Fatwa #2562
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیر سورۃ الحج آیت ۳۹۔۴۰۔ اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّہُمْ ظُلِمُوْا وَ اِنَّ اللہَ عَلٰی نَصْرِہِمْ لَقَدِیْرُ
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
5,055
سوال (Question):
تفسیر سورۃ الحج آیت ۳۹۔۴۰۔ اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّہُمْ ظُلِمُوْا وَ اِنَّ اللہَ عَلٰی نَصْرِہِمْ لَقَدِیْرُ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
جہاد ہی اقامت دین کاواحد ذریعہ ہے
{اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّہُمْ ظُلِمُوْا وَ اِنَّ اللہَ عَلٰی نَصْرِہِمْ لَقَدِیْرُ}(۳۹)الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِہِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ اِلَّآ اَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللہُ وَلَوْلَا دَفْعُ اللہِ النَّاسَ بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ لَّہُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَ بِیَعٌ وَّصَلَوٰتٌ وَّ مَسٰجِدُ یُذْکَرُ فِیْہَا اسْمُ اللہِ کَثِیْرًا وَ لَیَنْصُرَنَّ اللہُ مَنْ یَّنْصُرُہ اِنَّ اللہَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ }(۴۰) ترجمہ کنزالایمان:پروانگی عطا ہوئی انہیں جن سے کافر لڑتے ہیں اس بنا پر کہ ان پر ظلم ہوا اور بیشک اللہ اُن کی مدد کرنے پر ضرور قادر ہے۔وہ جو اپنے گھروں سے ناحق نکالے گئے صرف اتنی بات پر کہ انہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے اور اللہ اگر آدمیوں میں ایک کو دوسرے سے دفع نہ فرماتا تو ضرور ڈھادی جاتیں خانقاہیں اور گرجا اور کلیسا اور مسجدیں جن میں اللہ کا بکثرت نام لیا جاتا ہے اور بیشک اللہ ضرور مدد فرمائے گا اس کی جو اس کے دین کی مدد کرے گا بیشک ضرور اللہ قدرت والا غالب ہے۔ ترجمہ ضیاء الایمان:جن سے کافرلڑتے تھے انہیں اجازت دیدی گئی ہے کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا ہے اور بیشک اللہ تعالی ان کی مدد کرنے پر ضرور قادر ہے۔وہ جنہیں ان کے گھروں سے ناحق نکال دیا گیا صرف اتنی بات پر کہ انہوں نے کہا :ہمارا رب اللہ تعالی ہے اور اگر اللہ تعالی آدمیوں میں ایک کو دوسرے سے دفع نہ فرماتا تو ضرور عبادت گاہوں اور گرجوں اور کلیسائوں اور مسجدوں کو گرادیا جاتاجن میں اللہ تعالی کاکثرت سے ذکر کیا جاتا ہے اور بیشک اللہ تعالی اس کی ضرور مدد فرمائے گا جو اس کے دین کی مدد کرے گا، بیشک اللہ تعالی ضرورقوت والا، غالب ہے۔ شان نزول وہم اصحاب النبی علیہ السلام کان المشرکون یؤذونہم وکانوا یأتونہ علیہ السلام بین مضروب ومشجوج ویتظلمون الیہ فیقول علیہ السلام لہم (اصبروا فانی لم اومر بالقتال)حتی ہاجروا فنزلت وہی أول آیۃ نزلت فی القتال بعد ما نہی عنہ فی نیف وسبعین آیۃ وَإِنَّ اللَّہَ عَلی نَصْرِہِمْ لَقَدِیرٌ وعد للمؤمنین بالنصر والتغلیب علی المشرکین بعد ما وعد بدفع اذاہم وتخلیصہم من أیدیہم ۔ ترجمہ :کفار ِمکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ہاتھ اور زبان سے شدید اِیذائیں دیتے اور تکلیفیں پہنچاتے رہتے تھے اورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم حضورتاجدارختم نبوتﷺکے پاس اس حال میں پہنچتے تھے کہ کسی کا سر پھٹا ہے ،کسی کا ہاتھ ٹوٹا ہے اورکسی کا پاؤں بندھا ہوا ہے۔ روزانہ اس قسم کی شکایتیں بارگاہِ اقدس میں پہنچتی تھیں اورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم حضورتاجدارختم نبوتﷺکے دربار میں کفار کے ظلم و ستم کی فریادیں کیا کرتے اور آپ ﷺیہ فرما دیا کرتے کہ صبر کرو، مجھے ابھی جہاد کا حکم نہیں دیا گیا ہے۔ جب حضورتاجدارختم نبوتﷺنے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی ،تب یہ آیت نازل ہوئی اور یہ وہ پہلی آیت ہے جس میں کفار کے ساتھ جنگ کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ مشرکین کی طرف سے جن مسلمانوں سے لڑائی کی جاتی ہے انہیں مشرکین کے ساتھ جہاد کرنے کی اجازت دیدی گئی ہے کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا ہے اور بیشک اللہ تعالیٰ اِن مسلمانوں کی مدد کرنے پر ضرور قادر ہے۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۶:۳۹)جہاد کے متعلق سب سے پہلی آیت کریمہ
أُذِنَ لِلَّذِینَ یُقاتَلُونَ بِأَنَّہُمْ ظُلِمُواوَہَذَا نَاسِخٌ لِکُلِّ مَا فِی الْقُرْآنِ مِنْ إِعْرَاضٍ وَتَرْکِ صَفْحٍ وَہِیَ أَوَّلُ آیَۃٍ نَزَلَتْ فِی الْقِتَالِ۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمد بن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ {أُذِنَ لِلَّذِینَ یُقاتَلُونَ بِأَنَّہُمْ ظُلِمُوا}قرآن کریم میں موجود ہراس آیت کریمہ کو منسوخ کرنے والی ہے جس جس میں کافروں کومعاف کرنے اوران سے درگزرکرنے کاحکم دیاگیاہے اوریہی وہ پہلی آیت کریمہ ہے جس میں اللہ تعالی نے اہل اسلام کو جہاد کرنے کی اجازت عطافرمائی ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۱۲:۶۷) اللہ تعالی نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مددکاوعدہ پورافرمایا قَوْلُہُ تَعَالَی:أُذِنَ لِلَّذِینَ یُقاتَلُونَ قِیلَ:ہَذَا بَیَانُ قَوْلِہِ:إِنَّ اللَّہَ یُدافِعُ عَنِ الَّذِینَ آمَنُواأَیْ یَدْفَعُ عَنْہُمْ غَوَائِلَ الْکُفَّارِ بِأَنْ یُبِیحَ لہم القتال وینصرہم وفیۃ إضمار، أی أُذِنَ لِلَّذِینَ یَصْلُحُونَ لِلْقِتَالِ فِی الْقِتَالِ، فَحُذِفَ لِدَلَالَۃِ الْکَلَامِ عَلَی الْمَحْذُوفِ وَقَالَ الضَّحَّاکُ:اسْتَأْذَنَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی قِتَالِ الْکُفَّارِ إِذْ آذَوْہُمْ بِمَکَّۃَ، فَأَنْزَلَ اللَّہُ۔ ترجمہ :اللہ تعالی کایہ فرمان شریف {أُذِنَ لِلَّذِینَ یُقاتَلُونَ بِأَنَّہُمْ ظُلِمُوا}اس آیت کریمہ {إِنَّ اللَّہَ یُدافِعُ عَنِ الَّذِینَ آمَنُوا}کابیان ہے یعنی اللہ تعالی کافروں کے گروہوں کومومنین سے اس طرح دورکرے گاکہ انہیں کفارکے ساتھ جہاد کرنے کی اجازت دے دے گااورپھرجہاد میں ان کی مددفرمائے گا، اس میں اضمارہے یعنی اجازت دے دی گئی جنگ کی جوجنگ کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ حضرت سیدناضحاک رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کفار کے خلاف جنگ کرنے کی اجازت طلب کی تھی کیونکہ کفارِ مکہ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بہت زیادہ اذیتیں دی تھیں تواللہ تعالی نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۱۲:۶۷) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو توحیدکی محبت کی وجہ سے بے گھرکیاگیا وَہُوَ قَوْلُ أَبِی إِسْحَاقَ الزَّجَّاجِ، وَالْمَعْنَی عِنْدَہُ:الَّذِینَ أُخْرِجُوا مِنْ دِیَارِہِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ إِلَّا بِأَنْ یَقُولُوا رَبُّنَا اللَّہُ، أَیْ أُخْرِجُوا بِتَوْحِیدِہِمْ، أَخْرَجَہُمْ أَہْلُ الْأَوْثَانِ۔ ترجمہ :امام ابواسحق الزجاج رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ کامعنی یہ ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ناحق ان کے گھروں سے نکالاگیامگریہ کہ انہوںنے کہا: ہمارارب اللہ تعالی ہے یعنی وہ توحیدکی وجہ سے اپنے گھروں سے نکالے گئے اوران کو ان کے گھروںسے نکالنے والے بت پرست تھے۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۱۲:۶۷)جہاد کی اجازت کیوں ملی؟
قَالَ عُلَمَاؤُنَا رَحِمَہُمُ اللَّہُ :کَانَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَبْلَ بَیْعَۃِ الْعَقَبَۃِ لَمْ یُؤْذَنْ لَہُ فِی الْحَرْبِ، وَلَمْ تَحِلَّ لَہُ الدِّمَاء ُ، إنَّمَا یُؤْمَرُ بِالدُّعَاء ِ إلَی اللَّہِ، وَالصَّبْرِ عَلَی الْأَذَی، وَالصَّفْحِ عَنْ الْجَاہِلِ (مُدَّۃَ عَشَرَۃَ أَعْوَامٍ، لِإِقَامَۃِ حُجَّۃِ اللَّہِ تَعَالَی عَلَیْہِمْ، وَوَفَاء ً بِوَعْدِہِ الَّذِی امْتَنَّ بِہِ بِفَضْلِہِ فِی قَوْلِہِ:(وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِینَ حَتَّی نَبْعَثَ رَسُولا) (الإسراء :۱۵)فَاسْتَمَرَّ الطُّغْیَانُ وَمَا اسْتَدَلُّوا بِوَاضِحِ الْبُرْہَانِ)وَکَانَتْ قُرَیْشٌ قَدْ اضْطَہَدَتْ مَنْ اتَّبَعَہُ مِنْ قَوْمِہِ مِنْ الْمُہَاجِرِینَ حَتَّی فَتَنُوہُمْ عَنْ دِینِہِمْ، وَنَفَوْہُمْ عَنْ بِلَادِہِمْ، فَہُمْ بَیْنَ مَفْتُونٍ فِی دِینِہِ، وَمُعَذِّبٍ، وَبَیْنَ ہَارِبٍ فِی الْبِلَادِ مُغَرَّبٍ، فَمِنْہُمْ مَنْ فَرَّ إلَی أَرْضِ الْحَبَشَۃِ، وَمِنْہُمْ مَنْ خَرَجَ إلَی الْمَدِینَۃِ، وَمِنْہُمْ مَنْ صَبَرَ عَلَی الْأَذَی، فَلَمَّا عَتَتْ قُرَیْشٌ عَلَی اللَّہِ، وَرَدُّوا أَمْرَہُ وَکَرَامَتَہُ، وَکَذَّبُوا نَبِیَّہُ، وَعَذَّبُوا مَنْ آمَنَ بِہِ وَعَبَدَہُ وَوَحَّدَہُ، وَصَدَّقَ نَبِیَّہُ، وَاعْتَصَمَ بِدِینِہِ، أَذِنَ اللَّہُ لِرَسُولِہِ فِی الْقِتَالِ وَالِامْتِنَاعِ وَالِانْتِصَارِ مِمَّنْ ظَلَمَہُمْ وَبَغَی عَلَیْہِمْ؛ فَکَانَتْ أَوَّلُ آیَۃٍ أُنْزِلَتْ فِی إذْنِہِ لَہُ بِالْحَرْبِ وَإِحْلَالِہِ لَہُ الدِّمَاء َ: (أُذِنَ لِلَّذِینَ یُقَاتَلُونَ بِأَنَّہُمْ ظُلِمُوا)(الحج:۳۰) إلَی قَوْلِہِ:الْأُمُورِ ) ترجمہ :الامام القاضی محمد بن عبد اللہ أبو بکر بن العربی المعافری الاشبیلی المالکی المتوفی : ۵۴۳ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ہمارے علماء کرام فرماتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکوبیعت عقبہ سے پہلے جہاد کی اجازت نہیں دی گئی تھی اورنہ ان کے لئے خون حلال کئے گئے تھے ، انہیں اللہ تعالی کی بارگاہ میں دعاکرنے اوراذیت پرصبرکرنے ، جاہل لوگوں سے درگزرکرنے کادس سال تک حکم دیاگیاتھاتاکہ کافروں پراللہ تعالی کی حجت قائم ہوجائے اوروہ وعدہ بھی وفاہوجائے جو اس نے اپنے فضل سے احسان کرنے کاکیاہے ، فرمایاکہ {وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِینَ حَتَّی نَبْعَثَ رَسُولاً}لیکن لوگ سرکشی میں قائم رہے اورواضح برہان سے انہوںنے استدلال نہیں کیا، قریش نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پرظلم وتشددکیاجنہوںنے آپ ﷺکی قوم سے آپ ﷺکی اتباع کی حتی کہ انہیں فتنوں میں مبتلاء کیاگیااورانہیں ان کے شہروں سے نکال دیاگیا، پس بعض لوگ حبشہ چلے گئے ، بعض مدینہ منورہ چلے گئے بعض اذیتوں پرصبرکرتے رہے ، جب قریش نے اللہ تعالی کے سامنے سرکشی کی اوراس کے حکم شریف کو رد کردیااورحضورتاجدارختم نبوتﷺکوجھوٹاکہنے لگے اورجوایمان لائے اوراس کی وحدانیت کااقرارکیااوراس کی عباد ت کی اورحضورتاجدارختم نبوتﷺکی تصدیق کی اوراپنے دین کی حفاظت کی انہیں ان مشرکوں نے بہت زیادہ تکالیف پہنچائیں تواللہ تعالی نے اپنے حبیب کریمﷺکوجنگ کرنے ، دفاع کرنے اوراپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کابدلہ لینے کی اجازت عطافرمائی ۔اوریہ حکم شریف نازل فرمایا{أُذِنَ لِلَّذِینَ یُقاتَلُونَ بِأَنَّہُمْ ظُلِمُوا}الی آخرہ۔ (أحکام القرآن:القاضی محمد بن عبد اللہ أبو بکر بن العربی المعافری الاشبیلی المالکی(۳:۳۰۱)اگرمجاہدنہ ہوتے تو کافرمراکزاسلام کو گرادیتے
ولولا دفع اللہ الناس بعضہم ببعض لہدمت صوامع وبیع وصلوات ومساجد یذکر فیہا اسم اللہ کثیرا ولینصرن اللہ من ینصرہ إن اللہ لقوی عزیز )قال الإمام عبدالإلہ الحلیمی فی شعب الإیمان ,” أخبر سبحانہ أن لولا دفع اللہ المشرکین بالمؤمنین وتسلیط المسلمین علیہم ودفاعہم عن بیضۃ الإسلام وکسر شوکتہم وتفریق جمعہم لغلب الشرک علی الأرض وإرتفعت الدیانۃ فثبت بہذا أن سبب بقاء ہذا الدین واتساعہ ہو الجہاد فی سبیل اللہ وماکان بہذہ المنزلۃ أولی من أن یکون من أرکان الإیمان وأن یکون المؤمنون من الحرص علیہ فی أقصی الحدود والنہایات” إنتہی کلامہ رحمہ اللہ تعالی۔ ترجمہ :الامام ابوعبداللہ الحسین بن الحسن الحلیمی المتوفی :۴۰۳ھ) رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت مبارکہ میں یہ بات کھول کر سمجھاد ی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ (مجاہد )مسلمانوں کے ذریعے سے مشرکوں کو نہ روکے اور مسلمانوں کو اس بات کی قوت عطا نہ فرمائے کہ وہ مشرکوں اور کافروں سے مرکز اسلام کا دفاع کرسکیں اور کافروں کی طاقت کو توڑ سکیں اور ان کی قوت کو پارہ پارہ کر سکیں تو شرک زمین پر چھا جائے گا اور دین تباہ و برباد ہوجائے گا۔پس یہ بات ثابت ہوگئی کہ جہاد ہی دین کی بقا اور دینداروں کی اپنی عبادات میں آزادی کا واحد راستہ ہے جب جہاد کا یہ مقام ہے تو وہ اس بات کا حقدار ہے کہ وہ ارکان ایمان میں سے ایک رکن ہو اور مسلمانوں کو چاہئے کہ جس قدر ہو سکے وہ اپنے اندر جہاد کرنے کی حد درجہ حرص پیدا کریں۔ (المنہاج فی شعب الایمان لامام ابوعبداللہ الحسین بن الحسن الحلیمی (۳:۴۶۶)دین کادفاع جہاد کی وجہ سے ہے
أَیْ لَوْلَا الْقِتَالُ وَالْجِہَادُ لَتَغَلَّبَ عَلَی الْحَقِّ فِی کُلِّ أُمَّۃٍ فَمَنِ اسْتَبْشَعَ مِنَ النَّصَارَی وَالصَّابِئِینَ الْجِہَادَ فَہُوَ مُنَاقِضٌ لِمَذْہَبِہِ، إِذْ لَوْلَا الْقِتَالُ لَمَا بَقِیَ الدِّینُ الَّذِی یُذَبُّ عَنْہُ وَأَیْضًا ہَذِہِ الْمَوَاضِعُ الَّتِی اتُّخِذَتْ قَبْلَ تَحْرِیفِہِمْ وَتَبْدِیلِہِمْ۔ ترجمہ :الشیخ صلاح عبد الفتاح الخالدی لکھتے ہیں کہ اگرقتال اورجہاد نہ ہوتاتوہرامت میں حق پرغلبہ کیاجاتاجونصاری اورصائبین جہاد کو پسندنہیں کرتے وہ اپنے مذہب کے ہی مخالف بن گئے ہیں کیونکہ اگرجہاد نہ ہوتودین جس کادفاع کیاجاتاہے وہ باقی نہ رہتااوریہ جگہیں بھی نہ رہتیں جوان کی تحریف اورتبدیلی سے پہلے اسلام کے ذریعے ان کی ملل کے نسخ سے پہلے بنائی گئی تھیں۔ (القرآن ونقض مطاعن الرہبان:د صلاح عبد الفتاح الخالدی:۴۳۱) یہ بات بڑی قابل غورہے کہ نصرانی اپنے دین کے دشمن ہی جہاد کے نہ ہونے کی وجہ سے ہوئے ہیں اورآج بھی اگرجہاد نہیں ہورہاتواس کی وجہ سے بہت سے مسائل کھڑے ہوگئے اوراتنے فتنے سراٹھانے لگے ہیں کہ الامان الحفیظ !مساجد کاقیام بھی جہاد کے ساتھ ہے
لَوْلَا مَا شَرَعَہُ اللَّہُ تَعَالَی لِلْأَنْبِیَاء ِ وَالْمُؤْمِنِینَ مِنْ قِتَالِ الْأَعْدَاء ِ، لَاسْتَوْلَی أَہْلُ الشِّرْکِ وَعَطَّلُوا مَا بَیَّنَتْہُ أَرْبَابُ الدِّیَانَاتِ مِنْ مَوَاضِعِ الْعِبَادَاتِ، وَلَکِنَّہُ دَفَعَ بِأَنْ أَوْجَبَ الْقِتَالَ لِیَتَفَرَّغَ أَہْلُ الدِّینِ لِلْعِبَادَۃِ.فَالْجِہَادُ أَمْرٌ مُتَقَدِّمٌ فِی الْأُمَمِ، وَبِہِ صَلَحَتِ الشَّرَائِعُ وَاجْتَمَعَتِ الْمُتَعَبَّدَاتُ۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اگراللہ تعالی اپنے انبیاء کرام علیہم السلام اوراہل ایمان کو جہاد کاحکم نہ دیتاتومشرکین غالب آجاتے اوران کی عبادت گاہیں تباہ وبربادکردیتے جواہل توحیدنے قائم کی تھیں، مگراللہ تعالی نے اہل شرک کو اس کام سے روک دیااوراس طرح کہ اس نے جہادکوفرض فرمایاتاکہ اہل توحیدآسانی کے ساتھ عبادت کرسکیں ، پس جہاد کاحکم پہلی امتوں میں بھی تھااوراسی کے ذریعے سے تمام شریعتوں کافائدہ ہواکیونکہ جہاد رکاوٹوں کو دورکرنے والاہے اوراسی کی وجہ سے عبادت گاہیں محفوظ رہیں۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۱۲:۶۷)
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9