Fatwa #2511
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
کتاب”الناھیۃ عن اباطیل الروافض فی معاویۃ“کا خلاصہ۔ از مولانا محمد سجاد برکاتی نجمی
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
8,748
سوال (Question):
کتاب”الناھیۃ عن اباطیل الروافض فی معاویۃ“کا خلاصہ۔ از مولانا محمد سجاد برکاتی نجمی
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
کتاب”الناھیۃ عن اباطیل الروافض فی معاویۃ“کا خلاصہ۔
مصنف:مفتی رضاء الحق اشرفی مد ظلہ العالی صفحات:237 حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ سنہ۷ھ میں فتح مکہ سے قبل اسلام قبول کر چکے تھے البتہ فتح مکہ کے موقع پراپنےاسلام کو ظاہر کر دیاجس پر رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے مبارک بادی بھی دی۔(ص:۱۷،۱۸) فتح مکہ سے پہلے ایمان لانے والوں کی فضیلت کا ذکرکرتےہوئے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے: لَا یَسْتَوِیْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَ اُولٰٓىٕكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوْاؕوَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(الحدید،آیت:۱۰) ترجمہ:تم میں برابر نہیں وہ جنہوں نے فتحِ مکہ سے قبل خرچ اور جہاد کیا وہ مرتبہ میں اُن سے بڑے ہیں جنہوں نے بعد فتح کے خرچ اور جہاد کیا اور ان سب سے اللہ جنت کا وعدہ فرماچکا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔(کنزالایمان) قرآن مجید اور احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ کامغفورو جنتی ہونا ثابت ہےاورحضرت امیر معاویہ کا صحابی ہونا بخاری ومسلم اور ترمذی کی حدیث سےثابت ہے پس حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کا جنتی و مغفورہونا سورج کی روشنی کی ظاہر وثابت ہوگیا۔اب جو ان کو کافر جہنمی کہے وہ شخص بلا شبہ رافضی بدین ہے۔(ص:۱۹)چنداحادیث طیبہ فضائل معاویہ رضی اللہ عنہ میں۔
رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کے کچھ لوگ جو غزوہ کے لیے سمندر کا سفر کریں گے جنت میں وہ ایسی شان کے ساتھ ہوں گےجیسے بادشاہ تخت نشین ہوتے ہیں۔(صحیح مسلم،باب فضل الغزو) ﴿امام بیہقی نے فرمایا:سب سے پہلے سمندری غزوہ کے لیے نکلنے والے حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانے میں حضرت معاویہ تھے۔﴾(ص:۲۱،۲۲) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےحضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں یہ دعا فرمائی تھی کہ اے اللہ!معاویہ کو ہدایت دینے والااور ہدایت یافتہ بنا دےاور ان کے ذریعے لوگوں کو ہدایت دے۔(ترمذی،باب مناقب معاویۃبن ابی سفیان حدیث:3842) ایک موقع پر یوں دعاکی”اے اللہ معاویہ کو کتاب اور حساب کا علم عطا فرما اور ان کو عذاب سے محفوظ فرما(التاریخ الکبیر،ج3،ص:326) ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:کوئی شک نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا مقبول ہے لہٰذا جس کا حال یہ ہو کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے دعائے مغفرت کی ہو اس کے مغفور ہونے میں کیا شک ہے۔؟(مرقاۃ المفاتیح،باب جامع المناقب ج9ص:4022) امت میں صحابیت سے بڑھ کر کوئی فضیلت نہیں کوئی بھی غیر صحابی غوث،قطب،ابدال کسی بھی درجے کے صحابی کے برابر نہیں،ہر غیر صحابی پر واجب ہے کہ وہ ہر صحابی سے محبت کرے،ان کا ادب واحترام کرے،صحابہ کے درمیان ہونے والے تنازعات اور جنگوں کے بارے میں اپنی زبانوں کو روک رکھے۔اسلاف امت نے یہی تعلیم دی ہے۔(ص:27) امام حسن بصری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مولیٰ علی اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہماکے درمیان ہونے والے نزاعی امور کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا:مولیٰ علی کو حضور سے ایک قسم کی قرابت تھی اور حضرت معاویہ کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک رشتہ تھا حضرت علی کو اسلام لانے اور فضائل میں خاص سبقت حاصل تھی اور حضرت معاویہ کو سبقت حاصل نہیں تھی پھر دونوں آزمائش میں مبتلا ہوئے۔(ص:32) حضرت امام احمد بن حنبل سے پوچھا گیا تو آپ نے سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر 134 تلاوت کی: تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْۚ-لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ لَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْۚ-وَ لَا تُسْــٴَـلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(البقرۃ،آیت:134) ترجمہ:یہ ایک امت ہے کہ گزرچکی ان کے لیے ہے جو انہوں نے کمایا اور تمہارے لئے ہے جو تم کماؤ اور ان کے کاموں کی تم سے پرسش نہ ہوگی۔(کنزالایمان) حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کے بعد صحابہ تین حصوں میں منقسیم ہو گئے،ہرگروہ نے اپنے اجتہاد سے یہ سمجھا کہ حق ہمارے ساتھ ہے اور ہمارا مخالف باغی ہے لہذا حق کی حمایت اور باغی کی سرکوبی واجب ہے۔حضرت علی شیر خدارضی اللہ تعالی عنہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کا اپنے اپنے طور پر یہی ماننا تھا،حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کبھی خود کومولی علی کے مقابلے میں مستحق خلافت نہیں سمجھے بلکہ مولی علی کو افضل و اعلیٰ اور مستحق خلافت سمجھتے تھے مولیٰ علی سے ان کا اختلاف خلافت کے مسئلے میں نہیں تھا،اختلاف قاتلین حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کے قصاص کے مسئلے میں تھا حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ خود کو سب سے زیادہ خون عثمان کے بدلے کا مطالبہ کرنے کا حقدار سمجھتے تھے اور مولا علی شیر خدا رضی اللہ تعالی عنہ کا یہ ماننا تھا کہ پہلے بیعت ہو جائے پھر مسئلہ قصاص کو سامنے لایا جائے،اختلاف یہیں سے شروع ہواجو جنگ جمل و صفین کی نوبت تک جا پہنچا اور جوفریق ان دونوں سے الگ رہا ان کے لیے یہی واجب تھا اس لیے کہ ان کے اجتہاد کے مطابق کوئی باغی نہ تھا ہر گروہ مسلمان تھا لہذا ناحق کسی سے جنگ کرنا ان کے لیے حلال نہ تھا۔الںبتہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل سنت کا یہی عقیدہ ہے کہ حق مولیٰ علی شیر خدا رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ تھا اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ سے خطا ئے اجتہادی ہوئی جس پر انہیں ایک اجر ملے گا جیسا کہ حدیث پاک ہے۔کہ مجتہد اپنی اپنے اجتہاد میں درست ہو تو دو اجر ملیں گے اور خطا کر جائے تو ایک اجر ملے گا اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کا مجتہد ہونا حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کے قول سے ثابت ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے کہا کہ امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ وتر کی نماز ایک ہی رکعت پڑھتے ہیں تو جواب میں حضرت عبداللہ ابن عباس نے فرمایا وہ فقیہ ہیں انہوں نے درست کیا۔ یہاں ایک غور طلب پہلو یہ ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ تن تنہانہ تھے بلکہ آپ کے ساتھ جلیل القدر صحابہ بھی تھے ،حضرت عقبہ بن عامر جہنی جو بہت بڑے فقیہ اور خوش الحان قاری تھے جن سے پچپن حدیث مروی ہیں جن میں نو پر بخاری و مسلم کا اتفاق ہے اور نو میں امام مسلم منفرد ہیں،قرآن کو جمع کرنے والے صحابہ میں نام آتا ہے یہ حضرت امیر معاویہ کے ساتھ تھے اسی طرح مسلمہ بن مخلد الانصاری عمرو ابن عاص،حبیب بن مسلمہ فہری،حارث بن عبداللہ حمل بن سعدانہ کلبی رضی اللہ عنہم اجمعین نے حضرت امیر معاویہ کی طرف سے شرکت کی کیا کوئی ان تمام کو صحابیت کے درجے سے خارج کر سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔(ص:۳۱تا۳۸) ایک موقع پر مولیٰ علی شیر خدا رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک شخص کو حضرت امیر معاویہ کے حوالے سے فرمایا کہ انہیں کافر نہ کہو انہوں نے ہم سے جنگ اس لیے کی کہ ان کا گمان یہ ہے کہ ہم نے ان پر زیادتی کی ہے اور ہمارا ماننا یہ ہے کہ انہوں نے ہم پر ظلم کیا ہے۔(۴۰) حضرت مکحول تابعی کا بیان ہے کہ مولیٰ علی سے حضرت امیر معاویہ کی طرف سے شریک ہونے والے اصحاب کے بارے میں پوچھا گیا کہ وہ کیا ہیں؟تو جواب میں حضرت علی نے فرمایا وہ مومن ہیں بلکہ کچھ لوگ قیدی بن کر مولا علی کے پاس آئے تو آپ نے ان کا علاج کرایا اور ان میں سے جن کی موت ہو گئی ان کی نماز جنازہ پڑھی اور تجہیز و تدفین بھی کی۔ بلکہ ابو میسرہ جو بخاری و مسلم کے راوی ہیں انہوں نے خواب میں مولیٰ علی اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف سے لڑنے والوں کو خواب میں جنت میں دیکھا اور خوارج کو سخت عذاب میں مبتلا دیکھا۔(اسد الغابۃ،ج۲،ص:۴۹،۴۰،۴۱) عمر ابن عبدالعزیز نے امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کو برا کہنے والے شخص کو کئی کوڑے مارے (۴۲) حضرت شیخ حمیری نے ابو توبہ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ حضرت امیر معاویہ ہمارے اور اصحاب نبی کے درمیان آڑ ہیں جو شخص ان کو برا کہنے سے باز رہنے والا ہے وہ دوسرے صحابہ کو برا کہنے سے بدرجہ اولیٰ باز رہے گا جو ان کا بے ادب ہے اس سے دور نہیں کہ ان سے اوپر کے صحابہ کی بے ادبی کرے گا۔(۴۳) چند اعتراضات کے جوابات۔۔۔۔سوال:رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم معاویہ کو میرے منبر پر دیکھو تو اس کو قتل کردو؟
جواب:پہلی بات تو یہ کہ امام ابن عدی نےاپنی کتاب”الکامل فی ضعفاء الرجال“ میں اس حدیث کو غیر محفوظ قرار دیا. دوسری بات یہ کہ اگر یہ حدیث سند کے اعتبار سے مقبول بھی ہو تو اس حدیث میں معاویہ سے مراد حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نہیں بلکہ منافقین کا سردار”معاویہ بن تابوہ“ہے جس نے منبر رسول پر پاخانہ کرنے کی قسم کھائی صحابہ نے اسے قتل کرنا چاہا لیکن حضرت عمر کے دور خلافت میں اپنی موت مرگیا۔(ص:49،50)سوال: امام ذہبی نے امام اسحاق بن راہویہ کا ایک قول نقل کیا ہے کہ معاویہ کی فضیلت میں کوئی حدیث صحیح نہیں ہے؟
جواب:”حدیث صحیح نہیں ہے“کایہ مطلب نہیں کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی فضیلت میں کوئی حدیث ہی نہیں ہے ،امام ترمذی نے ”مناقب معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ تعالی عنہما“ کے عنوان کے تحت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی فضیلت میں حدیث بیان کی ہے،اسی طرح علامہ آجری نے اپنی کتاب ”الشریعہ“میں یہی عنوان قائم کیا ہے،اسی طرح امام احمد بن حنبل نے اپنی کتاب”فضائل صحابہ“میں فضائل معاویۃ بن ابی سفیان رضی اللہ تعالی عنہما کا عنوان قائم کیا ہے اس کے علاوہ بخاری شریف میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کا قول حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے کہ آپ مجتہد ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ کسی صحابی کی فضیلت پر کوئی حدیث صحیح نہ ملے پھر بھی صحابی کی فضیلت غیر صحابی پر ثابت ہے،صحابیت کےحوالے سے صحابہ کرام کی فضیلت پر جو قرآنی آیات اور احادیث صحیحہ وارد ہیں ان کے عموم میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ بھی داخل ہیں اور اسی طرح ہزاروں کی تعداد میں ایسے صحابہ کرام ہیں جن کی فضیلت پر کوئی ایک حدیث صحیح بلکہ حدیث ضعیف بھی مروی نہیں لیکن پھر بھی ان کی فضیلت سے انکار نہیں کیا جا سکتا اور وہ اس ان احادیث کے عموم میں داخل ہیں۔ اور باب فضائل میں صرف صحیح حدیث کا مطالبہ کرنا یہ خوارج ووہابیہ کا طریقہ ہے جسے شیعہ روافض بغض امیر معاویہ میں گلے لگا رکھے ہیں(۵۴،۵۵،۵۶،۵۷) سوال:نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خلافت میرے بعد تیس سال رہے گی پھر کاٹنے والی بادشاہت ہوگی حضرت امام حسن تک خلافت کے تیس سال پورے ہو گئےاس کے بعد معاویہ بن ابی سفیان کاٹنے والی بادشاہت کے پہلے بادشاہ ہوئے؟ جواب:اس حدیث کی تشریح میں ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں”حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ خلفائے راشدین کے بعد خلافت نہیں ہوگی اگر یہ مطلب ہو تو حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث”میری امت میں بارہ خلفاء ہوں گے“کی مخالفت لازم آئے گی حدیث کا مطلب یہ ہے کہ میرے بعد تیس سال تک عظیم الشان اور بہترین رائے والے خلفاء ہوں گے اور”پھر ظالم بادشاہت ہوگی“سے مراد یہ ہےکہ تیس سال کے بعد اکثر بادشاہ ظالم ہوں گے،کچھ عادل ہوں گے کیوں کہ اس میں شک نہیں کہ عمر بن عبدالعزیز عادل تھے یہاں تک کہ ان کو عمر ثانی کہا گیا۔(۶۱،۶۲) سلیمان بن عبدالملک بھی صالح و عادل اموی خلیفہ تھے ان کے تعلق سے امام ابن سیرین نے کہا ”اللہ تعالی سلیمان بن عبدالملک پر رحم فرمائے انہوں نے خلافت پاتے ہی نمازوں کو ان کی اوقات میں ادا کرنے کی سنت کو زندہ کیا اور خلافت کے اختتام پر حضرت عمر بن عبدالعزیز کو خلیفہ بنایا(۶۶) اور اگر یہ مان لیا جائے کہ خلافت راشدہ کے بعد آنے والے تمام خلفاء ظالم ہوں گے توخود شیعوں کے عقیدے کے مطابق حضرت امام حسین امام زین العابدین امام باقر امام جعفر امام موسی کاظم امام مہدی تک بارہ ائمہ کو ظالم ماننا پڑے گا کیونکہ شیعوں کے عقیدے کے مطابق مولیٰ علی مرتضی سے لے کر امام مہدی تک بارہ امام خلیفہ ہیں۔(۶۳) ہمارے لیے اسلاف کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے میں ہی دنیا و اخرت کی بھلائی ہے کہ نہ صحابہ کی عظمت کا دامن چھوٹے نہ اہل بیت کی عقیدت و محبت کا دامن ہاتھ سے جانے پائے۔ بعد کے خلفاء کے حوالہ سےحضرت سفینہ رضی اللہ تعالی عنہ کے قول”وہ برے بادشاہ ہیں“سے بھی یہی مراد ہے.(۶۵) بلکہ حافظ ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں لکھا کہ حدیث پاک میں ہے حضوحضور پاک علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد خلافت تیس سال ہوگی پھر بادشاہت ہوگی حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی خلافت تک تیس سال پورے ہو گئے اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے بادشاہت شروع ہوئی چنانچہ وہ اچھے اسلامی حکمرانوں میں سب سے اول حکمران تھے۔(۶۳) مزید کچھ اعتراضات کے جوابات اگلے اتوار کو مطالعہ فرمائیں گے،یوں مختصر وقت میں 237 صفحات کا نچوڑ پڑھ کر اپنے علم میں اچھا خاصا اضافہ کر سکتے ہیں،مزید کچھ سوالات اپ کے ذہن میں ہوں تو ضرور ارسال فرمائیں۔۔۔۔۔۔۔طالب دعا:محمد سجاد برکاتی نجمی(خادم التدریس جامعہ حرا نجم العلوم مہاپولی مہاشٹرا،و مبلغ سنی دعوت اسلامی) رابطہ نمبر:9637320090
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9