صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2512 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیر سورہ نحل آیت ۸۸۔ اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللہِ زِدْنٰہُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا کَانُوْا یُفْسِدُوْنَ

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 8,854

سوال (Question):

تفسیر سورہ نحل آیت ۸۸۔ اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللہِ زِدْنٰہُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا کَانُوْا یُفْسِدُوْنَ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

دین کاراستہ روکنے والے لبرل وسیکولرلیڈروں کودوگناعذاب ہوگا

{اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللہِ زِدْنٰہُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا کَانُوْا یُفْسِدُوْنَ }(۸۸) ترجمہ کنزالایمان:جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا ہم نے عذاب پر عذاب بڑھایا بدلہ ان کے فساد کا۔ ترجمہ ضیاء الایمان: جنہوں نے کفر اختیارکیا اور اللہ تعالی کے دین سے روکا ہم ان کے فساد کے بدلے میں عذاب پر عذاب کا اضافہ کردیں گے۔

لوگوں کو دین سے دورکرنے والوں کودوگناعذاب ہوگا

قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ:عَقَارِبُ أَنْیَابُہَا کَالنَّخْلِ الطِّوَالِ،وَحَیَّاتٌ مِثْلُ أَعْنَاقِ الْإِبِلِ، وَأَفَاعِی کَأَنَّہَا الْبَخَاتِیّ تَضْرِبُہُمْ، فَتِلْکَ الزِّیَادَۃُوَقِیلَ:الْمَعْنَی یَخْرُجُونَ مِنَ النَّارِ إِلَی الزَّمْہَرِیرِ فَیُبَادِرُونَ مِنْ شِدَّۃِ بَرْدِہِ إِلَی النَّارِوَقِیلَ:الْمَعْنَی زِدْنَا الْقَادَۃَ عَذَابًا فَوْقَ السَّفَلَۃِ، فَأَحَدُ الْعَذَابَیْنِ عَلَی کُفْرِہِمْ وَالْعَذَابُ الْآخَرِ عَلَی صَدِّہِمْ(بِما کانُوا یُفْسِدُونَ)فِی الدُّنْیَا مِنَ الکفر والمعصیۃ. ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہماارشادفرماتے ہیں کہ وہ بچھوہیں جن کی داڑھیں کھجورکے درخت کی طرح طویل ہوں گی اورسانپ ہیں جواونٹ کی گردن کی مثل ہوں گے اوراژدہاہیںگویاوہ لمبی گردن والے اونٹ ہیں ، وہ انہیں ماریں گے ، پس یہی زیادتی ہے ۔ اوریہ بھی کہاگیاہے کہ اس کامعنی ہے کہ انہیں آگ سے زمہریرکی طرف نکالاجائے گا، پس وہ اس کی سخت اورشدیدٹھنڈک کی وجہ سے آگ کی طرف بھاگیں گے اوریہ بھی بیان کیاگیاہے کہ اس کامعنی ہے کہ ہم نے دین سے گمراہ کرنے والوں کو ان کی اتباع کرنے والوں کی نسبت عذاب بڑھادیا، پس دوعذابوں میں سے ایک ان کے کفرکی وجہ سے ہوگااوردوسراعذاب ان کے لئے دوسروں کو دین سے روکنے کے لئے ہوگا۔ {بِما کانُوا یُفْسِدُونَ}اس وجہ سے کہ وہ دنیامیں کفراورمعصیت کے سبب فساد برپاکرتے ہیں۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکرشمس الدین القرطبی (۱۰:۱۶۴)

کسی بھی شرعی حکم پرایمان لانے سے منع کرنے والے عذاب میں مبتلاء ہوں گے

اعْلَمْ أَنَّہُ تَعَالَی لَمَّا ذَکَرَ وَعِیدَ الَّذِینَ کَفَرُوا، أَتْبَعَہُ بِوَعِیدِ مَنْ ضَمَّ إِلَی کُفْرِہِ صَدَّ الْغَیْرِ عَنْ سَبِیلِ اللَّہِ وَفِی تَفْسِیرِ قَوْلِہِ:وَصَدُّوا عَنْ سَبِیلِ اللَّہِ وَجْہَانِ:قِیلَ:مَعْنَاہُ الصَّدُّ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَالْأَصَحُّ أَنَّہُ یَتَنَاوَلُ جُمْلَۃَ الْإِیمَانِ بِاللَّہِ وَالرَّسُولِ وَبِالشَّرَائِعِ، لِأَنَّ اللَّفْظَ عَامٌّ فَلَا مَعْنَی لِلتَّخْصِیصِ وَقَوْلُہُ:زِدْناہُمْ عَذاباً فَوْقَ الْعَذابِ فَالْمَعْنَی أَنَّہُمْ زَادُوا عَلَی کُفْرِہِمْ صَدَّ غَیْرِہِمْ عَنِ الْإِیمَانِ فَہُمْ فِی الْحَقِیقَۃِ ازْدَادُوا کُفْرًا عَلَی کُفْرٍ، فَلَا جَرَمَ یَزِیدُہُمُ اللَّہُ تَعَالَی عَذَابًا عَلَی عَذَابٍ،وَأَیْضًا أَتْبَاعُہُمْ إِنَّمَا اقْتَدَوْا بِہِمْ فِی الْکُفْرِ، فَوَجَبَ أَنْ یَحْصُلَ لَہُمْ مِثْلُ عِقَابِ أَتْبَاعِہِمْ لِقَوْلِہِ تَعَالَی:وَلَیَحْمِلُنَّ أَثْقالَہُمْ وَأَثْقالًا مَعَ أَثْقالِہِمْ۔وَلِقَوْلِہِ عَلَیْہِ السَّلَامُ: مَنْ سَنَّ سُنَّۃً سَیِّئَۃً فَعَلَیْہِ وِزْرُہَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِہَا إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔ ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی کے اس فرمان شریف{وَصَدُّوا عَنْ سَبِیلِ اللَّہ}کی تفسیردووجہ سے ہوسکتی ہے ۔ پہلی وجہ : اس کامعنی مسجد حرام شریف سے روکناہے ۔ دوسری وجہ : زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ اللہ تعالی اورحضورتاجدارختم نبوتﷺاورتمام شرعی تعلیمات پرایمان لانے سے روکنے کوشامل ہے کیونکہ الفاظ عام ہیں توتخصیص کی کوئی وجہ نہیں ہے ۔ {زِدْناہُمْ عَذاباً فَوْقَ الْعَذابِ}اس کا معنی یہ ہے کہ ان کے کفرمیں یوں اضافہ ہواکہ انہوںنے دوسروں کو ایمان لانے سے روکاتوانہوںنے حقیقتاًکفردرکفرمیں اضافہ کیاتوحق ہے کہ اللہ تعالی ان کے عذاب پرعذاب میں اضافہ فرمائے ، دوسری بات یہ ہے کہ ان کے پیروکاروں نے کفرمیں ان کی اتباع کی توضروری ہے کہ ان پیروکاروں کے عذاب کی مثل ان لیڈروں کو بھی حاصل ہوجیساکہ اللہ تعالی کافرمان عالی شان ہے {وَلَیَحْمِلُنَّ أَثْقالَہُمْ وَأَثْقالًا مَعَ أَثْقالِہِمْ}( اوربے شک ضروراپنے بوجھ اٹھائیں گے اوراپنے بوجھوں کے ساتھ اوربوجھ بھی اٹھائیں گے ۔ اورحضورتاجدارختم نبوتﷺکافرمان شریف ہے {مَنْ سَنَّ سُنَّۃً سَیِّئَۃً فَعَلَیْہِ وِزْرُہَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِہَا إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ}جس نے براطریقہ جاری کیااس کابوجھ اس پراورقیامت تک اس پرعمل کرنے والوں کابوجھ بھی اس پرہوگا۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۲۰:۲۵۷)

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh