صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2553 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیرسورۃالانبیاء آیت ۵۷۔۵۸۔ وَتَاللہِ لَاَکِیْدَنَّ اَصْنَامَکُمْ بَعْدَ اَنْ تُوَلُّوْا مُدْبِرِیْنَ

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 13,942

سوال (Question):

تفسیرسورۃالانبیاء آیت ۵۷۔۵۸۔ وَتَاللہِ لَاَکِیْدَنَّ اَصْنَامَکُمْ بَعْدَ اَنْ تُوَلُّوْا مُدْبِرِیْنَ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

اسلام میں بت شکنی واجب ہے اگرچہ وہ بطورآثارمحفوظ کئے گئے ہوں

{وَتَاللہِ لَاَکِیْدَنَّ اَصْنَامَکُمْ بَعْدَ اَنْ تُوَلُّوْا مُدْبِرِیْنَ }(۵۷){ فَجَعَلَہُمْ جُذَاذًا اِلَّا کَبِیْرًا لَّہُمْ لَعَلَّہُمْ اِلَیْہِ یَرْجِعُوْنَ }(۵۸) ترجمہ کنزالایمان:اور مجھے اللہ کی قسم ہے میں تمہارے بتوں کا برا چاہوں گا بعد اس کے کہ تم پھر جاؤ پیٹھ دے کر۔ تو ان سب کو چورا کردیا مگر ایک کو جو ان سب کا بڑا تھا کہ شاید وہ اس سے کچھ پوچھیں ۔ ترجمہ ضیاء الایمان: اور(حضرت سیدناابراہیم علیہم السلام نے فرمایا) مجھے اللہ تعالی کی قسم ہے!تم پیٹھ پھیر کر جائو گے تو اس کے بعد میں تمہارے بتوںکی بری حالت کر دوں گا۔ تو ابراہیم(علیہ السلام ) نے ان سب کوٹکڑے ٹکڑے کردیا سوائے ان کے بڑے بت کے کہ شاید وہ اس سے کچھ پوچھیں۔ ایک دن موقع پا کر حضرت سیدناابراہیم علیہ السلام بت خانہ میں تشریف لے گئے اور بتوں کو توڑنے لگے۔ کلہاڑے سے کسی بت کی گردن کاٹی، کسی کا بازو، کسی کی آنکھ۔لیکن سب سے بڑے بت کو صحیح سالم چھوڑ دیا اور اپنا کلہاڑا اس بڑے بت کے کندھے پر رکھ دیا۔ جب بت پرست واپس آئے اور اپنے معبودوں کی یہ حالت دیکھ کر غصے میں آ گئے اور بادشاہ سے شکایت کی۔ سب کا شک حضرت سیدناابراہیم علیہ السلام کی طرف تھا کیونکہ صرف وہی ایسے شخص تھے جو بتوں کی پوجا نہیں کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت سیدناابراہیم علیہ السلام کو بلایا گیا اور پوچھا گیا کہ ہمارے خداؤں کو کس نے توڑا ہے۔حضرت سیدناابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے فرمایا کہ کلہاڑا سب سے بڑے بت کے کندھے پر رکھا ہے لہذا اس سے پوچھو شاید اس نے سب کو مارا ہو گا یا پھر سارا منظر دیکھا ہو گا۔ وہ بت توڑنے والے کو پہچانتا ہو گا۔بت پرست فورا ًبول اٹھے کہ ایک بت کیسے مار سکتا ہے وہ تو حرکت بھی نہیں کر سکتا۔ اور نہ ہی کسی کو دیکھتا ہے، نہ بولتا ہے نہ پہچانتا ہے نہ گواہی دے سکتا ہے۔بس سیدنا حضرت ابراہیم علیہ اسلام کا مقصد پورا ہو چکا تھا۔ بت پرستوں نے خود اعتراف کر لیا کہ ان کے بت خود اپنی حفاظت نہیں کر سکتے۔ نہ کچھ بولتے ہیں نہ سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں۔ یہاں ہم دواہم مسئلے بیان کریں گے ایک تویہ کہ کیا اسلام میں بت شکنی واجب ہے، اگرچہ وہ انسانی ترقی کے آثار ہی ہوں؟اور دوسرایہ کہ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ملکوں کو فتح کیا توانہوں نے وہاں بت اور مجسمے دیکھنے کے باوجود کیوں نہ توڑے ؟چونکہ ہمارے ملک پاکستان میں ایک علاقہ میں کھدائی کے دوران ایک بہت بڑابت نکل آیاجسے اہل اسلام میں سے غیرت مندمزدوروں نے ہتھوڑوں سے توڑدیا، اس نیک کام کی پاداش میں حکومت پاکستان میں موجود ہنود کو اس کی بہت تکلیف ہوئی کہ بت کیوں توڑاگیا، لھذاانہوںنے اہل ایمان کو پکڑکرجیل میں قیدکردیاہے ، اس لئے ہم یہاں اس مسئلہ کو واضح کریں گے کہ بتوں کو بطورورثہ کے سنبھال کررکھناکیساہے ؟ شرعی دلائل سے بتوں کے انعدام کا ثبوت ملتا ہے جس میں چند ایک دلائل کا ذیل میں ذکر کیا جاتا ہے دلیل اول عَنْ أَبِی الْہَیَّاجِ الْأَسَدِیِّ، قَالَ:قَالَ لِی عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ:أَلَا أَبْعَثُکَ عَلَی مَا بَعَثَنِی عَلَیْہِ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؟ أَنْ لَا تَدَعَ تِمْثَالًا إِلَّا طَمَسْتَہُ وَلَا قَبْرًا مُشْرِفًا إِلَّا سَوَّیْتہَ۔ ترجمہ :حضرت سیدنا ابوالھیاج اسدی رحمہ اللہ تعالی بیان کرتے ہیں کہ مجھے حضرت سیدنامولاعلی بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا:کیا میں تجھے اس کام کیلئے نہ بھیجوں جس کیلئے مجھے حضورتاجدارختم نبوتﷺ نے بھیجا تھاکہ تم جو مجسمہ بھی دیکھواسے مٹا ڈالو، اور جو قبر بھی اونچی دیکھو اسے (زمین کے)برابر کردو۔ (صحیح مسلم : مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشیری النیسابوری (۲:۶۶۶) دلیل ثانی فَقُلْتُ:وَبِأَیِّ شَیْء ٍ أَرْسَلَکَ، قَالَ:أَرْسَلَنِی بِصِلَۃِ الْأَرْحَامِ، وَکَسْرِ الْأَوْثَانِ، وَأَنْ یُوَحَّدَ اللہُ لَا یُشْرَکُ بِہِ شَیْء ٌ۔ ترجمہ :حضرت سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ تعالی عنہ سے بیان کیا ہے کہ انہوں نے حضورتاجدارختم نبوتﷺکی بارگاہ میں عرض کی:یارسول اللہ ﷺ!اللہ تعالی نے آپﷺ کو کس چیز کیساتھ مبعوث کیا ہے؟ تو حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا:مجھے صلہ رحمی کرنے اور بت توڑنے، اور اللہ تعالی کی وحدانیت بیان کرنے اوراس کیساتھ کوئی بھی شریک نہ ٹھرائے، کی دعوت دینے کیلئے بھیجا گیا ہے۔ (صحیح مسلم : مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشیری النیسابوری (۲:۶۹۵) اوراگر اللہ تعالی کے علاوہ ان بتوں کی عبادت کی جاتی ہو تو پھر ان کا توڑنا اورزیادہ متاکد اورضروری ہوجاتا ہے. دلیل ثالث حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ، قَالَ:حَدَّثَنِی قَیْسٌ، قَالَ:قَالَ لِی جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: قَالَ لِی رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: أَلاَ تُرِیحُنِی مِنْ ذِی الخَلَصَۃِ، وَکَانَ بَیْتًا فِیہِ خَثْعَمُ، یُسَمَّی کَعْبَۃَ الیَمَانِیَۃِ، فَانْطَلَقْتُ فِی خَمْسِینَ وَمِائَۃٍ مِنْ أَحْمَسَ، وَکَانُوا أَصْحَابَ خَیْلٍ، فَأَخْبَرْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنِّی لاَ أَثْبُتُ عَلَی الخَیْلِ، فَضَرَبَ فِی صَدْرِی حَتَّی رَأَیْتُ أَثَرَ أَصَابِعِہِ فِی صَدْرِی، فَقَالَ:اللَّہُمَّ ثَبِّتْہُ، وَاجْعَلْہُ ہَادِیًا مَہْدِیًّا، فَانْطَلَقَ إِلَیْہَا، فَکَسَرَہَا وَحَرَّقَہَا، فَأَرْسَلَ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُبَشِّرُہُ، فَقَالَ رَسُولُ جَرِیرٍ لِرَسُولِ اللَّہِ: یَا رَسُولَ اللَّہِ، وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالحَقِّ، مَا جِئْتُکَ حَتَّی تَرَکْتُہَا کَأَنَّہَا جَمَلٌ أَجْرَبُ، فَبَارَکَ عَلَی خَیْلِ أَحْمَسَ وَرِجَالِہَا خَمْسَ مَرَّاتٍ۔ ترجمہ :حضرت سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے مجھے فرمایا:اے جریر! کیا تم مجھے ذی الخلصہ سے راحت اور آرام نہیں پہنچاتے، ذی الخلصہ حثعم قبیلہ کا ایک گھر تھا جسے یمنی کعبہ کہا جاتا تھا، تو وہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک سو پچاس گھڑ سوار لیکر گیا اورمیں گھوڑے پر نہیں بیٹھ سکتا تھا تومیں نے اس کاحضورتاجدارختم نبوتﷺسے ذکر کیا تو حضورتاجدارختم نبوتﷺنے میرے سینے میں ہاتھ مارا اورفرمانے لگے:اے اللہ! اسے گھوڑے پر ثابت کر اوراسے ہدایت کی راہنمائی کرنیوالا اور ہدایت یافتہ بنا دے۔وہ بیان کرتے ہیں کہ میں گیا اوراسے آگ سے جلادیا، پھر جریر رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک شخص جس کی کنیت ابوارطاۃ تھی کو حضورتاجدارختم نبوتﷺکو خوشخبری دینے کیلئے روانہ کیا تو وہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکے پاس آیا اور حضورتاجدارختم نبوتﷺ کوبتایا کہ میں آپ ﷺ کے پاس اس وقت آیا ہوں جب ہم نے اسے ایک خارش زدہ اونٹ کی طرح کر کے چھوڑا تو حضورتاجدارختم نبوتﷺ نے پانچ بار ان گھوڑوں اورسواروں کیلئے برکت کی دعافرمائی ۔ ( صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۴:۷۵) امام أحمد بن علی بن حجر أبو الفضل العسقلانی الشافعی رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں وَفِی الْحَدِیثِ مَشْرُوعِیَّۃُ إِزَالَۃِ مَا یُفْتَتَنُ بِہِ النَّاسُ مِنْ بِنَاء ٍ وَغَیْرِہِ سَوَاء ً کَانَ إِنْسَانًا أَوْ حَیَوَانًا أَوْ جَمَادًا۔ ترجمہ :اس حدیث میں ہر اس چیزکو جو انسان کو فتنے میں ڈالے چاہے وہ انسان ہو یا حیوان یا پھر عمارت یا کوئی جمادات وغیرہ میں سے اسے ختم اور زائل کرنے کی مشروعیت پائی جاتی ہے۔ (فتح الباری شرح صحیح البخاری:أحمد بن علی بن حجر أبو الفضل العسقلانی الشافعی(۸:۷۳) امام النووی المتوفی : ۶۷۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں وَأَجْمَعُوا عَلَی مَنْعِ مَا کَانَ لَہُ ظِلٌّ وَوُجُوبُ تَغْیِیرِہِ ۔ ترجمہ :امام أبو زکریا محیی الدین یحیی بن شرف النووی المتوفی : ۶۷۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اورعلماء کرام کااس بات پراجماع ہے کہ جس کا سایہ ہو اس کی تصویر منع ہے اوراس کا بدلنا واجب ہے. (المنہاج شرح صحیح مسلم بن الحجاج:أبو زکریا محیی الدین یحیی بن شرف النووی (۱۴:۸۲) اور تصاویر میں جس کا سایہ ہوتا ہے وہ مجسم تصاویر جس طرح کہ یہ مجسمے اوربت ہیں . دلیل رابع عَنْ عَلِیٍّ، قَالَ:انْطَلَقْتُ أَنَا وَالنَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتَّی أَتَیْنَا الْکَعْبَۃَ فَقَالَ لِی رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:اجْلِسْ وَصَعِدَ عَلَی مَنْکِبَیَّ، فَذَہَبْتُ لِأَنْہَضَ بِہِ، فَرَأَی مِنِّی ضَعْفًا، فَنَزَلَ، وَجَلَسَ لِی نَبِیُّ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَقَالَ:اصْعَدْ عَلَی مَنْکِبَیَّ قَالَ:فَصَعِدْتُ عَلَی مَنْکِبَیْہِ، قَالَ:فَنَہَضَ بِی، قَالَ: فَإِنَّہُ یُخَیَّلُ إِلَیَّ أَنِّی لَوْ شِئْتُ لَنِلْتُ أُفُقَ السَّمَاء ِ،حَتَّی صَعِدْتُ عَلَی الْبَیْتِ، وَعَلَیْہِ تِمْثَالُ صُفْرٍ أَوْ نُحَاسٍ، فَجَعَلْتُ أُزَاوِلُہُ عَنْ یَمِینِہِ وَعَنْ شِمَالِہِ، وَبَیْنَ یَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہِ، حَتَّی إِذَا اسْتَمْکَنْتُ مِنْہُ، قَالَ لِی رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اقْذِفْ بِہِ فَقَذَفْتُ بِہِ، فَتَکَسَّرَ کَمَا تَتَکَسَّرُ الْقَوَارِیرُ، ثُمَّ نَزَلْتُ، فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَسْتَبِقُ حَتَّی تَوَارَیْنَا بِالْبُیُوتِ، خَشْیَۃَ أَنْ یَلْقَانَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ۔ ترجمہ :حضرت سیدنامولاعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں حضورتاجدارختم نبوتﷺکے ساتھ روانہ ہوا، ہم جب کعبہ مشرفہ پہنچے توحضورتاجدارختم نبوتﷺنے مجھ سے بیٹھنے کے لئے فرمایااورمیرے کندھوں پرچڑھ گئے ، میں نے کھڑاہوناچاہالیکن نہ ہوسکا، حضورتاجدارختم نبوتﷺنے جب مجھ میں کمزوری کے آثاردیکھے تونیچے اترآئے ، خود بیٹھ گئے اورفرمایا: میرے کندھوں پرچڑھ جائو، چنانچہ میں حضورتاجدارختم نبوتﷺکے کندھوں پرسوارہوگیااورحضورتاجدارختم نبوتﷺمجھے لیکرکھڑے ہوگئے ، اس وقت مجھے ایسامحسو س ہورہاتھاکہ اگرمیں چاہوں توافق کو چھولوں ، بہرحال میں بیت اللہ شریف پرچڑھ گیا، وہاں پیتل یاتانبے کی ایک مورتی نظرآئی ، میں اسے دائیں بائیں اورآگے پیچھے سے دھکیلنے لگا، جب میں اس پرقادرہوگیاتوحضورتاجدارختم نبوتﷺنے مجھ سے فرمایا: اسے نیچے پھینک دو، چنانچہ میں نے اسے نیچے پھینک دیااوروہ شیشے کی طرح چکناچورہوگئی ، پھرمیں نیچے اترآیا، پھرمیں اورحضورتاجدارختم نبوتﷺایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہوئے تیزی سے روانہ ہوگئے یہاں تک کہ گھروں میں جاکرچھپ گئے ، ہمیں یہ اندیشہ تھاکہ کہیں کوئی آدمی نہ مل جائے ۔ (مسند الإمام أحمد بن حنبل:أبو عبد اللہ أحمد بن محمد بن حنبل بن ہلال بن أسد الشیبانی (۲:۷۳) دلیل خامس عَنْ جَرِیرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعَثَہُ إِلَی ذِی الْخَلَصَۃِ، فَکَسَرَہَا وَحَرَّقَہَا بِالنَّارِ، ثُمَّ بَعَثَ رَجُلًا مِنْ أَحْمَسَ یُقَالُ لَہُ: بُشَیْرٌ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُبَشِّرُہُ۔ ترجمہ :حضرت سیدناجریررضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے ان کو ’’ذی الخلصہ ‘‘نامی ایک بت کی طرف بھیجا، انہوں نے، اسے توڑکرآگ میں جلادیا،پھراحمس کے ایک شخص جن کانام بشیررضی اللہ عنہ تھاکوحضورتاجدارختم نبوتﷺکی بارگاہ میں بھیجاتاکہ وہ بت کے جلنے کی خوشخبری حضورتاجدارختم نبوتﷺکودیں۔ (مسند الإمام أحمد بن حنبل:أبو عبد اللہ أحمد بن محمد بن حنبل بن ہلال بن أسد الشیبانی (۳۱:۵۲۲) دوسرامسئلہ اور جویہ بات کی جاتی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے مفتوحہ علاقوں میں بت چھوڑ دئیے تھے، تو یہ سب وہمی اورگمان کی باتیں ہیں، حضورتاجدارختم نبوتﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کبھی بھی ان بتوں اور مجسموں کو چھوڑنے والے نہیں تھے، اور خاص کرجب اس دور میں ان کی عبادت کی جاتی تھی اور اگریہ کہا جائے کہ بت اور مجسمے توبہت پرانے ہیں جو کہ فرعونوں اور فنیقیوں وغیرہ کے مجسمے ہیں توصحابہ کرام نے انہیں کیسے چھوڑدیا؟ اس کا جواب یہ ہے:یہ بت تین وجوہات سے خارج نہیں ہوسکتے: اول:یہ بت کسی دور دراز جگہ میں ہوں جہاں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پہنچے ہی نہیں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا مصر کو فتح کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ مصر کے ہر علاقے میں پہنچے تھے. دوم:یہ بت ظاہر نہ ہوں، بلکہ فراعنہ وغیرہ کے گھروں میں ہوں،حضورتاجدارختم نبوتﷺ کا طریقہ یہ تھا کہ جب ظالموں اور عذاب کردہ علاقوں سے گزرتے توتیزی سے گزر جاتے بلکہ ان جگہوں میں داخل ہونے کی ممانعت آئی ہے۔ اور حضورتاجدارختم نبوتﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے متعلق ہمارا گمان ہے کہ اگر انہوں نے کوئی عبادت گاہ یا ان کا کوئی گھر دیکھا ہو تو وہاں داخل ہی نہیں ہوئے، اوراس میں جو کچھ تھا اسے دیکھا تک نہیں۔ اہرام اور اس میں جوکچھ ہے اس کے متعلق جو اشکال پیدا ہوتا ہے اس بنا پریہ اشکال زائل اور ختم ہوجاتا ہے، اوراس کیساتھ یہ بھی احتمال ہے کہ اس وقت اس کے دروازے اور اندر داخل ہونے کے راستے ریت میں مدفون ہوں اور نظر ہی نہ آتے ہوں۔ سوم:آج جو بت ظاہر ہیں ان میں سے اکثر ریت میں مدفون یا پھر یہ حال ہی میں ملی ہوں، یا کسی دور دراز مقام سے لائے گئے ہوں جہاں صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نہ پہنچے ہوں۔ امام الزرکلی رحمہ اللہ تعالی کاخوبصورت جواب فقد سئل الزرکلی عن الأہرام وأبی الہول ونحوہا :ہل رآہا الصحابۃ الذین دخلوا مصر؟فقال:کان أکثرہا مغموراً بالرمال ، ولاسیما أبا الہول . ترجمہ :امام الزرکلی رحمہ اللہ تعالی سے ان اہراموں اور ابوالہول وغیرہ کے بارہ میں سوال کیا گیا کہ کیا انہیں مصر میں داخل ہونے والے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے دیکھا تھا؟توانہوں نے کہا:ان کی اکثریت اور خاص کر ابوالہول ریت میں مدفون تھا۔(شبہ جزیرۃ العرب ( ۴: ۱۱۸۸) پھر یہ بھی ہے کہ اگر فرض کرلیا جائے کہ یہ بت ریت میں دفن نہیں تھے، توپھر اس کا ثبوت ہونا ضروری ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے انہیں دیکھا تھااور وہ انہیں منہدم کرنے پر قادر تھے۔ اور واقع اس بات کا شاہد ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم ان میں سے بعض مجسموں کو منہدم کرنے سے عاجز تھے، اور ان میں بعض کو منہدم کرنے میں بیس یوم صرف ہوئے، باوجود اس کے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دور میں یہ آلات اورمشینیں اوربارود اور دوسرے وسائل موجود نہیں تھے جنہیں اس کے انہدام میں استعمال کیا گیا اوربیس یوم صرف ہوئے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ ابن خلدون نے مقدمہ میں ذکر کیا ہے کہ: أن الخلیفۃ الرشید عزم علی ہدم إیوان کسری ، فشرع فی ذلک وجمع الأیدی ، واتخذ الفؤوس ، وحَمَّاہ بالنار ،وصب علیہ الخل ،حتی أدرکہ العجز وأن الخلیفۃ المأمون أراد أن یہدم الأہرام فی مصر فجمع الفعلۃ ولم یقدر . ترجمہ :خلیفہ الرشید نے کسری کا ایوان منہدم کرنیکا عزم کیا اور اس کا کام شروع کرنے کیلئے لوگ تیار کئے اورکلہاڑیاں تیار کیں اوراسے آگ سے سرخ کیا اوراس پر سرکہ بہایا حتی کہ وہ اس سے عاجز آگیا، اورخلیفہ مامون نے اہرام مصر منہدم کرنے کا ارادہ کیا اوراس کی تیاری بھی کرلی لیکن وہ ایسا نہ کرسکے۔(المقدمۃ لابن خلدون :۳۸۳) اور یہ تعلیل پیش کرنی کہ یہ مجسمے انسانی ورثہ میں سے ہیں، یہ ایسا کلام ہے جس کی طرف دھیان نہیں دیا جاسکتا، کیونکہ لات اور عزی اور ہبل ومنات وغیرہ دوسرے بت قریش اوردوسرے مشرکین جوان کی عبادت کرتے تھے ان کا ورثہ تھا. یہ ہے تو ورثہ لیکن ہے کفارکااوراس کوسنبھال کررکھناحرام ہے اورجس کا زائل اور ختم کرنا واجب ہے، اور جب اللہ تعالی اور اس کے حضورتاجدارختم نبوتﷺکا حکم آجائے تومومن آدمی اس کی پیروی اوراتباع کرنے میں جلدی کرتا ہے، اور اس طرح کی بیہودہ دلیلوں سے اللہ تعالی اورحضورتاجدارختم نبوتﷺ کا حکم رد نہیں کیا جاسکتا۔ اللہ تعالی کافرمان عالی شان ہے {إِنَّمَا کَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِینَ إِذَا دُعُوا إِلَی اللَّہِ وَرَسُولِہِ لِیَحْکُمَ بَیْنَہُمْ أَن یَقُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَأُوْلَئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ}(سورۃ النور: ۵۱) ترجمہ:ایمان والوں کا قول تو یہ ہے کہ جب انہیں اس لئے بلایا جاتا ہے کہ اللہ تعالی اور اس کے حبیب کریمﷺ ان میں فیصلہ کردیںتو وہ کہتے ہیں ہم نے سنا اوراطاعت کی اور مان لیا یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔

مسلمان بت شکن ہوتاہے نہ کہ بت فروش

سومنات کا مندر اتنا بڑا تھا کہ ہندوستان کے سب راجے اس کے لیے جاگیریں وقف کرتے، اپنی بیٹیوں کو خدمت کے لیے وقف کرتے جوکہ ساری عمر کنواری رہتیں اور انہیں دیوداسیاں کہا جاتا، ہر وقت ۲۰۰۰برہمن پوجا پاٹ کرنے کے لیے حاضر ہوتے اور ۵۰۰ گانے بجانے والی خوبصورت عورتیں اور ۳۰۰قوال ملازم تھے، سومنات کے بت کی چھت ۵۶ستونوں پہ قائم تھی وہاں مصنوعی یا سورج کی روشنی کا بندوبست بالکل بھی نہیں تھا بلکہ ہال کے قندیلوں میں جڑے اعلیٰ درجے کے جواہرات روشنی مہیا کرتے تھے۔ حضرت سلطان محمود غزنوی رحمہ اللہ تعالی بت شکن سونے و چاندی کے چھوٹے چھوٹے بتوں کو روندنے کے بعد بادشاہ بت کے سامنے جا کھڑے ہوئے، یہ بت ۶ فٹ زمین کے اندر اور ۹فٹ زمین سے بلند تھا۔ اسی دوران شہر کے معزز سمجھے جانے والے ہندوؤں نے منہ مانگی مال و دولت کی پیش کش کی کہ سومنات کے بادشاہ بت کو کچھ نا کہیں، تو حضرت سیدناسلطان محمود غزنوی رحمہ اللہ تعالی کے دیسی دانشوروں نے مشورہ دیا کہ پتھر کو توڑنے کا کیا فائدہ جبکہ مال و دولت مسلمانوں کے کام آئے گا (یہی سوچ ہمارے آجکل کے حکمرانوں کی ہے کہ جہاد میں کیا فائدہ ہم اپنی معیشت مضبوط کرتے ہیں) سلطان محمود غزنوی نے دیسی دانشوروں کی بات سُن کر کہا کہ اگر میں نے تمھاری بات مان لی تو دنیا مجھے بت فروش کہے گی جبکہ میری چاہت دنیا و آخرت میں مجھے محمود بُت شکن کے نام سے پکارا جائے۔ یہ کہتے ہی محمود بُت شکن کی توحیدی غیرت جوش میں آئی اور ہاتھ میں پکڑا ہوا گرز سومنات کے دے مارا، اس کا منہ ٹوٹ کر دور جا گرا، پھر سلطان کے حکم پہ اس کے دو ٹکڑے کیے گئے تو اس کے پیٹ سے اس قدر بیش بہا قیمتی ہیرے، جواہرات اور موتی نکلے کہ جو ہندو معززین اور راجوں کی پیش کردہ رقم سے ۱۰۰گنا زیادہ تھے۔اسی لئے کافر مورخین سلطان کو ڈاکو کہتے ہیں جبکہ اسلام اسے مال غنیمت کہتا ہے ۔ یاد رکھیں غیرت مند مسلمان بت شکن ہوتاہے بت فروش نہیں۔

شاہ عبدالعزیزمحدث دہلوی رحمہ اللہ تعالی کاقرآن کریم پڑھ کربتوں کوتوڑنا

حضرت شاہ عبدالعزیز دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کے زمانے میںایک ہِندو پنڈت نے ایک اعلان کیا کہ ہندو مذہب سچا مذہب ہے، اور اسلام جھوٹا مذہب ہے، (معاذاللہ۔أَسْتَغْفِرُ اللہ)اور دلیل اس نے یہ پیش کی کہ، ہمارا فلاں مندر جو دو ہزار سال سے بنا ہوا ہے آج تک بالکل صحیح سالم ہے، اس کی دیواریں کھڑکیاں دروازے غرض سب کچھ ویسے کا ویسے آج تک اپنی اصلی حالت میں موجود ہیں۔جبکہ مسلمانوں کی مساجد کو ایک سال بھی نہیں گزرتا کہ، رنگ روغن در و دیوار دروازے کھڑکیاں سب کچھ خراب ہونا شروع ہو جاتے ہیں، لہذا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام مٹنے والا ہے (نعوذباللہ)اور ہندو مت باقی رہنے والا ہے، مسلمانوں کی اکثریت اس پروپیگنڈا کا جواب دینے میں ناکام رہی، اور اس کی وجہ سے لوگ بہت شش و پنج میں مبتلا ہو گئے۔کہ اس پروپیگنڈا کی روک تھام کیسے کی جائے، ایسے میں حضرت شاہ عبدالعزیز دہلوی رحمتہ اللہ علیہ آگے آئے، اور اُنہوں نے اعلان کیا کہ، اس کا جواب میں دوں گا، پنڈت نے کہا، کیا جواب ہے، حضرت نے کہا کہ ایسے نہیں، اُسی مندر کے دروازے پر جواب دوں گا، مقررہ وقت پر مسلمان اور ہندو سب جمع ہو گئے، کہ دیکھئے کیا جواب دیتے ہیں، حضرت صاحب مندر کے دروازے پر کھڑے ہو گئے اورقرآن کی آیت مبارکہ {لَوْ أَنزَلْنَا ہَٰذَا الْقُرْآنَ عَلَیٰ جَبَلٍ لَّرَأَیْتَہُ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَۃِ اللَّہِ وَتِلْکَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُہَا لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمْ یَتَفَکَّرُونَ } ترجمہ:اگر اللہ تعالی اس قرآن کو پہاڑ پر بھی نازل کر دیتا تو وہ پہاڑ بھی اللہ تعالی کے جلال سے ڈر کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا۔ آپ یہ آیت پڑھتے جاتے اور مندر کے در و دیوار دروازوں کی طرف انگلی سے اشارہ کرتے جاتے، ایسے میں اللہ تعالی نے آپ رحمہ اللہ تعالی کے ہاتھ پر، اپنے دین کی حقانیت کی کرامت ظاہر کر دی، اور مندر کی دیواریں گرنا شروع ہوگئیں اوربت نیچے گرنے لگے ،دروازے ٹوٹنے لگے، مسلمانوں نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا، پنڈت جلدی حضرت کے قدموں میں گر گیا، اور کہا بس کریں، بہت ہو گیا، لیکن اس کی حقیقت تو بتا دیں، کہ یہ کیا ہوا؟ آپ نے فرمایا، اللہ تعالی قرآن میں فرماتا ہے کہ قرآن اگر پہاڑ پر نازل کر دیتے تو وہ بھی اپنی جگہ نہیں ٹھہر سکتاپھر اس مندر کی کیا مجال ہے، یہ اپنی جگہ پر کھڑا رہتا، یہ تو مسجد کی عظمت ہے کہ، اس میں روزانہ قرآن پڑھا جاتا ہے، پھر بھی اسکی عمارت اپنی جگہ پر کھڑی رہتی ہے۔ (تفسیرعزیزی از سیدی شاہ عبدالعزیزمحدث دہلوی : ۱۷۹)

سنت ابراہیمی پرعمل کرنے والے کہاں ہیں کہ آج پھرآذرکے جانشین بت گری پراترآئے ہیں؟

ہندوؤں کے مندر بت پرستی کا مرکز ہوتے ہیں اور اسلام بت پرستی کی سختی سے مذمت کرتا ہے ۔ اور بت شکنی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے انہیں توڑنے کا حکم دیتا ہے۔ کیونکہ کفار ان بتوں کو اللہ تعالی کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں، ان کو معبود سمجھ کر ان کی عبادت کرتے ہیں، ان کو سجدے کرتے ہیں، عقیدت سے ان کے سامنے نذرانے پیش کرتے ہیں، ان سے منتیں مرادیں مانگتے ہیں۔ ان کو اپنا حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے ہیں۔ یاد رکھیے!بت شکنی انبیاء کرام علیہم السلام کی سنت مبارکہ بھی ہے اور کافروں کی طاقت توڑنے کا ایک بڑا سبب بھی!حضرت سیدناابراہیم علیہ السلام نے اپنے آبائی علاقے میں موجود کفار کی مرکزی عبادت گاہ میں رکھے گئے بتوں کو پاش پاش کر دیا تھا۔حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فتح مکہ کے موقع پر خانہ کعبہ میں رکھے ہوئے ۳۶۰بتوں کو توڑ ڈالا تھا۔ نہ صرف بیت اللہ میں بلکہ پورے حجاز کے علاقے میں جہاں جہاں بھی بت موجود تھے، حضورتاجدارختم نبوتﷺ اور فرمانروان مدینہ کی حیثیت سے ان سب کو توڑنے کے لیے خصوصی احکامات جاری فرمائے تھے اور اس مہم کے لیے خصوصی افراد کے دستے تیار کیے تھے۔چاروں خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کا بھی اسوۂ حبیب کریمﷺ پر عمل کرتے ہوئے یہی طرز عمل رہا تھا۔ ازل تا ابد بت پرستی کے بجائے بت شکنی مسلمان کا طرز عمل رہا ہے اور رہنا چاہیے۔ قرآن وسنت کے واضح احکامات کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے شہرہ آفاق ائمہ اربعہ امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہم اور دیگر فقہاء کرام علیہم الرحمہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اسلامی حکومت سے پہلے اگر کسی علاقے میں غیر مسلموں کے عبادت خانے موجود ہوں تو اسلامی حکومت کو ان کی صورت حال پر رہنے دینا چاہیے اور ان کو مسمار نہیں کرنا چاہیے۔ لیکن اگر کفار کے عبادت خانے اسلامی حکومت بننے کے بعد تعمیر کیے گئے ہوں تو انہیں مسمار کر دینا ضروری ہوتا ہے۔( یہ بحث ہم پہلے مفصل نقل کرآئے ہیں اسے وہاں ملاحظہ فرمائیں) سلطنت غزنویہ (۹۷۶ء سے ۱۱۸۶ء )کے سب سے مشہور حکمران سلطان محمود غزنوی نے ہندوستان پر ۱۷حملے کیے اور سومنات کے مشہور زمانہ مندر پر حملہ کرکے تمام بتوں کو توڑ کر خود کو تاریخ میں ہمیشہ کے لیے بطور ’’بت شکن‘‘معروف کردیا۔ اس نے ’’بت فروش‘‘ بننے کے بجائے ’’بت شکن‘‘بننا اور کہلوانا اپنے لیے باعث افتخار سمجھا۔ جب یہ پریشان کن خبر مجھے معلوم ہوئی کہ ۲۳جون ۲۰۲۰ء) بروز منگل کو پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہندوؤں کے لیے ان کی عبادت گاہ یعنی مندر کا افتتاح کردیا گیا ہے، جو چار کنال رقبے پر محیط ہے اور جس کے لیے زمین سابقہ وزیراعظم نواز شریف کے دور میں(۲۰۱۷ء) سے منتخب شدہ ہے تو میرے دل ودماغ الجھ سے گئے کہ وطن عزیز میں اب یہ کیا ہونے جا رہا ہے؟ ذہن پر پریشانی طاری ہوگئی کہ ایک سال پہلے(۲۰۱۹ء) میں ہندوؤں ، سکھوں اورقادیانیوں کی پاکستان میں آمد و رفت کے لیے کرتار پور بارڈر کھولا گیا۔ اب ہندو مندر کی تعمیر کا شوشہ چھوڑ دیا گیا ہے۔ حساس دلوں کو حقیقتاً بہت پریشانی لاحق ہوچکی ہے۔ یہ کوئی معمولی اور نظر انداز کردینے والی بات نہیں بلکہ بہت قابل توجہ اور بڑی پریشانی والی بات ہے۔ الیکشن کمیشن ریکارڈ کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں صرف ۱۷۸ہندو ووٹرز رہائش پذیر ہیں جبکہ مندر کے لیے ۲۰۰۰۰مربع فٹ زمین (چار کنال رقبہ)اور( ۱۰۰ملین یا ۱۰کروڑ)روپے مختص کر دیے گئے ہیں۔اس خبر کی مکمل تفصیلات حاصل کیں تو پتہ چلا کہ پہلے ہندو مندر کی تعمیر کا سنگِ بنیاد اسلام آباد میں رکھا گیا ہے۔ ہندو مندر کی تعمیر کا فیصلہ پاکستان میں موجود ہندو آبادی کی خواہش پر کیا گیا ہے۔ یہ مندر ایچ نائن ٹو سیکٹر میں تعمیر کیا جائے گا جس کے لیے تین سال قبل (۲۰۱۷ء) میں کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے اسلام آباد میں قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کے حکم پر ہندو پنچایت کو چار کنال رقبہ پر مشتمل پلاٹ الاٹ کیا تھا۔ شری کرشنا نامی یہ مندر صرف مندر ہی نہیں ہوگا بلکہ ہندوؤں کی سوشل سرگرمیوں کے لیے ایک کمیونٹی سینٹر کا کام دے گا جہاں ایک کمیونٹی ہال، آڈیٹوریم اور شمشان گھاٹ کے لیے بھی جگہ ہوگی۔ مندر کی تعمیر کے سلسلے میں بنیادی ڈھانچے اور چار دیواری کے کام کا آغاز بھی کردیا گیا ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے اقلیتی رکن قومی اسمبلی رمیش کمار وانکوانی نے بتایا کہ اس وقت راولپنڈی میں ۳۰سے ۳۵مندر بند پڑے ہیں اور زبوں حالی کا شکار ہیں۔ ہندوؤں کے لیے یہاں کوئی کمیونٹی سینٹر موجود نہیں تھا، اب یہاں جگہ مختص کرکے باؤنڈری لگا دی گئی ہے۔اہم ترین بات یہ ہے کہ اسلام آباد کے جڑواں شہر راولپنڈی میں اس سے پہلے تیس پینتیس مندر ویران پڑے ہوئے ہیں۔ اب جن ہندوؤں کو عبادت اور مذہبی رسومات کی ادائیگی کا شوق دلگیرہواہے تو وہ راولپنڈی کے ان خالی پڑے ہوئے مندروں کو آباد کرکے ان میں اپنی عبادت اور مذہبی رسوم و رواج کی ادائیگی کرلیں۔ نہ جانے پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت کو کیا مسائل درپیش ہیں۔ کبھی گوردوارے تعمیر کرنے کے پراجیکٹ کا اعلان کر دیتی ہے اور کبھی مندروں کی تعمیر کا کام شروع کر دیتی ہے بلکہ گذشتہ سال ہی پی ٹی آئی حکومت نے ملک بھر میں ہندو مندر کھولنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ کبھی یہ حکومت قادیانیوں کے لیے سیاسی و مذہبی اعتبار سے خصوصاً ختم نبوت کے معاملے میں آسانیاں بہم پہنچانے کی کوششوں میں لگ جاتی ہے۔ غالباً اسے اقلیتوں کے حقوق کا زیادہ احساس ہے اور اسے اکثریت یعنی مسلمانوں کی پروا نہیں جن کے دس کروڑ روپے کی کثیر رقم کے ٹیکس اس نے بطور فنڈ مندر کی تعمیر کے لیے دینے کا اعلان کیا ہے۔ہماری حکومت اقلیتی جماعتوں کے مذہبی حقوق کا خیال رکھتے ہوئے ان کی عبادت گاہیں کھولنے میں مصروف ہے۔ حالانکہ اسلامی حکومت کے لیے شریعت اسلامیہ کے صریح احکامات کے مطابق غیر مسلموں کو ان کی عبادت گاہوں کی تعمیر کی اجازت دینا یا ان کی تعمیر میں سہولت فراہم کرنا جائز نہیں ہے۔ دوسری طرف بہت سے شہروں میں مساجد کو یہ کہہ کر بند کروایا جا رہا ہے کہ یہ حکومت کی زمین پر ناجائز طور پر بنی ہوئی ہیں۔ اس لیے انہیں بند کر دینا چاہیے۔ مسلمانوں کو وطن عزیز میں مندر کی تعمیر نامنظور ہے۔اوراس مندرکی تعمیرکو رکوانے کے لئے سب سے طاقتورآوازامیرالمجاہدین حضرت شیخ الحدیث مولاناحافظ خادم حسین رضوی حفطہ اللہ تعالی نے اٹھائی : شعلہ بن کر پھونک دے خاشاک غیر اللہ کو خوف باطل کیا کہ ہے غارت گر باطل بھی تو پاکستانی قوم اس بات کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے مندر کی تعمیر شروع کرنے کو انتہائی خطرناک قدم قرار دیتی ہے۔ وہ بت پرستی کو فروغ دینے کے بجائے اسلام کی بت شکنی کی لازوال روایت اور پالیسی پر عمل پیرا ہونے میں اپنی کامیابی سمجھتی ہے۔ گرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں مجھے ہے حکم اذاں، لا الہ الااللہ اللہ تعالی ہمیں دین اسلام اور شعائر اللہ کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh