Fatwa #2557
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیرسورۃالحج آیت ۱۱۔ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّعْبُدُ اللہَ عَلٰی حَرْفٍ فَاِنْ اَصَابَہ خَیْرُ اطْمَاَنَّ بِہٖ وَ اِنْ اَصَابَتْہُ فِتْنَۃُ انْقَلَبَ عَلٰی وَجْہِہٖ
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
4,525
سوال (Question):
تفسیرسورۃالحج آیت ۱۱۔ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّعْبُدُ اللہَ عَلٰی حَرْفٍ فَاِنْ اَصَابَہ خَیْرُ اطْمَاَنَّ بِہٖ وَ اِنْ اَصَابَتْہُ فِتْنَۃُ انْقَلَبَ عَلٰی وَجْہِہٖ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
لبرل وسیکولراسلام سے نالاں کیوں ؟
{وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّعْبُدُ اللہَ عَلٰی حَرْفٍ فَاِنْ اَصَابَہ خَیْرُ اطْمَاَنَّ بِہٖ وَ اِنْ اَصَابَتْہُ فِتْنَۃُ انْقَلَبَ عَلٰی وَجْہِہٖ خَسِرَ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃَ ذٰلِکَ ہُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ }(۱۱) ترجمہ کنزالایمان:اور کچھ آدمی اللہ کی بندگی ایک کنارہ پر کرتے ہیں پھر اگر انہیں کوئی بھلائی بن گئی جب تو چین سے ہیں اور جب کوئی جانچ آ پڑی منہ کے بل پلٹ گئے دنیا اور آخرت دونوں کا گھاٹا یہی ہے صریح نقصان۔ ترجمہ ضیاء الایمان: اور کوئی آدمی وہ ہے جو اللہ تعالی کی عبادت ایک کنارے پرہو کر کرتاہے پھر اگر اسے کوئی خیر پہنچے تو وہ اس پرمطمئن ہوجاتاہے اور اگر اسے کوئی مصیبت آجائے تو منہ کے بل(کفرکی طرف) پلٹ جاتا ہے۔ ایسا آدمی دنیا اور آخرت دونوں میں نقصان اٹھاتا ہے۔یہی کھلا نقصان ہے۔ شان نزول کے متعلق پہلاقول قولہ عزّ وجلّ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَعْبُدُ اللَّہَ عَلی حَرْفٍ الآیۃ نزلت فی قوم من الأعراب کانوا یقدمون المدینۃ مہاجرین من بادیتہم فکان أحدہم إذا قدم المدینۃ فصح بہا جسمہ ونتجت بہا فرسہ مہرا وولدت امرأتہ غلاما وکثر مالہ، قال ہذا دین حسن وقد أصبت فیہ خیرا واطمأن لہ وإن صابہ مرض وولدت امرأتہ جاریۃ ولم تلدفرسہ وقل مالہ قال ما أصبت منذ دخلت فی ہذا الدین إلّا شرا فینقلب عن دینہ وذلک ہو الفتنۃ فأنزل اللہ تعالی وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَعْبُدُ اللَّہَ عَلی حَرْفٍ أی علی شک۔وہذا مثل لکونہم علی قلق واضطراب فی دینہم علی سکینۃ وطمأنینۃ ولو عبدوا اللہ بالشکر علی السراء والصبر علی الضراء لم یکونوا علی حرف وَإِنْ أَصابَتْہُ فِتْنَۃٌ أی بلاء فی جسمہ وضیق فی معیشتہ انْقَلَبَ عَلی وَجْہِہِ أی ارتد ورجع علی عقبہ إلی الوجہ الذی کان علیہ من الکفر خَسِرَ الدُّنْیا وَالْآخِرَۃَ أی خسر فی الدنیا العز والکرامۃ ولا یبقی دمہ ومالہ مصونا. ترجمہ :امام علاء الدین علی بن محمد بن إبراہیم بن عمر الشیحی المعروف بالخازن المتوفی : ۷۴۱ھ) رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں کہ یہ آ یت دیہات میں رہنے والے عربوں کی ایک جماعت کے بارے میں نازل ہوئی جو اَطراف سے آ کر مدینہ میں داخل ہوتے اور اسلام لاتے تھے ، ان کی حالت یہ تھی کہ اگر وہ خوب تندرست رہے اور ان کی دولت بڑھی اور ان کے ہاں بیٹا ہوا تب تو کہتے تھے کہ اسلام اچھا دین ہے، اس میں آ کر ہمیں فائدہ ہوا اور اگر کوئی بات اپنی امید کے خلاف پیش آئی، مثلاً بیمار ہو گئے ،یا ان کے ہاں لڑکی پیداہو گئی، یا مال کی کمی ہوئی تو کہتے تھے :جب سے ہم اس دین میں داخل ہوئے ہیں ہمیں نقصان ہی ہوا اور اس کے بعد دین سے پھر جاتے تھے ۔ ان کے بارے میں بتایا گیا کہ انہیں ابھی دین میں ثابت قدمی حاصل ہی نہیں ہوئی اور یہ دین کے معاملے میں اس طرح شک و تَرَدُّد میں رہتے ہیں جس طرح پہاڑ کے کنارے کھڑا ہوا شخص حرکت کی حالت میں ہوتا ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ اگر انہیں کوئی بھلائی پہنچے تو مطمئن ہوجاتے ہیں اور اگر انہیں کوئی آزمائش آجائے اور کسی قسم کی سختی پیش آئے تو مُرتد ہو کر منہ کے بل پلٹ جاتے اور کفر کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ ایسے لوگ دنیا اور آخرت دونوں میں نقصان اٹھاتے ہیں۔ دنیا کا نقصان تو یہ ہے کہ جو ان کی امیدیں تھیں وہ پوری نہ ہوئیں اور مرتد ہو جانے کی وجہ سے ان کا خون مباح ہوا اور آخرت کا نقصان ہمیشہ کا عذاب ہے اوریہی کھلا نقصان ہے۔ (تفسیرالخازن:علاء الدین علی بن محمد بن إبراہیم بن عمر الشیحی المعروف بالخازن (۳:۲۴۹) شان نزول کے متعلق دوسراقول قَالَ أَبُو سَعِیدٍ الْخُدْرِیُّ: أَسْلَمَ رَجُلٌ مِنَ الْیَہُودِ فَذَہَبَ بَصَرُہُ وَمَالُہُ وَوَلَدُہُ فَقَالَ یَا رَسُولَ اللَّہ أَقِلْنِی فَإِنِّی لَمْ أُصِبْ مِنْ دِینِی ہَذَا خَیْرًا، ذَہَبَ بَصَرِی وَوَلَدِی وَمَالِی فَقَالَ صَلَّی اللَّہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:إِنَّ الْإِسْلَامَ لَا یُقَالُ، إِنَّ الْإِسْلَامَ لَیَسْبِکُ کَمَا تَسْبِکُ النَّارُ خَبَثَ الْحَدِیدِ وَالذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ فَنَزَلَتْ ہَذِہِ الْآیَۃُ. ترجمہ :حضرت سیدناابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہودیوں میں سے ایک شخص نے اسلام قبول کرلیاتواس کی نظراوراس کامال ضائع ہوگیا، اس نے اسلام سے بری فال پکڑی،وہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکی بارگاہ شریفہ میں آیااورکہنے لگاکہ میری بیعت واپس کردیں، آپ ﷺنے فرمایا: اسلام کے بارے میں ایسانہیں کہاجاتا،ا س نے کہاکہ مجھے اپنے دین میں خیرنہیں پہنچی ، میری آنکھیں ، میرامال اورمیری اولاد چلی گئی، آپ ﷺنے فرمایا: اے یہودی!اسلام تومردوں کو پگھلادیتاہے جیسے آ گ لوہے ، چاندی اورسونے کاکھوٹ دورکردیتی ہے تواللہ تعالی نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی ۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۲۳:۲۰۸) شان نزول کے متعلق تیسراقول وذلک أن شیبۃ ابن رَبِیعَۃَ قَالَ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ یَظْہَرَ أَمْرُہُ:ادْعُ لِی رَبَّکَ أَنْ یَرْزُقَنِی مَالًا وَإِبِلًاوخیلا وولدا حتی أو من بِکَ وَأَعْدِلَ إِلَی دِینِکَ، فَدَعَا لَہُ فَرَزَقَہُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ مَا تَمَنَّی، ثُمَّ أَرَادَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ فِتْنَتَہُ وَاخْتِبَارَہُ وَہُوَ أَعْلَمُ بِہِ فَأَخَذَ مِنْہُ مَا کَانَ رَزَقَہُ بَعْدَ أَنْ أَسْلَمَ فَارْتَدَّ عَنِ الْإِسْلَامِ فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی فِیہِ:وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَعْبُدُ اللَّہَ عَلی حَرْفٍ۔ ترجمہ :حضورتاجدارختم نبوتﷺکے امرکے غلبہ سے پہلے شیبہ بن ربیعہ نے حضورتاجدارختم نبوتﷺکی بارگاہ اقدس میں عرض کی : میرے لئے اللہ تعالی سے دعاکریں کہ وہ مجھے مال ، اونٹ ، گھوڑے اوراولاد عطاکرے حتی کہ میں آپﷺپرایمان لائوں اورآپ ﷺکے دین کی طرف مائل ہوجائوں ، آپﷺنے ا س کے لئے دعاکی تواللہ تعالی نے اسے اتناہی رزق عطاکیاجتنی اس کی خواہش تھی ، پھراللہ تعالی نے اسے آزمانے کاارادہ فرمایاحالانکہ وہ اس کے آئندہ کے حالات جانتاتھا، اللہ تعالی نے اس کے اسلام قبول کرلینے کے بعد اس کامال اس سے واپس لے لیاتووہ مرتدہوگیاتواللہ تعالی نے اس کے بارے میں یہ آیت کریمہ نازل فرمائی ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۱۲:۱۷) شان نزول کے متعلق چوتھاقول عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ(وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَعْبُدُ اللَّہَ عَلَی حَرْفٍ)قَالَ:کَانَ الرَّجُلُ یَقدم الْمَدِینَۃَ، فَإِنْ وَلَدَتِ امْرَأَتُہُ غُلَامًا، ونُتِجَت خیلُہ، قَالَ:ہَذَا دِینٌ صَالِحٌوَإِنْ لَمْ تَلِدِ امْرَأَتُہُ، وَلَمْ تُنتَج خَیْلُہُ قَالَ:ہَذَا دِینٌ سُوء ٌ ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ {وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَعْبُدُ اللَّہَ عَلی حَرْفٍ}اگرکوئی شخص مدینہ منورہ آتاتھا، اگراس کی بیوی بچہ جنم دیتی اوراس کی گھوڑیاں بچے جنم دیتیں توکہتاکہ یہ دین توبڑاصالح ہے ، اگراس کی بیوی بیٹی جنم دیتی اوراس کی گھوڑیاں مادہ جنم دیتیں توکہتاکہ یہ دین تواچھانہیں ہے ۔ (نظم الدرر فی تناسب الآیات والسور:إبراہیم بن عمر البقاعی (۱۳:۱۸) شان نزول کے متعلق پانچواں قول وَقَالَ ابْنُ زَیْدٍ وَغَیْرُہُ: نَزَلَتْ فِی الْمُنَافِقِینَ۔ ترجمہ :حضرت سیدناامام ابن زیدرحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ منافقین کے بارے میں نازل ہوئی کہ وہ لوگ اگراسلام لانے کے بعدراحت پاتے توکہتے تھے کہ اسلام بڑاصالح دین ہے اوراگرانہیں کوئی دکھ پہنچتاتوکہتے کہ یہ تکالیف اسلام قبول کرنے کی وحی سے لاحق ہوئی ہیں۔ (الأساس فی التفسیر:سعید حوّی (۷:۳۵۳۵)معارف ومسائل
(۱)اس سے معلوم ہواکہ انسان دین ِاسلام کوحق سمجھ کرقبول کرے اور پھر اس پرڈٹ جائے چاہے نفع ہو یا نقصان، ہرحال میں خوش رہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کاشکرا دا کرتا رہے کہ اس نے اسے اسلام جیسی عظیم لازوال دولت سے نوازا۔ اسی طرح نماز و عبادت وغیرہ کو دُنْیَوی نفع ونقصان کے ساتھ نہ تولا جائے بلکہ عبادت کی حیثیت ہی سے کیا جائے۔(تفسیرصراط الجنان ( ۶: ۴۱۰) (۲) منافقین اسلام کو ظاہری طورپرمالی نفع اوراپنے تحفظ کے لئے قبول کرلیتے ہیں اورجن منافع کی ان کو امیدہوتی ہے اگروہ حاصل نہ ہوں توپھراسلام سے پھرجاتے ہیں یہ لوگ درحقیقت اسلام اوراحکام اسلام پرایمان ہی نہیں رکھتے اورحق کے طالب ہی نہیں ہیں اوریہی لوگ ہی توخودغرض ہوتے ہیں جن کاایک ظاہری قدم اسلام میں اوردوسراباطنی قدم اورخیالات دائرہ کفرمیں ہوتاہے ، یہ لوگ تذبذب کاشکارہوتے ہیں ، ایسے لوگوں کی دنیاوآخرت دونوں تباہ ہوجاتی ہیں ۔بعینہ یہی حال ہمارے ملک کے لبرل وسیکولر طبقہ کاہے ، وہ بھی اسلام کانام مجبوراًلیتے ہیں مگراندرسے وہ کفراوراہل کفرپرمرنے والے ہیں اوراپنے تئیں اسلام کو اپنی ناکامیوں کاقصوروارٹھہراتے ہیں ۔ (۳)خوشی اور غم ہماری زندگی کا حصہ ہیں۔ خوشی اور غم کے ذریعے اللہ تعالیٰ ہمیں آزماتاہے کہ کہیں میرا بندہ مجھے بھول تو نہیں گیا یا کسی عارضی تکلیف پر میری ناشکری تو نہیں کررہا۔ تکلیف اگر آپہنچی ہے تو اسے شکوہ و شکایت سے تو حل نہیں کیا جاسکتا۔ کوئی حکمت عملی بنا کر اور اللہ تعالیٰ سے مانگ کر ہی مصائب کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ اسلا م سے ہی بدظن ہونے سے اوردوسروں کو اپنے دکھڑے سنانے سے ہماری تکلیف تو ختم نہیں ہوگی الٹا لوگوں کی نظر میں ہماری وقعت کم ہوجائے گی اورانسان اللہ تعالی کے دین کے بارے میں یااللہ تعالی کے بارے میں کوئی جملہ بول کرعنداللہ کافربھی ہوسکتاہے ۔ صبر آپ کو ایک مضبوط انسان بناتا ہے۔ لہٰذا دوسروں کو موقع فراہم کرنے کی بجائے تکالیف پر صبر کریں کیونکہ ہر ایک دکھ کے بعد دو سکھ ہمارے منتظر ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا محبوب بندہ بننے کے لیے ضروری ہے کہ ہم صبر و شکر کرنا سیکھیں اور ہمیشہ ہماری زبان اللہ کے ذکر سے تر رہے۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9