Fatwa #2545
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیر سورہ طہ آیت ۹۵ تا ۹۷۔ قَالَ فَمَا خَطْبُکَ یٰسَامِرِیُّ
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
13,042
سوال (Question):
تفسیر سورہ طہ آیت ۹۵ تا ۹۷۔ قَالَ فَمَا خَطْبُکَ یٰسَامِرِیُّ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
سامری جادوگراورکروناوائرس
{قَالَ فَمَا خَطْبُکَ یٰسَامِرِیُّ }(۹۵){قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ یَبْصُرُوْا بِہٖ فَقَبَضْتُ قَبْضَۃً مِّنْ اَثَرِ الرَّسُوْلِ فَنَبَذْتُہَا وَکَذٰلِکَ سَوَّلَتْ لِیْ نَفْسِی}(۹۶){قَالَ فَاذْہَبْ فَاِنَّ لَکَ فِی الْحَیٰوۃِ اَنْ تَقُوْلَ لَا مِسَاسَ وَ اِنَّ لَکَ مَوْعِدًا لَّنْ تُخْلَفَہ وَانْظُرْ اِلٰٓی اِلٰـہِکَ الَّذِیْ ظَلْتَ عَلَیْہِ عَاکِفًا لَنُحَرِّقَنَّہ ثُمَّ لَنَنْسِفَنَّہ فِی الْـیَمِّ نَسْفًا }(۹۷) ترجمہ کنزالایمان:موسیٰ نے کہا اب تیرا کیا حال ہے اے سامری۔ بولا میں نے وہ دیکھا جو لوگوں نے نہ دیکھا تو ایک مٹھی بھر لی فرشتے کے نشان سے پھر اسے ڈال دیا اور میرے جی کو یہی بھلا لگا۔کہا تو چلتا بن کہ دنیا کی زندگی میں تیری سزا یہ ہے کہ تو کہے چھو نہ جا اور بیشک تیرے لیے ایک وعدہ کا وقت ہے جو تجھ سے خلاف نہ ہوگا اور اپنے اس معبود کو دیکھ جس کے سامنے تو دن بھر آسن مارے رہا قسم ہے ہم ضرور اسے جلائیں گے پھر ریزہ ریزہ کرکے دریا میں بہائیں گے۔ ترجمہ ضیا ء الایمان:حضرت موسیٰ (علیہ السلام ) نے فرمایا:اے سامری! تیرا کیا حال ہے؟ اس نے کہا:میں نے وہ دیکھا جو لوگوں نے نہ دیکھا تو میں نے فرشتے کے نشان سے ایک مٹھی بھر لی پھر اسے ڈال دیا اور میرے نفس نے مجھے یہی اچھا کر کے دکھایا۔ حضرت سیدناموسیٰ علیہ السلام نے فرمایا:توتویہاںسے چلا جاپس بیشک زندگی میں تیرے لئے یہ سزا ہے کہ تو کہے گا:نہ چھونا اور بیشک تیرے لیے ایک وعدہ کا وقت ہے جس کی تجھ سے خلاف ورزی نہ کی جائے گی اور اپنے اس معبود کو دیکھ جس کے سامنے تو سارا دن ڈٹ کر بیٹھا رہا ،قسم ہے :ہم ضرور اسے جلائیں گے پھر ریزہ ریزہ کرکے دریا میں بہائیں گے ۔لامساس
قَالَ لَہُ مُوسَی فَاذْہَبْ أَیْ مِنْ بَیْنِنَا (فَإِنَّ لَکَ فِی الْحَیاۃِ أَنْ تَقُولَ لَا مِساسَ) أَیْ لَا أُمَسُّ وَلَا أَمَسُّ طُولَ الْحَیَاۃِ فَنَفَاہُ مُوسَی عَنْ قَوْمِہِ وَأَمَرَ بَنِی إِسْرَائِیلَ أَلَّا یُخَالِطُوہُ وَلَا یَقْرَبُوہُ وَلَا یُکَلِّمُوہُ عُقُوبَۃً لَہُ. ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیںکہ حضرت سیدناموسی علیہ السلام نے سامری جادوگرکوکہاکہ توہمارے یہاں سے نکل جاتوزندگی بھریہی کہتارہے گاکہ مجھے کوئی بھی ہاتھ نہ لگائے ، حضرت سیدناموسی علیہ السلام نے اس کو اپنی قوم سے نکال دیااوربنی اسرائیل کو حکم دیاکہ کوئی اس کے ساتھ کلام نہ کرے ، اس کے ساتھ کوئی بھی نہ ملے ، یہ اس کے لئے بطورسزاتھا۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکرشمس الدین القرطبی (۱۱:۳۴۱)سامری کے خلاف حضرت سیدناموسی علیہ السلام نے دعائے جلال کی
قَالَ الْحَسَنُ:جَعَلَ اللَّہُ عُقُوبَۃَ السَّامِرِیِّ أَلَّا یُمَاسَّ النَّاسَ وَلَا یُمَاسُّوہُ عُقُوبَۃً لَہُ وَلِمَنْ کَانَ مِنْہُ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ، وَکَأَنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ شَدَّدَ عَلَیْہِ الْمِحْنَۃَ، بِأَنْ جَعَلَہُ لَا یُمَاسُّ أَحَدًا وَلَا یُمَکَّنُ مِنْ أَنْ یَمَسَّہُ أَحَدٌ، وَجَعَلَ ذَلِکَ عُقُوبَۃً لَہُ فِی الدُّنْیَاوَیُقَالُ: ابْتُلِیَ بِالْوَسْوَاسِ وَأَصْلُ الْوَسْوَاسِ مِنْ ذَلِکَ الْوَقْتِ۔ ترجمہ :حضرت سیدناامام حسن بصری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے سامری کے لئے سزابنائی کہ لوگوں کووہ نہ چھوئے اورنہ ہی لوگ اسے چھوئیں ، یہ اس کے لئے اور جواس میں سے قیامت تک ہوگاسب کے لئے سزاہے گویااللہ تعالی نے اس پرمحنت سخت کردی کہ اسے ایسابنادیاکہ وہ کسی کونہ چھوئے اورکسی کے لئے اس کو چھوناممکن نہ تھا، یہ اس کے لئے سزاتھی جودنیامیں اس کے لئے مقررکی گئی اوریہ بھی کہاجاتاہے کہ وہ وسواس میں مبتلاء ہوگیا، وسواس کی اصل اس وقت سے ہے ۔ (البحر المدید فی تفسیر القرآن المجید:أبو العباس أحمد بن محمد بن المہدی بن عجیبۃ الفاسی الصوفی (۳:۴۱۶)سامری کی بقایاجات
قَالَ قَتَادَۃُ: بَقَایَاہُمْ إِلَی الْیَوْمِ یَقُولُونَ ذَلِک لَا مِسَاسَ وَإِنْ مَسَّ وَاحِدٌ مِنْ غَیْرِہِمْ أَحَدًا مِنْہُمْ حُمَّ کِلَاہُمَا فِی الْوَقْتِ۔ ترجمہ:حضرت سیدناقتادہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ سامری کی اولاد میں سے آج بھی لوگ موجودہیں جویہ کہتے ہیں کہ مجھے ہاتھ نہ لگاناجیسے ہی کوئی ان کوہاتھ لگادے تواسے اوراس کوہاتھ لگانے والے دونوں کو اسی وقت بخارہوجاتاہے ۔ (الوسیط فی تفسیر القرآن المجید:أبو الحسن علی بن أحمد بن محمد بن علی الواحدی الشافعی (۳:۲۲۰)لوگوں سے پھردورہنے لگا
قِیلَ: إِنَّہُ لَمَّا قَالَ لَہُ مُوسَی ذَلِکَ ہَرَبَ، فَجَعَلَ یَہِیمُ فِی الْبَرِّیَّۃِ مَعَ السِّبَاعِ وَالْوَحْشِ لَا یَجِدُ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ یَمَسُّہُ، حَتَّی صَارَ کَمَنْ یَقُولُ لَا مِسَاسَ لِبُعْدِہِ عَنِ النَّاسِ وَبُعْدِ النَّاسِ عَنْہُ۔ ترجمہ :الشیخ محمد بن علی بن محمد بن عبد اللہ الشوکانی الیمنی المتوفی: ۱۲۵۰ھ) لکھتے ہیں کہ حضرت سیدناموسی علیہ السلام نے جب سامری کونکل جانے کاحکم دیاتووہ بھاگ گیا، پس وہ جنگلوں میں درندوں کے ساتھ گھومتارہتاتھا، وہ لوگوں میں سے کوئی بھی ایسانہیں پاتاتھاجواسے چھوتاحتی کہ وہ اس کہنے والے کی طرح ہوگیاجوہروقت کہتارہتاتھاکہ مجھے ہاتھ نہ لگانا، کیونکہ وہ لوگوں سے دوررہتاتھا۔ (فتح القدیر:محمد بن علی بن محمد بن عبد اللہ الشوکانی الیمنی (۳:۵۵۳)بدعقیدہ سے دوررہنے کاحکم
مَسْأَلَۃٌ: ہَذِہِ الْآیَۃُ أَصْلٌ فِی نَفْیِ أَہْلِ الْبِدَعِ وَالْمَعَاصِی وَہُجْرَانِہِمْ وَأَلَّا یُخَالَطُوا۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ اہل بدعت اورنافرمانوں کو نکالنے اوردورکرنے کی اصل ہے اوران سے اختلاط نہ کرنے کے حوالے سے بھی یہی اصل ہے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۱۱:۲۴۱)معارف ومسائل
اللہ تعالی نے حضرت سیدنا موسی علیہ السلام سے توریت کے نزول کا وعدہ کیا تو نزول کتاب میں تاخیر ہوئی اور حضرت سیدناموسی علیہ السلام نے اپنے بھائی حضرت سیدناہارون علیہ السلام کو بنی اسرائیل کے درمیان چھوڑ دیا اور خود میقات چلے گئے۔حضرت سیدناموسی علیہ السلام نے حضرت سیدناہارون علیہ السلام کو ہدایت کی تھی کہ بنی اسرائیل کے مسائل کو دیکھیں اور ان کا انتظام و انصرام سنبھالیں اور خود کوہ طور پرچلے گئے۔طے پایا تھا کہ حضرت سیدناموسی علیہ السلام ۳۰دن تک روزے رکھیں گے اور کوہ طور میں ہی رہیں گے لیکن عوام کی آزمائش کی غرص سے یہ وعدہ ۴۰دن تک بڑھ گیا اور جب کوہ طور میں اللہ تعالی کا کلام حضرت سیدنا موسی علیہ السلام کو ملا اور دس مقدس فرامین تختوں پر تحریر کئے گئے، تو آپ علیہ السلام نے واپسی کا فیصلہ کیا۔ادھرحضرت سیدنا موسی علیہ السلام کے وعدے میں تاخیر ہوئی اور تیس دن گذر گئے مگر آپ پلٹ کر نہیں آئے، تو بنی اسرائیل پر شیطان کا کامیاب حملہ ہوا اور وہ دھوکہ کھا گئے اور سامری نامی شہرت پسند، اقتدار پسند، اور جاہ پسند بنی اسرائیلی شخص نے سونے کا بچھڑا بنایا اور فریب سے اس سے کچھ آوازیں نکلوائیں اور لوگوں سے کہا:حضرت سیدناموسی علیہ السلام نے وعدہ خلافی کی ہے، حضرت سیدناموسی علیہ السلام واپس نہیں آئیں گے اور ہماری تمام بدبختیوں کا واحد سبب یہ ہے کہ ہمارا کوئی ’’بت‘‘نہیں ہے۔ اسی لئے میں نے سونے کا ایک بت بنا رکھا ہے۔نادان و احمق و سادہ لوح اور دھوکہ کھانے کے شوقین سامری کے گرد اکٹھے ہوئے، اس کی باتوں کا یقین کرلیا اور بت پرستی میں مصروف ہوئے۔حضرت سیدناموسی علیہ السلام واپس پلٹ آئے تو فضا تبدیل ہوچکی تھی ،ہر سو سامری اور اس کے بنائے ہوئے بت کا چرچا تھا اور حضرت سیدناہارون علیہ السلام خود بہت پریشان تھے اور کوئی ان کی بات سننے کے لئے تیار نہ تھا، حضرت سیدنا موسی علیہ السلام نے یہ دیکھا تو غضبناک ہوئے اور فرمایا:تم نے بہت برا کیا کہ اس بھونڈے فعل میں مصروف ہوگئے۔حضرت سیدناہارون علیہ السلام نے عرض کیا:بھائی جان مجھ پر ملامت نہ کرنا، اور دشمنوں کی زبانوں کو شماتت کے عنوان سے میری طرف دراز مت کرنا، ان لوگوں نے میری بات نہیں سنی مجھے کمزور دیکھا اور قریب تھا کہ مجھے مار ڈالتے مگر میں پھر بھی ان کے کرتوتوں سے متفق نہیں تھا۔حضرت سیدناموسی علیہ السلام نے فرمایا:مجھے امید ہے کہ اللہ تعالی تمہیں بخش دے اور ان لوگوں کو کیفر کردار تک پہنچا دے جنہوں نے اس بدعت کی بنیاد رکھی۔حضرت سیدناموسی علیہ السلام سامری کے پاس پہنچے اور فرمایا:اے سامری!یہ کیا تھا جو تو نے کیا؟ کہنے لگا:جو کچھ لوگ نہیں سمجھ سکے، میں سمجھ چکا، اور اللہ تعالی کے رسول حضرت سیدناجبرائیل امین علیہ السلام کے نقش پا میں سے مٹھی بھر مٹی اٹھا لی اور اسے گوسالے کے جسم پر پھینک دیا اور میرے نفس نے اس طرح میرے لئے فریب کاری کردی۔ حضرت سیدناموسی علیہ السلام نے فرمایا:تو تم چلے جاؤ تیری زندگی کا انجام یہ ہوگا کہ جو بھی تیرے قریب آئے، تو اس سے کہہ دے کہ مجھے چھونا مت اور تیرے لئے ایک وعدہ گاہ ہوگی ٹل نہیں سکے گی، اور اب تو اپنے معبود کو دیکھ لینا، جس سے تو مسلسل چپکا رہتا تھا، ہم اسے ضرور جلا ڈالیں گے اور اس کی راکھ کو دریا برد کریں گے۔ اور ہاں !حضرت سیدناموسی علیہ السلام نے اس بچھڑے کو جلا کر راکھ کردیا اور سمندر میں بہایا اور ایک عذاب سامری کے اوپر نازل ہوا کہ آخر عمر تک جو بھی اسے ہاتھ لگاتا شدید بخار میں مبتلا ہوجاتا تھا۔ اوریہی کچھ حال ابھی کروناوائرس کی وجہ سے ہوا، کیونکہ لبرل وسیکولر طبقہ یہی کہتاتھاکہ اگرکسی نے کسی شخص کوہاتھ بھی لگادیاتواس کو بھی کروناوائرس ہوجائے گااورکسی کے سامنے کسی نے چھینک بھی لیاتوبھی کروناوائرس ہوجائے گا۔ نعوذباللہ من ذلک ان انگریزکے غلاموں نے مساجدتک کو ویران کردیااورمسجد نبوی شریف میں کئی ماہ تک نمازی داخل نہ ہوسکے اوراس سال حج کے لئے بھی کچھ لوگوں کو اجازت دی گئی اورکوئی بھی شخص باہرکے ممالک سے حج کی سعادت حاصل نہ کرسکا۔ ہمارے خیال میںجس طرح سامری ذلیل نے بنی اسرائیل کو بچھڑے کی پوجاپرلگایاتواللہ تعالی نے اسے اس عذاب میں مبتلاء کردیا اسی طرح جن لوگوںنے حضورتاجدارختم نبوتﷺکی امت کو انگریزکی غلامی میں دیاہے اللہ تعالی نے ان کو بھی اس عذاب میں مبتلاء کیا۔آج پوری دنیا کے چھ براعظم کورونا سے’’لا مساس‘‘کو ئی ’’لا مساس‘‘ ان کو نہ چھوئے اور وہ بھی کسی کو نہ چھوئیں کی کیفیت میں مبتلا ہیں ۔تین فٹ کا فاصلہ رکھنا ہے’’لا مساس‘‘مصافحہ نہیں کرنا ہے ’’لا مساس‘‘معانقہ نہیں کرنا ہے’’لا مساس‘‘آج ہم بھی لا مساس کی تکلیف میں مبتلا ہوگئے کیوں؟ کیا ہم نے بھی حضورتاجدارختم نبوتﷺکے رب تعالی کے پاس جانے کے بعد کوئی اور معبود بنا لئے؟ (کیاہماری قوم نے فرنگی کو معبود تونہیں مان لیا؟)کیا ہم نے الگ ملک بنانے کے بعد حضورتاجدارختم نبوتﷺکے دین متین سے غداری نہیں کی؟ کیا ہم نے بھی اللہ تعالی کی نعمتیں (قرآن ،حضورتاجدارختم نبوتﷺکادامن رحمت ،معدنی وسائل،پھلوں کی کثرت ،زراعت، صنعتیں،افرادی قوت)پانے کے بعد اس کو بوجھ سمجھا؟ اور اس بوجھ سے چھٹکارا حاصل کیا اورقرآن سے منہ موڑا ؟ شریعت محمدی کو اپنی ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھا ؟ شریعت محمدی اور احکام محمدیﷺ ہمارے درمیان موجود ہونے کے باوجود ہم نے کچھ اور چاہا.؟کیا ہم نے بھی ایسے لوگوں کو اپنا لیڈر بنا لیا جو ہمیں رب تعالی کی شریعت اور احکامات کا مطیع بنانے کی بجائے کسی دوسرے معبود کی اطاعت کی جانب لے گئے؟ کیا ہمارے نفس نے بھی اللہ تعالی کی بجائے کسی اور کی عبادت کا راستہ دکھایا؟ کیا ہم بھی سامری بن گئے؟اگربنے نہیں تو کم از کم سامری بن جانے والی قوموں کی غلامی ضرور کرلی ہے۔ اور اس وفعہ سزا میں سامری اکیلا نہیں ہے بلکہ اسکے پیروکار بھی اسی سزا کے مستحق قرار پائے ہیں۔ کہ آج ہرشخص کہہ رہاہے کہ ’’ لا مساس‘‘اللہ تعالی ایک بستی کی مثال دیتا ہے وہ امن اور اطمینان کی زندگی بسر کر رہی تھی اور ہر طرف سے اس کو بفراغت رزق پہنچ رہا تھا کہ اس نے اللہ تعالی کی نعمتوں کا کفران شروع کر دیا تب اللہ تعالی نے اس کے باشندوں کو اس کے کرتوتوں کا مزا چکھایا کہ بھوک اور خوف کی مصیبتں ان پر چھا گئیں ان کے پاس ان کی اپنی قوم میں سے ایک رسول آیا مگر انھوں نے اس کو جھٹلایا آخر کار عذاب نے ان کو آلیا جب کہ وہ ظالم ہو چکے تھے ۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9