صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2546 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیر سورہ طہ آیت ۱۳۱۔ وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْکَ اِلٰی مَا مَتَّعْنَا بِہٖٓ اَزْوَاجًا مِّنْہُمْ زَہْرَۃَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 13,148

سوال (Question):

تفسیر سورہ طہ آیت ۱۳۱۔ وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْکَ اِلٰی مَا مَتَّعْنَا بِہٖٓ اَزْوَاجًا مِّنْہُمْ زَہْرَۃَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

کفار کی ترقی ان کے لئے آزمائش ہے

{وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْکَ اِلٰی مَا مَتَّعْنَا بِہٖٓ اَزْوَاجًا مِّنْہُمْ زَہْرَۃَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا لِنَفْتِنَہُمْ فِیْہِ وَ رِزْقُ رَبِّکَ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰی }(۱۳۱) ترجمہ کنزالایمان:اور اے سننے والے اپنی آنکھیں نہ پھیلا اس کی طرف جو ہم نے کافروں کے جوڑوں کو برتنے کے لئے دی ہے جیتی دنیا کی تازگی کہ ہم انہیں اس کے سبب فتنہ میں ڈالیں اور تیرے رب کا رزق سب سے اچھا اور سب سے دیرپا ہے۔ ترجمہ ضیاء الایمان: اور اے سننے والے!ہم نے مخلوق کے مختلف گروہوں کو دنیا کی زندگی کی تروتازگی فائدہ اٹھانے کیلئے دی ہے تاکہ ہم انہیں اس بارے میں آزمائیں تو اس کی طرف تو اپنی آنکھیں نہ پھیلا اور تیرے رب کا رزق سب سے اچھا اور سب سے زیادہ باقی رہنے والاہے۔

کافروں کے اموال کی طرف دیکھنے سے منع فرمایا

وَإِنَّمَا الظَّاہِرُ أَنَّ الْآیَۃَ مُتَنَاسِقَۃٌ مَعَ مَا قَبْلَہَا، وذلک أن اللہ تعالی وَبَّخَہُمْ عَلَی تَرْکِ الِاعْتِبَارِ بِالْأُمَمِ السَّالِفَۃِ ثُمَّ تَوَعَّدَہُمْ بِالْعَذَابِ الْمُؤَجَّلِ، ثُمَّ أَمَرَ نَبِیَّہُ بِالِاحْتِقَارِ لِشَأْنِہِمْ، وَالصَّبْرِ عَلَی أَقْوَالِہِمْ، وَالْإِعْرَاضِ عَنْ أَمْوَالِہِمْ وَمَا فِی أَیْدِیہِمْ مِنَ الدُّنْیَا، إِذْ ذَلِکَ مُنْصَرِمٌ عَنْہُمْ صَائِرٌ إِلَی خِزْیٍ قُلْتُ: وَکَذَلِکَ مَا رُوِیَ عَنْہُ عَلَیْہِ السَّلَامُ أَنَّہُ مَرَّ بِإِبِلِ بَنِی الْمُصْطَلِقِ وَقَدْ عَبِسَتْ فِی أَبْوَالِہَا (وأبعارہا )مِنَ السِّمَنِ فَتَقَنَّعَ بِثَوْبِہِ ثُمَّ مَضَی، لِقَوْلِہِ عَزَّ وَجَلَّ:وَلا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْکَ إِلی مَا مَتَّعْنا بِہِ أَزْواجاً مِنْہُمْ الْآیَۃَثُمَّ سَلَّاہُ ۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ظاہریہ ہے کہ اس آیت کریمہ کاماقبل آیت کریمہ کے ساتھ اتصال ہے ، یہ اس طرح ہے کہ اللہ تعالی نے سابقہ امتوں سے عبرت حاصل نہ کرنے پرکفارکوزجروتوبیخ فرمائی ، پھرانہیں موجل عذاب کی دھمکی دی ، پھراپنے حبیب کریمﷺکوان کی حیثیت کوحقارت کے ساتھ دیکھنے کاحکم دیااوران کی اذیت ناک باتوں پرصبرکرنے کاحکم دیااوران کے اموال سے اعراض کرنے کاحکم دیااورجوکچھ ان کے پاس ہے اس سے منہ پھیرنے کاحکم دیاکیونکہ یہ تمام چیزیں ان سے ختم ہونے والی ہیں اوران کورسوائی کی طرف لے جانے والی ہیں ۔ میں کہتاہوں کہ اسی طرح جوروایت ہے کہ آپﷺبنی مصطلق کے اونٹوں کے پاس سے گزرے توموٹاپے کی وجہ سے ان کے دودھ اورمینگیناں ان کی رانوں پرخشک ہوچکی تھیں ، آپ ﷺنے اپنے کپڑے سے پردہ کرلیااورآگے تشریف لے گئے۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (ا۱:۲۵۱)

نافرمانوں کی دنیوی ترقی کی طرف دیکھنامنع ہے

(وَلاَ تَمُدَّنَّ عَیْنَیْکَ)أی نظر عینیک ومد النظر تطویلہ وأن لا یکاد یردہ استحساناً للمنظور إلیہ وإعجاباً بہ وفیہ أن النظر غیر الممدود معفو عنہ وذلک أن یبادر الشیء بالنظر ثم بغض الطرف ولقد شدد المتقون فی وجوب غض البصر عنابنیۃ الظلمۃ وعدد الفسقۃ فی ملابسہم ومراکبہم حتی قال الحسن لا تنظروا إلی دقدقۃ ہما لیج الفسقۃ ولکن انظروا کیف یلوح ذل العصیۃ من تلک الرقاب وہذا لا یہما إنما اتخذوا ہذہ الأشیاء لعیون النظارۃ فالناظر إلیہا محصل لعرہم ومغر لہم علی اتخاذہا۔ ترجمہ :امام أبو البرکات عبد اللہ بن أحمد بن محمود حافظ الدین النسفی المتوفی : ۷۱۰ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس آیت سے معلوم ہو اکہ کافروں کے دُنْیَوی سازو سامان،مال و دولت اور عیش و عشرت کافروں کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک آزمائش ہیں اس لئے مومن کو چاہئے کہ وہ کفار کی ان چیزوں کو تعجب اور اچھائی کی نظر سے نہ دیکھے۔ حضرت سیدناامام حسن بصری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نافرمانوں کی شان و شوکت اور رعب ودبدبہ نہ دیکھو بلکہ یہ دیکھو کہ گناہ اور معصیت کی ذلت کس طرح ان کی گردنوں سے نمودار ہے۔ (تفسیر النسفی :أبو البرکات عبد اللہ بن أحمد بن محمود حافظ الدین النسفی (۲:۳۹۰)

معارف ومسائل

اس میں ان لوگوں کے لئے بڑی نصیحت ہے جو فی زمانہ کفار کی دنیوی ٹیکنالوجی میں ترقی، مال و دولت اور عیش و عشرت کی فراوانی دیکھ کر ان سے انتہائی مرعوب اور دین ِاسلام سے ناراض دکھائی دیتے ہیں جبکہ انہیں یہ دکھائی نہیں دیتا کہ اس ترقی اور دولت مندی کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے اور ا س کے احکام سے سرکشی کرنے میں کتنا آگے بڑھ چکے ہیں، کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ اسی ترقی کے سبب آج کونسا گناہ ایسا ہے جو وہ نہیں کر رہے ؟ فحاشی ، عُریانی ، بے حیائی اور بے شرمی کی کونسی ایسی حد ہے جو وہ پار نہیں کر چکے؟ ظلم و ستم ، سفاکی اور بے رحمی کی کونسی ایسی لکیر ہے جسے وہ مٹا نہیں چکے؟ مسلمانوں کو ذلت و رسوائی میں ڈبونے کے لئے کون سا ایسا دریا ہے جس کے بند وہ توڑ نہیں چکے؟ افسوس!ان سب چیزوں کو اپنی جیتی جاگتی آنکھوں سے دیکھنے ،سماعت سے بھر پور کانوں سے سننے کے باوجود بھی لوگ عبرت نہیں پکڑتے اور کفار کے عیش و عشرت اور ترقی و دولت کی داستانیں سن سنا کر اور مسلمانوں کی ذلت و غربت کا رونا رو کر نہ صرف خود اسلام سے دور ہوتے چلے جا رہے ہیں بلکہ دوسرے مسلمانوں کو بھی دین ِاسلام سے دور کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں عقلِ سلیم اور ہدایت عطا فرمائے۔( تفسیرصراط الجنان( ۶: ۲۷۰) (سورۃ طہ کااختتام بحمدللہ تعالی ۲۱ ذوالحج ۱۴۴۱ھ/۱۲اگست ۲۰۲۰ء) بروزبدھ وقت ۱ بج کر۶ منٹ )

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh