Fatwa #2595
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیر سورۃ النور آیت ۶۲۔۶۳۔ اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللہِ وَ رَسُوْلِہٖ وَ اِذَا کَانُوْا مَعَہ عَلٰٓی اَمْرٍجَامِعٍ لَّمْ یَذْہَبُوْا
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
9,719
سوال (Question):
تفسیر سورۃ النور آیت ۶۲۔۶۳۔ اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللہِ وَ رَسُوْلِہٖ وَ اِذَا کَانُوْا مَعَہ عَلٰٓی اَمْرٍجَامِعٍ لَّمْ یَذْہَبُوْا
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
حضورتاجدارختم نبوتﷺکی بارگاہ شریفہ کے آداب
{اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللہِ وَ رَسُوْلِہٖ وَ اِذَا کَانُوْا مَعَہ عَلٰٓی اَمْرٍجَامِعٍ لَّمْ یَذْہَبُوْا حَتّٰی یَسْتَاْذِنُوْہُ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَکَ اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَ رَسُوْلِہٖ فَاِذَا اسْتَاْذَنُوْکَ لِبَعْضِ شَاْنِہِمْ فَاْذَنْ لِّمَنْ شِئْتَ مِنْہُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَہُمُ اللہَ اِنَّ اللہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ }(۶۲){لَا تَجْعَلُوْا دُعَآء َ الرَّسُوْلِ بَیْنَکُمْ کَدُعَآء ِ بَعْضِکُمْ بَعْضًا قَدْ یَعْلَمُ اللہُ الَّذِیْنَ یَتَسَلَّلُوْنَ مِنْکُمْ لِوَاذًا فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِہٖٓ اَنْ تُصِیْبَہُمْ فِتْنَۃٌ اَوْ یُصِیْبَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ }(۶۳) ترجمہ کنزالایمان:ایمان والے تو وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر یقین لائے اور جب رسول کے پاس کسی ایسے کام میں حاضر ہوئے ہوں جس کے لیے جمع کیے گئے ہوں تو نہ جائیں جب تک ان سے اجازت نہ لے لیں وہ جو تم سے اجازت مانگتے ہیں وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتے ہیں پھر جب وہ تم سے اجازت مانگیں اپنے کسی کام کے لیے تو ان میں جسے تم چاہو اجازت دے دو اور ان کے لیے اللہ سے معافی مانگو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔رسول کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ ٹھہرالو جیسا تم میں ایک دوسرے کو پکارتا ہے بیشک اللہ جانتا ہے جو تم میں چپکے نکل جاتے ہیں کسی چیز کی آڑ لے کر تو ڈریں وہ جو رسول کے حکم کے خلاف کرتے ہیں کہ انہیں کوئی فتنہ پہنچے یا ان پر دردناک عذاب پڑے۔ ترجمہ ضیاء الایمان :ایمان والے تو وہی ہیں جو اللہ تعالی اور اس کے رسول کریمﷺ پر ایمان لائیں اور جب کسی ایسے کام پر رسول کریمﷺ کے ساتھ ہوں جو انہیں حضورتاجدارختم نبوتﷺکی بارگاہ ختم نبوت میں جمع کرنے والا ہو تواس وقت تک نہ جائیں جب تک ان سے اجازت نہ لے لیں۔ بیشک وہ جو آپ سے اجازت مانگتے ہیں وہی ہیں جو اللہ تعالی اور اس کے رسول کریمﷺ پر ایمان لاتے ہیں پھر اے حبیب کریمﷺ!جب وہ اپنے کسی کام کے لیے آپ سے جانے کی اجازت مانگیں تو ان میں جسے آپ ﷺ چاہیں اجازت دے دیں اور ان کے لیے اللہ تعالی سے معافی مانگیں، بیشک اللہ تعالی بخشنے والا مہربان ہے۔اے لوگو!رسول کریمﷺکے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ بنالو جیسے تم میں سے کوئی دوسرے کو پکارتا ہے، بیشک اللہ تعالی ان لوگوں کو جانتا ہے جو تم میںسے کسی چیز کی آڑ لے کر چپکے سے نکل جاتے ہیں تو رسول کریمﷺ کے حکم کی مخالفت کرنے والے اس بات سے ڈریں کہ انہیں کوئی مصیبت پہنچے یا انہیں دردناک عذاب پہنچے۔ شان نزول وَرُوِیَ أَنَّ ہَذِہِ الْآیَۃَ نَزَلَتْ فِی حَفْرِ الْخَنْدَقِ حِینَ جَاء َتْ قُرَیْشٌ وَقَائِدُہَا أَبُو سُفْیَانَ، وَغَطَفَانُ وَقَائِدُہَا عُیَیْنَۃُ بْنُ حِصْنٍ، فَضَرَبَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْخَنْدَقَ عَلَی الْمَدِینَۃِ، وَذَلِکَ فِی شَوَّالٍ سَنَۃَ خَمْسٍ مِنَ الْہِجْرَۃِ، فَکَانَ الْمُنَافِقُونَ یَتَسَلَّلُونَ لِوَاذًا مِنَ الْعَمَلِ وَیَعْتَذِرُونَ بِأَعْذَارٍ کَاذِبَۃٍ۔ ترجمہ : محدث جمال الدین أبو الفرج عبد الرحمن بن علی بن محمد الجوزی المتوفی : ۵۹۷ھ) رحمہ اللہ تعالی نقل فرماتے ہیں کہ مروی ہے کہ یہ آیت کریمہ غزوہ خندق کے موقع پرنازل ہوئی ، جب قریش آئے تھے اوران کاقائد ابوسفیان تھا، غطفان قبیلہ کے لوگ بھی آئے تھے اوران کاقائد عیینہ بن حصن تھا۔ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے مدینہ منورہ کے اردگردخندق کھودنے کاحکم دیا۔ یہ شوال المکرم سنہ ۵ھجری کاواقعہ ہے ، منافق لوگ کام کرنے سے آہستہ آہستہ کھسک جاتے تھے اورجھوٹے عذرپیش کرتے تھے ۔ (زاد المسیر فی علم التفسیر:جمال الدین أبو الفرج عبد الرحمن بن علی بن محمد الجوزی(۳:۲۱۰)اللہ تعالی بارگاہ ختم نبوت کے آداب سکھاتاہے
وَہَذَا أَیْضًا أَدَبٌ أَرْشَدَ اللَّہُ عِبَادَہُ الْمُؤْمِنِینَ إِلَیْہِ، فَکَمَا أَمَرَہُمْ بِالِاسْتِئْذَانِ عِنْدَ الدُّخُولِ، کَذَلِکَ أَمْرَہُمْ بِالِاسْتِئْذَانِ عِنْدَ الِانْصِرَافِ لَا سِیَّمَا إِذَا کَانُوا فِی أَمْرٍ جَامِعٍ مَعَ الرَّسُولِ صَلَوَاتُ اللَّہِ وَسَلَامُہُ عَلَیْہِ مِنْ صَلَاۃِ جُمُعَۃٍ أَوْ عِیدٍ أَوْ جَمَاعَۃٍ أو اجتماع فی مشورۃ ونحو ذلک، أمرہم اللہ تعالی أن لا یتفرقوا عَنْہُ وَالْحَالَۃُ ہَذِہِ إِلَّا بَعْدَ اسْتِئْذَانِہِ وَمُشَاوَرَتِہِ وإن من یفعل ذلک فإنہ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ الْکَامِلِینَ، ثُمَّ أَمَرَ رَسُولَہُ صَلَوَاتُ اللَّہِ وَسَلَامُہُ عَلَیْہِ إِذَا اسْتَأْذَنَہُ أَحَدٌ مِنْہُمْ فِی ذَلِکَ أَنْ یَأْذَنَ لَہُ إِنْ شَاء َ، وَلِہَذَا قَالَ فَأْذَنْ لِمَنْ شِئْتَ مِنْہُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَہُمُ اللَّہَ الآیۃ. ترجمہ :امام أبو الفداء إسماعیل بن عمر بن کثیر القرشی البصری ثم الدمشقی المتوفی : ۷۷۴ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی اپنے مومن بندوں کوایک ادب اوربھی سکھاتاہے کہ جیسے حضورتاجدارختم نبوتﷺکی بارگاہ میں آتے ہوئے اجازت مانگ کرآتے ہوایسے ہی جانے کے وقت بھی حضورتاجدارختم نبوتﷺسے اجازت مانگ کرجائو، خصوصاًایسے وقت جب کہ مجمع ہواورکسی ضروری امرپرمجلس ہومثلاًنماز جمعہ ،یانماز عیدہویاجماعت ہویاکوئی مجلس شوری ہے توایسے موقعوں پرجب تک حضورتاجدارختم نبوتﷺسے اجازت نہ لے لوہرگزادھرادھرنہ جائو، مومن کامل کی ایک نشانی یہ بھی ہے ۔پھراللہ تعالی نے اپنے حبیب کریم ﷺسے فرمایاکہ جب یہ اپنے کسی ضروری کام کے لئے آپﷺسے اجازت چاہیں توآپ ان میں سے جسے چاہیں اجازت دے دیاکریں اوران کے لئے بخشش بھی طلب کریں ۔ (تفسیرابن کثیر:أبو الفداء إسماعیل بن عمر بن کثیر القرشی البصری ثم الدمشقی (۶:۸۱)حضورتاجدارختم نبوتﷺکاحکم شریف قرآن کریم کے حکم کی طرح ہے
الْمَعْنَی:لَا یَتِمُّ وَلَا یَکْمُلُ إِیمَانُ مَنْ آمَنَ باللہ ورسول إِلَّا بِأَنْ یَکُونَ مِنَ الرَّسُولِ سَامِعًا غَیْرَ مُعَنِّتٍ فِی أَنْ یَکُونَ الرَّسُولُ یُرِیدُ إِکْمَالَ أَمْرٍ فَیُرِیدُ ہُوَ إِفْسَادَہُ بِزَوَالِہِ فِی وَقْتِ الْجَمْعِ، وَنَحْوِ ذَلِکَ وَبَیَّنَ تَعَالَی فِی أَوَّلِ السُّورَۃِ أَنَّہُ أَنْزَلَ آیَاتٍ بَیِّنَاتٍ، وَإِنَّمَا النُّزُولُ عَلَی مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَخَتَمَ السُّورَۃَ بِتَأْکِیدِ الْأَمْرِ فِی مُتَابَعَتِہِ عَلَیْہِ السَّلَامُ، لِیُعْلِمَ أَنَّ أَوَامِرَہُ کَأَوَامِرِ الْقُرْآنِ۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی :۶۷۱ھ)رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ کامعنی یہ ہے کہ اللہ تعالی اورحضورتاجدارختم نبوتﷺپرایمان لانے والے کاایمان تب تک مکمل نہیں ہوتامگرجب تک وہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکی بات بغیرعناد کے سننے والاہو، اس طرح کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکے کسی بھی حکم شریف کومکمل کرنے کاارادہ رکھتاہو، وہ اس ارادے کے وقت اس کے زوال کے ساتھ اس کے فساد کاارادہ کرتاہو، اللہ تعالی نے سورت شریف کے آغاز میں بیان فرمایاکہ اس نے آیات بینات نازل فرمائیں اورنزول حضورتاجدارختم نبوتﷺپرہے اورسورت کااختتام آپ ﷺکی متابعت کرنے کے موکدحکم کے ساتھ کیاتاکہ یہ ظاہرہوجائے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکاحکم شریف قرآن کریم کے حکم شریف کی طرح ہے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۱۳:۳۲۰)اقامت دین کے لئے مشورہ کی اہمیت
الْمُرَادُ بِہِ مَا لِلْإِمَامِ مِنْ حَاجَۃٍ إِلَی تَجَمُّعِ النَّاسِ فِیہِ لِإِذَاعَۃِ مَصْلَحَۃٍ، مِنْ إِقَامَۃِ سُنَّۃٍ فِی الدِّینِ، أَوْ لِتَرْہِیبِ عَدُوٍّ بِاجْتِمَاعِہِمْ وَلِلْحُرُوبِ،قال اللہ تعالی:وَشاوِرْہُمْ فِی الْأَمْرِ(آل عمران:۱۵۹)فَإِذَا کَانَ أَمْرٌ یَشْمَلُہُمْ نَفْعُہُ وَضُرُّہُ جَمَعَہُمْ لِلتَّشَاوُرِ فِی ذَلِک۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی :۶۷۱ھ)رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ بعض علماء کرام بیان کرتے ہیں کہ اس سے مراد وہ ہے جس کے لئے حاکم اسلام کو لوگوں کے جمع کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ، اس میں مصلحت کاپھیلائوہوتاہے ، مثلاًدین میں سنت کو قائم کرنا، ان کے اجتماع کے ساتھ دشمن کو ڈرانااورضررپرمشتمل ہوتواس کے مشورہ کے لئے لوگوں کوجمع کرے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۱۳:۳۲۰) اس سے معلوم ہواکہ اسلام کاخیرخواہ حاکم وہی ہوتاہے جوسنت کے قائم کرنے کی ہمہ وقت کوشش میں رہے اوراہل اسلام کے دشمن کفارکے ساتھ ہمہ وقت برسرپیکاررہے۔منافقین کو بارگاہ ختم نبوتﷺمیں بیٹھارہنامشکل ہوتا
عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَیَّانَ قَوْلُہُ: قَدْ یَعْلَمُ اللَّہُ الَّذِینَ یَتَسَلَّلُونَ مِنْکُمْ لِوَاذًا ہُمُ الْمُنَافِقُونَ کَانَ یَثْقُلُ عَلَیْہِمُ الْحَدِیثُ فِی یَوْمِ الْجُمُعَۃِ ویَعْنِی بِالحدیثْ الْخُطْبَۃَ لِیَلُوذُونَ بِبَعْضِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ حَتَّی یَخْرُجُوا مِنَ الْمَسْجِدِ، وَکَانَ لَا یَصْلُحُ لِلرَّجُلِ أَنْ یَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ إِلا بِإِذْنٍ مِنَ النَّبِیّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فِی یَوْم الْجُمُعَۃِ بَعْدَ مَا یَأْخُذُ فِی الْخُطْبَۃِ وَکَانَ، إِذَا أَرَادَ أَحَدُہُمُ الْخُرُوجَ أَشَارَ بِأُصْبُعِہِ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَیَأْذَنُ لَہُ مِنْ غَیْرِ أَنْ یَتَکَلَّمَ الرَّجُلُ، لأَنَّ الرَّجُلَ کَانَ إِذَا تَکَلَّمَ وَالنَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَخْطُبُ بَطَلَتْ جُمُعَتُہ۔ ترجمہ :حضرت سیدنامقاتل بن حیان رحمہ اللہ تعالی اللہ تعالی کے اس فرمان شریف {قَدْ یَعْلَمُ اللَّہُ الَّذِینَ یَتَسَلَّلُونَ مِنْکُمْ لِوَاذَا}کے تحت فرماتے ہیں کہ جمعہ کے دن خطبہ میں بیٹھارہنامنافقین پربہت بھاری پڑتاتھااورمسجد شریف میں آجانے اورخطبہ شروع ہوجانے کے بعد کوئی شخص بغیرحضورتاجدارختم نبوتﷺکی اجازت کے نہیں جاسکتاتھا، جب کسی کوکوئی ایسی ہی ضرورت ہوتی تواشارے سے آپﷺسے اجازت چاہتاتوآپﷺاجازت عطافرمادیتے تھے ، اس لئے کہ خطبہ کی حالت میں بولنے سے جمعہ باطل ہوجاتاہے ۔ تویہ منافق آڑ ہی آڑ میں نظریں چراکرسرک جاتے تھے۔ (تفسیر القرآن العظیم لابن أبی حاتم:أبو محمد عبد الرحمن بن محمد بن إدریس الرازی ابن أبی حاتم (۸:۲۶۵۶)حضورتاجدارختم نبوتﷺکے اقوال وافعال میزان ہیں
وَقَوْلُہُ فَلْیَحْذَرِ الَّذِینَ یُخالِفُونَ عَنْ أَمْرِہِ أَیْ عَنْ أَمْرَ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ سَبِیلُہُ وَمِنْہَاجُہُ وَطَرِیقَتُہُ وَسُنَّتُہُ وَشَرِیعَتُہُ، فَتُوزَنُ الْأَقْوَالُ وَالْأَعْمَالُ بِأَقْوَالِہِ وَأَعْمَالِہِ، فَمَا وَافَقَ ذَلِکَ قُبِلَ، وَمَا خَالَفَہُ فَہُوَ مَرْدُودٌ علی قائلہ وفاعلہ کائنا من کان۔ ترجمہ:حافظ ابن کثیرالمتوفی : ۷۷۴ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جولوگ حضورتاجدارختم نبوتﷺکے امر، سنت ، فرمان ، طریقہ اورشریعت کے خلاف کوئی کام کریں وہ سزایاب ہوں گے ، انسان کو اپنے اقوال وافعال حضورتاجدارختم نبوتﷺکی سنتوں پراوراحادیث پرپیش کرنے چاہیں جوموافق ہوں اچھے ہیں اورجومخالف ہوں مردودہیں۔ (تفسیرابن کثیر:أبو الفداء إسماعیل بن عمر بن کثیر القرشی البصری ثم الدمشقی (۶:۸۱)حضورتاجدارختم نبوتﷺکی بارگاہ میں گستاخانہ لہجہ میں بات نہ کرو
وَقَالَ سَعِیدُ بْنُ جُبَیْرٍ وَمُجَاہِدٌ:الْمَعْنَی قُولُوا یَا رَسُولَ اللَّہِ، فِی رِفْقٍ وَلِینٍ، وَلَا تَقُولُوا یَا مُحَمَّدُ بِتَجَہُّمٍ۔ ترجمہ :حضرت سیدناسعید بن جبیراورحضرت سیدنامجاہد رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ اس کامطلب یہ ہے کہ تم کہو!یارسول اللہ ﷺاورنرم اورعزت آمیزملائم لہجے میں عرض کرو!گستاخانہ انداز میں یامحمد!نہ کہو۔ (تفسیر القرآن العظیم لابن أبی حاتم:أبو محمد عبد الرحمن بن محمد بن إدریس بن المنذر الرازی ابن أبی حاتم (۱۳:۷۴۵) حضرت سیدناقتادہ رضی اللہ عنہ کاقول وَقَالَ قَتَادَۃُ: أَمَرَہُمْ أَنْ یُشَرِّفُوہُ وَیُفَخِّمُوہُ۔ ترجمہ :حضرت سیدناقتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے اہل ایمان کو حکم دیاکہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکی عزت واحترام کرو۔ (فتح القدیر:محمد بن علی بن محمد بن عبد اللہ الشوکانی الیمنی (۴:۶۷) حضورتاجدارختم نبوتﷺکی دعائے جلال سے ڈرو قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا:یَقُولُ احْذَرُوا دُعَاء َ الرَّسُولِ عَلَیْکُمْ إِذَا أَسْخَطْتُمُوہُ، فَإِنَّ دُعَاء َہُ مُوجَبٌ لِنُزُولِ الْبَلَاء ِ بِکُمْ لَیْسَ کَدُعَاء ِ غَیْرِہِ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ کی تفسیریہ ہے کہ تم کو حضورتاجدارختم نبوتﷺکی دعائے جلال سے ڈرتے رہناچاہئے ، ان کی دعائے جلال موجب عذاب ہے دوسروں کی بددعاکی طرح نہیں ہے ۔ (تفسیر البغوی:محیی السنۃ، أبو محمد الحسین بن مسعود البغوی (۶:۶۷) حضورتاجدارختم نبوتﷺکی بارگاہ شریفہ کے آداب (۱)…حضورتاجدارختم نبوتﷺ کی مجلس پاک کا ادب یہ ہے کہ وہاں سے اجازت کے بغیر نہ جائیں، اسی لئے اب بھی روضہ مُطَہَّر ہ پر حاضری دینے والے رخصت ہوتے وقت اَلْوِداعی سلام عرض کرتے ہوئے اجازت طلب کرتے ہیں۔ (۲)…اس آیت سے حضورتاجدارختم نبوتﷺکی بارگاہ ختم نبوت کا ادب بھی معلوم ہوا کہ آئیں بھی اجازت لے کر اورجائیں بھی اِذن حاصل کرکے، جیسا کہ غلاموں کا مولیٰ کے دربار میں طریقہ ہوتا ہے۔ (۳)…حضورتاجدارختم نبوتﷺ کی بارگاہ ختم نبوت کے آداب خود رب تعالیٰ سکھاتا ہے بلکہ اسی نے ادب کے قوانین بنائے۔ (۴)…حضورتاجدارختم نبوتﷺ اجازت دینے یا نہ دینے میں مختار ہیں۔ (۵)… حضورتاجدارختم نبوتﷺکی شفاعت برحق ہے کہ رب تعالیٰ نے حضورتاجدارختم نبوتﷺ کو شفاعت کا حکم دیا ہے۔ (۶)…اللہ تعالیٰ مسلمانوں پر بڑامہربان ہے کہ اپنے حبیب کریمﷺ کو ان کے لئے دعائے خیر کا حکم دیتا ہے۔ (۷)…ہر مومن حضورتاجدارختم نبوتﷺ کی شفاعت کامحتاج ہے کیونکہ صحابہ کرم رضی اللہ عنہم جو اَولیائُ اللہ کے سردار ہیں ان کے متعلق شفاعت کا حکم دیا گیا تو اوروں کا کیا پوچھنا۔ (۸)… اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ افضل یہی ہے کہ حاضر رہیں اور اجازت طلب نہ کریں۔ یاد رہے کہ اساتذہ و مشائخ اور دینی پیشواؤں کی مجلس سے بھی اجازت کے بغیر نہ جانا چاہیے۔( تفسیرصراط الجنان ( ۶: ۶۷۳)معارف ومسائل
اس آیت اور اس کے بعد والی آیت سے مقصود مخلص مومنوں کی تعریف اور منافقوں کی مذمت بیان کرنا ہے،چنانچہ ارشاد فرمایا کہ ایمان والے تو وہی ہیں جو اللہ تعالیٰ اورحضورتاجدارختم نبوتﷺپر ایمان لائیں اور جب کسی ایسے کام پرحضورتاجدارختم نبوتﷺکے ساتھ ہوں جو انہیںحضورتاجدارختم نبوتﷺکی بارگاہ میں جمع کرنے والا ہو جیسے کہ جہاد، جنگی تدبیر، جمعہ، عیدین، مشورہ اور ہر اجتماع جو اللہ تعالیٰ کے لئے ہو، تواس وقت تک نہ جائیں جب تک ان سے اجازت نہ لے لیں یا وہ خود انہیں اجازت نہ دے دیں۔ بیشک وہ جو آپﷺسے اجازت مانگتے ہیں وہی ہیں جو اللہ تعالیٰ اورحضورتاجدارختم نبوتﷺ پر ایمان لاتے ہیں، ان کا اجازت چاہنا فرمانبرداری کا نشان اور صحتِ ایمان کی دلیل ہے۔ پھر ایحبیب کریمﷺ!جب وہ اپنے کسی کام کے لیے آپﷺسے جانے کی اجازت مانگیں تو ان میں جسے تم چاہو اجازت دے دو اور ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگو، بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔( تفسیرصراط الجنان ( ۶: ۶۷۳) (بحمداللہ تعالی سورۃ النورکااختتام یکم محرم الحرام ۱۴۴۲ھ/۲۱اگست ۲۰۲۰ء) بروز جمعۃ المبارک وقت ۱۱ بج کر۵ منٹ)
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9