Fatwa #2620
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
بیوی کا اپنی مرضی سے طلاق مانگنا کیسا ہے؟ از مفتی صدام حسین فیضی
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
12,528
سوال (Question):
بیوی کا اپنی مرضی سے طلاق مانگنا کیسا ہے؟ از مفتی صدام حسین فیضی
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
بیوی کا اپنی مرضی سے طلاق مانگنا کیسا ہے؟
مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔ کیافرماتے ہیں علماۓ کرام مفتیان عظام مسٸلہ ذیل کےبارے میں کہ جناب محمد زبیر صاحب کی شادی ہوۓ تقریباً بارہ سال گزر گٸے انکی اہلیہ اب اپنی مرضی سے طلاق لینا چاہتی ہیں انکا کہنا ھیکہ میرا گزر بسر اب میرے شوھر کے ساتھ نہیں ہو سکتاہے میں بغیر کسی زور دباؤ کے ہوش و حواس میں اپنی مرضی سے طلاق لینا چاہتی ہوں مجھے کسی قسم کا کوئی گزارہ بھتہ بھی نہیں چاہئے ایسی صورت میں شریعت کا کیا حکم ہے قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں نوازش ہوگی۔المستفتی:(مولانا) رمضان علی فیضی علاٶالدین پورگلرہواضلع گونڈہ یوپی بسم اللہ الرحمن الرحیمالجواب بعون الملک الوھاب
زبیر کی بیوی کا طلاق طلب کرنا اگر بغیر ضرورت شرعیہ ہو تو حرام ہے۔ حدیث پاک میں ہے: ” أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا طَلَاقًا مِنْ غَيْرِ بَأْسٍ فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّةِ “. (سنن ابی داؤد ، کتاب الطلاق باب فی الخلع رقم: ٢٢٢٦) یعنی جو عورت بغیر عذر معقول کے اپنے شوہر سے طلاق مانگے اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔ فتاوی امجدیہ میں ہے: “عورت کا طلاق طلب کرنا اگر بغیر ضرورت شرعیہ ہو تو حرام ہے” اھ (ج٢، ص١٦٤، مطبوعہ دائرۃ المعارف الامجدیہ گھوسی) اور بغیر کسی وجہ شرعی کے طلاق دینا ممنوع ہے اور اللہ عزوجل کو ناپسند ہے۔ حدیث پاک میں ہے: ” أَبْغَضُ الْحَلَالِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى الطَّلَاقُ “. (سنن ابي داؤد، كتاب الطلاق ، باب كراهية الطلاق، رقم: ٢١٧٨) یعنی اللہ تعالیٰ کو حلال چیزوں میں سب سے زیادہ ناپسند طلاق ہے۔ فتح القدیر میں ہے: “والاصح حظره الا لحاجة للادلة المذكورة ، ويحمل لفظ المباح علي ما ابيح في بعض الاوقات اعني اوقات تحقق الحاجة المبيحة ” اھ (ج٣، ص٤٤٦، کتاب الطلاق، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان) یعنی اصح یہ ہے کہ بغیر حاجت طلاق ممنوع ہے کہ دلائل سے یہی ثابت ہے اور مباح سے مراد یہ کہ بعض وقت مباح ہے، یعنی جس وقت حاجت پائی جائے۔ فتاوی امجدیہ میں ہے: “بغیر کسی وجہ شرعی کے طلاق دینا ممنوع ہے اور اللّٰہ عزوجل کو ناپسند ہے” اھ (ج٢، ص١٦٤، کتاب الطلاق، مطبوعہ دائرۃ المعارف الامجدیہ گھوسی) واللہ تعالیٰ ورسولہﷺ اعلم بالصواب۔ کتبہ: محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔ ٢٠صفر المظفر ١٤٤٥ھ مطابق ٧ستمبر ٢٠٢٣ء
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9