Fatwa #2563
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیر سورہ حج آیت ۴۵۔ فَکَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَۃٍ اَہْلَکْنٰہَا وَہِیَ ظَالِمَۃٌ فَہِیَ خَاوِیَۃٌ عَلٰی عُرُوْشِہَاوَ بِئْرٍ مُّعَطَّلَۃٍ وَّ قَصْرٍ مَّشِیْدٍ
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
5,161
سوال (Question):
تفسیر سورہ حج آیت ۴۵۔ فَکَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَۃٍ اَہْلَکْنٰہَا وَہِیَ ظَالِمَۃٌ فَہِیَ خَاوِیَۃٌ عَلٰی عُرُوْشِہَاوَ بِئْرٍ مُّعَطَّلَۃٍ وَّ قَصْرٍ مَّشِیْدٍ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
حضر ت سیدناحنظلہ بن صفوان علیہ السلام کوشہیدکرنے والے گستاخوں کاانجام
{فَکَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَۃٍ اَہْلَکْنٰہَا وَہِیَ ظَالِمَۃٌ فَہِیَ خَاوِیَۃٌ عَلٰی عُرُوْشِہَاوَ بِئْرٍ مُّعَطَّلَۃٍ وَّ قَصْرٍ مَّشِیْدٍ}(۴۵) ترجمہ کنزالایمان:اور کتنی ہی بستیاں ہم نے کھپادیں کہ وہ ستم گار تھیں تو اب وہ اپنی چھتوں پر ڈھئی پڑی ہیں اور کتنے کنویں بیکار پڑے اور کتنے محل گچ کئے ہوئے۔ ترجمہ ضیاء الایمان : اور کتنی ہی بستیوں کو ہم نے ہلاک کردیا اور وہ ظلم کرنے والی تھیں تو اب وہ اپنی چھتوں کے بل پر گری پڑی ہیں اور کتنے کنویں بیکار پڑے ہوئے اور کتنے اونچے اونچے مضبوط محلات ہم نے برباد کردئیے۔حضرت سیدناحنظلہ علیہ السلام کامکمل قصہ
قال الامام السہیلی قیل ان البئر الرس وکانت بعدن لامۃ من بقایا ثمود وکان لہم ملک عدل حسن السیرۃ یقال لہ العلس وکانت البئر تسقی المدینۃ کلہا وبادیتہا وجمیع ما فیہا من الدواب والغنم والبقر وغیر ذلک لانہا کانت لہا بکرات کثیرۃ منصوبۃ علیہا ورجال کثیرون موکلون بہا وابازن بالنون من رخام وہی تشبہ الحیاض کثیرۃ تملأ للناس واخر للدواب واخر للغنم والبقر والہوام یستقون علیہا باللیل والنہار یتداولون ولم یکن لہم ماء غیرہ فطال عمر الملک فلما جاء ہ الموت طلی بدہن لتبقی صورتہ ولا یتغیر وکذلک یفعلون إذا مات منہم المیت وکان ممن یکرم علیہم فلما مات شق ذلک علیہم ورأوا ان أمرہم قد فسد وضجوا جمیعا بالبکاء واغتنمہا الشیطان منہم فدخل فی جثۃ الملک بعد موتہ بایام کثیرۃ فکلمہم فقال انی لم امت ولکنی قد تغیبت عنکم حتی اری صنیعکم بعدی ففرحوا أشد الفرح وامر خاصتہ ان یضربوا لہ حجابا بینہ وبینہم یکلمہم من ورائہ کیلا یعرف الموت فی صورتہ ووجہہ فنصبوہ صنما من وراء حجاب لا یأکل ولا یشرب وأخبرہم انہ لا یموت ابدا وانہ الہ لہم وذلک کلہ یتکلم بہ الشیطان علی لسانہ فصدق کثیر منہم وارتاب بعضہم وکان المؤمن المکذب منہم اقل من المصدق فکلما تکلم ناصح منہم زجر وقہر فاتفقوا علی عبادتہ فبعث اللہ تعالی لہم نبیا کان الوحی ینزل علیہ فی النوم دون الیقظۃ وکان اسمہ حنظلۃ بن صفوان فاعلمہم ان الصورۃ صنم لا روح لہ وان الشیطان فیہ وقد أضلہم وان اللہ تعالی لا یتمثل بالحق وان الملک لا یجوز ان یکون شریکا للہ وأوعدہم ونصحہم وحذرہم سطوۃ ربہم ونقمتہ فآذوہ وعادوہ حتی قتلوہ وطرحوہ فی بئر فعند ذلک حلت علیہم النقمۃ فباتوا شباعا رواء من الماء وأصبحوا والبئر قد غار ماؤہا وتعطل رشاؤہا فصاحوا بأجمعہم وضج النساء والولدان وضجت البہائم عطشا حتی عمہم الموت وشملہم الہلاک وخلفہم فی ارضہم السباع وفی منازلہم الثعالب والضباع وتبدلت بہم جناتہم وأموالہم بالسدر والشوک شوک العضاۃ والقتاد فلا تسمع فیہا الا عزیف الجن وزئیر الأسد نعوذ باللہ من سطواتہ ومن الإصرار علی ما یوجب نقماتہ ۔ ترجمہ :امام عبدالرحمن بن عبداللہ السہیلی المتوفی : ۵۰۸ھ) رحمہ اللہ تعالی نے اپنی کتاب التعریف والاعلام میں قرآن پاک کی آیت {وَبِئْرٍ مُّعَطَّلَۃٍ وَقَصْرٍ مَّشِید}ٍ کی تفسیر میں لکھا کہ رس ہی وہ کنواں ہے جواس آیت میں مذکور ہ ہے اوریہ کنواں عدن میں تھا،اوران لوگوں کی ملکیت میں تھا۔ جوہلاک شدہ فوج ثمود کے باقی ماندہ افرادتھے ۔ا س قوم کابادشاہ علس بہت ہی خوش خلق اورمنصف مزاج تھا۔اس کنویں سے پورا شہر بمع مال مویشی کے سیراب ہوتاتھا۔ یہ کنواں ان کے لیے بہت بابرکت تھااور بہت سے لوگ اس کی پاسبانی کے لیے مامورتھے ۔اس پرسنگ رخام کے بہت بڑے برتن رکھے ہوئے تھے ، جوحوضوں کاکام دیتے تھے اورلوگ ان میں پانی بھربھر کراپنے گھروں کولے جاتے تھے ،غرض کہ یہ کنواں ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑاانعام تھا۔اس کنویں کے علاوہ ان کے یہاں اورکوئی چشمہ وغیرہ نہیں تھا۔ اس بادشاہ کی عمرطویل ہوئی جب وہ فوت ہوا تواس کی قوم نے اس کی لاش پر ایک قسم کاروغن ملاتاکہ وہ گلنے اورسڑنے سے محفوظ رہے ،کیونکہ ان لوگوں کایہ دستورتھا کہ جب کبھی ان کے یہاں کوئی مقررشخص مرجاتا تویہ لوگ اس کی لاش اس طریقے سے محفوظ رکھتے تھے ۔اس بادشاہ کامرنابہت شاق گزرا، کیونکہ اس بادشاہ کے مرنے کے بعد ان کاانتظام سلطنت درہم برہم ہونے لگا۔ چنانچہ سلطنت کی یہ حالت دیکھ کروہ قوم رونے پیٹنے لگے ۔ چنانچہ شیطان ملعون کو اس قوم کو گمراہ کرنے کااچھاموقع ہاتھ آیا ۔شیطان مردود بادشاہ کی لاش میں حلول کرکے کہنے لگا کہ میں مرانہیں ہوں اورنہ کبھی مروں گا بلکہ میرے اورتمہارے درمیان ایک ظاہری حجاب ہوگیاہے تاکہ میں دیکھوں کہ تم لوگ میری عدم مو جودگی میں کیاکرتے ہو ؟ یہ آواز سن کر بہت خوش ہوئے اوران میں سے جولوگ ممتازتھے ان کے اشارے سے انہوں نے بادشاہ اورلوگوں کے درمیان ایک پردہ ڈال دیا تاکہ وہ پردے کے پیچھے ان سے بولتارہے ۔اس کے بعد قوم نے ا س بادشاہ کا ایک بت بناکر پردے کے پیچھے لاش کے متصل رکھ دیااورپھر اس بت سے یہ آواز آنے لگی کہ میں نہ کھاتاہوں اورنہ پیتاہوں اورنہ کبھی مجھ کوموت آئے گی ۔ا ورمیں ہی تمہارا معبود ہوں ۔ مگر یہ سب شرارت شیطان کی تھی جوبادشاہ کے مردہ جسم میں حلول کرگیاتھا اوربادشاہ کے لہجے میں ان سے ہم کلام ہوتاتھا۔اس طرح کافی لوگوں کی تعداداس کی تصدیق کرنے لگی کچھ ایسے بھی تھے جواس کوشیطانی ڈھونگ کہتے تھے ۔مگران لوگوں کی تعداد قلیل تھی ۔مگر جب کوئی بندہ مومن ان کوسمجھاتاکہ یہ شیطانی ڈھونگ ہے آپ اس کی تصدیق نہ کریں۔اس پر یہ لوگ اس کوڈانٹ ڈپٹ کرخاموش کرادیتے تھے ،چنانچہ دھیرے دھیرے اس قوم میں کفراور بت پرستی کاآغاز ہوااورجب اس قوم کی سرکشی حد سے بڑھ گئی توحق تعالیٰ نے ان کی طرف ایک نبی کومبعوث فرمایا۔ جس پرخواب میں وحی نازل ہوتی تھی ۔ یہ نبی حضرت سیدنا حضرت حنظلہ بن صفوان علیہ السلام تھے ۔ آپ نے اس قوم کوبہت سمجھایا کہ اس بت کے اندر روح نہیں ہے بلکہ شیطان اس کے اندرسے بولتاہے اوریہ حق تعالیٰ کسی مخلوق میں ظاہر نہیں ہوتا۔ لہذا تمہارا یہ مردہ بادشاہ ہرگزہرگز خداکی خدائی میں شریک نہیں ہوسکتا۔ آپ نے ہرچندان لوگوں کونصیحت فرمائی مگریہ نصیحت کارگرنہ ہوئی بلکہ یہ قوم الٹی آپ کی دشمن بن گئی اورآپ کواذیتیں دینے لگے اس کے بعد آپ کی قوم نے آپ کوشہید کردیاجس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ا س قوم پرعذاب نازل فرمایا اوروہ اس طرح کہ جب شام کویہ قوم کھاپی کر آرام سے سوگئی ۔تواللہ تعالیٰ نے کنویں کوخشک کردیا صبح جب لوگ جاگے توان کویہ حل معلوم ہوااورآخر نتیجہ یہ ہواکہ پوری قوم مع مویشیوں کے پیاس سے تڑپ تڑپ کرمرگئے اور پوری بستی درندوں کامسکن بن گئی اوربجائے انسانوں کے وہاں شیروں اورجنوں کی آوازیں آنے لگیں اورتمام باغات خاردار جھاڑیوں میں تبدیل ہوگئے ۔ (التعریف والاعلام لامام عبدالرحمن السہیلی : ۱۲۳) بحمداللہ تعالی سورۃ الحج کااختتام ۲۶ذوالحج ۱۴۴۱ھ/۱۷اگست ۲۰۲۰ء) بروزپیرشریف وقت ۲ بج کر۵۳ منٹ )
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9