صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2518 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیر سورۃ بنی اسرائیل آیت ۸۶۔۸۷۔ وَ لَئِنْ شِئْنَا لَنَذْہَبَنَّ بِالَّذِیْٓ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَکَ بِہٖ عَلَیْنَا وَکِیْلً

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 9,596

سوال (Question):

تفسیر سورۃ بنی اسرائیل آیت ۸۶۔۸۷۔ وَ لَئِنْ شِئْنَا لَنَذْہَبَنَّ بِالَّذِیْٓ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَکَ بِہٖ عَلَیْنَا وَکِیْلً

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

قرآن کریم پرعمل نہ کرنے کی وجہ سے اہل دنیاکوقرآن کریم سے محروم کردیاجائے گا

{وَ لَئِنْ شِئْنَا لَنَذْہَبَنَّ بِالَّذِیْٓ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَکَ بِہٖ عَلَیْنَا وَکِیْلًا}(۸۶){ اِلَّا رَحْمَۃً مِّنْ رَّبِّکَ اِنَّ فَضْلَہ کَانَ عَلَیْکَ کَبِیْرًا }(۸۷) ترجمہ کنزالایمان:اور اگر ہم چاہتے تو یہ وحی جو ہم نے تمہاری طرف کی اسے لے جاتے پھر تم کوئی نہ پاتے کہ تمہارے لیے ہمارے حضور اس پر وکالت کرتا۔ مگر تمہارے رب کی رحمت بیشک تم پر اس کا بڑا فضل ہے ۔ ترجمہ ضیاء الایمان: اور اگر ہم چاہتے توہم جو آپ کی طرف وحی بھیجتے ہیں اسے لے جاتے پھرآپ اپنے لئے اس پر ہماری بارگاہ کوئی وکیل نہ پاتے۔ مگر آپ کے رب تعالی کی رحمت ہی ہے۔ بیشک آپ کے او پر اس کا بڑا فضل ہے۔

قرآن کریم کے نورسے محروم کردیاجائے گا

وَقَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْعُودٍ:أَوَّلُ مَا تَفْقِدُونَ مِنْ دِینِکُمُ الْأَمَانَۃَ، وَآخِرُ مَا تَفْقِدُونَ الصَّلَاۃَ، وَأَنَّ ہَذَا الْقُرْآنَ کَأَنَّہُ قَدْ نُزِعَ مِنْکُمْ، تُصْبِحُونَ یوما وما معکم منہ شی فَقَالَ رَجُلٌ:کَیْفَ یَکُونُ ذَلِکَ یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ!وَقَدْ ثَبَّتْنَاہُ فِی قُلُوبِنَا وَأَثْبَتْنَاہُ فِی مَصَاحِفِنَا، نُعَلِّمُہُ أَبْنَاء َنَا وَیُعَلِّمُہُ أَبْنَاؤُنَا أَبْنَاء َہُمْ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ!قَالَ: یُسْرَی بِہِ فِی لَیْلَۃٍ فَیَذْہَبُ بِمَا فِی الْمَصَاحِفِ وَمَا فِی الْقُلُوبِ، فَتُصْبِحُ النَّاسُ کَالْبَہَائِمِ ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّہِ وَلَئِنْ شِئْنا لَنَذْہَبَنَّ بِالَّذِی أَوْحَیْنا إِلَیْکَ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اپنے دین میں سے جوچیز تم سب سے پہلے گم کروگے وہ امانت ہے اورآخرمیں جوچیز تم سے مفقود ہوگی وہ نماز ہے اوریہ قرآن کریم بھی تم سے چھین لیاجائے گا، تم ایک دن صبح کروگے اورتمھارے پاس اس میں کوئی بھی چیز نہیں ہوگی ، توایک آدمی نے عرض کی : اے ابوعبدالرحمن !کیسے ہوگا؟ حالانکہ ہم نے اسے اپنے دلوں میں راسخ کررکھاہے اورہم نے اسے اپنے مصاحف میں لکھ رکھاہے ، ہم اپنے بیٹوں کواس کی تعلیم دیتے ہیں اورہمارے بیٹے اپنے بیٹوں کو اس کی تعلیم دیں گے اوریہ یوم قیامت تک سلسلہ جاری رہے گاتوآپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایک رات میں وہ کوئی ایسی چیز بھیجے گاجس کے ساتھ وہ مصاحف اوردلوں میں جوکچھ ہے سب لے جائے گااورلوگ چوپائوں کی مثل صبح کریں گے ، پھرحضرت سیدناعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی {وَ لَئِنْ شِئْنَا لَنَذْہَبَنَّ بِالَّذِیْٓ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَکَ بِہٖ عَلَیْنَا وَکِیْلًا}۔ (مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:أبو الحسن نور الدین علی بن أبی بکر بن سلیمان الہیثمی (۲:۳۳۹)

قرآن کریم سے کیسے محروم کردیئے جائیں گے؟

عن شَدَّادِ بْنِ مَعْقِلٍ قَالَ:قَالَ عَبْدُ اللَّہِ یَعْنِی ابْنَ مَسْعُودٍ:إِنَّ ہَذَا الْقُرْآنَ الَّذِی بَیْنَ أَظْہُرِکُمْ یُوشِکُ أَنْ یُنْزَعَ مِنْکُمْ قَالَ:قُلْتُ کَیْفَ یُنْزَعُ مِنَّا وَقَدْ أَثْبَتَہُ اللَّہُ فِی قُلُوبِنَا وَثَبَّتْنَاہُ فِی مَصَاحِفِنَا! قَالَ:یُسْرَی عَلَیْہِ فِی لَیْلَۃٍ وَاحِدَۃٍ فَیُنْزَعُ مَا فِی الْقُلُوبِ وَیَذْہَبُ مَا فِی الْمَصَاحِفِ وَیُصْبِحُ النَّاسُ مِنْہُ فُقَرَاء َ ثُمَّ قَرَأَلَئِنْ شِئْنا لَنَذْہَبَنَّ بِالَّذِی أَوْحَیْنا إِلَیْکَ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عن قریب یہ قرآن کریم تم سے چھین لیاجائے گا، انہوںنے (یعنی شداد بن معقل رضی ا للہ عنہ نے بیان کیا) میں نے عرض کی :یہ ہم سے کیسے چھین لیاجائے گا؟ حالانکہ اللہ تعالی نے اسے ہمارے دلوںمیں راسخ کررکھاہے اورہم نے اسے اپنے مصاحف میں ثابت اورمحفوظ رکھاہے توانہوںنے فرمایا: وہ ایک ہی رات میں اس پرکوئی ایسی چیز چلائے گااورجوکچھ دلوں میں ہے وہ ان سے چھین لے گااورجوکچھ مصاحف میں ہے اسے مٹادے گااورلوگ اس حال میں صبح کریں گے کہ وہ اسے خالی اورمحروم ہوچکے ہوں گے اورآپ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی {وَ لَئِنْ شِئْنَا لَنَذْہَبَنَّ بِالَّذِیْٓ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَکَ بِہٖ عَلَیْنَا وَکِیْلًا} (کنز العمال :علاء الدین علی بن حسام الدین ابن قاضی خان القادری(۱۴:۵۷۰)

قرآن کریم پرعمل نہ ہونے کی وجہ سے نعمت قرآن سے محروم کردیاجائے گا

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ:لَا تَقُومُ السَّاعَۃُ حَتَّی یَرْجِعُ الْقُرْآنُ مِنْ حَیْثُ نَزَلَ، لَہُ دَوِیٌّ کَدَوِیِّ النَّحْلِ، فَیَقُولُ اللَّہُ مَا بَالُکَ فَیَقُولُ:یَا رَبِّ مِنْکَ خَرَجْتُ وَإِلَیْکَ أَعُودُ، أُتْلَی فَلَا یُعْمَلُ بِی، أُتْلَی وَلَا یُعْمَلُ بِی. ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عمررضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ قرآن کریم ادھرلوٹ جائے گاجہاں سے نازل ہواہے اوراس کی بھنبھناہٹ شہدکی مکھیوں کی بھنبھناہٹ کی طرح ہوگی ، تواللہ تعالی فرمائے گا: تجھے کیاہوا؟ تووہ کہے گا: اے میرے رب !میں تیری بارگاہ سے نکلاتھااورتیری ہی طرف لوٹ آیاہوں ، میں تلاوت کیاجاتارہالیکن میرے مطابق عمل نہ کیاگیااورمجھے پڑھاجاتارہااورمیرے مطابق عمل نہ کیاگیا۔ (کشف الخفاء ومزیل الإلباس:إسماعیل بن محمد العجلونی الدمشقی، أبو الفداء (۲:۴۳۴) قرآن کریم کوچھوڑ کردوسری کتابوں پرمرنے والوں کی وجہ سے قرآن سے محروم کردیاجائے گا وَأخرج مُحَمَّد بن نصر عَن اللَّیْث بن سعد رَضِی اللہ عَنہُ قَالَ:إِنَّمَا یرفع الْقُرْآن حِین یقبل النَّاس علی الْکتب ویکبّون عَلَیْہَا ویترکون الْقُرْآن۔ ترجمہ :حضرت سیدنامحمدبن نصرحضرت سیدنالیث بن سعد رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ جب لوگ دوسری کتابوں کی طرف متوجہ ہوجائیں گے توقرآن کریم اٹھالیاجائے گا، لوگ دوسری کتابوں پراوندھے گرے ہوئے ہوں گے اورقرآن کریم کو چھوڑد یں گے ۔ (مختصر قیام اللیل: أبو عبد اللہ محمد بن نصر بن الحجاج المَرْوَزِی (۱:۱۷۹) آج لوگ دنیوی کتابیں اوراس طرح کی دوسری تیسری کتابوں کاتوبڑازورشورسے مطالعہ کرتے ہیں مگرقرآن کریم کی تفسیروحدیث شریف کی طرف کوئی توجہ نہیں ہے ۔

جن سے قرآن کریم لیاجائے گاوہ اشعارپڑھنے لگ جائیں گے

عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّہُ قَالَ:اقْرَء ُوا الْقُرْآنَ قَبْلَ أَنْ یُرْفَعَ؛ فَإِنَّہُ لَا تَقُومُ السَّاعَۃُ حَتَّی یُرْفَعَ :قَالُوا: ہَذِہِ الْمَصَاحِفُ تُرْفَعُ فَکَیْفَ بِمَا فِی صُدُورِ النَّاسِ؟ قَالَ:یُعْدَی عَلَیْہِ لَیْلًا فَیُرْفَعُ مِنْ صُدُورِہِمْ، فَیُصْبِحُونَ فَیَقُولُونَ: لکَأَنَّا کنا نَعْلَمْ شَیْئًا ثُمَّ یقعونَ فِی الشِّعْ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قرآن کریم پڑھواس سے پہلے کہ قرآن کریم اٹھالیاجائے اورقیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی حتی کہ قرآن کریم اٹھالیاجائے گا، لوگوںنے عرض کی : یہ مصاحف تواٹھالئے جائیں گے اورلوگوں کے سینوں سے بھی قرآن کریم اٹھالیاجائے گا، لوگ جب صبح کریں گے توکہیں گے کہ ہم کچھ جانتے توتھے ، پھروہ اشعارپڑھنے لگ جائیں گے ۔ (شعب الإیمان:أحمد بن الحسین بن علی بن موسی الخُسْرَوْجِردی الخراسانی، أبو بکر البیہقی (۳:۳۹۷)

قرب قیامت اسلامی شعائرسے بھی لوگ بیگانہ ہوجائیں گے

عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ، قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: یَدْرُسُ الْإِسْلَامُ کَمَا یَدْرُسُ وَشْیُ الثَّوْبِ، حَتَّی لَا یُدْرَی مَا صِیَامٌ، وَلَا صَلَاۃٌ، وَلَا نُسُکٌ، وَلَا صَدَقَۃٌ، وَلَیُسْرَی عَلَی کِتَابِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ فِی لَیْلَۃٍ، فَلَا یَبْقَی فِی الْأَرْضِ مِنْہُ آیَۃٌ، وَتَبْقَی طَوَائِفُ مِنَ النَّاسِ الشَّیْخُ الْکَبِیرُ وَالْعَجُوزُ، یَقُولُونَ: أَدْرَکْنَا آبَاء َنَا عَلَی ہَذِہِ الْکَلِمَۃِ، لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ، فَنَحْنُ نَقُولُہَا فَقَالَ لَہُ صِلَۃُ: مَا تُغْنِی عَنْہُمْ: لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ، وَہُمْ لَا یَدْرُونَ مَا صَلَاۃٌ، وَلَا صِیَامٌ، وَلَا نُسُکٌ، وَلَا صَدَقَۃٌ؟ فَأَعْرَضَ عَنْہُ حُذَیْفَۃُ، ثُمَّ رَدَّہَا عَلَیْہِ ثَلَاثًا، کُلَّ ذَلِکَ یُعْرِضُ عَنْہُ حُذَیْفَۃُ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَیْہِ فِی الثَّالِثَۃِ، فَقَالَ:یَا صِلَۃُ، تُنْجِیہِمْ مِنَ النَّارِ ثَلَاثًا۔ ترجمہ :حضرت سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا:اسلام اس طرح محو ہو جائے گا جس طرح کپڑے کے نقوش مٹ جاتے ہیں حتی کہ لوگوں کو یہ بھی معلوم نہیں رہے گا کہ روزے کیا ہوتے ہیں یا نماز یا قربانی یا صدقہ کیا ہوتا ہے۔ اللہ کی کتاب کو ایک ہی رات میں اٹھا لیا جائے گا اور زمین میں اس کی ایک آیت بھی نہیں رہے گی۔ لوگوں میں کچھ بوڑھے مرد اور عورتیں رہ جائیں گی جو کہیں گی:ہم نے اپنے بزرگوں کو لا الہ الا اللہ کہتے دیکھا تھا، ہم بھی کہتے ہیں۔ (حضرت سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ایک شاگرد)حضرت سیدناصلہ بن زفر رضی اللہ عنہ نے کہا:انہیں لا الہ الا اللہ سے کیا فائدہ ہو گا جب انہیں نماز، روزے، قربانی اور صدقے کا بھی علم نہیں ہو گا؟ حضرت سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ان سے منہ پھیر لیا۔ انہوں نے تین بار یہ سوال کیا اور ہر دفعہ حضرت سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ ان سے منہ پھیرتے رہے۔ تیسری بار ان کی طرف متوجہ ہو کر تین بار فرمایا:اے صلہ!(اس دور میں)یہی انہیں جہنم سے بچا لے گا۔ (سنن ابن ماجہ:ابن ماجۃ أبو عبد اللہ محمد بن یزید القزوینی، وماجۃ اسم أبیہ یزید (۴:۱۳۴۴)

قرآن کریم کاوجود رب تعالی کافضل کبیرہے

إِنَّ فَضْلَہُ کانَ عَلَیْکَ کَبِیراً فِیہِ قَوْلَانِ: الْأَوَّلُ: الْمُرَادُ أَنَّ فَضْلَہُ کَانَ عَلَیْکَ کَبِیرًا بِسَبَبِ إِبْقَاء ِ الْعِلْمِ وَالْقُرْآنِ عَلَیْکَ الثَّانِی:الْمُرَادُ أَنَّ فَضْلَہُ کَانَ عَلَیْکَ کَبِیرًا بِسَبَبِ أَنَّہُ جَعَلَکَ سَیِّدَ وَلَدِ آدَمَ وَخَتَمَ بِکَ النَّبِیِّینَ وَأَعْطَاکَ الْمَقَامَ الْمَحْمُودَ فَلَمَّا کَانَ کَذَلِکَ لَا جَرَمَ أَنْعَمَ عَلَیْکَ أَیْضًا بإبقاء العلم والقرآن علیک. ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی کے فرمان شریف {إِنَّ فَضْلَہُ کانَ عَلَیْکَ کَبِیراً }کے متعلق مفسرین کے دوقول ہیں : پہلاقول: مراد یہ ہے کہ اللہ تعالی کاحضورتاجدارختم نبوتﷺپرعلم اورقرآن کریم کے باقی رکھنے کاسبب فضل کبیرہے ۔ دوسراقول:مراد یہ ہے کہ اللہ تعالی کاآپﷺپرفضل اس لئے کبیرہے کہ اس نے آپﷺکواولاد آدم کاسربراہ بنایا، آپﷺپرنبوت ختم کی اورآپﷺکومقام محمود عطافرمایا، جب صورت حال یہ ہے توحق یہی تھاکہ وہ آپﷺپرعلم وقرآن کریم کو بطورانعام باقی رکھے۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۲۱:۴۲۰)

معارف ومسائل

دین اسلام کی بنیادی اساس اللہ تعالی اورحضورتاجدارختم نبوتﷺکے احکامات پر رضامندی، اطاعت و فرمانبرداری ہے۔ اللہ تعالی اورحضورتاجدارختم نبوتﷺ کا حکم سنتے ہی اپنی گردن جھکا دینااور سر تسلیم خم کر دینا دین کی بنیادی اساس ہے۔ اسلام تسلیم سے ہے یعنی قرآن و سنت، اللہ تعالی اورحضورتاجدارختم نبوتﷺکے احکام کو تہہ دل سے تسلیم کرنا، ان کے ہرامر، ہر حکم اورہر فیصلے پر راضی ہونا اور کوئی دوسری رائے نہ رکھنا اسلام ہے۔ دین اسلام میں احکام شریعت کو ترجیح حاصل ہے۔ جو شخص اللہ تعالی اورحضورتاجدارختم نبوتﷺکے حکم، دین(نظام ِ حیات)کو تسلیم نہیں کرتا اور کوئی دوسری رائے رکھتا ہے وہ منکر و کافر ہے۔ ہر وہ شخص، ہر وہ جماعت ،گروہ اور تنظیم جس کا مرجع اول وآخر صرف کتاب اللہ وسنت رسول کریم ﷺنہ ہو تو وہ مسلمان نہیں بلکہ اللہ تعالی کا منکر، حضورتاجدارختم نبوتﷺ اوردین متین کا منکرہے اور کافر ہے۔ ہر وہ نظام کفر ہے جو اسلامی نظام کو چھوڑ کر اپنایا جائے۔ ہر وہ اصول کفر ہے، ہر وہ ضابطہ کفر ہے جو اسلامی ضابطہ حیات کو چھوڑ کر اپنایا جائے۔ ہر وہ امر، ہر وہ حکم کفر ہے جو کتاب و سنت سے مطابقت و موافقت نہ رکھتا ہو۔ عام طور پر ہم لوگ سمجھتے ہیں کہ جو کلمہ نہیں پڑھتا اور اس کا دل سے اقرار نہیں کرتا وہ کافر ہے گویا ہم اور ہمارا معاشرہ کلمہ کے اقراری کو مسلمان سمجھتا ہے خواہ اس کے اعمال جیسے بھی ہوں ۔ہماری نظر میں وہ مسلمان ہے۔ یہاں ایک سوال جنم لیتا ہے کہ کلمہ گو تو مسلمان ہو گیااور جو کلمہ کا اقراری ہو کر احکام کو نظر انداز کرے، حکم سے روگردانی کرے، نظر پھیرے، جی کترائے اسے کیا کہیں گے؟ جو حضورتاجدارختم نبوتﷺ کا ماننے والا ہو کر حضورتاجدارختم نبوتﷺکے احکامات کو ماننے والا نہ ہواسے کیا کہیں گے؟ جو قرآن کریم و حدیث شریف کے فرامین سن کر پس پشت پھینک دیں انہیں کیا کہیں گے؟ جو معاشرہ قرآن و سنت کا عامل ہو کر ان کے مطابق احکام جاری نہ کرے اس معاشرہ کو کیا کہیں گے؟ اب سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے حکمران، ہمارے اولی الامر اللہ رب العزت کے نازل کردہ احکام کے مطابق حکم دے رہے ہیں؟کیا ہمارے اولی الامر کی طرف سے اللہ تعالی اور حضورتاجدارختم نبوتﷺکے احکامات کی پیروی و اتباع کرنے اور کروانے کا کوئی اہتمام ، کوئی کوشش جو سرکاری سطح پر کی گئی ہو؟ کیا ہماری عدالتیں اللہ تعالی اور حضورتاجدارختم نبوتﷺ کی دی ہوئی شریعت، قوانین اور اصولوں کے مطابق حکم دے رہی ہیں؟ کیا ہماری عدالتیں قرآن وسنت کے مطابق عدل و انصاف پر مبنی فیصلہ سنا رہی ہیں؟کیا ہمارے محکمے، ہمارے ادارے قرآن و سنت اور شریعت مطہرہ کے اصولوں کے مطابق چل رہے ہیں یا ان کی تنفیذ کی تگ و دو میں ہیں؟ ہمارے اس خزاں رسیدہ معاشرہ میں ایسا کچھ نہیں ہو رہا ۔ کوئی حکومت، کوئی عدالت، کوئی محکمہ، کوئی ادارہ دین کی تنفیذ میں سنجیدہ نہیں ۔ صرف نام کے اسلامی ہونے کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں، اندر اسلام والی کوئی بات نہیں۔ اب قرآن کریم میں اللہ رب العزت نے تو واضح حکم صادر فرما دیا کہ جو اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق حکم نہ دیں وہی کافر ہیں۔ اس آیت مبارکہ کومد نظر رکھتے ہوئے ہم اور ہمارا مجموعی معاشرہ خود اپنا مشاہدہ و محاسبہ کر لے کہ وہ کہاں کھڑے ہیں؟کہیں یہ آیت مبارکہ ان کے کفر پر دلیل تو ثابت نہیں ہو رہی؟ جو لوگ اللہ تعالی کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی ظالم ہیں، جو لوگ اللہ تعالی کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی فاسق ہیں۔ قرآن کریم کے اس صریح اور واضح حکم کے باوجود ہم نہ کافر، نہ ظالم اور نہ ہی فاسق؟ اگر ہم نہیں تو بتائیں کہ قرآن کی ان آیات کی رو سے کافر کون ہے؟ ظالم کون ہے؟ اور فاسق کون ہیں؟جو لوگ حقیقی کافر ہیں ، سرے سے جن کا قرآن و حدیث پر ایمان ہی نہیں، ان کا معاملہ تو الگ ہے اور اللہ تعالی بہتر جانتا ہے کہ وہ ان کے ساتھ کیاکرے گا مگر جو مان کر، ایمان رکھ کر،یقین کر کے روگردانی کریں، جو ایک کان سے سنیں اور دوسرے سے نکال کر پس پشت پھینک دیں، جو زبان سے تو اقرار کریں کہ اللہ کی نازل کردہ شریعت برحق ہے اور یقین بھی رکھیںمگر ان کے اعمال اس کے موافق نہ ہوں، ان کے کردار اس کے برعکس ہوں تو ان کا حشر یقینا بہت ہی برا ہو گا اور یہ حشر، ذلت و رسوائی، خواری و ناداری ہم دنیا میں ظاہری آنکھوں سے دیکھ بھی رہے ہیںکہ آج دنیا میں سب سے ذلیل و خوار قوم مسلمان ہے۔دنیا کے جس کونے میں دیکھو ہم مسلمان ہی ذلیل و رسواء ہو رہے ہیں۔دین سے دوری اور بے یقینی اس کا سبب ہے۔ سن اے تہذیب ِ حاضر کے غلام غلامی سے بد تر ہے بے یقینی سورۃ بنی اسرائیل کااختتام بحمداللہ ۱۵ذوالحج شریف ۱۴۴۱ھ/۶اگست ۲۰۲۰ء) بروز جمعرات بوقت ۲ بج کر۲۱منٹ)

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh