَوْا غَیْظَہُمْ بِغَضَبِ اللَّہِ، وَجُزْء ٌ صَیَّرُوا رَغْبَتَہُمْ بِحَظِّہِمْ مِنَ اللَّہِ، وَجُزْء ٌ عَتَوْا عَلَی اللَّہِ ذَکَرَہُ الْحَلِیمِیُّ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحُسَیْنُ بْنُ الْحَسَنِ فِی کِتَابِ (مِنْہَاجِ الدِّینِ)لَہُ،وَقَالَ:فَإِنْ کَانَ ثَابِتًا فَالْمُشْرِکُونَ بِاللَّہِ ہُمُ الثَّنَوِیَّۃُ وَالشَّاکُّونَ ہُمُ الَّذِینَ لَا یَدْرُونَ أَنَّ لَہُمْ إِلَہًا أَوْ لَا إِلَہَ لَہُمْ، وَیَشُکُّونَ فِی شَرِیعَتِہِ أَنَّہَا مِنْ عِنْدِہِ أَمْ لَاوَالْغَافِلُونَ عَنِ اللَّہِ ہُمُ الَّذِینَ یَجْحَدُونَہُ أَصْلًا وَلَا یُثْبِتُونَہُ، وَہُمُ الدَّہْرِیَّۃُوَالْمُؤْثِرُونَ شَہَوَاتِہِمْ عَلَی اللَّہِ ہُمُ الْمُنْہَمِکُونَ فِی الْمَعَاصِی، لِتَکْذِیبِہِمْ رُسُلَ اللَّہِ وَأَمْرِہِ وَنَہْیِہِ وَالشَّافُونَ غَیْظَہُمْ بِغَضَبِ اللَّہِ ہُمُ الْقَاتِلُونَ أَنْبِیَاء َ اللَّہِ وَسَائِرَ الدَّاعِینَ إِلَیْہِ، الْمُعَذِّبُونَ مَنْ یَنْصَحُ لَہُمْ أَوْ یَذْہَبُ غَیْرَ مَذْہَبِہِمْ، وَالْمُصَیِّرُونَ رَغْبَتَہُمْ بِحَظِّہِمْ مِنَ اللَّہِ ہُمُ الْمُنْکِرُونَ بِالْبَعْثِ وَالْحِسَابِ، فَہُمْ یَعْبُدُونَ مَا یَرْغَبُونَ فِیہِ، لَہُمْ جَمِیعُ حَظِّہِمْ مِنَ اللَّہِ تَعَالَی، وَالْعَاتُونَ عَلَی اللَّہِ الَّذِینَ لَا یُبَالُونَ، بِأَنْ یَکُونَ مَا ہُمْ فِیہِ حَقًّا أَوْ بَاطِلًا، فَلَا یَتَفَکَّرُونَ وَلَا یَعْتَبِرُونَ وَلَا یَسْتَدِلُّونَ. وَاللَّہُ أَعْلَمُ بِمَا أَرَادَ رَسُولُہُ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِنْ ثَبَتَ الْحَدِیثُ وَیُرْوَی أَنَّ سَلْمَانَ الْفَارِسِیَّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لَمَّا سَمِعَ ہَذِہِ الْآیَۃَوَإِنَّ جَہَنَّمَ لَمَوْعِدُہُمْ أَجْمَعِینَ فَرَّ ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ مِنَ الخوف لا یعقل، فجء بِہِ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَہُ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ، أُنْزِلَتْ ہذہ الآیۃوَإِنَّ جَہَنَّمَ لَمَوْعِدُہُمْ أَجْمَعِین؟ فو الذی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ لَقَدْ قَطَّعَتْ قَلْبِیَ۔ ترجمہ :حضرت سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیںکہ انہوںنے حضورتاجدارختم نبوتﷺسے اللہ تعالی کے اس فرمان شریف {لَہا سَبْعَۃُ أَبْوابٍ لِکُلِّ بابٍ مِنْہُمْ جُزْء ٌ مَقْسُومٌ}کے متعلق روایت کیاکہ دوزخ کاایک حصہ ان کے لئے جنہوںنے اللہ تعالی کے ساتھ شرک کیااورایک حصہ ان کے لئے جنہوںنے اللہ تعالی کے بارے میں شک کیااورایک حصہ ان کے لئے جواللہ تعالی سے غافل ہوئے ، ایک حصہ ان کے لئے جنہوںنے اپنی پسنداوراپنی خواہشات کو اللہ تعالی کے احکامات پرترجیح دی ،ایک حصہ ان کے لئے جنہوںنے اپنے غصے کو اللہ تعالی کے غضب کے ساتھ ٹھنڈاکیااورایک حصہ ان کے لئے جنہوں نے اپنی رغبت کواپنی پسندکے ساتھ اللہ تعالی سے پھیرلیااورایک حصہ ان کے لئے جنہوں نے اللہ تعالی کے بارے میں حدودسے تجاوزکیا۔ الحلیمی ابوعبداللہ حسین بن حسن رحمہ اللہ تعالی نے اسے اپنی کتاب منہاج الدین میں نقل کیاہے اورکہاہے کہ اللہ تعالی کے ساتھ شرک کرنے والے بت پرست ہیں اورشک کرنے والے وہ ہیں جویہ بات نہیں جانتے کہ ان کاکوئی الہ ہے ، یاان کاکوئی الہ نہیں ہے اوروہ اس کے دین وشریعت میں شک کرتے ہیں کہ وہ اس کی طرف سے ہے یانہیں ۔ اوراللہ تعالی سے غافل ہونے والے وہ ہیں جوبالکل اللہ تعالی کے وجود کاہی انکارکرتے ہیں اوراسے ثابت مانتے ہی نہیں ۔ اورپھردہریئے ہیں اوراپنی شہوات کواللہ تعالی پرترجیح دینے والے وہ ہیں جو گناہوں میں منہمک ہونے والے ہیں ، اس لئے کہ وہ اللہ تعالی کے رسل کرام علیہم السلام اوراس کے اوامرونواہی کی تکذیب کرتے ہیں یعنی اللہ تعالی کی شریعت مبارکہ کو جھوٹاکہتے ہیںاوراپنے غصے کو اللہ تعالی کے غضب کے ساتھ ٹھنڈاکرنے والے وہ ہیں جواللہ تعالی کے انبیاء کرام علیہم السلام کواوراس کی طرف سے تمام دعوت دینے والوں کوقتل کرنے والے ہیں اوراسے عذاب اوراذیت پہنچاتے ہیں جوانہیں نصیحت کرتاہے یاان کے مذہب کے سواکسی اورکی پیروی کرتاہے اوراپنی رغبت کو اپنی پسندکے ساتھ اللہ تعالی سے پھیرنے والے وہ ہیں جوموت کے بعد زندہ کئے جانے اورحساب وغیرہ کاانکارکرتے ہیں ، پس ان کی عبادت کرتے ہیں جن میں وہ رغبت رکھتے ہیں ، ان کے لئے اللہ تعالی کی جانب سے ان تمام کاحصہ ہوگااوراللہ تعالی کے بارے میں حدودسے تجاوزکرنے والے وہ ہیں جولاپرواہ ہوتے ہیں ، اس کے بارے میں کہ جس نظریہ پروہ ہیں وہ حق ہے یاباطل ، پس نہ وہ غوروفکرکرتے ہیں ، نہ قیاس کرتے ہیں اورنہ ہی استدلال کرتے ہیں ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۱۰:۳۰)

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh