Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #236 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 5K Views

گوہ کھانا جائز ہے یا نہیں؟ از مفتی محمد نظام الدین قادری مصباحی جامعہ علیمیہ

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

گوہ کھانا جائز ہے یا نہیں؟ از مفتی محمد نظام الدین قادری مصباحی جامعہ علیمیہ

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

گوہ کھانا جائز ہے یا نہیں؟

جواب:

گوہ کا گوشت کھانا جائز نہیں ہے، کیوں کہ یہ جانور بھی ان خبائث سے ہے جن کو اہل حجاز کی سلیم طبیعتیں ناگوار سمجھتی ہیں۔اور گوہ کے گوشت کھانے کے بارے میں جو حدیثیں وارد ہیں تو ان کا جواب بھی وہی ہے کہ وہ حدیثیں ابتدائے اسلام کے عہد سے متعلق ہیں۔ صاحب در مختار تحریر فرماتے ہیں:

“وما روی من اکلہ محمول علی الابتداء” (در مختار ج ٩ ص ۴۴٣، ۴۴۴)

اور علامہ شامی علیہ الرحمہ “علی الابتداء” کے تحت تحریر فرماتے ہیں:

“ای: ابتداء الاسلام، قبل نزول قولہ تعالی: “ویحرّم علیہم الخبائث”[الاعراف:١۵٧] للاصل المار۔ [ یشیر الی قولہ:فان الاصل: متی تعارض نصان غلب المحرم علی المبیح] (رد المحتار ج٩ ص۴۴۴)

نیز تحریر فرماتے ہیں:

“قَالَ فِي مِعْرَاجِ الدِّرَايَةِ: أَجْمَعَ الْعُلَمَاءُ عَلَى أَنَّ الْمُسْتَخْبَثَاتِ حَرَامٌ بِالنَّصِّ وَهُوَ قَوْله تَعَالَى – {وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ} [الأعراف: 157]- وَمَا اسْتَطَابَهُ الْعَرَبُ حَلَالٌ – {وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ} [الأعراف: 157]- وَمَا اسْتَخْبَثَهُ الْعَرَبُ فَهُوَ حَرَامٌ بِالنَّصِّ، وَاَلَّذِينَ يُعْتَبَرُ اسْتِطَابَتُهُمْ أَهْلُ الْحِجَازِ مِنْ أَهْلِ الْأَمْصَارِ، لِأَنَّ الْكِتَابَ نَزَلَ عَلَيْهِمْ وَخُوطِبُوا بِهِ، وَلَمْ يُعْتَبَرْ أَهْلُ الْبَوَادِي ؛ لِأَنَّهُ لِلضَّرُورَةِ وَالْمَجَاعَةِ يَأْكُلُونَ مَا يَجِدُونَ، وَمَا وُجِدَ فِي أَمْصَارِ الْمُسْلِمِينَ مِمَّا لَا يَعْرِفُهُ أَهْلُ الْحِجَازِ رُدَّ إلَى أَقْرَبِ مَا يُشْبِهُهُ فِي الْحِجَازِ، فَإِنْ كَانَ مِمَّا يُشْبِهُ شَيْئًا مِنْهَا فَهُوَ مُبَاحٌ لِدُخُولِهِ تَحْتَ قَوْله تَعَالَى – {قُلْ لا أَجِدُ} [الأنعام: 145]- الْآيَةَ، وَلِقَوْلِهِ – عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ – «مَا سَكَتَ اللَّهُ عَنْهُ فَهُوَ مِمَّا عَفَا اللَّهُ عَنْهُ»(رد المحتار ج٩ ص۴۴٣)

محمد نظام الدین قادری۔

خادم درس وافتاء: دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔)

Kutubahu & Verified by:

<h2 style="direction: rtl;">گوہ کھانا جائز ہے یا نہیں؟</h2> <p style="direction: rtl;"><span style="font-size: 24px;">جواب:</span></p> <p style="direction: rtl;">گوہ کا گوشت کھانا جائز نہیں ہے، کیوں کہ یہ جانور بھی ان خبائث سے ہے جن کو اہل حجاز کی سلیم طبیعتیں ناگوار سمجھتی ہیں۔اور گوہ کے گوشت کھانے کے بارے میں جو حدیثیں وارد ہیں تو ان کا جواب بھی وہی ہے کہ وہ حدیثیں ابتدائے اسلام کے عہد سے متعلق ہیں۔ صاحب در مختار تحریر فرماتے ہیں:</p> <p style="direction: rtl;">"وما روی من اکلہ محمول علی الابتداء" (در مختار ج ٩ ص ۴۴٣، ۴۴۴)</p> <p style="direction: rtl;">اور علامہ شامی علیہ الرحمہ "علی الابتداء" کے تحت تحریر فرماتے ہیں:</p> <p style="direction: rtl;">"ای: ابتداء الاسلام، قبل نزول قولہ تعالی: "ویحرّم علیہم الخبائث"[الاعراف:١۵٧] للاصل المار۔ [ یشیر الی قولہ:فان الاصل: متی تعارض نصان غلب المحرم علی المبیح] (رد المحتار ج٩ ص۴۴۴)</p> <p style="direction: rtl;">نیز تحریر فرماتے ہیں:</p> <p style="direction: rtl;">"قَالَ فِي مِعْرَاجِ الدِّرَايَةِ: أَجْمَعَ الْعُلَمَاءُ عَلَى أَنَّ الْمُسْتَخْبَثَاتِ حَرَامٌ بِالنَّصِّ وَهُوَ قَوْله تَعَالَى - {وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ} [الأعراف: 157]- وَمَا اسْتَطَابَهُ الْعَرَبُ حَلَالٌ - {وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ} [الأعراف: 157]- وَمَا اسْتَخْبَثَهُ الْعَرَبُ فَهُوَ حَرَامٌ بِالنَّصِّ، وَاَلَّذِينَ يُعْتَبَرُ اسْتِطَابَتُهُمْ أَهْلُ الْحِجَازِ مِنْ أَهْلِ الْأَمْصَارِ، لِأَنَّ الْكِتَابَ نَزَلَ عَلَيْهِمْ وَخُوطِبُوا بِهِ، وَلَمْ يُعْتَبَرْ أَهْلُ الْبَوَادِي ؛ لِأَنَّهُ لِلضَّرُورَةِ وَالْمَجَاعَةِ يَأْكُلُونَ مَا يَجِدُونَ، وَمَا وُجِدَ فِي أَمْصَارِ الْمُسْلِمِينَ مِمَّا لَا يَعْرِفُهُ أَهْلُ الْحِجَازِ رُدَّ إلَى أَقْرَبِ مَا يُشْبِهُهُ فِي الْحِجَازِ، فَإِنْ كَانَ مِمَّا يُشْبِهُ شَيْئًا مِنْهَا فَهُوَ مُبَاحٌ لِدُخُولِهِ تَحْتَ قَوْله تَعَالَى - {قُلْ لا أَجِدُ} [الأنعام: 145]- الْآيَةَ، وَلِقَوْلِهِ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - «مَا سَكَتَ اللَّهُ عَنْهُ فَهُوَ مِمَّا عَفَا اللَّهُ عَنْهُ»(رد المحتار ج٩ ص۴۴٣)</p> <p style="direction: rtl;"><strong>محمد نظام الدین قادری۔</strong></p> <p style="direction: rtl;"><strong>خادم درس وافتاء: دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔)</strong></p>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...