Fatwa #2559
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیر سورۃ الحج آیت ۱۸۔ اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللہَ یَسْجُدُ لَہ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ وَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُوْمُ وَالْجِبَالُ
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
4,737
سوال (Question):
تفسیر سورۃ الحج آیت ۱۸۔ اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللہَ یَسْجُدُ لَہ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ وَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُوْمُ وَالْجِبَالُ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
حضورتاجدارختم نبوتﷺکے گستاخ ہی اصل ذلیل وخسیس ہیں
{اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللہَ یَسْجُدُ لَہ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ وَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُوْمُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّ وَآبُّ وَکَثِیْرٌمِّنَ النَّاسِ وَکَثِیْرٌ حَقَّ عَلَیْہِ الْعَذَابُ وَمَنْ یُّہِنِ اللہُ فَمَا لَہ مِنْ مُّکْرِمٍ اِنَّ اللہَ یَفْعَلُ مَا یَشَآء ُ}(۱۸) ترجمہ کنزالایمان:کیا تم نے نہ دیکھا کہ اللہ کے لئے سجدہ کرتے ہیں وہ جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور سورج اور چاند اور تارے اور پہاڑ اور درخت اور چوپائے اور بہت آدمی اور بہت وہ ہیں جن پر عذاب مقرر ہوچکا اور جسے اللہ ذلیل کرے اسے کوئی عزت دینے والا نہیں بیشک اللہ جو چاہے کرے۔ ترجمہ ضیاء الایمان : کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو آسمانوں میں ہیں اورجو زمین میں ہیں اور سورج اور چاند اورستارے اور تمام پہاڑ اور درخت اور چوپائے اور بہت سے آدمی یہ سب اللہ تعالی کو سجدہ کرتے ہیںاور بہت سے لوگ وہ بھی ہیں جن پر عذاب مقرر ہوچکا ہے اور جسے اللہ تعالی ذلیل کرے تواسے کوئی عزت دینے والا نہیں، بیشک اللہ تعالی جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ جوعبادت کی توہین کرے وہ ذلیل ہوتاہے وقال ابن عباس:إن من تَہَاوَنَ بِعِبَادَۃِ اللَّہِ صَارَ إِلَی النَّارِ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ بے شک جو شخص اللہ تعالی کی عبادت کی توہین کرتاہے اللہ تعالی اسے دوزخ میں داخل فرماتاہے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۱۲:۲۴)اصل بدبختی کفرکی ہے
(وَمَنْ یُہِنِ اللَّہُ فَما لَہُ مِنْ مُکْرِمٍ)أَیْ مَنْ أَہَانَہُ بِالشَّقَاء ِ وَالْکُفْرِ لَا یَقْدِرُ أَحَدٌ عَلَی دَفْعِ الْہَوَانِ عنہ۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی اس آیت کریمہ{وَمَنْ یُہِنِ اللَّہُ فَما لَہُ مِنْ مُکْرِمٍ}کے تحت فرماتے ہیں کہ جس شخص کواللہ تعالی بدبختی اورکفرکے ساتھ ذلیل کرتاہے اس سے کوئی بھی ذلت کودورنہیں کرسکتا۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۱۲:۲۴)حضورتاجدارختم نبوتﷺکے دشمن ہی ذلیل ورسواہوں گے
وقیل لیظہر عز المؤمنین فیما بین ذلک لان الأشیاء تعرف بأضدادہا والشیء إذا قل وجودہ عز ألا تری ان المعدن لعزتہ صار مظہرا للاسم العزیز وقیل لیری الحبیب قدرتہ بحفظہ بین أعدائہ الکثیرۃ کما حفظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہو واحد واہل الأرض اعداد کلہ لیتبین ان النصر من عند اللہ والقلیل یغلب الکثیر بعونہ وعنایتہ ومن أکرمہ بالغلبۃ لا یہان بالخذلان البتۃ فان قیل ان رحمتہ سبقت وغلبت غضبہ فیقتضی الأمر ان یکون اہل الرحمۃ اکثر من اہل الغضب واہل الغضب تسع وتسعون من کل الف واحد یؤخذ للجنۃ کما ورد فی الصحیح وورد (اہل الرحمۃ کشعرۃ بیضاء فی جلد الثور الأسود)قلنا ہذہ الکثرۃ بالنسبۃ الی بنی آدم واما اہل الرحمۃ بالنسبۃ إلیہم والی الملائکۃ والحور والغلمان فاکثر من اہل الغضب والتحقیق ان المقصود من النشآت کلہا ظہور الإنسان الکامل وہو واحد کالالف فالناس عشرۃ اجزاء فتسعۃالأعشار کفار والواحد مؤمنون ثم المؤمنون عشرۃ فتسعۃ عصاۃ وواحد مطیعون ثم المطیعون عشرۃ فتسعۃ اہل الزہد وواحد اہل العشق ثم اہل العشق عشرۃ فتسعۃ اہل البرزخ والفرقۃ وواحد اہل المنزل والوصلۃ فہو أعز من الکبریت الأحمر والمسک الأذفر وہو الذی أکرمہ اللہ بکرامۃ لم یکرم بہا أحدا من العالمین فلو ان اہل العالم اجتمعوا علی اہانتہ ما قدروا اذلہ العز الحقیقی لانہ أذل نفسہ بالفناء فی اللہ وہو مقام السجود الحقیقی فاعزہ اللہ ورفعہ ألا تری الی قولہ (من عادی لی ولیا فقد بارزنی بالمحاربۃ) ای من اغضب وأذی وأہان واحدا من أولیائی فقد ظہر وخرج بالمحاربۃ لی واللہ ینصر أولیاء ہ فیکون المبارز مقہورا مہانا بحیث لا یوجد لہ ناصر ومکرم۔ ترجمہ :مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ کفارکی تخلیق صرف اہل ایمان کی عزت افزائی کے لئے ہوئی ہے کیونکہ قاعدہ ہے کہ{ تعرف الاشیاء باضدادہا}اشیاء اپنی نقیض سے جانی جاتی ہیں ،نیز یہ بھی قاعدہ ہے کہ شئی جونہی قلیل ترہوگی عزیزترہوگی ، اسی وجہ سے معدنیات اللہ تعالی کے اسم عزیزکامظہرہیں کہ وہ اشیاء میں عزیزترین یعنی کم یاب ہیں ۔ اللہ تعالی نے اہل ایمان کو قلیل اس لئے بنایاتاکہ اپنی قدرت دکھائے کہ وہ کریم کیساقادرہے کہ دشمن کی صفوں میں بھی ان کی حفاظت فرمارہاہے جیسے اپنے حبیب کریمﷺکوکفارکے درمیان میں محفوظ فرمایا، باوجود اس کے کہ وہ کثیردرکثیراورحضورتاجدارختم نبوتﷺتنہاء تھے ، فتح ونصرت اللہ تعالی کی جانب سے ہوتی ہے ، بہت سے مواقع پرقلیل کثیرپرغالب آجاتے ہیں ، یہ صرف اورصرف اللہ تعالی کی مہربانی اوراعانت ہوتی ہے ، وہ اپنے لطف وکرم سے جس کی مددفرمائے اسے کوئی بھی رسوا نہیں کرسکتا۔ سوال : حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالی کی رحمت اس کے غضب پرسبقت اورغلبہ رکھتی ہے ، اس حدیث شریف کامقتضی یہ ہے کہ اہل رحمت اہل غضب سے بہت زیادہ ہوں گے ، حالانکہ معاملہ اس کے برعکس ہے کہ قیامت کے دن ایک ہزاراہل غضب کے مقابلے میں صرف ایک ہی اہل رحمت ہوگا،نیزیہ بھی واردہے کہ اہل رحمت اہل غضب کی نسبت ایسے ہیں جیسے ایک سفیدبال سیاہ بالوںمیں ہوتاہے ۔ جواب : یہ کثرت صرف بانسبت بنی آدم کے ہے ، ورگرنہ غورسے دیکھاجائے تواہل رحمت کاتوشمارہی نہیں ہے ، مثلاًاب اہل رحمت بنی آدم کے ساتھ ملائکہ کرام علیہم السلام اورحوروغلمان کو ملائیے اورپھراہل غضب کے ساتھ مقابلہ کریں تواہل غضب اہل رحمت کے مقابلے میں کروڑواں حصہ بھی نہیں بنتے ۔ محققین کہتے ہیں کہ جملہ موجودات کی تخلیق سے مقصود صرف اورصرف انسان کامل کاظہورہے اوروہ صرف ایک ہے ، اسی نسبت سے قلت اورشرافت کو بزرگی ہے ، اسے یوں سمجھئے کہ کل انسان اگرایک ہزارہوں توان میں سے نوحصے کافرہوں گے اورایک حصہ اہل ایمان ، پھراہل ایمان کو دس حصوں میں منقسم کیاجائے توان میں نوحصے گناہگاروں کے اورایک حصہ اہل اطاعت کاہوگا، پھراہل اطاعت کو دس حصوں میں تقسیم کیاجائے توان میں نوحصے اہل زہدکے ہوں گے اورایک حصہ اہل عشق کا، پھراہل عشق کو دس حصوں میں تقسیم کیاجائے توان میں نوحصے اہل برزخ اوراہل فرقت ہوں گے توایک اہل منزل اوراہل وصل ہوگااوروہی درحقیقت کبریت احمراورمشک ازفرسے بھی زیادہ عزیزہے ۔ یہی وہ محبوب انسان ہوتاہے جسے اللہ تعالی اپنی عزت ومکرمت سے معززبناتاہے ، اس کاثانی کوئی نہیں ہوتا، ایسے محبوب کی اہانت پرچاہے تمام عالم جتنامرضی زورلگائے تب بھی اس کابال بیکانہیں ہوگاکیونکہ اسی کوحقیقی عزت نصیب ہوئی ہے ، اس لئے کہ اس نے اپنے آپ کو فنافی اللہ بنالیاہے اورسجودحقیقی کایہی مقام ہے ، اسے اللہ تعالی نے معززاورمرتفع بنایاہے ۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ جوکسی بھی ولی اللہ کے ساتھ دشمنی کرتاہے اوراسے ایذادیتاہے اوراس کی توہین کرتاہے گویاکہ وہ اللہ تعالی کے خلاف میدان جنگ میں نکل آیاہے اوراللہ تعالی صرف اورصرف اپنے محبوبوں کی مددفرماتاہے ۔ اس لئے کہ جو بھی اللہ تعالی کے پاک لوگوں کامقابلہ کرتاہے وہ رسواہوتاہے، نہ کوئی اس کی مددکرتاہے اورنہ ہی اسے کہیں عزت نصیب ہوتی ہے ۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۶:۱۷)
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9