Fatwa #2554
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیر سورۃالانبیاء آیت ۱۰۷تا۱۰۹۔وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
4,049
سوال (Question):
تفسیر سورۃالانبیاء آیت ۱۰۷تا۱۰۹۔وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
رحمت للعالمینﷺ کے ہاتھ میں تلوارہونابھی رحمت ہی کاتقاضاہے
{وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ }(۱۰۷){قُلْ اِنَّمَا یُوْحٰٓی اِلَیَّ اَنَّمَآ اِلٰـہُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ فَہَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ }(۱۰۸){فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ اٰذَنْتُکُمْ عَلٰی سَوَآء ٍ وَ اِنْ اَدْرِیْٓ اَقَرِیْبٌ اَمْ بَعِیْدٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ }(۱۰۹) ترجمہ کنزالایمان:اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لئے۔ تم فرماؤ مجھے تو یہی وحی ہوتی ہے کہ تمہارا خدا نہیں مگر ایک اللہ تو کیا تم مسلمان ہوتے ہو۔پھر اگر وہ منہ پھیریں تو فرمادو میں نے تمہیں لڑائی کا اعلان کردیا برابری پر اور میں کیا جانوں کہ پاس ہے یا دور ہے وہ جو تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے۔ ترجمہ ضیاء الایمان:اور اے حبیب کریمﷺ! ہم نے آپ کو تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر بھیجا ۔اے حبیب کریمﷺ! آپ فرمادیں کہ مجھے تو یہی وحی ہوتی ہے کہ تمہارا معبود صرف ایک معبود ہے تو کیا تم مسلمان ہوتے ہو؟ پھر اگر وہ منہ پھیریں تو آپ ﷺفرمادیں کہ میں نے تمھارے ساتھ برابری کی بنیادپرلڑائی کااعلان کردیاہے اور میں نہیں جانتا کہ تمہیں جو وعدہ دیا جاتاہے وہ قریب ہے یا دور ہے؟رحمت والی آیت کے ساتھ جہاد کااعلان بھی کردیا
{فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ آذَنْتُکُمْ عَلَی سَوَاء ٍ وَإِنْ أَدْرِی أَقَرِیبٌ أَمْ بَعِیدٌ مَا تُوعَدُونَ}فَإِنْ تَوَلَّوْا عن الإسلام بعد تمام الحجۃ علیہم أبوا عن رحمۃ اللہ فَقُلْ یا محمد آذَنْتُکُمْ ای أعلمتکم ما أرسلت بہ إلیکم او أعلمتکم بالحرب وان لا صلح بیننا عَلی سَواء ٍ ای حال کونکم مستوین فی الاعلام یعنی ما أخفیت من أحد منکم فیہ دلیل علی بطلان مذہب الباطنیۃ والروافض المعتقدین للتقیۃ القائلین بان الائمۃ کانوا یعلّمون أصحابہم احکام الشرع علی وجہ الاحق ویقولون ان للجدر ان أذان او المعنی مستوین انا وأنتم فی العلم بما أعلمتکم او بالحرب والمعاداۃ یعنی لاخداع فتاہبوا للحرب او اذنتکم إیذانا علی سواء یعنی علی الإعلان دون الکتمان۔ ترجمہ :حضرت قاضی ثناء اللہ حنفی رحمہ اللہ تعالی اس آیت کریمہ {فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ آذَنْتُکُمْ عَلَی سَوَاء ٍ وَإِنْ أَدْرِی أَقَرِیبٌ أَمْ بَعِیدٌ مَا تُوعَدُونَ}کے تحت لکھتے ہیں کہ پھربھی اگروہ اسلام قبول نہ کریں اوراتمام حجت کے بعدبھی وہ توحیدکااقرارنہ کریں توآپ ﷺا ن کوفرمادیں کہ میں نے تم سب کو برابروحی پہنچادی ہے اوروہ اطلاع دے دی جومجھے ملی تھی { آذَنْتُکُم}یعنی میں نے وحی اوررسالت کی اطلاع دے دی یااس بات کی اطلاع دے دی کہ میری تم مشرکین کے ساتھ صلح نہیں ہوسکتی ۔ { عَلَی سَوَاء ٍ }کایہ مطلب ہے کہ میں نے وحی کی کوئی بات پوشیدہ نہیں رکھی ، سب کو برابراطلاع دے دی ، اس سے فرقہ باطنیہ اورروافض کے اس قول کی تردیدہوتی ہے کہ ائمہ اپنے خاص ساتھیوں کواحکام شرع بالکل پوشیدہ طورپرسکھاتے تھے اورکہتے تھے کہ دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں یا{ عَلَی سَوَاء ٍ }کایہ مطلب ہے کہ ہم اورتم دونوں اس معاملہ میں برابرہیں جوکچھ مجھے علم تھااس سے تم کو بھی واقف کردیایاجنگ کے معاملہ میں ہم دونوں برابرہیں ، میں تم کو فریب نہیں دیتا، تم جنگ کی تیاری کرلو، ہم آپس میں دشمن ہیں یایہ مطلب ہے کہ علی الاعلان تم کو اطلاع دے دی ہے ۔ (التفسیر المظہری:المظہری، محمد ثناء اللہ(۶:۳۴۵) اس آیت کریمہ کی تفسیرسے معلوم ہوگیاکہ {وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ }کے بعد اللہ تعالی کا{فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ اٰذَنْتُکُمْ عَلٰی سَوَآء ٍ وَ اِنْ اَدْرِیْٓ اَقَرِیْبٌ اَمْ بَعِیْدٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ } کونازل کرکے اپنے حبیب کریمﷺکو اعلان جہاد کاحکم دینااس بات کاتقاضاکرتاہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکے مبارک ہاتھ میں تلوارکاہوناآپ ﷺکی رحمت کے منافی نہیں ہے ۔ آج جولوگ {وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ }پڑھ پڑھ کرحضورتاجدارختم نبوتﷺکے گستاخوں کو معاف کرنے کی باتیں کرتے ہیں یایہ آیت کریمہ تلاوت کرکے حضورتاجدارختم نبوتﷺکی تلواراورجہاد کی نفی کرتے ہیں انہوںنے اللہ تعالی کی مکمل وحی کوپڑھانہیں ہے ، اگروہ {وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ }کے بعد {فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ اٰذَنْتُکُمْ عَلٰی سَوَآء ٍ وَ اِنْ اَدْرِیْٓ اَقَرِیْبٌ اَمْ بَعِیْدٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ }کوپڑھ لیتے توکبھی بھی حضورتاجدارختم نبوتﷺکے گستاخوں کے قتل یاآپﷺکی تلوارکی نفی نہ کرتے ۔ کاش کہ ہمارے علماء کرام ان دونوںآیات کریمہ کو اکٹھے تلاوت کرتے تاکہ دین دشمنوں کو اس طرح حضورتاجدارختم نبوتﷺکی تلوارکی نفی کی ہمت نہ ہوتی ۔جنگ کااعلان پہلے کردیاگیامگراجازت بعدمیں ملی
(فَقُلْ آذَنْتُکُمْ عَلی سَواء ٍ)أَیْ أَعْلَمْتُکُمْ عَلَی بَیَانِ أَنَّا وَإِیَّاکُمْ حَرْبٌ لَا صُلْحَ بَیْنَنَا۔وَقِیلَ:آذَنْتُکُمْ بِالْحَرْبِ وَلَکِنِّی لَا أَدْرِی مَتَی یُؤْذَنُ لِی فِی محاربتکم وَہُوَ أَعْلَمُ۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی اس آیت کریمہ{فَقُلْ آذَنْتُکُمْ عَلی سَواء}کے تحت فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے اپنے حبیب کریمﷺکوفرمایاکہ آپ ﷺاعلان فرمادیں کہ میں تم کو آگاہ کرتاہوں کہ میری اورتمھاری جنگ ہے ہماری کوئی صلح نہیں ہے اورعلماء کرام نے یہ معنی بھی بیان کیاہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایاکہ میں تمھیں جنگ کے متعلق آگاہ کرتاہوں لیکن میں نہیں جانتاکہ مجھے کب تم سے جنگ کرنے کی اجازت دی جائے گی ؟۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۱۱:۳۵۰) ایک اعتراض کے چارجوابات فَإِنْ قِیلَ: کَیْفَ کَانَ رَحْمَۃً وَقَدْ جَاء َ بِالسَّیْفِ وَاسْتِبَاحَۃِ الْأَمْوَالِ؟ قُلْنَا:الْجَوَابُ مِنْ وُجُوہٍ:أَحَدُہَا:إِنَّمَا جَاء َ بِالسَّیْفِ لِمَنِ اسْتَکْبَرَ وَعَانَدَ وَلَمْ یَتَفَکَّرْ وَلَمْ یَتَدَبَّرْ، وَمِنْ أَوْصَافِ اللَّہ الرَّحْمَنُ الرَّحِیمُ، ثُمَّ ہُوَ مُنْتَقِمٌ مِنَ الْعُصَاۃِوَقَالَ:وَنَزَّلْنا مِنَ السَّماء ِ مَاء ً مُبارَکاً(ق:۹)ثُمَّ قَدْ یَکُونُ سَبَبًا لِلْفَسَادِوَثَانِیہَا:أَنَّ کُلَّ نَبِیٍّ قَبْلَ نَبِیِّنَا کَانَ إِذَا کَذَّبَہُ قَوْمُہُ أَہْلَکَ اللَّہ الْمُکَذِّبِینَ بِالْخَسْفِ وَالْمَسْخِ وَالْغَرَقِ وَأَنَّہُ تَعَالَی أَخَّرَ عَذَابَ مَنْ کَذَّبَ رَسُولَنَا إِلَی الْمَوْتِ أَوْ إِلَی الْقِیَامَۃِ قَالَ تَعَالَی:وَما کانَ اللَّہُ لِیُعَذِّبَہُمْ وَأَنْتَ فِیہِمْ (الْأَنْفَالِ:۳۳)لَا یُقَالُ: أَلَیْسَ أَنَّہُ تَعَالَی قَالَ:قاتِلُوہُمْ یُعَذِّبْہُمُ اللَّہُ بِأَیْدِیکُمْ (التَّوْبَۃِ:۱۴)وَقَالَ تَعَالَی:لِیُعَذِّبَ اللَّہُ الْمُنافِقِینَ وَالْمُنافِقاتِ (الْأَحْزَابِ:۷۳)لِأَنَّا نَقُولُ تَخْصِیصُ الْعَامِّ لَا یَقْدَحُ فِیہِ وَثَالِثُہَا: أَنَّہُ عَلَیْہِ السَّلَامُ کَانَ فِی نِہَایَۃِ حُسْنِ الْخُلُقِ قَالَ تَعَالَی:وَإِنَّکَ لَعَلی خُلُقٍ عَظِیمٍ (الْقَلَمِ:۴)وَقَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہ عَنْہُ:قِیلَ لِرَسُولِ اللَّہ صَلَّی اللَّہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ادْعُ عَلَی الْمُشْرِکِینَ، قَالَ:إِنَّمَا بُعِثْتُ رَحْمَۃً وَلَمْ أُبْعَثْ عَذَابًاوَقَالَ فِی رِوَایَۃِ حُذَیْفَۃَ:إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَغْضَبَ کَمَا یَغْضَبُ الْبَشَرُ، فَأَیُّمَا رَجُلٍ سَبَبْتُہُ أَوْ لَعَنْتُہُ فَاجْعَلْہَا اللَّہُمَّ عَلَیْہِ صَلَاۃً یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَرَابِعُہَا:قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَیْدٍ:إِلَّا رَحْمَۃً لِلْعالَمِینَ یَعْنِی الْمُؤْمِنِینَ خَاصَّۃً، قَالَ الْإِمَامُ أَبُو الْقَاسِمِ الْأَنْصَارِیُّ وَالْقَوْلَانِ یَرْجِعَانِ إِلَی مَعْنًی وَاحِدٍ، لِمَا بَیَّنَّا أَنَّہُ کَانَ رَحْمَۃً لِلْکُلِّ لَوْ تَدَبَّرُوا فِی آیَاتِ اللَّہ وَآیَاتِ رَسُولِہِ، فَأَمَّا مَنْ أَعْرَضَ وَاسْتَکْبَرَ، فَإِنَّمَا وَقَعَ فِی الْمِحْنَۃِ مِنْ قِبَلِ نَفْسِہِ کَمَا قال:وَہُوَ عَلَیْہِمْ عَمًی. ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اگرکوئی یہ کہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکیسے رحمت ہوسکتے ہیں جب کہ آپﷺتلوار اوراموال کے مباح ہونے کے ساتھ مبعوث کئے گئے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ اس کے متعددجواب ہیں : پہلاجواب : حضورتاجدارختم نبوتﷺتلوار کے ساتھ ان لوگوں کے لئے مبعوث کئے گئے ہیں جوتکبراورعناد رکھنے والے تھے اوروہ تفکرورتدبرکرنے والے نہیں تھے ، اللہ تعالی کے اوصاف شریفہ میں سے رحمن ہوناہے جبکہ وہ نافرمانوںسے انتقام لینے والاہے اوراللہ تعالی نے فرمایا: {وَنَزَّلْنا مِنَ السَّماء ِ مَاء ً مُبارَکاً }(اورہم نے آسمان سے برکت والاپانی اتارا)کبھی یہی بارش فساد کاسبب بن جاتی ہے ۔ دوسراجواب: ہرنبی علیہ السلام ہمارے حضورتاجدارختم نبوتﷺسے پہلے جب ان کی قوم نے ان کی گستاخی کی تواللہ تعالی نے تکذیب کرنے والوں کو مسخ اورغرق کے ساتھ ہلاک فرمادیا، تواللہ تعالی نے ہمارے حضورتاجدارختم نبوتﷺکی تکذیب کرنے والوں کے عذاب کو موت تک یاقیامت تک موخرفرمادیا، اللہ تعالی کافرمان شریف ہے {وَما کانَ اللَّہُ لِیُعَذِّبَہُمْ وَأَنْتَ فِیہِمْ}( اوراللہ تعالی کاکام نہیں کہ انہیں عذاب دے جب تک اے حبیب کریم ﷺ!آپ ان میں تشریف فرماہیں ) سوال : یہ نہیں کہاجاسکتاکہ اللہ تعالی نے یہ نہیں فرمایا{قاتِلُوہُمْ یُعَذِّبْہُمُ اللَّہُ بِأَیْدِیکُمْ }( توان سے لڑو، اللہ تعالی انہیں عذاب دے گاتمھارے ہاتھوں) اوراللہ تعالی نے یہ نہیں فرمایاکہ {:لِیُعَذِّبَ اللَّہُ الْمُنافِقِینَ وَالْمُنافِقاتِ}( تاکہ اللہ تعالی عذاب دے منافق مردوں اورمنافق عورتوں کو) جواب : ہم عام کی تخصیص مانتے ہیں ، یہ کوئی قابل اعتراض چیز نہیں ہے ۔ تیسراجواب : حضورتاجدارختم نبوت ﷺحسن خلق میں انتہاء پرتھے ، اللہ تعالی نے فرمایا: {وَإِنَّکَ لَعَلی خُلُقٍ عَظِیم}(اوربے شک آپ ﷺ عظیم خلق کے مالک ہیں) حضرت سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکی بارگاہ اقدس میں عرض کی گئی : مشرکین کے خلاف دعاکریں توآپﷺنے فرمایا: مجھے رحمت بناکربھیجاگیاہے ، عذاب بناکرنہیں ۔ حضرت سیدناحذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا: میں انسان ہوں مجھے انسانوں کی طرح جلال آتاہے ، جس آدمی کو میں سخت سست کہوں یااس پرلعنت کروں ، تواے اللہ!اسے قیامت کے دن اس کے لئے یہ دعابنادے ۔ چوتھاجواب : حضرت سیدناعبدالرحمن بن زید رضی اللہ عنہما{إِلَّا رَحْمَۃً لِلْعالَمِین}کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد صرف اہل ایمان ہیں ۔ امام ابوالقاسم انصاری رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ دونوں اقوال ایک ہی معنی رکھتے ہیں کہ ہم نے بیان کیاکہ آپﷺتمام کے لئے رحمت ہیں مگروہ اللہ تعالی اوراس کے رسول کریم ﷺکی آیات میں غوروفکرسے کام لیں لیکن جنہوںنے اعراض اورتکبرکیاوہ اپنی وجہ سے مشقت میں گھرا، جیسے فرمایا{وَہُوَ عَلَیْہِمْ عَمًی}( اوروہ ان پراندھاپن ہے ) (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۲۲:۱۹۴)رحمت الہیہ کے عموم پرشیطان کااشکال اوراس کاجواب
وحکی عن سہل عبداللہ التستری رحمہ اللہ تعالی عالمناوامامناانہ قال : لقیت ابلیس فعرفتہ وعرف منی انی عرفتہ فوقعت بیننامناظرۃ فقال لی وقلت لہ وبینناالکلام وطال النزاع بحیث انہ وقف ووقفت وحاروحرت فکان من آخرماقال لی : یاسہل !ان اللہ تعالی یقول {ورحمتی وسعت کل شئی }فعمم ولایخفی علیک اننی شئی بلاشک لان لفظۃ کل تقتضی الاحاطۃ والعموم شئی انکرالنکرات قدوسعتنی رحمتہ ۔قال سہل فواللہ لقداخرستنی وحیرنی بلطافۃ۔ ترجمہ :حضرت سیدناسہل التستری رحمہ اللہ تعالی کے پاس شیطان آیااورکہنے لگاکہ یہ بتائوکہ میری بخشش ہوگی کہ نہیں ؟آپ رحمہ اللہ تعالی نے فرمایا:نہیں۔شیطان نے کہاکہ اللہ تعالی توفرماتاہے کہ {ورحمتی وسعت کل شئی }(میری رحمت ہرچیز کو شامل ہے )اورہرشئی کے عموم میں میں بھی داخل ہوں تومیری مغفرت بھی ہونی چاہئے ، حضرت سیدناسہل رحمہ اللہ تعالی نے فرمایاکہ یہ مومنین کے ساتھ خاص ہے ، تم اس کے عموم سے خارج ہو، شیطان نے کہاکہ میں پہلے تم کو بہت بڑاعالم جانتاتھا، آج تمھاراجہل مجھ پرآشکارہوگیاتم اللہ تعالی کی صفت ( یعنی رحمت کے شمول)میں تقییدکررہے ہوحالانکہ تقییداورتحدیدمخلوق کی صفات میں ہوتی ہے ، اس کی صفات توغیرمقیداورلامحدودہیں، شیطان کایہ جواب سن کرحضرت سیدناسہل رحمہ اللہ تعالی خاموش ہوگئے ۔ (الکبریب الاحمرلشیخ محی الدین ابن العربی : ۱۰۱) یادرہے کہ شیطان کے اس اشکال کاجواب یہ ہے کہ ضرورت کے وقت کسی کو کوئی چیز دینابھی رحمت ہے اوراس چیز کے اسباب فراہم کردینابھی رحمت ہے ، مثلاًبھوکے کوآپ کھانا،کھلادیں تواس کے حق میں رحمت ہے اوراسے کھانے کے پیسے دے دیں تویہ بھی اس کے لئے رحمت ہے ، اسی طرح جنت کامعاملہ ہے کہ بنفسہ جنت عطافرمادینابھی رحمت ہے اورجنت جانے کے اسباب پیداکردینابھی رحمت ہے ، اللہ تعالی نے اپنی مغفرت اوررضامندی کے حصول کاسبب اپنے احکام کی اطاعت مقررکیاہے ، یہ احکام ملائکہ کرام علیہم السلام کے ساتھ شیطان کو بھی دیئے گئے تھے اورفرشتوں کے ساتھ اسے بھی حضرت سیدناآدم علیہ السلام کی تعظیم کاحکم دیاگیاتھالیکن اس نے اللہ تعالی کاحکم ماننے سے انکارکرکے خودہی اللہ تعالی کی رحمت سے منہ موڑ لیاہے ۔ اس سے معلوم ہواکہ شیطان مردود نے خود اپنے آپ کو اللہ تعالی کی رحمت کاملہ سے دورکررکھاہے ، دریاکے ساحل پرکھڑاہوکرآدمی یہ کہے کہ یہ دریامیری پیاس نہیں بجھاتاتویہ دریاکی سیرابی میں کمی نہیں ہے خود اس کے ظرف میں کمی ہے جودریاکے قریب آکرپانی نہیں پی رہا، اسی طرح حضورتاجدارختم نبوتﷺرحمۃ للعالمین ہیں بایں معنی کہ آپ ﷺ نے تمام جہان والوں کو توحیدورسالت کی دعوت دی اورابدی رحمت کے حصول کادروازہ دکھایاجولوگ جان کے دشمن اورخون کے پیاسے تھے ،ان میں سے ایک ایک کے گھرجاکردروازوں پردستک دے کرپیغام حق سنایا، جوراستہ میں کانٹے بچھاتے تھے ان کوبھی جاکرجنت کی دعوت دی ، اس کے باوجود جن لوگوںنے حضورتاجدارختم نبوتﷺکی دعوت حق سے اعراض کیااوررحمت سے منہ موڑاتوا س میں آپﷺکی رحمت کے عموم اورشمول کاقصور نہیں ہے ، قصورتوان لوگوں کاہے جنہوں نے آپ ﷺکی دعوت کو قبول نہ کیااوراپنے آپ کوحضورتاجدارختم نبوت ﷺکی رحمت سے دوررکھا۔کفارکاکھاناروک کران کو بھوک سے مرنے پرمجبورکرنارحمت کے منافی نہیں ہے
عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ ابْنَ أَثَالٍ الْحَنَفِیَّ لَمَّا أُتِیَ بِہِ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ أَسِیرٌ خَلَّی سَبِیلَہُ، فَأَسْلَمَ فَلَحِقَ بِمَکَّۃَ یَعْنِی ثُمَّ رَجَعَ فَحَالَ بَیْنَ أَہْلِ مَکَّۃَ وَبَیْنَ الْمِیرَۃِ مِنَ الْیَمَامَۃِ، حَتَّی أَکَلَتْ قُرَیْشٌ الْعِلْہِزَ ،فَجَاء َ أَبُو سُفْیَانَ بْنُ حَرْبٍ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ علیہ وسلم، فَقَالَ: أَلَسْتَ تَزْعُمُ أَنَّکَ بُعِثْتَ رَحْمَۃً لِلْعَالَمِینَ قَالَ بَلَی قَالَ:فَقَدْ قَتَلْتَ الْآبَاء َ بِالسَّیْفِ وَالْأَبْنَاء َ بِالْجُوعِ، فَأَنْزَلَ اللہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی: وَلَقَدْ أَخَذْناہُمْ بِالْعَذابِ فَمَا اسْتَکانُوا لِرَبِّہِمْ وَما یَتَضَرَّعُونَ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ حضرت سیدناثمامہ بن آثال حنفی رضی اللہ عنہ کو جب حضورتاجدارختم نبوتﷺکی بارگاہ میں حاضرکیاگیاتووہ مسلمان ہوگئے ، جب کہ یہ قیدی تھے ، حضورتاجدارختم نبوتﷺنے ان کوآزادکردیا، حضرت سیدناثمامہ بن آثال رضی اللہ عنہ چلے گئے اوراہل مکہ اوریمامہ کاغلہ روک دیایہاں تک کہ قریش کے کفار نے علھزکھایا، ابوسفیان حضورتاجدارختم نبوتﷺکی بارگاہ اقدس میں حاضرہوئے اورعرض کی:کیاآپﷺکورحمۃللعالمین بناکرمبعوث نہیںکیاگیا؟ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا: کیوں نہیں۔ عرض کی : آپ ﷺنے اپنے آباء کو تلوارسے اوربچوں کو بھوک سے مارڈالاہے ۔ تواللہ تعالی نے یہ آیت کریمہ {وَلَقَدْ أَخَذْناہُمْ بِالْعَذابِ فَمَا اسْتَکانُوا لِرَبِّہِمْ وَما یَتَضَرَّعُونَ}نازل فرمائی ۔ (دلائل النبوۃ :أحمد بن الحسین بن علی بن موسی الخُسْرَوْجِردی الخراسانی، أبو بکر البیہقی (۴:۸۲)امام قاضی ثناء اللہ حنفی رحمہ اللہ تعالی کی تقریردلپذیر
{وَالْبَلَدُ الطَّیِّبُ یَخْرُجُ نَبَاتُہُ بِإِذْنِ رَبِّہِ وَالَّذِی خَبُثَ لَا یَخْرُجُ إِلَّا نَکِدًا کَذَلِکَ نُصَرِّفُ الْآیَاتِ لِقَوْمٍ یَشْکُرُونَ}لما کانت الآیات السابقۃ لبیان کمال قدرتہ تعالی علی ما أراد وعموم فیضہ ورحمتہ عقبہا بہذہ الایۃ لبیان تفاوت الاستعدادات فی قبول الفیض من المبدأ الفیاض لیظہر ان النقصان انما ہو من جہۃ المتأثر کما ان نبات الأرض یتفاوت بتفاوت استعداد الأرض مع اتحاد فیضان المطر کذلک تصریف الآیات ونصب الدلایل وبعث الرسل وان کان رحمۃ للعالمین عامۃ لکن الانتفاع بہا مختص بالمؤمنین الشاکرین فانہم لحسن استعداداتہم المستفادۃ من ظلال اسم اللہ الہادی یہتدون بہا ویتفکرون فیہا ویعتبرون بہا روی الشیخان فی الصحیحین عن ابی موسی قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم مثل ما بعثنی اللہ بہ من الہدی والعلم کمثل الغیث الکثیر أصاب أرضا فکانت منہا طایفۃ طیبۃ قبلت الماء فانبتت الکلاء والعشب الکثیر وکانت منہا أجادب أمسکت الماء فنفع اللہ بہا الناس فشربوا وسقوا وزرعوا وأصاب منہا طایفۃ اخری انما ہی قیعان لا تمسک ماء ولا تنبت کلأ فذلک مثل من فقہ فی دین اللہ ونفعہ ما بعثنی اللہ بہ فعلم وعلم ومثل من لم یرفع بذلک راسا ولم یقبل ہدی اللہ الذی أرسلت بہ. ترجمہ :حضرت قاضی ثناء اللہ مظہری پانی پتی حنفی رحمہ اللہ تعالی اس آیت کریمہ {وَالْبَلَدُ الطَّیِّبُ یَخْرُجُ نَبَاتُہُ بِإِذْنِ رَبِّہِ وَالَّذِی خَبُثَ لَا یَخْرُجُ إِلَّا نَکِدًا کَذَلِکَ نُصَرِّفُ الْآیَاتِ لِقَوْمٍ یَشْکُرُونَ}کے تحت فرماتے ہیں کہ سابقہ آیات میں قدرت کاملہ اوررحمت شاملہ کااظہارکیاگیا، اس آیت کریمہ میں یہ بتایاکہ رب فیاض کی رحمت اگرچہ عمومی ہے لیکن قبول کرنے والوں میں قابلیت کاتفاوت قبول ِ فیض کی کمی قابلیت کی کمی کی وجہ سے ہوتی ہے ، جیسے بارش کافیضان ایک جیساہے لیکن زمین کی صلاحیت وقابلیت کے تفاوت کی وجہ سے پیداوارمیں کمی بیشی ہوتی ہے ، اسی طرح اظہارآیات ، بیان ِ دلائل اوربعث انبیاء کرام علیہم السلام اگرچہ سب انسانوں میں عمومی رحمت ہے مگراس میں رحمت سے بہرہ اندوز ہوناصرف ان اہل ایمان کی خصوصیت ہے جوان نعمتوں کے قدردان ہیں ، جن کی فطری صلاحیتیں اللہ تعالی کے اسم ہادی کے پرتوسے مستفاد ہیں اورانہی صلاحیتوں اورقابلیتوں کے ذریعے سے وہ ہدایت یاب ہوتے ہیں ، دلائل پرغورکرتے ہیں اورآیات کریمہ سے سبق حاصل کرتے ہیں ۔ حضرت سیدناابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا:اللہ تعالی نے جوہدایت اورعلم مجھے عطافرماکربھیجاہے اس کی مثال کثیربارش کی طرح ہے جوزمین کے کسی اچھے ٹکڑے پربرستی ہے تووہ خطہ اسے قبول کرلیتاہے جس سے سبزہ اورگھاس خوب پیداہوتاہے اورکسی خشک اوربنجرزمین پربرستی ہے تووہ بھی اپنے احاطہ میں پانی کوروک لیتاہے مگرپی نہیں سکتا، اس لئے اس میں سبزہ پیدانہیں ہوتابلکہ آدمی اس کو پیتے اورجانوروں کو پلاتے اورکھیتوں کو سینچتے ہیں اورایک تیسرے ٹکڑے پربرستی ہے جوچٹیل سخت میدان ہوتاہے وہ نہ تواپنے احاطے میں پانی کوروکتاہے کہ دوسروں کو فائدہ ہواورنہ خود پیتاہے کہ سبزہ پیداہوجائے ، پس یہ مثال ہے ان لوگوں کی جودینی سمجھ رکھتے ہیں ، میری لائی ہوئی ہدایت سے نفع اٹھاتے ہیں ، خود سمجھتے ہیں اوردوسروں کو سکھاتے ہیں اوران لوگوں کی جومیرے بیان شریف کی طرف قطعاًتوجہ نہیں کرتے اورخداتعالی کی عطاکی ہوئی ہدایت کو قبول نہیں کرتے ۔ ( التفسیر المظہری:المظہری، محمد ثناء اللہ(۳:۳۶۶) امام احمدرضاحنفی الماتریدی رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں حضور رحمۃ اللعٰلمین ﷺ رحمۃ اللعٰلمین ہیں قبل ارشاد {واغلظ علیہم} (کافروں اور منافقوں پر سختی کرو۔ ت) انواع انواع کے نرمی وعفو وصفح فرمائے خود اموال غنیمت میں مؤلفۃ القلوب کاایک سہم مقرر تھا مگر اس ارشاد کریم پر عفو وصفح کو نسخ فرمادیا اور مؤلفۃ القلوب کاسہم ساقط ہوگیا۔{ وقل الحق من ربکم فمن شاء فلیؤمن ومن شاء فلیکفر انا اعتدنا للظلمین نارا احاط بہم سراد قہا } ترجمہ کنزالایمان: فرمادیجئے حق تمھارے رب کی طرف سے ہے لہذا جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر اختیار کرے یقینا ہم نے ظالموں کے لئے ایک ایسی آگ تیار کر رکھی ہے کہ جس کی دیواروں نے انھیں گھیرے میں لے رکھا ہے۔ سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے افضل الاساتذہ امام عطاء بن ابی رباح رضی اللہ تعالٰی عنہ جن کی نسبت امام فرماتے ہیں میں نے ان سے افضل کسی کو نہ دیکھا وہ آیت کریمہ{ واغلظ علیہم}کے تحت فرماتے ہیں : نسخت ھذہ الایٰۃ کل شیء من العقود والصفح۔ ترجمہ اس آیت کریمہ نے ہر قسم کی معافی اور درگزر کرنے کو منسوخ کردیا ہے۔ (فتاوی رضویہ لامام احمدرضاحنفی الماتریدی ( ۲۱: ۲۳۶)تلواراوررحمت ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں
پہلی دلیل عَن ابْن جریج رَضِی اللہ عَنہُ فِی قَوْلہ:(وَالَّذین إِذا أَصَابَہُم الْبَغی)قَالَ:ہَذَا مُحَمَّد صلی اللہ عَلَیْہِ وَسلم ظُلم وبغی عَلَیْہِ وَکذب (ہم ینتصرون)قَالَ:ینتصر مُحَمَّد صلی اللہ عَلَیْہِ وَسلم بِالسَّیْفِ۔ ترجمہ :حضرت سیدناامام ابن جریج رحمہ اللہ تعالی سے مروی ہے کہ یہ آیت کریمہ{وَالَّذین إِذا أَصَابَہُم الْبَغی} کامصداق حضورتاجدارختم نبوتﷺہیں ،آپﷺپرظلم کیاگیا، آپ ﷺکے ساتھ بغاوت کی گئی اورآپ ﷺکی گستاخیاں کی گئیں ، حضورتاجدارختم نبوتﷺتلوار سے بدلہ لیتے ہیں۔ (الدر المنثور:عبد الرحمن بن أبی بکر، جلال الدین السیوطی (۷:۳۵۸) اس سے معلوم ہواکہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکاگستاخوں سے بدلہ لینارحمت کے منافی نہیں ہے ۔ دوسری دلیل {وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا ہُوَ شِفَآء ٌ وَّ رَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ وَ لَا یَزِیْدُ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا خَسَارًا}(سورۃ الاسراء : ۸۲) ترجمہ کنزالایمان: اور ہم قرآن میں اتارتے ہیں وہ چیز جو ایمان والوں کے لیے شفا اور رحمت ہے اور اس سے ظالموں کانقصان ہی بڑھتا ہے۔ جیساکہ رب تعالی نے قرآن کریم کو رحمت اورشفافرمایاباوجود اس کے کہ قرآن کریم جہاد کاحکم دیتاہے مگرکوئی بھی شخص قرآن کریم کے شفااوررحمت ہونے کاانکاری نہیں ہے سوائے ان کے جوملحدین ہیں ۔ تیسری دلیل عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أُتِیَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اضْرِبُوہُ قَالَ:فَمِنَّا الضَّارِبُ بِیَدِہِ، وَمِنَّا الضَّارِبُ بِنَعْلِہِ، وَالضَّارِبُ بِثَوْبِہِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ:أَخْزَاکَ اللَّہُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:لَا تَقُولُوا ہَکَذَا، لَا تُعِینُوا عَلَیْہِ الشَّیْطَانَ، وَلَکِنْ قُولُوا:رَحِمَکَ اللَّہُ ۔ ترجمہ :حضرت سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے پاس ایک آدمی لایاگیاجس نے شراب نوشی کی تھی ، حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایاکہ اسے مارو!چنانچہ ہم میںسے کسی نے اسے ہاتھوں سے مارا، کسی نے جوتوں سے اورکسی نے کپڑے سے مارا، جب وہ واپس چلاگیاتوکسی نے اس سے کہا:اللہ تعالی تجھے رسواکرے ۔ حضورتاجدارختم نبوت ﷺ نے فرمایا:یہ بات نہ کہو!اس کے معاملے میں شیطان کی مددنہ کروبلکہ یوں کہوکہ اللہ تعالی تم پرحم فرمائے۔ (صحیح البخاری: محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۸:۱۵۸) جس شخص پرحدشرعی نافذ فرمائی اس کے ساتھ حضورتاجدارختم نبوتﷺکی رحمت کامعاملہ ملاحظہ فرمائیں کہ کیسے آپﷺاس کادفاع فرمارہے ہیں ۔ چوتھی دلیل حَدَّثَنَا عَطَاء ُ بْنُ أَبِی مَیْمُونَۃَ، قَالَ:وَلَا أَعْلَمُہُ إِلَّا عَنْ أَنَسٍ قَالَ:مَا رُفِعَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَمْرٌ فِیہِ الْقِصَاصُ، إِلَّا أَمَرَ فِیہِ بِالْعَفْوِ۔ ترجمہ :حضرت سیدناانس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکے سامنے جب بھی قصاص کاکوئی بھی معاملہ پیش ہواتوآپ ﷺنے اس میں معاف کرنے کی ترغیب ہی دی ۔ (مسند الإمام أحمد بن حنبل:أبو عبد اللہ أحمد بن محمد بن حنبل بن ہلال بن أسد الشیبانی (۲۰:۴۳۰) پانچویں دلیل عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ قُرَّۃَ، عَنْ أَبِیہِ، قَالَ:قُلْتُ:یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی لِآخُذَ الشَّاۃَ لِأَذْبَحَہَا فَأَرْحَمَہَا، قَالَ:وَالشَّاۃُ إِنْ رَحِمْتُہَا رَحِمَکَ اللَّہُ۔ ترجمہ :حضرت سیدناقرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے حضورتاجدارختم نبوتﷺکی بارگاہ میں عرض کی : یارسول اللہ ﷺ!میں جب بکری کو ذبح کرتاہوں تومجھے اس پرترس آتاہے ، حضورتاجدارختم نبوتﷺنے دوبارفرمایا: اگرتم بکری پررحم کھاتے ہوتواللہ تعالی تم پررحم فرمائے گا۔ (المستدرک علی الصحیحین:أبو عبد اللہ الحاکم محمد بن عبد اللہ بن محمد بن حمدویہ بن نُعیم(۳:۶۷۶) اس سے معلوم ہواکہ گلے پرچھری رکھنابھی رحمت ہے اوراس کوذبح کرنارحمت کے منافی نہیں ہے ۔ چھٹی دلیل عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ:ثِنْتَانِ حَفِظْتُہُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ کَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَی کُلِّ شَیْء ٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَۃَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ، وَلْیُحِدَّ أَحَدُکُمْ شَفْرَتَہُ، وَلْیُرِحْ ذَبِیحَتَہُ۔ ترجمہ :حضرت سیدناشدادبن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے حضورتاجدارختم نبوت ﷺسے دوچیزیں یادکی ہیں کہ اللہ تعالی نے ہرچیزپرمہربانی کرنے کاحکم لکھ دیاہے ، اس لئے جب تم میدان جنگ میں کسی کافرکوقتل کروتومہربانی کے ساتھ قتل کرواورجب کسی جانورکوذبح کروتواچھے طریقے کے ساتھ ذبح کرواورتمھیں اپنی چھری تیزاوراپنے جانورکوآرام پہنچاناچاہیئے۔ (مسند الإمام أحمد بن حنبل:أبو عبد اللہ أحمد بن محمد بن حنبل بن ہلال بن أسد الشیبانی (۲۸:۳۳۶) ساتویں دلیل عَنْ أَبِی أُمَیَّۃَ الْمَخْزُومِیِّ:أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أُتِیَ بِلِصٍّ، فَاعْتَرَفَ اعْتِرافًا وَلَمْ یُوجَدْ مَعَہُ مَتَاعٌ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:مَا إِخَالُکَ سَرَقْتَ؟ قَالَ:بَلَی مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلَاثًا قَالَ:فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:اقْطَعُوہُ، ثُمَّ جِیئُوا بِہِ قَالَ:فَقَطَعُوہُ، ثُمَّ جَاء ُوا بِہِ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:قُلْ:أَسْتَغْفِرُ اللَّہَ وَأَتُوبُ إِلَیْہِ قَالَ:أَسْتَغْفِرُ اللَّہَ وَأَتُوبُ إِلَیْہِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:اللَّہُمَّ تُبْ عَلَیْہِ۔ ترجمہ :حضرت سیدناابوامیہ مخزومی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکے پاس ایک چورکولایاگیا، جس نے اعتراف جرم کرلیا، لیکن اس کے پاس سے سامان نہیں مل سکا، آپﷺنے اس سے فرمایاکہ میراخیال نہیں کہ تم نے چوری کی ہوگی ، اس نے دوتین مرتبہ عرض کی : کیوں نہیں ۔ آپﷺنے فرمایا: اس کاہاتھ کاٹ کرمیرے پاس واپس لائو، چنانچہ لوگ اس کاہاتھ کاٹ کرحضورتاجدارختم نبوتﷺکے پاس واپس لائے ،حضورتاجدارختم نبوتﷺنے اس سے فرمایا:ـیوں کہو!{اَسْتَغْفِرُ اللَّہَ وَأَتُوبُ إِلَیْہ}اس نے اسی طرح کہہ دیا، {اَسْتَغْفِرُ اللَّہَ وَأَتُوبُ إِلَیْہ}حضورتاجدارختم نبوتﷺنے دعاکی کہ اے اللہ !اس کی توبہ قبول فرما۔ (مسند الإمام أحمد بن حنبل:أبو عبد اللہ أحمد بن محمد بن حنبل بن ہلال بن أسد الشیبانی (۳۷:۱۸۴)صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رحماء بھی اورہاتھوں میں تلواربھی
{قَاتِلُوہُمْ یُعَذِّبْہُمُ اللَّہُ بِأَیْدِیکُمْ وَیُخْزِہِمْ وَیَنْصُرْکُمْ عَلَیْہِمْ وَیَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُؤْمِنِینَ (۱۴){وَیُذْہِبْ غَیْظَ قُلُوبِہِمْ وَیَتُوبُ اللَّہُ عَلَی مَنْ یَشَاء ُ وَاللَّہُ عَلِیمٌ حَکِیم} (۱۵)ہَذِہِ الْآیَۃُ تَدُلُّ عَلَی کَوْنِ الصَّحَابَۃِ مُؤْمِنِینَ فِی عِلْمِ اللَّہ تَعَالَی إِیمَانًا حَقِیقِیًّا لِأَنَّہَا تَدُلُّ عَلَی أَنَّ قُلُوبَہُمْ کَانَتْ مَمْلُوء َۃً مِنَ الْغَضَبِ، وَمِنَ الْحَمِیَّۃِ لِأَجْلِ الدِّینِ، وَمِنَ الرَّغْبَۃِ الشَّدِیدَۃِ فِی عُلُوِّ دِینِ الْإِسْلَامِ، وَہَذِہِ الْأَحْوَالُ لَا تَحْصُلُ إِلَّا فِی قُلُوبِ المؤمنین.وَاعْلَمْ أَنَّ وَصْفَ اللَّہ لَہُمْ بِذَلِکَ لَا یَنْفِی کَوْنَہُمْ مَوْصُوفِینَ بِالرَّحْمَۃِ وَالرَّأْفَۃِ، فَإِنَّہُ تَعَالَی قَالَ فِی صِفَتِہِمْ أَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ أَعِزَّۃٍ عَلَی الْکافِرِینَ (الْمَائِدَۃِ:۵۴)وَقَالَ أَیْضًا:أَشِدَّاء ُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَماء ُ بَیْنَہُمْ (الْفَتْحِ:۲۹)۔ ترجمہ:امام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی ان دوآیات کریمہ کے تحت فرماتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ اس پردلالت کررہی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اللہ تعالی کے علم میں ایمان حقیقی کے ساتھ اہل ایمان ہیں ، کیونکہ یہ آیت کریمہ اس پردلالت کررہی ہے کہ ان کے دل دین کی وجہ سے حمیت وغضب سے پرتھے اوران کے دلوں میں دین اسلام کی بلندی کی شدیدرغبت تھی اوریہ احوال اہل ایمان کے دلوں میں ہی پیداہوتے ہیں ، واضح رہے کہ اللہ تعالی نے ان کایہ وصف بیان کیااوران کی رحمت اورنرمی سے موصوف کے منافی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالی نے ان کی یہ شان بیان کی ہے { أَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ أَعِزَّۃٍ عَلَی الْکافِرِینَ }(اہل ایمان مسلمانوں پرنرم اورکافروں پرسخت ہیں ) اوریہ بھی اللہ تعالی نے فرمایاہے کہ{اَشِدَّاء ُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَماء ُ بَیْنَہُم}( کافروں پرسخت ہیں اورآپس میں نرم دل ہیں ) (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۱۶:۷) اب اس پرکوئی بھی شخص اعتراض نہیں کرسکتاکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جن کو اللہ تعالی نے رحماء قراردیااوروہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں کہ تلواریں لے کرقیصروکسری کے دروازوں پرجاپہنچے۔اب کوئی بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے{ أَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِین}کاانکارکرسکتاہے اورنہ ہی { أَعِزَّۃٍ عَلَی الْکافِرِینَ }کاانکارکرسکتاہے ۔اسی طرح کوئی بھی شخص{اشِدَّاء ُ عَلَی الْکُفَّارِ}کاانکارکرسکتاہے اورنہ ہی { رُحَماء ُ بَیْنَہُم}کاانکارکرسکتاہے ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ جس طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی رحمت اہل ایمان کے لئے ہے اورکافروں کے لئے نہیں کیونکہ کافروںنے خودکوایمان سے محروم کرکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی رحمت سے حصہ ساقط کرلیااسی طرح حضورتاجدارختم نبوتﷺکی رحمت بھی اہل ایمان کے لئے ہے کیونکہ کافروں نے بھی ایمان نہ لاکرخود کو حضورتاجدارختم نبوتﷺکی رحمت سے محروم کردیاہے اگرچہ یک گونہ رحمت کفارکوبھی حاصل ہے کہ وہ بھی حضورتاجدارختم نبوتﷺکی برکت سے جڑکاٹنے والے عذاب سے محفوظ ہیں۔حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی تمام جنگیں رحمت تھیں
قرآن کریم فرماتا ہے کہ دنیا سے فتنہ کے خاتمے تک جنگ کرو یعنی وہ لوگ جو قرآن کی پیروی کرتے ہیں ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ جہاں تک ان کی طاقت ہے جنگ جاری رکھیں ۔ یہاں تک کہ دنیا سے فتنہ ختم ہوجائے۔ یہ دنیا کے لئے ایک رحمت ہے، اور ایک ر حمت ہے ہرقوم کے لئے، جس ملک میں وہ رہ رہی ہے۔ حضورتاجدارختم نبوتﷺکی تمام جنگیںدنیا کے لئے رحمت تھیں ،یہاں تک کہ کافروں کے لئے بھی رحمت تھیں ۔ دنیا کے لئے اس لئے رحمت تھیں اگر دنیا میں فتنہ نہ ہوتو پوری دنیا میں سکون ہوگا۔ چنانچہ وہ لوگ جو غرور و تکبر کرتے ہیں جنگ کے ذریعہ ان کو سدھارا جائے تو یہ اس قوم کے لئے رحمت ہے جس پر اس مستکبر نے غلبہ پایا ہے ۔ جوبدبخت خود کورحمت سے دورکرلے؟ گستاخ بد بخت لوگ دراصل حضورتاجدارختم نبوتﷺ کی لائی رہنمائی سے محرومی کا غصہ نکالنا چاہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانیت کی طرف رحمتہ للعالمین ﷺکو مبعوث کیا تھا اور سب کو ان کا اُمتی بنایا تھا، لیکن ان کی شامت ِاعمال کہ یہ سعادت ِایمان سے محروم رہے۔ مستند احادیث کی روسے دیگر انبیا ء کرام علیہم السلام پر حضورتاجدارختم نبوتﷺ کو یہ خصوصیت عطا کی گئی ہے کہ آپﷺ کو جملہ انسانیت تک رہتی دنیا کے لئے مبعوث کیا گیا ہے اور کچھ لوگوں کو اگر آپ کی اُمت ِاجابت میں قبول ہونے کی سعادت میسر نہیں آئی، تو بہر حال آپﷺ کی اُمت ِدعوت میں ضرور شامل ہیں۔ ایسے اُمتیوں کا اللہ تعالی کی منتخب کردہ محبوب ہستیﷺ کی توہین کرنا ایسا سیاہ کارنامہ ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے، کم ہے؟ ف: اس مسئلہ پراہل ذوق ہماری کتاب ’’اذان حجاز ‘‘کامطالعہ کریں ، اس میں ہم نے سیرحاصل بحث کی ہے ۔ بحمداللہ تعالی سورۃ الانبیاء کااختتام ۲۵ذوالحج ۱۴۴۱ھ/۱۶اگست ۲۰۲۰ء) بروزاتواروقت ۹ بج کر۱۷ منٹ پرہوا)
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9