Fatwa #2551
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیر سورۃ الانبیاء آیت ۳۴۔۳۵۔ وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِکَ الْخُلْدَ اَفَائِنْ مِّتَّ فَہُمُ الْخٰلِدُوْنَ
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
13,730
سوال (Question):
تفسیر سورۃ الانبیاء آیت ۳۴۔۳۵۔ وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِکَ الْخُلْدَ اَفَائِنْ مِّتَّ فَہُمُ الْخٰلِدُوْنَ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
{کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْت}اورمسئلہ ناموس رسالت
{وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِکَ الْخُلْدَ اَفَائِنْ مِّتَّ فَہُمُ الْخٰلِدُوْنَ }(۳۴){کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ وَ نَبْلُوْکُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَیْرِ فِتْنَۃً وَ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ }(۳۵) ترجمہ کنزالایمان:اور ہم نے تم سے پہلے کسی آدمی کے لیے دنیا میں ہمیشگی نہ بنائی تو کیا اگر تم انتقال فرماؤ تو یہ ہمیشہ رہیں گے۔ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے اور ہم تمہاری آزمائش کرتے ہیں برائی اور بھلائی سے جانچنے کو اور ہماری ہی طرف تمہیں لوٹ کر آنا ہے۔ ترجمہ ضیاء الایمان: اوراے حبیب کریمﷺ ہم نے آپ ﷺ سے پہلے کسی آدمی کے لیے اس فانی دنیامیں ہمیشہ رہنا نہ بنایا تو کیا اگر آپ ﷺوصال فرمائیں تو یہ دوسرے لوگ ہمیشہ رہیں گے ؟ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے اور ہم برائی اور بھلائی کے ذریعے تمہیں خوب آزماتے ہیں اور تمہیں ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔ شان نزول قَوْلُہُ عَزَّ وَجَلَّ:وَما جَعَلْنا لِبَشَرٍ مِنْ قَبْلِکَ الْخُلْدَ، دَوَامَ الْبَقَاء ِ فِی الدُّنْیَا، أَفَإِنْ مِتَّ فَہُمُ الْخالِدُونَ، أَیْ أَفْہُمُ الْخَالِدُونَ إِنْ مِتَّ، قیل:نزلت ہذہ الآیۃ حین قال (مشرکو مکۃ)نَتَرَبَّصُ بِمُحَمَّدٍ رَیْبَ الْمَنُونِ. ترجمہ :امام محیی السنۃ ، أبو محمد الحسین بن مسعود بن محمد بن الفراء البغوی الشافعی المتوفی : ۵۱۰ھ) رحمہ اللہ تعالی اس آیت کریمہ {وَما جَعَلْنا لِبَشَرٍ مِنْ قَبْلِکَ الْخُلْدَ}کے تحت فرماتے ہیں کہ دنیامیں ہمیشہ رہناہے ، { أَفَإِنْ مِتَّ فَہُمُ الْخالِدُونَ}کیالوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ لوگ ہمیشہ رہیں گے آپ ﷺکے وصال شریف کے بعد ۔اورمفسرین کرام نے یہ بھی بیان کیاہے کہ اس آیت کریمہ کانزول اس وقت ہواجب مشرکین مکہ نے کہاتھاکہ ہم تواس وقت کے منتظرہیں جب محمدﷺپرموت آجائے۔ ( تفسیر البغوی :محیی السنۃ ، أبو محمد الحسین بن مسعود بن محمد بن الفراء البغوی الشافعی (۳:۲۸۸)شان نزول کے متعلق دوسراقول
أخرج ابْن الْمُنْذر عَن جریج قَالَ:لما نعی جِبْرِیل للنَّبِی صلی اللہ عَلَیْہِ وَسلم نَفسہ قَالَ: یَا رب فَمن لأمتی فَنزلت (وَمَا جعلنَا لبشر من قبلک الْخلد)الْآیَۃ۔ ترجمہ :حضرت سیدناجریج رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جب حضرت سیدناجبریل امین علیہ السلام نے حضورتاجدارختم نبوتﷺکے وصال شریف کی خبردی توآپﷺنے اللہ تعالی کی بارگاہ میں عرض کی : اے میرے رب!میری امت کے لئے اب کون ہوگا؟ تواللہ تعالی نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی ۔ (الدر المنثور:عبد الرحمن بن أبی بکر، جلال الدین السیوطی (۵:۶۲۸) مشرکین کو جواب (وَما جَعَلْنا لِبَشَرٍ مِنْ قَبْلِکَ الْخُلْدَ)أَیْ دَوَامَ الْبَقَاء ِ فِی الدُّنْیَا نَزَلَتْ حِینَ قَالُوا:نَتَرَبَّصُ بِمُحَمَّدٍ رَیْبَ الْمَنُونِ وَذَلِکَ أَنَّ الْمُشْرِکِینَ کَانُوا یَدْفَعُونَ نُبُوَّتَہُ وَیَقُولُونَ:شَاعِرٌ نَتَرَبَّصُ بِہِ رَیْبَ الْمَنُونِ، وَلَعَلَّہُ یَمُوتُ کَمَا مَاتَ شَاعِرُ بَنِی فُلَانٍ، فَقَالَ اللَّہُ تَعَالَی:قَدْ مَاتَ الْأَنْبِیَاء ُ مِنْ قَبْلِکَ، وَتَوَلَّی اللَّہُ دِینَہُ بِالنَّصْرِ وَالْحِیَاطَۃِ، فَہَکَذَا نَحْفَظُ دِینَکَ وَشَرْعَکَ۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی اللہ تعالی کے اس فرمان شریف{وَما جَعَلْنا لِبَشَرٍ مِنْ قَبْلِکَ الْخُلْدَ}کے تحت فرماتے ہیں کہ دنیامیں ہمیشہ باقی رہنا، کفارنے کہاہم محمدﷺپرگردش زمانہ کاانتظارکرتے ہیں ، مشرکین آپﷺکی نبوت شریفہ کاانکارکرتے تھے اورکہتے تھے کہ یہ شاعرہیں ، ہم ان پرموت آنے کاانتظارکرتے ہیں ، شایدیہ فوت ہوجائیں گے جیساکہ بنی فلاں کاشاعرفوت ہوگیا، اللہ تعالی نے فرمایاکہ اے حبیب کریمﷺ!آپ سے پہلے انبیاء کرام علیہم السلام کاوصال ہوا، اللہ تعالی اپنے دین متین کی خود حفاظت فرماتاہے ، اسی طرح ہم آپ ﷺکے دین اورشریعت مبارکہ کی خود حفاظت کریں گے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۱۱:۲۸۷)حضورتاجدارختم نبوتﷺکے وصال شریف پرمنافقین کاخوشیاں منانا
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ:لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم قَالَ:وَکَانُوا قَدِ اسْتَبْشَرُوا بِمَوْتِ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَرَفَعُوا رُء ُوسَہُمْ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عمررضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ جب حضورتاجدارختم نبوتﷺکاوصال شریف ہواتومدینہ منورہ کے منافقین خوشیاں منانے لگے اوراپنے سراونچے کرنے لگے تھے۔ ملخصاً۔ (مصنف ابن ابی شیبہ:أبو بکر بن أبی شیبۃ، عبد اللہ بن محمد بن إبراہیم بن عثمان بن خواستی العبسی (۷:۴۲۷) {کُلُّ نَفْسٍ ذائِقَۃُ الْمَوْتِ}سے کفارکوجواب کُلُّ نَفْسٍ ذائِقَۃُ الْمَوْتِ برہان علی ما ذکر من خلودہم والمراد النفس الناطقۃ التی ہی الروح الإنسانی وموتہا عبارۃ عن مفارقتہا جسدہا۔ ترجمہ :امام اسماعیل حقی الحنفی المتوفی : ۱۱۲۷ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے {کُلُّ نَفْسٍ ذائِقَۃُ الْمَوْتِ}سے کفارمکہ کے دنیامیں ہمیشہ رہنے کے انکارپربرہان قائم فرمایااورنفس سے نفس ناطقہ یعنی روح انسانی اورموت سے روح کاجسم سے جداہونامراد ہے ۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۵:۴۷۵)حضورتاجدارختم نبوتﷺکے وصال شریف پر خوشی منانے والی رنڈیاں اوران کاانجام
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں یمن میں بعض عورتوں نے بڑا تخریبی کردار ادا کیا۔ تاریخ میں انہیں حرکۃ البغایا کے نام سے یاد کیا گیا ہے ۔بعض یہودی اور یمنی عورتیں حضورتاجدارختم نبوتﷺکے وصال شریف پر خوشی سے پھولے نہ سماتی تھیں۔ انہوں نے اس موقع پر فسق و فجور اور لہو و لعب پر مشتمل رنگین راتوں کا اہتمام کیا۔ ان پروگراموں میں وہ بدکاری کی ترغیب دیتی تھیں۔ ان راتوں میں شیطان اور اسکے چیلے ان کے ساتھ مل کر رقص کرتے تھے۔ لوگوں کو دین اسلام سے منحرف ہونے سرکشی اور بغاوت کی دعوت دینے پر شیطان اور اس کے چیلے بے حد خوش تھے۔ ان بد بخت عورتوں نے اسلام اورحضورتاجدارختم نبوتﷺکے خلاف اپنے خبث باطن کا برملا اظہار کیا۔ ہاتھوں پر مہندی لگائی خوشی سے دُف بجا کر گیت گانے شروع کئے۔ حضرت سیدناابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جیسے ہی یمن میں بغاوت پر قابو پایا اسود عنسی قتل ہوا تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے گورنر کو خط لکھا۔ جب تمہیں میرا خط ملے تو پیدل اور گھڑ سوار دستوں کے ساتھ ان عورتوں کی طرف روا نہ ہو جانا۔ان کے ہاتھ کاٹ دینا۔ اگر کوئی شخص رکاوٹ بنے تو دلیل سے سمجھانا اگر نہ سمجھے تو اسکے خلاف جنگ کرنا۔ کہا جاتا ہے کہ ان عور تو ں کی تعداد ۲۰تھی چنانچہ حضرت سیدناابوبکررضی اللہ عنہکے حکم پر ان باغی اور خبیث عورتوں کے ہاتھ کاٹ دئیے گئے۔ ان میں اکثر مر گئیں باقی کوفہ بھاگ گئیں۔ ف: اس کی عربی عبارت اورحوالہ ہم پہلے نقل کرآئے ہیں ۔امام الشافعی رضی اللہ عنہ کااپنے مخالفین کو جواب
وَقَدْ رُوِیَ عَنِ الشافعی رحمہ اللہ أن أنشد واستشہد بہذین البیتین: تَمَنَّی رِجَالٌ أَنْ أَمُوتَ وَإِنْ أَمُت فَتِلْکَ سَبِیلٌ لَسْتُ فِیہَا بِأَوْحَدِ فَقُلْ لِلَّذِی یَبْغِی خِلَافَ الَّذِی مَضَی تَہَیَّأْ لِأُخْرَی مِثْلِہَا فَکَأَنْ قَدِ ترجمہ :حضرت سیدناامام الشافعی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ لوگ میری موت کے آرزومند ہیں توکیااس بارے میںمیں ہی اکیلاہوں ، یہ وہ ذائقہ نہیں ہے جوکسی کوچھوڑدے ۔ (تفسیر ابن کثیر:أبو الفداء إسماعیل بن عمر بن کثیر القرشی البصری ثم الدمشقی (۵:۲۹۹)معارف ومسائل
(۱)…اس شان نزول سے معلوم ہواکہ اللہ تعالی نے یہ آیت کریمہ {کُلُّ نَفْسٍ ذائِقَۃُ الْمَوْتِ}حضورتاجدارختم نبوتﷺکے گستاخوں کے جواب میں نازل فرمائی ہے ، افسوس اس بات کاہے کہ جہاں کہیں ایصال ثواب کی محفل ہووہاں یہ آیت کریمہ تلاوت کی جاتی ہے مگرآج تک کسی بھی شخص سے اس آیت کریمہ کے پس منظرمیں حضورتاجدارختم نبوتﷺکی عزت وناموس کامسئلہ نہیں سنا۔ اگریہی ہمارے علماء اس آیت کریمہ کو پڑھ کرجہاں موت کابیان کرکے لوگوں کے دلوں کو موہ لیتے ہیں وہیں حضورتاجدارختم نبوتﷺکی ناموس کامسئلہ بھی بیان کرتے توآج ہمیں یہ دن نہ دیکھناپڑتا۔ (۲) …ایصال ثواب کی محافل کااہتمام مستحب ہے مگرحضورتاجدارختم نبوتﷺکی عزت وناموس کامسئلہ بیان کرنااوراس سے لوگوں کو آگاہی دینافرض اعظم ہے ، مستحب پرعمل مسلسل ہورہاہے اوراس پردلائل کاانباربھی لگادیاجاتاہے مگراس فرض اعظم سے جس قدرکوتاہی برتی گئی ہے اوربرتی جارہی ہے یہ بہت بڑاظلم ہے ۔ (۳)…آج عوام کامزاج ایسابگڑگیاہے کہ ہم نے کئی مقامات پرایصال ثواب کی محافل میں حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی عزت وناموس کامسئلہ بیان کیاتولوگ کہتے ہیں کہ آپ کاخطاب موقع کی مناسبت سے نہیں تھا،تومیں نے وہاں عرض کیاکہ کوئی شخص مرجائے توبیان موت پرہوناچاہئے اگرتمھاراایمان ہی نہ رہے توپھرکس موضوع پرخطاب کیاجائے ؟ ظاہرسی بات ہے یہی جواب ہوگاکہ ایمان کی موت کے اسباب اوراس کو جلابخشنے والی چیزوںکاذکرہوگا، تومیں نے کہاکہ بس یہی وجہ ہے کہ آج امت کوجس مسئلہ کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکی عزت وناموس کامسئلہ ہے اوردینی غیرت کواجاگرکرنے کامسئلہ آج کے سب مسائل سے زیادہ اہم ہے ۔ (۴)…یہاں ایک دکھ بھری بات کاذکرکرناضروری جانتاہوں کہ ایک علاقہ میں ایک مولوی صاحب کے بھائی جگہ جگہ جاکریہ بیان کرتے تھے کہ حضرت سیدنابلال رضی اللہ عنہ کارنگ کالااورہونٹ موٹے تھے اورنعوذ باللہ من ذلک کیاکیاکہتے تھے۔ انہوںنے مجھے اپنے ہاں حضرت سیدناابوبکرصدیق رضی اللہ عنہم کے حوالے سے گفتگوکرنے کے لئے مدعوکیاتومیںنے وہاں یہ مسئلہ بھی بیان کردیاکہ حضرت سیدنابلال رضی اللہ عنہ کارنگ مبارک کالابالکل نہ تھابلکہ آپ رضی اللہ عنہ کارنگ مبارک گندمی تھا۔بس جیسے ہی یہ مسئلہ بیان کیاتوان کے چہرے جلال سے بھرگئے اورکہنے لگے کہ بیان موقع کی مناسبت سے نہیں تھا، تومیںنے عرض کی کہ حضرت سیدنابلال رضی اللہ عنہ کی گستاخی کرنے کاہرہرجگہ موقع مناسب معلوم ہوتاہے اوران کی عزت کی بات کرنے کے لئے مناسب مواقع ہمیں میسرنہیں ہیں ۔ نعوذ باللہ ۔ یہ حال ان کاہے جو منبرومحراب کے وارث ہیں ، وہ خود ہی دین سننانہیں چاہتے تواہل دین کیاکریںاورکس کو سنائیں؟۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9