Fatwa #2532
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
حضور مفسر اعظم ہند بحیثیت مہتمم از: محمد فیضان رضا علیمی، رضا باغ گنگٹی
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
11,505
سوال (Question):
حضور مفسر اعظم ہند بحیثیت مہتمم از: محمد فیضان رضا علیمی، رضا باغ گنگٹی
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
حضور مفسر اعظم ہند بحیثیت مہتمم
از: محمد فیضان رضا علیمی، رضا باغ گنگٹی یوں تو حضور جیلانی میاں علیہ الرحمہ کو اعلی حضرت امام احمد رضا خان قادری نے بسم اللہ خوانی کے وقت ہی جملہ سلاسل کی اجازت و خلافت مرحمت فرما دی تھی اور آپ کے والد ماجد نے بھی ۱۹ سال کی عمر شریف میں ہی اپنی خلافت اور بزرگوں کی عنایتوں کو آپ کے حوالہ کر دیا تھا لیکن باضابطہ تحریر ی خلافت و اجازت ، نیابت و جانشینی اور اپنی ساری نعمتیں علامہ حامد رضا خان قادری نے اپنی وفات سے ڈھائی ماہ قبلہ ۲۵۔ صفر المظفر۔۱۳۶۲ھ میں عرس رضوی شریف کے پربہار موقع پر علما و مشائخ کی موجودگی میں سپرد کردیا۔اور اپنی وصیت کے مطابق مفسر اعظم ہند علیہ الرحمہ کو اپنا نائب، خانقاه عالیہ رضویہ کا سجاده اور جامعہ رضویہ منظرِ اسلام کا مہتمم نامزد فرمایا۔ ایسے وقت میں منظر اسلام کا اہتمام قانونی طور سے حضور مفسر اعظم ہند کے قبضے میں آیا جب دارالعلوم کی حالت بہت حد تک خراب ہوچکی تھی۔ آپ نے اس یادگارِ اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کو حیات تازه دینے کی خاطر سخت جد و جہد کی۔ محدثِ اعظمِ پاکستان مفنی سردار احمد لاہوری اور دیگر مشاہیر علماے کرام دارالعلوم کو خیرآباد کہ چکے تھے یہی نہیں بلکہ ان اساتذہ کے ہمراہ کچھ ذہین و فطين طلباے عظام بھی مدرسہ سے رخصت ہوگے تھے ایسے وقت میں منظرِ اسلام کی حالت خزاں رسیدہ چمن کے مانند تھی۔ آپ نے اپنی محنت شاقہ اور شب و روز کی کوشیشوں سے قابل اور ذی استعداد اساتذہ کو دارالعلوم میں لانا شروع کیا جن میں آپ استاد گرامی محدتِ جلیل علامہ احسان علی فیض پورم اور نامور مفتی حضرت علام سيد افضل حسين مونگیری صاحب ومفتی محمد جہانگیر خان صاحب ( قدس سرہم) جیسے علما تھے جن کو دارالعلوم میں خاص اور اعلی مناصب پر فائز فرمایا۔ منظرِ اسلام کی آبیاری کا ایسا جوش و جذبہ دل و دماغ میں موجزن تھا کہ خود بھی درس و تدریس میں لگ گئے۔ اوپر ذکر ہوا کہ جس وقت آپ نے مدرسہ کا کمان سنبھالا تھا اس وقت ادارہ مالی اور فردی دونوں اعتبار سے کمزور ہوچکا تھا آمدنی کی کمی کی وجہ سے کئی بار ایسا موقع آیا کہ آپ نے مدرسین اور دیگر عملے کی تنخواہ کی ادائیگی کے لیے گھر کے زیورات تک بیچ دیا۔ آپ علیہ الرحمہ کی جہد مسلسل اور شہرہ آفاق مقبولیت نیز خدا داد صلاحیت کی دولیت مسلمانان اہل سنت و جماعت رفتہ رفتہ دارالعلوم سے قریب ہوتے گئے اور مالی اعتبار سے آپ کا دست و بازو بنتے گئے جس کا ثمرہ اللہ پاک ایک دن دیکھا کہ اب دارالعلوم اپنی پرانی شان و شوکت کے ساتھ رواد دواں ہوگیا۔ اور اک اچھی خاصی تعداد ادارہ کے مخلصین اور محبین کی ہوگئی۔ آپ نے اہل سنت کے افکار و نظریات کو نشر کرنے اور ادارہ کی مالی حالت مضبوط کرنے کے لیے ماہنامہ اعلی حضرت کا اجرا فرمایا جو بحمدہ تعالی اب تک پابندی کے ساتھ مرکز اہل سنت کی ترجمانی کر رہا ہے اللہ کرے ایسا تاقیامت قائم رہے۔ از: محمد فیضان رضا علیمی، رضا باغ گنگٹی مدیر اعلیٰ سہ ماہی پیام بصیرت سیتامڑھی ناظم تعلیمات مدرسہ قادریہ سلیمیہ چھپرہ ۱۱ صفر عرس حضور مفسر اعظم ہند علیہ الرحمہ
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9