Fatwa #2564
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیر سورہ الموٓمنون آیت ۶۴تا ۶۷۔ حَتّٰٓی اِذَآ اَخَذْنَا مُتْرَفِیْہِمْ بِالْعَذَابِ اِذَا ہُمْ یَجْـَرُوْنَ
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
5,321
سوال (Question):
تفسیر سورہ الموٓمنون آیت ۶۴تا ۶۷۔ حَتّٰٓی اِذَآ اَخَذْنَا مُتْرَفِیْہِمْ بِالْعَذَابِ اِذَا ہُمْ یَجْـَرُوْنَ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
اللہ تعالی کا کفارمکہ کو حضورتاجدارختم نبوتﷺکی گستاخیوں کی وجہ سے عذاب میں مبتلاء کرنااوران کاگڑگڑانا
{حَتّٰٓی اِذَآ اَخَذْنَا مُتْرَفِیْہِمْ بِالْعَذَابِ اِذَا ہُمْ یَجْـَرُوْنَ }(۶۴){لَا تَجْـَرُوا الْیَوْمَ اِنَّکُمْ مِّنَّا لَا تُنْصَرُوْنَ }(۶۵){ قَدْ کَانَتْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰی عَلَیْکُمْ فَکُنْتُمْ عَلٰٓی اَعْقٰبِکُمْ تَنْکِصُوْنَ }(۶۶){ مُسْتَکْبِرِیْنَ بِہٖ سٰمِرًا تَہْجُرُوْنَ }(۶۷) ترجمہ کنزالایمان:یہاں تک کہ جب ہم نے ان کے امیروں کو عذاب میں پکڑا تو جبھی وہ فریاد کرنے لگے۔آج فریاد نہ کرو ہماری طرف سے تمہاری مدد نہ ہوگی۔ بیشک میری آیتیں تم پر پڑھی جاتی تھیں تو تم اپنی ایڑیوں کے بل الٹے پلٹتے تھے۔ خدمتِ حرم پر بڑائی مارتے ہو رات کو وہاں بیہودہ کہانیاں بکتے حق کو چھوڑے ہوئے۔ ترجمہ ضیاء الایمان :ـ یہاں تک کہ جب ہم نے ان کے امیر لوگوں کو عذاب میں پکڑا تو جبھی وہ فریاد کرنے لگے۔آج فریاد نہ کرو، بیشک ہماری طرف سے تمہاری مدد نہیں کی جائے گی۔ بیشک میری آیات کی تمہارے سامنے تلاوت کی جاتی تھی تو تم اپنی ایڑیوں کے بل الٹے پلٹتے تھے۔ کعبہ مشرفہ کی خدمت پر ڈینگیں مارتے، رات کوبے ہودہ باتیں ہانکتے ،حق کو چھوڑتے ہوئے۔ اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ کفار کی فریاد کے جواب میں ان سے کہا گیا کہ آج فریاد نہ کرو، اس سے تمہیں کوئی فائدہ نہ ہو گا کیونکہ بیشک ہماری طرف سے تمہاری مدد نہیں کی جائے گی۔ (اس کی وجہ یہ ہے کہ)بے شک قرآن مجید کی آیات تمہارے سامنے تلاوت کی جاتی تھیں، لیکن تم اپنی ایڑیوں کے بل پلٹ جاتے تھے اور ان آیات پر ایمان نہ لاتے تھے اور تمہارا حال یہ تھاکہ تم خانہ کعبہ کی خدمت پر یہ کہتے ہوئے ڈینگیں مارتے تھے کہ ہم حرم والے ہیں اور بَیْتُ اللہ کے ہمسائے ہیں، ہم پر کوئی غالب نہ ہوگا، ہمیں کسی کا خوف نہیں اور کعبہ معظمہ کے گرد جمع ہو کرالٹی سیدھی باتیں ہانکتے ہوئے رات کو وہاں بیہودہ باتیں کرتے تھے اور اُن باتوں میں اکثر قرآن پاک پر طعن کرنا، اسے جادو اور شعر کہنا، اور حضورتاجدارختم نبوتﷺکی شان میںگستاخانہ باتیں کہنا ہوتا تھا اورحضورتاجدارختم نبوتﷺکو اور مومنوں کو نیز قرآن کریم کو چھوڑے ہوئے تھے۔ان آیات کریمہ کو تلاوت کریں اورغورکریں کہ کیسے اللہ تعالی نے کفارمکہ پرعذاب آنے اوران کے چیخنے کاذکرکیااورآخرمیں ان پرعذاب آنے کی وجہ بھی بیان فرمائی کہ وہ راتوں کو جاگ کربیت اللہ شریف میں بیٹھ کرحضورتاجدارختم نبوتﷺکے خلاف اورقرآن کریم کے خلاف باتیں کیاکرتے تھے اس لئے اللہ تعالی نے ان کو عذاب میںمبتلاء فرمایا۔بدرکا دن گستاخوں کے قتل کادن تھا
عَن سعید بن جُبَیر (حَتَّی إِذا أَخذنَا مترفیہم بِالْعَذَابِ)قَالَ:بِالسَّیْفِ یَوْم بدر۔ ترجمہ :حضرت سیدناسعید بن جبیررضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے اس آیت کریمہ {حَتَّی إِذا أَخذنَا مترفیہم بِالْعَذَاب}کے تحت فرمایاکہ اس سے مراد بدرکے دن گستاخوں کاتلوارکے ساتھ قتل ہوناہے ۔ (النکت والعیون:أبو الحسن علی بن محمد بن محمد بن حبیب الشہیر بالماوردی (۴:۶۴)مکہ کے گستاخ کتے کھانے پرمجبورہوگئے
وَقَالَ مُقَاتِلٌ:الْجُوعُ سَبْعَ سِنِینَ بِمَکَّۃَ حَتَّی أَکَلُوا الْجِیَفَ وَالْعِظَامَ وَالْکِلَابَ وَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ:ہُوَ الْقَتْلُ بِالسَّیْفِ یَوْمَ بَدْرٍ۔ ترجمہ :حضرت سیدنامقاتل رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اہل مکہ سات سال تک بھوک کے عذاب میں مبتلارہے یہاں تک کہ وہ مردار، ہڈیاں اورکتے تک کھاگئے ۔ اورحضرت سیدناعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس عذاب سے مراد بدرکے دن کاعذاب ہے جو ان پربصورت تلوارمسلط کیاگیا۔ (تفسیر البغوی :محیی السنۃ ، أبو محمد الحسین بن مسعود بن محمد بن الفراء البغوی الشافعی (۳:۶۰۲) شان نزول عَنِ ابْنِ عَبَّاس:یتکلمون بہوس وسیء مِنَ الْقَوْلِ فِی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَفِی الْقُرْآنٍِ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ مشرکین مکہ حضورتاجدارختم نبوتﷺاورقرآن کریم کے خلاف گستاخانہ باتیں کیاکرتے تھے۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۱۲:۱۳۷)مشرکین مکہ کاحضورتاجدارختم نبوتﷺکے خلاف مشاعرہ کرنا
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّہُ کَانَ یَقْرَأُ ہَذَا الْحَرْفَ (مُسْتَکْبِرِینَ بِہِ سَامِرًا تَہْجُرُونَ)(المؤمنون:۶۷)قَالَ:کَانَ الْمُشْرِکُونَ یَہْجُرونَ رَسُولَ اللہِ فِی شِعْرِہِمْ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ مشرکین مکہ راتوں کو محفل مشاعرہ بپاکرتے تھے اوراس میں حضورتاجدارختم نبوتﷺکی گستاخیاں کیاکرتے تھے ۔ (المعجم الکبیر:سلیمان بن أحمد بن أیوب بن مطیر اللخمی الشامی، أبو القاسم الطبرانی (۱۱:۷۴) حرم مکی میں بیٹھ کرمکہ کے کفارحضورتاجدارختم نبوتﷺکی گستاخیاں کیاکرتے تھے عَن الْحسن (مستکبرین بِہِ)قَالَ:بحرمی (سامراً تہجرون)قَالَ:الْقُرْآن وذکری ورسولی۔ ترجمہ :حضرت سیدناامام حسن بصری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ {مستکبرین بِہ}سے مرادحرم شریف ہے اور{سامراً تہجرون}سے مرادہے کہ تم حرم شریف میں بیٹھ کرقرآن کریم ، میرے ذکراورمیرے حبیب کریمﷺکامذاق اڑاتے تھے ۔ (الدر المنثور:عبد الرحمن بن أبی بکر، جلال الدین السیوطی (۶:۱۰۸)رات کو حدیث نہ لکھنے والے کو تھپڑپڑتے تھے
حَدَّثَنَا عَثَّامُ بْنُ عَلِیٍّ قَالَ:سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ یَقُولُ:إِذَا رَأَیْتَ الشَّیْخَ،وَلَمْ یَکْتُبِ الْحَدِیثَ فَاصْفَعْہُ، فَإِنَّہُ مِنْ شُیُوخِ الْقَمَرَاء ِ قُلْتُ لِابْنِ عُقْبَۃَ مَا مَعْنَی شُیُوخِ الْقَمَرَاء ِ؟ قَالَ:شُیُوخٌ دَہْرِیُّونَ یَجْتَمِعُونَ فِی لَیَالِی الْقَمَرِ فَیَتَحَدَّثُونَ بِأَیَّامِ الْخُلَفَاء ِ،وَلَا یُحْسِنُ أَحَدُہُمْ أَنْ یَتَوَضَّأَ لِلصَّلَاۃ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعثام بن علی رحمہ اللہ تعالی بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیدناامام اعمش رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سناکہ جب میں کسی شیخ کودیکھتاہوں جس نے حدیث شریف نہیں لکھی ہوتی تومیں اسے تھپڑمارتاہوں کیونکہ وہ شیوخ القمرمیں سے ہے یعنی جوچاندنی راتوں میں جمع ہوجاتے ہیں اورخلفاء وامراء کی باتیں کرتے ہیں ، ان میں کوئی بھی نماز کے لئے ا چھی طرح وضونہیں کرسکتا۔ (المحدث الفاصل بین الراوی والواعی:أبو محمد الحسن بن عبد الرحمن بن خلاد الرامہرمزی الفارسی (۲:۲۰۶)حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ کاعشاء کے بعد باتیں کرنے پرسزادینا
عَنْ خَرَشَۃَ بْنِ الْحُرِّ، قَالَ:رَأَیْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ یَضْرِبُ النَّاسَ عَلَی الْحَدِیثِ بَعْدَ الْعِشَاء ِ وَیَقُولُ:أَسَمَرٌ أَوَّلَ اللَّیْلِ وَنَوْمٌ آخِرَہُ۔ ترجمہ :حضرت سیدناخرشہ بن الحررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میںنے حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ کودیکھاکہ لوگوں کو عشاء کے بعد باتیں کرنے پرسزادیاکرتے تھے اورفرماتے تھے کہ رات کے ابتدائی حصہ میں باتیں کرنااوررات کے آخری حصہ میں سونا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ:أبو بکر بن أبی شیبۃ، عبد اللہ بن محمد بن إبراہیم بن عثمان بن خواستی العبسی (۲:۷۸)معارف ومسائل
(۱)نماز عشاء کے بعد محو گفتگو رہنا مکروہ ہے ۔ البتہ ذکر و شغل عبادت و ریاضت مہمان کی ضیافت کیلئے یا حصول علم کے لئے جاگنا یا ضروری اور دینی امور میں گفتگو کرنا مکروہ نہیں ہے ۔ عمومی طور پر عشاء کے بعد گفتگو میں لگے رہنے کواس لئے مکروہ کہا ہے کہ بسا اوقات یہ لا یعنی لغو اور بے کار چیزوں کا سبب بنتا ہے ۔ اور کبھی نماز فجر اور تہجد گزار کیلئے تہجد کے فوت ہونے کا باعث ہوتا ہے البتہ کسی ضرورت کی بناء پررات میں جاگنے یا کسی سے گفتگو کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ تقاریب وغیرہ میں شرکت کیلئے کچھ جاگنا پڑرہا ہے تو اس میں مضائقہ نہیں ۔ تقاریب میں مدعو کئے جانے پر شرکت کرنا ایک پسندیدہ مستحسن اور مسنون عمل ہے۔ (۲)احادیثِ مبارکہ میں عشاء کی نماز ادا کرنے کے بعد قصہ گوئی کی ممانعت اور جلدی سونے کی ترغیب وارد ہے، البتہ دینی امور (تعلیم،عبادت وغیرہ)یا اہم دنیاوی امور (مثلاً مسلمانوں کے اجتماعی نظم کے حوالے سے مشورہ وغیرہ)عشاء کے بعد انجام دینا،اسی طرح گھر والوں کے ساتھ گفتگو کرنا، یا گھر پر آئے ہوئے مہمانوں کی ضیافت وغیرہ احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہے؛ لہٰذا رات کو عشاء کی نماز پڑھ کر جلدی سونا مستحب ہے، تاہم عشاء کی نماز کے بعد دینی یا دنیوی ضرورت کے لیے جاگنا جائز ہے، جب کہ لا یعنی اور فضول کاموں یا گفتگو میں لگنا مکروہ ہے، نیز کسی کام میں اس طرح لگنا جس سے فجر کی نماز قضا ہونے کا غالب گمان ہو، ناجائز ہے۔ (۳)حضورتاجدارختم نبوتﷺکی اس تعلیم پر عمل کیا جائے تو ان شاء اللہ تعالیٰ تمام مسلمان فجر کی نماز کے پابند ہوجائیں گے، بلکہ بڑی تعداد تہجد گزار ہوجائے گی، اور صبح کے اوقات میں از روئے حدیث اللہ تعالی نے برکت رکھی ہے، لہٰذا مسلمانوں کو چاہیے کہ رات کو جلدی سونے اور فجر کی نماز باجماعت کا اہتمام کریں، اور صبح صبح دکانیں، بازار کھولیں، اس بابرکت وقت کی تجارت میں اللہ تعالیٰ زیادہ نفع اور برکت عطا فرمائے گا۔ موجودہ دور میں عشاء کے بعد دیر تک دنیاوی مشغولیات کی حوصلہ شکنی کی ضرورت ہے، جس کے دینی و دنیاوی مفاسد عیاں ہیں۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9