Fatwa #2614
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
کپڑے پر خون لگ جائے تو نماز کا حکم از محمد اشفاق رضا عطاری
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
11,892
سوال (Question):
کپڑے پر خون لگ جائے تو نماز کا حکم از محمد اشفاق رضا عطاری
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
کپڑے پر خون لگ جائے تو نماز کا حکم
سوال یہ ہے کہ ایسے کپڑے جن پر خون لگا ہو اپنا یا کسی دوسرے کا یا کسی جانور کا اور اگر جسم پر کسی دانے سے پیپ نکل کر لگ جائے تو کیا ایسے کپڑوں میں نماز ہو سکتی ہے؟ سائل عبد الرحمن لالہ نگلہ کیمری رامپور یوپی الہند بسم اللہ الرحمٰن الرحیمالجواب بعون الملک الوھاب
خون کسی کا بھی ہو (انسان کا ہو یا جانور کا) وہ ناپاک ہے ۔ پیپ کا بھی یہی حکم ہے ۔ اور ناپاک چیز کپڑے یا بدن وغیرہ پر لگ جائے اور وہ درہم سے زائد ہے تو اس کا پاک کرنا فرض ہے کہ بغیر صاف کئے نماز ہی نہ ہوگی ۔ اور اگر ایک درہم کے برابر ہے تو اس کا دور کرنا واجب ہے۔ بغیر دور کئے نماز ادا کی تو مکروہ تحریمی ہوگی اور مکروہ ہونے کے سبب نماز واجب الاعادہ ہوگی۔ اور اگر وہ نجاست (خون) ایک درہم سے کم ہے تو اس کا پاک کرنا سنت ہے بغیر پاک کئے نماز ہو جائے گی لیکن خالاف سنت ہوگی۔ فتاوی فیض الرسول میں ہے:”اگر کسی کپڑے میں ایک درہم سے زیادہ پیشاب یا منی لگ جائے، تو اسے پہن کر نماز پڑھنے سے بالکل نماز نہیں ہوگی ۔“ جیسا کہ فتاوی ھندیہ، جلد1، صفحہ 43، مصری میں ہے: ”النجاسۃ ان کانت غلیظۃ و ھی اکثر من قدر الدرھم فغسلھا فریضۃ و الصلوۃ بھا باطلۃ“ ترجمہ:نجاست اگر غلیظہ ہو اور وہ ایک درہم سے زائد ہو، تو اس کو دھونا ضروری ہے اور اسی حالت میں نماز پڑھنا باطل ہے۔ (فتاوی فیض الرسول، جلد 1، صفحہ173، شبیر برادرز، لاھور) بہار شریعت میں ہے : نَجاستِ غلیظہ کا حکم یہ ہے کہ اگر کپڑے یا بدن میں ایک درہم سے زِیادہ لگ جائے ،تو اس کا پاک کرنا فرض ہے، بے پاک کیے نماز پڑھ لی تو ہو گی ہی نہیں اور قصداً پڑھی تو گناہ بھی ہوا اور اگر بہ نیتِ اِستِخفاف ہے تو کفر ہوا اور اگر درہم کے برابر ہے تو پاک کرنا واجب ہے کہ بے پاک کیے نماز پڑھی تو مکروہ ِتحریمی ہوئی یعنی ایسی نماز کا اِعادہ واجب ہے اور قصداً پڑھی تو گنہگار بھی ہوا اور اگر درہم سے کم ہے تو پاک کرنا سنّت ہے، کہ بے پاک کیے نماز ہوگئی مگر خلافِ سنّت ہوئی اور اس کا اِعادہ بہتر ہے۔ {بہار شریعت جلد اول ، حصہ دوم ، نجاست کا بیان ، ص : 389 ، مسئلہ نمبر 1 ، مطبوعہ مکتبہ المدینہ دہلی}۔واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب کتبہ : محمد اشفاق رضا عطاری 05 ستمبر 2023 بروز منگل
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9