Fatwa #2608
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
کیاحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں کسی ولی اللہ نے مردوں کو زندہ کیا ہے؟
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
11,256
سوال (Question):
کیاحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں کسی ولی اللہ نے مردوں کو زندہ کیا ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
کیاحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں کسی ولی اللہ نے مردوں کو زندہ کیا ہے؟
ہمارے یہاں کچھ نوجوان لڑکے مرزا بد بخت کی بکواس سن کر کہ رہے ہیں کہ احادیث کی روشنی میں بتائیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں کسی ولی اللہ نے مردوں کو زندہ کیا ہو جیسے حضور غوث الاعظم کے بارے میں ہے کہ آپ مردوں کو زندہ کردیا کرتے تھے براہ کرم جواب عنایت فرمائیں الجواب دلائل النبوۃ میں مشہور واقعہ مروی ہے کہ ایک عورت کا نوجوان بیٹا فوت ہوا تو اس کی والدہ کی دعا کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے مردہ بیٹے کو زندہ کر دیا۔ فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ مُهَاجِرَةٌ وَمَعَهَا ابْنٌ لَهَا قَدْ بَلَغَ، فَأَضَافَ الْمَرْأَةَ إِلَى النِّسَاءِ، وَأَضَافَ ابْنَهَا إِلَيْنَا، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ أَصَابَهُ وَبَاءُ الْمَدِينَةِ، فَمَرِضَ أَيَّامًا ثُمَّ قُبِضَ، فَغَمَّضَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ بِجَهَازِهِ، فَلَمَّا أَرَدْنَا أَنْ نُغَسِّلَهُ، قَالَ: «يَا أَنَسُ، ائْتِ أُمَّهُ، فَأَعْلِمَهَا» ، قَالَ: فَأَعْلَمْتُهَا، فَجَاءَتْ حَتَّى جَلَسَتْ عِنْدَ قَدَمَيْهِ فَأَخَذَتْ بِهِمَا، ثُمَّ قَالَتِ: اللهُمَّ إِنِّي أَسْلَمْتُ لَكَ طَوْعًا، وَخَلَعْتُ الْأَوْثَانَ زُهْدًا، وَهَاجَرْتُ إِلَيْكَ رَغْبَةً، اللهُمَّ لَا تُشَمِّتْ بِي عَبَدَةَ الْأَوْثَانِ، وَلَا تُحَمِّلْنِي مِنْ هَذِهِ الْمُصِيبَةِ مَا لَا طَاقَةَ لِي بِحَمْلِهَا، قَالَ: فَوَاللهِ مَا تَقَضَّى كَلَامُهَا حَتَّى حَرَّكَ قَدَمَيْهِ، وَأَلْقَى الثَّوْبَ عَنْ وَجْهِهِ، وَعَاشَ حَتَّى قَبَضَ اللهُ رَسُولَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَتَّى هَلَكَتْ أُمُّهُ. (دلائل النبوة للبيهقي مخرجا، جلد 6،صفحہ 52) عیون الحکایات میں ہے:حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم ایک انصاری نوجوان کی عیادت کے لئے گئے،وہ اپنی بوڑھی ماں(اُم سائب رضی اللہ تعالیٰ عنہا) کا اِکلوتا بیٹا تھا اور وہ مرض الموت میں مبتلا تھا،عیادت کے بعد ہم واپس ہونے والے ہی تھے کہ اس کی رو ح قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی۔ہم وہیں ٹھہر گئے،اس کی آنکھیں بند کیں اور اس پر چادر ڈال دی۔اس نوجوان کی بوڑھی ماں ہمارے قریب ہی کھڑی تھی،ہم نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا:’’یہ جو مصیبت تجھ پر آن پڑی ہے اللہ عزوجل کی رضا کی خاطر اس پر صبر کر۔‘‘یہ سن کر وہ بڑھیا کہنے لگی:’’کیا ہوا،کیا میرا بیٹا مرگیا ؟‘‘ ہم نے کہا:’’جی ہاں۔‘‘اس نے کہا:’’کیا تم سچ کہہ رہے ہو؟‘‘ہم نے کہا:’’ہم سچ کہہ رہے ہیں،واقعی تمہارے بیٹے کا اِنتقال ہو چکا ہے۔‘‘یہ سن کر اس بوڑھی عورت نے دعا کے لئے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف بلند کئے اور بڑی آہ وزاری سے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں اس طر ح عرض گزار ہوئی : اے میرے پروردگار عزوجل ! میں تجھ پر ایمان لائی اور تیرے محبوب رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی طرف میں نے ہجرت کی،مجھے تیری ذات سے اُمیدِ واثق ہے کہ تُو ہر مصیبت میں میری مدد کرے گا۔اے پروردگارعزوجل !آج کے دن مجھ پر (میرے بیٹے کی جدائی کی) مصیبت کا بوجھ نہ ڈال ۔‘‘حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں،ابھی وہ بڑھیا اپنی دعا سے فارغ بھی نہ ہونے پائی تھی کہ اس کے مردہ بیٹے کے منہ سے کپڑا ہٹ گیا اور وہ (مسکراتا ہوا) اٹھ بیٹھا اور پھر ہم سب نے مل کر کھانا کھایا۔ (عیون الحکایات،الحکایۃ الثامنۃ و الستون،دعوۃ ام صالحۃ،صفحہ 92،دار الکتب العلمیہ بیروت) حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ام سائب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بیٹا نوعمری میں اچانک انتقال کرگیا۔ ہم لوگوں نے اس لڑکے کی آنکھوں کو بند کر کے اس کو ایک کپڑا اوڑھا دیا اورہم لوگوں نے اس کی ماں کے پاس پہنچ کر لڑکے کی موت کی خبر سنائی اور تعزیت وتسلی کے کلمات کہنے لگے۔ حضرت ام سائب رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنے بیٹے کی موت کی خبر سن کر چونک گئیں اور آبدیدہ ہوگئیں پھر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھو ں کو اٹھا کر اس طرح دعا مانگی : ”یا اللہ ! میں تجھ پر ایمان لائی اورمیں نے اپنا وطن چھوڑکر تیرے رسول کی طرف ہجرت کی ہے اس لئے اے میرے خدا! عزوجل میں تجھ سے دعاکرتی ہوں کہ تو میرے لڑکے کی مصیبت مجھ پر مت ڈال۔” یہ دعا ختم ہوتے ہی حضرت ام سائب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا مردہ لڑکا اپنے چہرہ سے کپڑا اٹھا کر اٹھ بیٹھاا ورزندہ ہوگیا۔ (البدایۃ والنھایۃ،کتاب الشمائل،باب ما یتعلق بالحیوانات۔۔۔۔۔۔الخ،قصۃ اخری مع قصۃ العلاء بن الحضرمی،جلد 4،صفحہ 550) تبصرہ:اس قسم کی کرامت بہت سے بزرگان دین خصوصاً حضرت سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ اولیاء امت سے بارہا ظہور میں آچکی ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب بندوں کی دعاؤں اوران کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کو اپنے فضل وکرم سے رد نہیں فرماتا۔(کراماتِ صحابہ،صفحہ 338،مکتبۃ المدینہ،کراچی) حضرت ام سائب رضی اللہ تعالیٰ عنہا یہ ایک بڑھیا اور نابینا صحابیہ ہیں جو خدا کی راہ میں اپنا وطن چھوڑ کر اور ہجرت کر کے مدینہ منورہ رہنے لگی تھیں ان کی بھی ایک کرامت عجیب و غریب ہے اور وہ یہ ہے کہ ان کا ایک بیٹا جو ابھی بچہ تھا اچانک انتقال کر گیا لوگوں نے اس کی لاش کو کپڑا اوڑھا دیا اورحضرت ام سائب کو خبر کر دی کہ آپ کا بچہ انتقال کر گیا یہ سن کو انہوں نے آبدیدہ ہوکر دونوں ہاتھ اٹھا کر اس طرح دعا مانگی کہ۔ ”یا اللہ عزوجل! تجھ پر ایمان لائی اور میں نے اپنا وطن چھوڑ کر تیرے رسول صلي اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی طرف ہجرت کی ہے اس لئے اے میرے اللہ عزوجل! میں تجھ سے دعا کرتی ہوں کہ تو میرے بچے کی موت کی مصیبت مجھ پر نہ ڈال”۔ حضرت انس بن مالک صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ حضرت ام سائب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی دعا ختم ہوتے ہی ایک دم ان کا بچہ اپنے چہرے سے کپڑا اٹھا کر اٹھ بیٹھا اور زندہ ہوگیا۔ (حجۃ اللہ علی العالمین فی معجزات سید المرسلین،صفحہ 623) واللہ اعلم بالصواب کتبہ : مفتی محمد کامران عطاری مدنی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9