Fatwa #2619
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
ہاروت اور ماروت جنّ ہیں یا فرشتے ؟
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
12,422
سوال (Question):
ہاروت اور ماروت جنّ ہیں یا فرشتے ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
ہاروت اور ماروت جنّ ہیں یا فرشتے ؟
سوال :ہاروت اور ماروت جنّ ہیں یا فرشتے ؟ کیا انہوں نے رب تعالیٰ کی نا فرمانی کی تھی ۔ اور کیا دنیا میں یہ کسی عورت پر عاشق بھی ہوگئے تھے ۔ برائے کرم اس پر تفصیلی رہنمائی فرمائیں جواب راجح یہی ہے کہ ہاروت وماروت دوفرشتے ہیں جن کو رب عزوجل نے ابتلائے خلق کے لئے مقررفرمایاکہ جو سحرسیکھناچاہے اسے نصیحت کریں کہ : انما نحن فتنۃ فلاتکفر ہم توآزمائش ہی کے لئے مقررہوئے ہیں توکفرنہ کر۔ ( القرآن الکریم ۲/ ۱۰۲) اورجونہ مانے اپنے پاؤں جہنم میں جائے اسے تعلیم کریں تووہ طاعت میں ہیں نہ کہ معصیت میں۔ بہ قال اکثرالمفسرین علی ماعزاالیھم فی الشفاء الشریف اکثرمفسرین نے یہی کہاہے جیساکہ شفاشریف میں ان کی طرف منسوب ہے (الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی فصل فی العقول فی عصمۃ الملائکۃ المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ ۲/ ۱۷۱) (فتاویٰ رضویہ جلد 26، ص 86) {هَارُوْتَ وَ مَارُوْتَ: ہاروت اور ماروت۔} ہاروت، ماروت دو فرشتے ہیں جنہیں بنی اسرائیل کی آزمائش کیلئے اللہ تعالیٰ نے بھیجا تھا۔ ان کے بارے میں غلط قصے بہت مشہور ہیں اور وہ سب باطل ہیں ۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۲، ۱ / ۷۵) اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے ہاروت اور ماروت کے بارے میں جو کلام فرمایا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ’’ہاروت اور ماروت کا واقعہ جس طرح عوام میں مشہور ہے آئمہ کرام اس کا شدید اور سخت انکار کرتے ہیں ، اس کی تفصیل شفاء شریف اور اس کی شروحات میں موجود ہے، یہاں تک کہ امام اجل قاضی عیاض رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا: ’’ہاروت اور ماروت کے بارے میں یہ خبریں یہودیوں کی کتابوں اور ان کی گھڑی ہوئی باتوں میں سے ہیں۔ اور راجح یہی ہے کہ ہاروت اور ماروت دو فرشتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے مخلوق کی آزمائش کے لئے مقرر فرمایا کہ جو جادو سیکھنا چاہے اسے نصیحت کریں کہ ’’ اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ ‘‘ ہم توآزمائش ہی کے لئے مقررہوئے ہیں توکفرنہ کر۔ اور جو ان کی بات نہ مانے وہ اپنے پاؤں پہ چل کے خودجہنم میں جائے،یہ فرشتے اگر اسے جادو سکھاتے ہیں تو وہ فرمانبرداری کر رہے ہیں نہ کہ نافرمانی کر رہے ہیں۔ (الشفاء، فصل فی القول فی عصمۃ الملائکۃ، ص۱۷۵-۱۷۶، الجزء الثانی، فتاوی رضویہ، کتاب الشتی، ۲۶ / ۳۹۷)فرشتوں کی عصمت کا بیان
فرشتوں کے بارے میں عقیدہ یہ ہے کہ یہ گناہوں سے معصوم ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’لَا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ‘‘(تحریم: ۶) ترجمۂ کنزالعرفان:وہ (فرشتے)اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو انہیں حکم دیا جاتا ہے۔ اور ارشاد فرمایا: ’’ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ(۴۹)یَخَافُوْنَ رَبَّهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ۠۩(۵۰)‘‘(نحل: ۴۹-۵۰) ترجمۂ کنزالعرفان:اورفرشتے غرور نہیں کرتے۔ وہ اپنے اوپر اپنے رب کا خوف کرتے ہیں اور وہی کرتے ہیں جو انہیں حکم دیا جاتاہے۔ امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’اس آیت سے ثابت ہوا کہ فرشتے تمام گناہوں سے معصوم ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ وہ غرور نہیں کرتے ا س بات کی دلیل ہے کہ فرشتے اپنے پیدا کرنے والے اور بنانے والے کے اطاعت گزار ہیں اور وہ کسی بات اور کسی کام میں بھی اللہ تعالیٰ کی مخالفت نہیں کرتے۔ (تفسیر کبیر، النحل، تحت الآیۃ: ۵۰، ۷ / ۲۱۷۔۲۱۸) (صراط الجنان فی تفسیر القرآن جلد اول ، سورہ بقرہ آیت نمبر 102) واللہ اعلم کتبہ :عبد المصطفیٰ ریاست علی) مرکزی جامعة المدینہ فیضان مدینہ اوکاڑہ ۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9