Fatwa #2621
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
الاربعین فی معنی خاتم النبیین
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
12,634
سوال (Question):
الاربعین فی معنی خاتم النبیین
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
الاربعین فی معنی خاتم النبیین
حضورتاجدارختم نبوتﷺ کی محبت وشفقت جو امت مر حومہ کے ساتھ ہے وہ محتاج بیان نہیں ہے اور پھر یہ بھی مسلم ہے کہ زمانہ ماضی ومستقبل کے جتنے علوم وحالات آپﷺکو عطا کیے گئے وہ نہ کسی نبی کو حاصل ہیں اور نہ کسی فرشتہ کو ۔ ان دونوں باتوں کو سمجھنے کے بعد یہ یقین کرنا پڑتا ہے کہ آپﷺنے اپنی امت کے لیے دین کے راستہ کو ایسا ہموار اور صاف بنا کر چھوڑا کہ جس میں دن اوررات برابر ہوں، اس پر چلنے والے کو ٹھوکر لگنے یا راستہ بھولنے کا اندیشہ نہ رہے، اس میں جتنے خطرات کے مواقع ہوںگے، وہ سب آپﷺنے ان کو بتلادیئے،نیز اس راستہ کے ایسے ایسے نشانات ان کو بتلادیے جو تمام راستہ میں ان کی رہبری کرتے رہیں ۔ چنانچہ جب ہم حدیث نبویﷺکی کتب پر نظر ڈالتے ہیں تو ثابت ہوجاتا ہے ،کہ آپﷺنے ان امور میں کوئی دقیقہ نہیں اٹھا رکھا ،آپﷺکے بعد جتنے قابل اقتدا ء رہنما پیدا ہونے والے تھے، آپﷺ نے اکثر کے نام لے لے کر بتلادئیے ،اور امت کو ان کی پیروی کی ہدایت فرمائی ،حضورتاجدارختم نبوتﷺ کی انتہائی شفقت ومربیانہ تعلیم اور پھر احادیث درج ذیل کو دیکھتے ہوئے ایک مسلمان بلکہ ایک منصف مزاج انسان یہ یقین کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ آپﷺکے بعد کوئی کسی قسم کا نبی (اگرچہ وہ بقول مرزا ظلی یا بروزی رنگ میں سہی)اس عالم میں پیدا نہیں ہوسکتا ورنہ لازم تھا کہ آپﷺان سب سے پہلے اور سب سے زیادہ اس نبی کا ذکر فرماتے۔ مگر عجب تماشہ ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺاپنی امت کو خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کی اقتداء کا حکم فرماتے ہیں ،ائمہ دین اور امراء کی اطاعت کی تعلیم دیتے ہیںبلکہ ایک حبشی غلام کی بھی (جب کہ وہ امیر بن جائے )اطاعت امت پر واجب قرار دیتے ہیں ، حضرت عبد اللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ اور عمار بن یاسررضی اللہ عنہ کی اقتداء کی دعوت دیتے ہیں ، حضرت سیدنا زبیررضی اللہ عنہ،حضرت سیدنا ابو عبیدۃ بن الجراح،حضرت سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ،حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماوغیرہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نام لے لے کر انہیں واجب التکریم اور قابل اقتداء فرماتے ہیں، حضرت سیدنااویس قرنی رضی اللہ عنہ کے آنے کی خبر اور ان سے استغفار کرانے کی تعلیم دیتے ہیں، مجددینِ امت کا ہر صدی پر آنا، ابدال کا ملک شام میں پیدا ہونا، اور اُن کا مستجاب الدعوات ہونا وغیرہ وغیرہ مفصل بیان فرماتے ہیں۔ لیکن ایک حدیث میں بھی یہ بیان نہیں فرماتے کہ ہمارے بعد فلاں نبی پیدا ہوگا، تم اس پر ایمان لانا اور اس کی اطاعت کرنا۔ اگر پہلو میں دل اور دل میں ایمان یا انصاف کا کوئی ذرہ بھی ہے تو تمام احادیثِ کو چھوڑ کر صرف یہی احادیث ایک انسان کو اس پر مجبور کرنے کے لیے کافی ہیں کہ آپﷺکے بعد تا قیامت کسی قسم کا کوئی نبی پیدا نہیں ہوگا۔ پہلی حدیث عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ مَثَلِی وَمَثَلَ الْأَنْبِیَاء ِ مِنْ قَبْلِی کَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَی بَیْتًا فَأَحْسَنَہُ وَأَجْمَلَہُ إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَۃٍ مِنْ زَاوِیَۃٍ فَجَعَلَ النَّاسُ یَطُوفُونَ بِہِ وَیَعْجَبُونَ لَہُ وَیَقُولُونَ ہَلَّا وُضِعَتْ ہَذِہِ اللَّبِنَۃُ قَالَ فَأَنَا اللَّبِنَۃُ وَأَنَا خَاتِمُ النَّبِیِّینَ۔ ترجمہ :حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا:میری مثال اور مجھ سے پہلے انبیاء کرام علیہم السلام کی مثال اس شخص جیسی ہے جس نے ایک مکان بنایا اور اسے بہت خوبصورت تیار کیا مگرایک کونے میں اینٹ کی جگہ چھوڑدی۔ اب لوگ آکر اس کے ارد گرد گھومتے ہیں اور اسے دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ ایک اینٹ کیوں نہیں رکھی گئی۔ آپ ﷺنے فرمایا کہ میں وہی اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔ (صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۴:۱۸۶) دوسری حدیث حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ فُرَاتٍ الْقَزَّازِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ قَالَ قَاعَدْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ خَمْسَ سِنِینَ فَسَمِعْتُہُ یُحَدِّثُ عَنْ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ کَانَتْ بَنُو إِسْرَائِیلَ تَسُوسُہُمْ الْأَنْبِیَاء ُ کُلَّمَا ہَلَکَ نَبِیٌّ خَلَفَہُ نَبِیٌّ وَإِنَّہُ لَا نَبِیَّ بَعْدِی وَسَیَکُونُ خُلَفَاء ُ فَیَکْثُرُونَ قَالُوا فَمَا تَأْمُرُنَا قَالَ فُوا بِبَیْعَۃِ الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ أَعْطُوہُمْ حَقَّہُمْ فَإِنَّ اللَّہَ سَائِلُہُمْ عَمَّا اسْتَرْعَاہُمْ۔ ترجمہ :حضرت سیدنا ابو حازم سلمان اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ میں پانچ سال حضرت سیدناابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مجلس میں بیٹھا ہوں، میں نے انھیں حضورتاجدارختم نبوتﷺکی یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا:کہ آپﷺ نے فرمایا:بنی اسرائیل کی حکومت حضرات انبیاء کرام علیہم السلام چلاتے اور ان کے امور کا انتظام کرتے تھے۔ جب ایک نبی کی وفات ہو جاتی تو ان کا جانشین دوسرا نبی ہو جا تا تھا لیکن میرے بعد کوئی نبی تو نہیں ہو گا، البتہ خلفاء ہوں گے اور وہ بھی بکثرت ہوں گے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کیا: پھر آپﷺ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟آپ ﷺنے فرمایا:جب کوئی خلیفہ ہو جائے۔ (اور تم نے اس سے بیعت کر لی ہو)تو اس سے کی ہوئی بیعت پوری کرو۔ پھر اس کے بعد جو پہلے ہو اس کی بیعت پوری کرو۔ انھیں ان کا حق دو۔ اگر وہ ظلم کریں گے تو اللہ ان سے پوچھے گا کہ انھوں نے اپنی رعایا کا حق کیسے ادا کیا؟۔ (صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۴:۱۶۹) تیسری حدیث عَنْ الزُّہْرِیِّ قَالَ أَخْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِیہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ إِنَّ لِی أَسْمَاء ً أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَنَا أَحْمَدُ وَأَنَا الْمَاحِی الَّذِی یَمْحُو اللَّہُ بِیَ الْکُفْرَ وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِی یُحْشَرُ النَّاسُ عَلَی قَدَمِی وَأَنَا الْعَاقِبُ۔ ترجمہ :حضرت سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایاکہ میں نے حضورتاجدارختم نبوتﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا:بلاشبہ میرے کئی ایک نام ہیں:میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں ماحی ہوں۔ میری وجہ سے اللہ تعالٰی کفر کو مٹائے گا۔ میں حاشر ہوں، سب لوگ میرے قدموں پر جمع کیے جائیں گے اور میں عاقب ہوں۔ (صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۴:۱۸۵) چوتھی حدیث عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِیہِ، قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِعَلِیٍّ: أَنْتَ مِنِّی بِمَنْزِلَۃِ ہَارُونَ مِنْ مُوسَی، إِلَّا أَنَّہُ لَا نَبِیَّ بَعْدِی قَالَ سَعِیدٌ: فَأَحْبَبْتُ أَنْ أُشَافِہَ بِہَا سَعْدًا، فَلَقِیتُ سَعْدًا فَحَدَّثْتُہُ بِمَا حَدَّثَنِی عَامِرٌ، فَقَالَ:أَنَا سَمِعْتُہُ، فَقُلْتُ آنْتَ سَمِعْتَہُ؟ فَوَضَعَ إِصْبَعَیْہِ عَلَی أُذُنَیْہِ فَقَالَ:نَعَمْ، وَإِلَّا، فَاسْتَکَّتَا۔ ترجمہ :حضرت سیدناسعید بن مسیب رضی اللہ عنہ نے حضرت سیدنا عامر بن سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے،انھوں نے ا پنے والد سے روایت کی کہ انہوںنے فرمایاکہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے حضرت سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا:تمھارا میرے ساتھ وہی مقام ہے جوحضرت سیدنا ہارون علیہ السلام کاحضرت سیدناموسیٰ علیہ السلام کیساتھ تھا مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔حضرت سیدناسعیدبن مسیب رضی اللہ عنہ نے کہا:میں نے چاہا کہ یہ بات میں خود حضرت سیدنا سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے منہ سے سنوں تو میں حضرت سیدنا سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جا کر ملا اور جو حدیث مجھے حضرت سیدناعامررضی اللہ عنہ نے سنائی تھی،ان کے سامنے بیان کی،انھوں نے کہا:میں نے(آپ ﷺسے خود)یہ بات سنی تھی،میں نے کہا:آپ نے خود سنی تھی؟تو انھوں نے اپنی انگلیاں اپنے دونوں کانوں پر رکھیں اورکہا:ہاں،ورنہ(اگر یہ بات نہ سنی ہو)تو ان دونوں کو سنائی نہ دے۔ (صحیح مسلم : مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشیری النیسابوری (۴:۱۸۷۰) پانچویں حدیث عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَۃُ حَتَّی تَقْتَتِلَ فِئَتَانِ عَظِیمَتَانِ یَکُونُ بَیْنَہُمَا مَقْتَلَۃٌ عَظِیمَۃٌ دَعْوَتُہُمَا وَاحِدَۃٌ وَحَتَّی یُبْعَثَ دَجَّالُونَ کَذَّابُونَ قَرِیبٌ مِنْ ثَلَاثِینَ کُلُّہُمْ یَزْعُمُ أَنَّہُ رَسُولُ اللَّہِ وَحَتَّی یُقْبَضَ الْعِلْمُ وَتَکْثُرَ الزَّلَازِلُ وَیَتَقَارَبَ الزَّمَانُ وَتَظْہَرَ الْفِتَنُ وَیَکْثُرَ الْہَرْجُ وَہُوَ الْقَتْلُ وَحَتَّی یَکْثُرَ فِیکُمْ الْمَالُ فَیَفِیضَ حَتَّی یُہِمَّ رَبَّ الْمَالِ مَنْ یَقْبَلُ صَدَقَتَہُ وَحَتَّی یَعْرِضَہُ عَلَیْہِ فَیَقُولَ الَّذِی یَعْرِضُہُ عَلَیْہِ لَا أَرَبَ لِی بِہِ وَحَتَّی یَتَطَاوَلَ النَّاسُ فِی الْبُنْیَانِ وَحَتَّی یَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ فَیَقُولُ یَا لَیْتَنِی مَکَانَہُ وَحَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِہَا فَإِذَا طَلَعَتْ وَرَآہَا النَّاسُ یَعْنِی آمَنُوا أَجْمَعُونَ فَذَلِکَ حِینَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا إِیمَانُہَا لَمْ تَکُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ کَسَبَتْ فِی إِیمَانِہَا خَیْرًا وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَۃُ وَقَدْ نَشَرَ الرَّجُلَانِ ثَوْبَہُمَا بَیْنَہُمَا فَلَا یَتَبَایَعَانِہِ وَلَا یَطْوِیَانِہِ وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَۃُ وَقَدْ انْصَرَفَ الرَّجُلُ بِلَبَنِ لِقْحَتِہِ فَلَا یَطْعَمُہُ وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَۃُ وَہُوَ یُلِیطُ حَوْضَہُ فَلَا یَسْقِی فِیہِ وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَۃُ وَقَدْ رَفَعَ أُکْلَتَہُ إِلَی فِیہِ فَلَا یَطْعَمُہَا. ترجمہ :حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا:قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب دو بڑی جماعتیں باہم سخت لڑائی نہ کریں۔ ان دونوں جماعتوں کے درمیان بڑی خونریز لڑائی ہوگی۔ حالانکہ دونوں کا دعویٰ ایک ہوگا۔ اوریہاں تک کہ تیس کے قریب جھوٹے دجال ظاہر ہوں گے۔ ان میں سے ہر ایک کا دعویٰ ہوگا کہ وہ اللہ کارسول ہے اور یہاں تک کہ علم اٹھالیا جائے گا اور زلزلوں کی کثرت ہوگی ،نیز یہ زمانہ قریب ہو جائے گا اور فتنوں کا ظہور ہوگا۔ ہرج یعنی قتل وغارت عام ہوگی۔ اور یہاں تک کہ تم میں مال کی کثرت ہوگی بلکہ وہ بہہ پڑے گا حتیٰ کہ مال دار کو فکر دامن گیر ہوگی کہ اس کا صدقہ کون قبول کرے گا اور مال دار اپنا صدقہ کسی پر پیش کرے گا تو وہ کہے گا :مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ اور یہاں تک کہ لوگ بڑے بڑے محلات پر فخر کریں گے۔ اور یہاں تک کہ آدمی دوسرے کی قبر کے پاس سے گزرے گا تو کہے گا:کاش!یہ جگہ اس کی ہوتی۔اور یہاں تک کہ سورج مغرب سے نکلے گا اور جب مغرب سے طلوع ہوگا اور لوگ اسے دیکھ لیں گے تو سب ایمان لے آئیں گے ۔یہ وہ وقت ہوگاجب کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان لانا نفع نہیں دے گا جس نے اس سے پہلے ایمان کے ساتھ اچھے عمل نہ کئے۔ اور بلاشبہ قیامت اچانک اس طرح قائم ہوگی کہ دو آدمیوں نے اپنے درمیان کپڑا پھیلا رکھا ہوگا اور وہ اس کی خرید وفروخت نہ کرسکے ہوں گے اور نہ ہی اسے لپیٹ پائیں گے ۔ اور قیامت اس طرح برپا ہوگی کہ ایک آدمی اپنی اونٹنی کا دودھ لے کر گھر کی طرف لوٹے گا اور ا س کو نوش نہیں کرسکے گا۔اور قیامت اس طرح قائم ہو جائے گی کہ آدمی اپنا حوض تیار کررہا ہوگا اور اس میں سے پانی نہیں پی سکے گا اور یقینا قیامت اس طرح قائم ہوگی کہ ایک آدمی نے اپنے منہ کی طرف لقمہ اٹھایا ہوگا اور وہ اسے کھا نہیںسکے گا۔ (صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۹:۵۹) چھٹی حدیث عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَۃُ حَتَّی یَقْتَتِلَ فِئَتَانِ فَیَکُونَ بَیْنَہُمَا مَقْتَلَۃٌ عَظِیمَۃٌ دَعْوَاہُمَا وَاحِدَۃٌ وَلَا تَقُومُ السَّاعَۃُ حَتَّی یُبْعَثَ دَجَّالُونَ کَذَّابُونَ قَرِیبًا مِنْ ثَلَاثِینَ کُلُّہُمْ یَزْعُمُ أَنَّہُ رَسُولُ اللَّہِ۔ ترجمہ :حضرت سیدناابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی سے روایت ہے، وہ حضورتاجدارختم نبوتﷺسے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺنے فرمایا :قیامت قائم نہ ہوگی حتی کہ دوگروہ لڑیں گے اور ان میں عظیم جنگ برپاہو گی، ان کا دعوی ایک ہو گا۔ اور قیامت قائم نہ ہو گی حتیٰ کہ تیس کے قریب جھوٹ بولنے والے دجال پیدا ہوں گے۔ ان میں سے ہر ایک یہ دعوی کرے گاکہ وہ اللہ کارسول ہے ۔ (صحیح مسلم : مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشیری النیسابوری (۴:۲۲۳۹) ساتویں حدیث عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:فُضِّلْتُ عَلَی الْأَنْبِیَاء ِ بِسِتٍّ: أُعْطِیتُ جَوَامِعَ الْکَلِمِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَأُحِلَّتْ لِیَ الْغَنَائِمُ، وَجُعِلَتْ لِیَ الْأَرْضُ طَہُورًا وَمَسْجِدًا، وَأُرْسِلْتُ إِلَی الْخَلْقِ کَافَّۃً، وَخُتِمَ بِیَ النَّبِیُّونَ ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبد الرحمان بن یعقوب رضی اللہ عنہ نے حضرت سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا: مجھے دوسرے انبیاء کرام علیہم السلام پر چھ چیزوں کے ذریعے سے فضیلت دی گئی ہے: مجھے جامع کلمات عطا کیے گئے ہیں، (دشمنوں پر)رعب ودبدے کے ذریعے سے میری مدد کی گئی ہے، میرے لیے اموال غنیمت حلال کر دیے گئے ہیں، زمین میرے لیے پاک کرنے والی اور مسجد قرار دی گئی ہے، مجھے تمام مخلوق کی طرف (رسول بنا کر)بھیجا گیا ہے اور میرے ذریعے سے (نبوت کو مکمل کر کے)انبیاء ختم کر دیے گئے ہیں۔ (صحیح مسلم : مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشیری النیسابوری (۱:۳۷۱) آٹھویں حدیث حَدَّثَنِی سَعِیدُ بْنُ المُسَیِّبِ:أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ، قَالَ:سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، یَقُولُ: لَمْ یَبْقَ مِنَ النُّبُوَّۃِ إِلَّا المُبَشِّرَاتُ قَالُوا:وَمَا المُبَشِّرَاتُ؟ قَالَ:الرُّؤْیَا الصَّالِحَۃُ۔ ترجمہ :حضرت سیدناسعیدبن مسیب رضی اللہ عنہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیںکہ انہوں نے بیان کیا:میں نے حضورتاجدارختم نبوتﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا:نبوت میں سے اب صرف مبشرات باقی رہ گئی ہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: مبشرات سے کیا مراد ہے؟ آپﷺ نے فرمایا:(مبشرات)اچھے خواب ہیں۔ (صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۹:۱۹) نویں حدیث عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،قَالَ:کَشَفَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ السِّتَارَۃَ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِی بَکْرٍ، فَقَالَ:أَیُّہَا النَّاسُ، إِنَّہُ لَمْ یَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّۃِ إِلَّا الرُّؤْیَا الصَّالِحَۃُ، یَرَاہَا الْمُسْلِمُ، أَوْ تُرَی لَہُ، أَلَا وَإِنِّی نُہِیتُ أَنْ أَقْرَأَ الْقُرْآنَ رَاکِعًا أَوْ سَاجِدًا، فَأَمَّا الرُّکُوعُ فَعَظِّمُوا فِیہِ الرَّبَّ عَزَّ وَجَلَّ، وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَہِدُوا فِی الدُّعَاء ِ، فَقَمِنٌ أَنْ یُسْتَجَابَ لَکُمْ۔ ترجمہ :حضرت سیدنا ابراہیم بن عبد اللہ بن معبد ، اپنے والدماجدرضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں اور انہوں نے کہا:حضورتاجدارختم نبوتﷺنے (دروازے کا)پردہ اٹھایا (اس وقت)لوگ حضرت سیدناابوبکررضی اللہ عنہ کے پیچھے صف بستہ تھے۔ آپ ﷺنے فرمایا:لوگو!نبوت کی بشارتوں میں سے اب صرف سچے خواب باقی رہ گئے ہیں جو مسلمان خود دیکھے گا یا اس کے لیے کسی دوسرے کودکھایا جائے گا۔ خبردار رہو!بلاشبہ مجھے رکوع اور سجدے کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے، جہاں تک رکوع کا تعلق ہے اس میں اپنے رب عزوجل کی عظمت وکبریائی بیان کرو اور جہاں تک سجدے کا تعلق ہے اس میں خوب دعا کرو، (یہ دعااس)لائق ہے کہ تمہارے حق میں قبول کر لی جائے۔ (صحیح مسلم : مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشیری النیسابوری (۱:۳۴۸) دسویں حدیث فَقَالَ لَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَشْہَدُ أَنِّی سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ:قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: فَإِنِّی آخِرُ الْأَنْبِیَاء ِ، وَإِنَّ مَسْجِدِی آخِرُ الْمَسَاجِدِ۔ ترجمہ :حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے :حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فر مایا :بلا شبہ میں تمام انبیاء کرام علیہم السلام میں سے آخری نبی ہوں ۔اور میری مسجد آخری مسجد ہے (جسے کسی نبی نے تعمیر کیا۔ (صحیح مسلم : مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشیری النیسابوری (۱۰:۱۰۱۲) گیارہویں حدیث عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أُتِیَ بِلَحْمٍ فَرُفِعَ إِلَیْہِ الذِّرَاعُ وَکَانَتْ تُعْجِبُہُ فَنَہَشَ مِنْہَا نَہْشَۃً ثُمَّ قَالَ أَنَا سَیِّدُ النَّاسِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَہَلْ تَدْرُونَ مِمَّ ذَلِکَ یَجْمَعُ اللَّہُ النَّاسَ الْأَوَّلِینَ وَالْآخِرِینَ فِی صَعِیدٍ وَاحِدٍ یُسْمِعُہُمْ الدَّاعِی وَیَنْفُذُہُمْ الْبَصَرُ وَتَدْنُو الشَّمْسُ فَیَبْلُغُ النَّاسَ مِنْ الْغَمِّ وَالْکَرْبِ مَا لَا یُطِیقُونَ وَلَا یَحْتَمِلُونَ فَیَقُولُ النَّاسُ أَلَا تَرَوْنَ مَا قَدْ بَلَغَکُمْ أَلَا تَنْظُرُونَ مَنْ یَشْفَعُ لَکُمْ إِلَی رَبِّکُمْ فَیَقُولُ بَعْضُ النَّاسِ لِبَعْضٍ عَلَیْکُمْ بِآدَمَ فَیَأْتُونَ آدَمَ عَلَیْہِ السَّلَام فَیَقُولُونَ لَہُ أَنْتَ أَبُو الْبَشَرِ خَلَقَکَ اللَّہُ بِیَدِہِ وَنَفَخَ فِیکَ مِنْ رُوحِہِ وَأَمَرَ الْمَلَائِکَۃَ فَسَجَدُوا لَکَ اشْفَعْ لَنَا إِلَی رَبِّکَ أَلَا تَرَی إِلَی مَا نَحْنُ فِیہِ أَلَا تَرَی إِلَی مَا قَدْ بَلَغَنَا فَیَقُولُ آدَمُ إِنَّ رَبِّی قَدْ غَضِبَ الْیَوْمَ غَضَبًا لَمْ یَغْضَبْ قَبْلَہُ مِثْلَہُ وَلَنْ یَغْضَبَ بَعْدَہُ مِثْلَہُ وَإِنَّہُ قَدْ نَہَانِی عَنْ الشَّجَرَۃِ فَعَصَیْتُہُ نَفْسِی نَفْسِی نَفْسِی اذْہَبُوا إِلَی غَیْرِی اذْہَبُوا إِلَی نُوحٍ فَیَأْتُونَ نُوحًا فَیَقُولُونَ یَا نُوحُ إِنَّکَ أَنْتَ أَوَّلُ الرُّسُلِ إِلَی أَہْلِ الْأَرْضِ وَقَدْ سَمَّاکَ اللَّہُ عَبْدًا شَکُورًا اشْفَعْ لَنَا إِلَی رَبِّکَ أَلَا تَرَی إِلَی مَا نَحْنُ فِیہِ فَیَقُولُ إِنَّ رَبِّی عَزَّ وَجَلَّ قَدْ غَضِبَ الْیَوْمَ غَضَبًا لَمْ یَغْضَبْ قَبْلَہُ مِثْلَہُ وَلَنْ یَغْضَبَ بَعْدَہُ مِثْلَہُ وَإِنَّہُ قَدْ کَانَتْ لِی دَعْوَۃٌ دَعَوْتُہَا عَلَی قَوْمِی نَفْسِی نَفْسِی نَفْسِی اذْہَبُوا إِلَی غَیْرِی اذْہَبُوا إِلَی إِبْرَاہِیمَ فَیَأْتُونَ إِبْرَاہِیمَ فَیَقُولُونَ یَا إِبْرَاہِیمُ أَنْتَ نَبِیُّ اللَّہِ وَخَلِیلُہُ مِنْ أَہْلِ الْأَرْضِ اشْفَعْ لَنَا إِلَی رَبِّکَ أَلَا تَرَی إِلَی مَا نَحْنُ فِیہِ فَیَقُولُ لَہُمْ إِنَّ رَبِّی قَدْ غَضِبَ الْیَوْمَ غَضَبًا لَمْ یَغْضَبْ قَبْلَہُ مِثْلَہُ وَلَنْ یَغْضَبَ بَعْدَہُ مِثْلَہُ وَإِنِّی قَدْ کُنْتُ کَذَبْتُ ثَلَاثَ کَذِبَاتٍ فَذَکَرَہُنَّ أَبُو حَیَّانَ فِی الْحَدِیثِ نَفْسِی نَفْسِی نَفْسِی اذْہَبُوا إِلَی غَیْرِی اذْہَبُوا إِلَی مُوسَی فَیَأْتُونَ مُوسَی فَیَقُولُونَ یَا مُوسَی أَنْتَ رَسُولُ اللَّہِ فَضَّلَکَ اللَّہُ بِرِسَالَتِہِ وَبِکَلَامِہِ عَلَی النَّاسِ اشْفَعْ لَنَا إِلَی رَبِّکَ أَلَا تَرَی إِلَی مَا نَحْنُ فِیہِ فَیَقُولُ إِنَّ رَبِّی قَدْ غَضِبَ الْیَوْمَ غَضَبًا لَمْ یَغْضَبْ قَبْلَہُ مِثْلَہُ وَلَنْ یَغْضَبَ بَعْدَہُ مِثْلَہُ وَإِنِّی قَدْ قَتَلْتُ نَفْسًا لَمْ أُومَرْ بِقَتْلِہَا نَفْسِی نَفْسِی نَفْسِی اذْہَبُوا إِلَی غَیْرِی اذْہَبُوا إِلَی عِیسَی ابْنِ مَرْیَمَ فَیَأْتُونَ عِیسَی فَیَقُولُونَ یَا عِیسَی أَنْتَ رَسُولُ اللَّہِ وَکَلِمَتُہُ أَلْقَاہَا إِلَی مَرْیَمَ وَرُوحٌ مِنْہُ وَکَلَّمْتَ النَّاسَ فِی الْمَہْدِ صَبِیًّا اشْفَعْ لَنَا إِلَی رَبِّکَ أَلَا تَرَی إِلَی مَا نَحْنُ فِیہِ فَیَقُولُ عِیسَی إِنَّ رَبِّی قَدْ غَضِبَ الْیَوْمَ غَضَبًا لَمْ یَغْضَبْ قَبْلَہُ مِثْلَہُ قَطُّ وَلَنْ یَغْضَبَ بَعْدَہُ مِثْلَہُ وَلَمْ یَذْکُرْ ذَنْبًا نَفْسِی نَفْسِی نَفْسِی اذْہَبُوا إِلَی غَیْرِی اذْہَبُوا إِلَی مُحَمَّدٍ فَیَأْتُونَ مُحَمَّدًا فَیَقُولُونَ یَا مُحَمَّدُ أَنْتَ رَسُولُ اللَّہِ وَخَاتِمُ الْأَنْبِیَاء ِ وَقَدْ غَفَرَ اللَّہُ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَأَخَّرَ اشْفَعْ لَنَا إِلَی رَبِّکَ أَلَا تَرَی إِلَی مَا نَحْنُ فِیہِ فَأَنْطَلِقُ فَآتِی تَحْتَ الْعَرْشِ فَأَقَعُ سَاجِدًا لِرَبِّی عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ یَفْتَحُ اللَّہُ عَلَیَّ مِنْ مَحَامِدِہِ وَحُسْنِ الثَّنَاء ِ عَلَیْہِ شَیْئًا لَمْ یَفْتَحْہُ عَلَی أَحَدٍ قَبْلِی ثُمَّ یُقَالُ یَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَکَ سَلْ تُعْطَہْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَرْفَعُ رَأْسِی فَأَقُولُ أُمَّتِی یَا رَبِّ أُمَّتِی یَا رَبِّ أُمَّتِی یَا رَبِّ فَیُقَالُ یَا مُحَمَّدُ أَدْخِلْ مِنْ أُمَّتِکَ مَنْ لَا حِسَابَ عَلَیْہِمْ مِنْ الْبَابِ الْأَیْمَنِ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّۃِ وَہُمْ شُرَکَاء ُ النَّاسِ فِیمَا سِوَی ذَلِکَ مِنْ الْأَبْوَابِ ثُمَّ قَالَ وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ إِنَّ مَا بَیْنَ الْمِصْرَاعَیْنِ مِنْ مَصَارِیعِ الْجَنَّۃِ کَمَا بَیْنَ مَکَّۃَ وَحِمْیَرَ أَوْ کَمَا بَیْنَ مَکَّۃَ وَبُصْرَی۔ ترجمہ :حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا:حضورتاجدارختم نبوتﷺکی خدمت میں گوشت لایا گیا اور دستی کا حصہ آپﷺ کو پیش کیا گیا۔ چونکہ آپﷺ کو دستی کا گوشت بہت پسند تھا، اس لیے آپﷺ نے اسے دانتوں سے نوچ نوچ کر کھایا۔ پھر آپ ﷺنے فرمایا:قیامت کے دن میں لوگوں کا سردار ہوں گا۔ کیا تمہیں علم ہے کہ یہ کس وجہ سے ہو گا؟ اللہ تعالٰی تمام اگلے پچھلے لوگوں کو ایک چٹیل میدان میں جمع کر دے گا۔ اس دوران میں پکارنے والا سب کو اپنی آواز سنائے گا اور ان سب پر اس کی نظر پہنچے گی سورج بالکل قریب آ جائے گا، چنانچہ لوگوں کو غم اور تکلیف اس قدر ہو گی جو ان کی طاقت سے باہر اور ناقابل برداشت ہو گی۔ لوگ آپس میں کہیں گے:تم دیکھتے نہیں کہ ہماری کیا حالت ہو گئی ہے؟ کیا کوئی ایسا مقبول بندہ نہیں جو اللہ تعالی کے حضور تمہاری سفارش کرے؟پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ حضرت سیدنا آدم علیہ السلام کے پاس جانا چاہئے، چنانچہ سب لوگ حضرت سیدناآدم علیہ السلام کے پاس حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے:آپ سب انسانوں کے باپ ہیں۔ اللہ تعالٰی نے آپ کو اپنے ہاتھوں سے بنایا اور اپنی طرف سے خصوصیت کے ساتھ آپ میں روح پھونکی اور فرشتوں کو حکم دیا تو انہوں نے آپ کو سجدہ کیا، اس لیے آپ اپنے رب کے حضور ہماری سفارش کریں۔ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس مصیبت میں مبتلا ہیں؟ حضرت سیدناآدم علیہ السلام فرمائیں گے:بلاشبہ آج کے دن میرا رب انتہائی غیظ و غضب میں ہے۔ اس سے پہلے کبھی اتنا غضبناک نہیں ہوا اور نہ آئندہ کبھی ہو گا۔ میرے پروردگار نے مجھے درخت سے روکا تھا لیکن میں نے بھول کراسکوکھالیاتھا ،اس لیے مجھے تو اپنی فکر ہے۔ میں اپنی جان کی حفاظت چاہتا ہوں، لہذا تم کسی اور کے پاس جاؤ۔ تم نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ چنانچہ سب لوگ حضرت سیدنانوح علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے:اے نوح! آپ سب سے پہلے پیغمبر ہیں جو اہل زمین کی طرف مبعوث ہوئے اور اللہ تعالی نے آپ کو ’’شکر گزار بندے‘‘کا لقب دیا۔ آپ ہی ہمارے لیے اپنے رب تعالی کے حضور سفارش کر دیں۔ کیا آپ دیکھ نہیں رہے کہ ہم کس حالت میں پہنچ چکے ہیں؟ (حضرت سیدنانوح علیہ السلام )فرمائیں گے:بلاشبہ میرا رب آج بہت غضب ناک ہے۔ اس سے پہلے وہ کبھی ایسا غضبناک نہیں ہوا اور نہ اس کے بعد ہی اس طرح غضب ناک ہو گا۔ اللہ تعالی نے مجھے ایک دعا کی قبولیت کا یقین دلایا تھا جو میں نے اپنی قوم کے خلاف کر لی تھی۔ نفسی، نفسی، نفسی۔ آج مجھے اپنی ہی فکر ہے، لہذا تم میرے علاوہ کسی اور کے پاس جاؤ، ہاں حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ، چنانچہ سب لوگ حضرت سیدناابراہیم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے:اے ابراہیم!آپ اللہ تعالی کے نبی اور اس کے خلیل ہیں اور اہل زمین میں منتخب شدہ ہیں، لہذا آپ اپنے رب تعالی کی بارگاہ میں ہماری سفارش کریں۔ کیا آپ دیکھ نہیں رہے کہ ہم کس مصیبت میں مبتلا ہیں؟ حضرت سیدناابراہیم علیہ السلام فرمائیں گے:آج میرا رب بہت غضب ناک ہے۔ اتنا غضب ناک نہ وہ پہلے ہوا تھا اور نہ آج کے بعد ہو گا۔ نفسی، نفسی، نفسی۔ مجھے تو اپنی فکر ہے۔ تم میرے علاوہ کسی اور کے پاس جاؤ، ہاں حضرت سیدناموسٰی علیہ السلام کے پاس جاؤ، چنانچہ سب لوگ حضرت سیدناموسٰی علیہ السلام کے پاس حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے:اے موسٰی!آپ اللہ تعالی کے رسول ہیں۔ اللہ تعالٰی نے آپ کو اپنی طرف سے رسالت اور آپ سے گفتگو کرنے کی فضیلت دی۔ آپ اپنے رب تعالی کے حضور ہماری سفارش کر دیں۔ کیا آپ دیکھ نہیں رہے کہ ہم کس مصیبت میں مبتلا ہیں؟ حضرت سیدناموسٰی علیہ السلام کہیں گے:آج اللہ تعالٰی بہت غضبناک ہے۔ اتنا غضبناک تو وہ نہ پہلے کبھی ہوا تھا اور نہ آئندہ کبھی ہو گا۔ میں نے ایک شخص کو قتل کر دیا تھا جس کے قتل کا مجھے حکم نہیں دیا گیا تھا۔ نفسی، نفسی، نفسی۔ بس مجھے آج اپنی فکر ہے۔ میرے علاوہ تم اور کسی کے پاس چلے جاؤ، ہاں حضرت سیدنا عیسٰی علیہ السلام کے پاس جاؤ، چنانچہ سب لوگ حضرت سیدناعیسٰی علیہ السلام کے پاس آ کر عرض کریں گے:اے عیسٰی!آپ اللہ تعالی کے رسول اور اس کا کلمہ ہیں جسے اللہ تعالٰی نے حضرت سیدتنامریم رضی اللہ عنہا پر ڈالا تھا اور آپ اللہ تعالی کی طرف سے روح ہیں۔ آپ نے بحالت بچپن گود میں رہتے ہوئے لوگوں سے باتیں کی تھیں۔ اپنے رب کے حضور ہماری سفارش کریں۔ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس حالت میں ہیں؟ حضرت سیدناعیسٰی علیہ السلام فرمائیں گے: آج میرا رب بہت غصے میں ہے۔ وہ اس سے پہلے کبھی اتنا غضب ناک ہوا نہ آئندہ اس جیسا غضب ناک ہو گا۔ آپ اپنی کسی لغزش کا ذکر نہیں کریں گے۔ صرف یہ کہیں گے:میں اپنی جان کی حفاظت چاہتا ہوں۔ میرے علاوہ تم اور کسی کے پاس جاؤ، ہاں تم حضورتاجدارختم نبوتﷺکے پاس جاؤ، چنانچہ سب لوگ حضورتاجدارختم نبوتﷺکے پاس حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے: یارسول اللہ ﷺ!آپ اللہ کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں۔ اللہ تعالٰی نے آپﷺ کے توسل سے اگلے پچھلے لوگوں کے سب گناہ معاف کر دئیے ہیں۔ آپﷺ اپنے رب کے حضور ہماری سفارش کر دیں۔ آپ ﷺخود ملاحظہ کر سکتے ہیں کہ ہم کس حالت میں ہیں؟ آخرکار میں خود آگے بڑھوں گا اور عرش کے نیچے پہنچ کر اپنے رب تعالی کے حضور سجدے میں گر جاؤں گا۔ پھر اللہ تعالٰی مجھ پر اپنے تعریفی کلمات اور حسنِ ثنا کے دروازے کھول دے گا جو اس نے مجھ سے پہلے اور کسی پر ظاہر نہیں کیے تھے۔ پھر کہا جائے گا:اے محمد!اپنا سر اٹھائیں اور سوال کریں آپ کو عطا کیا جائے گا۔ آپ سفارش کریں آپ کی سفارش قبول کی جائے گی، چنانچہ میں اپنا سر اٹھا کر عرض کروں گا:اے میرے رب! میری امت کو معاف کر دے۔ اے پروردگار!میری امت پر رحم کر۔ کہا جائے گا:اے محمدﷺ!اپنی امت کے ان لوگوں کو جن پر کوئی حساب نہیں، جنت کے دائیں دروازے سے داخل کریں۔ ویسے انہیں اختیار ہے دوسرے لوگوں کے ساتھ جس دروازے سے چاہیں داخل ہو سکتے ہیں۔ پھر آپ نے فرمایا:اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ،جنت کے دروازے کے دونوں کناروں کا اتنا فاصلہ ہے جتنا مکہ اور حمیر یا مکہ اور بُصرٰی میں ہے۔ (صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۶:۸۴) بارہویں حدیث حَدَّثَنَا سَہْلُ بْنُ سَعْدٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ بِإِصْبَعَیْہِ ہَکَذَا بِالْوُسْطَی وَالَّتِی تَلِی الْإِبْہَامَ بُعِثْتُ وَالسَّاعَۃُ کَہَاتَیْنِ۔ ترجمہ :حضرت سیدنا سہل بن سعدرضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضورتاجدارختم نبوتﷺکو دیکھا آپ ﷺاپنی درمیانی انگلی اور انگوٹھے کے قریب والی انگلی کے اشارے سے فرما رہے تھے:میں ایسے وقت میں مبعوث ہوا ہوں کہ میرے اور قیامت کے درمیان صرف ان دو کے فاصلے کے برابر فاصلہ ہے۔ (صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۶:۱۶۶) تیرہویں حدیث عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:نَحْنُ الآخِرُونَ السَّابِقُونَ یَوْمَ القِیَامَۃِ، أُوتُوا الکِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا وَأُوتِینَاہُ مِنْ بَعْدِہِمْ۔ ترجمہ :حضرت سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا:ہم بعد میں آئے ہیں لیکن قیامت کے دن سب سے آگے ہوں گے، فرق صرف اس قدر ہے کہ انہیں ہم سے پہلے کتاب دی گئی اور ہمیں بعد میں ملی۔ (صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۲:۵) چودہویں حدیث عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لَوْ کَانَ نَبِیٌّ بَعْدِی لَکَانَ عُمَرَ بْنَ الخَطَّابِ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعقبہ بن عامررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا: اگرمیرے بعد کوئی نبی ہوتاتوعمربن خطاب ( رضی اللہ عنہ )ہوتے ۔ (سنن الترمذی:محمد بن عیسی بن سَوْرۃ بن موسی بن الضحاک، الترمذی، أبو عیسی (۶:۶۰) پندرہویں حدیث عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ:نَحْنُ آخِرُ الْأُمَمِ، وَأَوَّلُ مَنْ یُحَاسَبُ، یُقَالُ: أَیْنَ الْأُمَّۃُ الْأُمِّیَّۃُ، وَنَبِیُّہَا؟ فَنَحْنُ الْآخِرُونَ الْأَوَّلُونَ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عبا س رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا: ہم سب سے آخری امت ہیں اورقیامت کے دن سب سے پہلے ہماراحساب ہوگا، پکاراجائے گاکہ کہاں ہیں امت امیہ اوراس کے نبی (ﷺ)؟اس لئے ہم ایک حیثیت سے سب سے اول بھی ہیں اورسب سے آخربھی ۔ (سنن ابن ماجہ:ابن ماجۃ أبو عبد اللہ محمد بن یزید القزوینی، وماجۃ اسم أبیہ یزید (۲:۱۴۳۴) سولہویں حدیث عَنْ بَہْزِ بْنِ حَکِیمٍ،عَنْ أَبِیہِ، عَنْ جَدِّہِ، أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ فِی قَوْلِہِ تَعَالَی:(کُنْتُمْ خَیْرَ أُمَّۃٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ)قَالَ:أَنْتُمْ تُتِمُّونَ سَبْعِینَ أُمَّۃً أَنْتُمْ خَیْرُہَا وَأَکْرَمُہَا عَلَی اللہِ ۔ ترجمہ :حضرت سیدنابہزبن حکیم رضی اللہ عنہ اپنے والدماجد اوروہ ان کے داداسے روایت کرتے ہیں کہ انہوںنے حضورتاجدارختم نبوتﷺسے اللہ تعالی کے اس فرمان شریف{کُنْتُمْ خَیْرَ أُمَّۃٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ}کے بارے میں سناکہ تم سترامتیں پوری کرتے ہوجن میں سے تم سب سے بہتراوراللہ تعالی کے نزدیک زیادہ محترم ہو۔ (سنن الترمذی:محمد بن عیسی بن سَوْرۃ بن موسی بن الضحاک، الترمذی، أبو عیسی (۵:۷۶) سترہویں حدیث عَنْ بَہْزِ بْنِ حَکِیمٍ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ جَدِّہِ، قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: نُکْمِلُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ سَبْعِینَ أُمَّۃً، نَحْنُ آخِرُہَا ۔ ترجمہ :حضرت سیدنابہزبن حکیم رضی اللہ عنہ اپنے والدماجد اوروہ ان کے داداسے روایت کرتے ہیں کہ انہوںنے حضورتاجدارختم نبوتﷺسے بیان کیاکہ آپﷺنے فرمایا: قیامت کے دن سترامتیں کامل ہوں گی اورہم ان سب سے آخراوران سب سے بہترہوں گے ۔ (سنن ابن ماجہ:ابن ماجۃ أبو عبد اللہ محمد بن یزید القزوینی، وماجۃ اسم أبیہ یزید (۲:۱۴۳۴) اٹھارہویں حدیث حَدَّثَنِی إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ مِنْ وَلَدِ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ قَالَ کَانَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِذَا وَصَفَ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَمْ یَکُنْ بِالطَّوِیلِ الْمُمَّغِطِ وَلَا بِالْقَصِیرِ الْمُتَرَدِّدِ وَکَانَ رَبْعَۃً مِنْ الْقَوْمِ وَلَمْ یَکُنْ بِالْجَعْدِ الْقَطَطِ وَلَا بِالسَّبِطِ کَانَ جَعْدًا رَجِلًا وَلَمْ یَکُنْ بِالْمُطَہَّمِ وَلَا بِالْمُکَلْثَمِ وَکَانَ فِی الْوَجْہِ تَدْوِیرٌ أَبْیَضُ مُشْرَبٌ أَدْعَجُ الْعَیْنَیْنِ أَہْدَبُ الْأَشْفَارِ جَلِیلُ الْمُشَاشِ وَالْکَتَدِ أَجْرَدُ ذُو مَسْرُبَۃٍ شَثْنُ الْکَفَّیْنِ وَالْقَدَمَیْنِ إِذَا مَشَی تَقَلَّعَ کَأَنَّمَا یَمْشِی فِی صَبَبٍ وَإِذَا الْتَفَتَ الْتَفَتَ مَعًا بَیْنَ کَتِفَیْہِ خَاتَمُ النُّبُوَّۃِ وَہُوَ خَاتَمُ النَّبِیِّینَ أَجْوَدُ النَّاسِ کَفَّا وَأَشْرَحُہُمْ صَدْرًا وَأَصْدَقُ النَّاسِ لَہْجَۃً وَأَلْیَنُہُمْ عَرِیکَۃً وَأَکْرَمُہُمْ عِشْرَۃً مَنْ رَآہُ بَدِیہَۃً ہَابَہُ وَمَنْ خَالَطَہُ مَعْرِفَۃً أَحَبَّہُ یَقُولُ نَاعِتُہُ لَمْ أَرَ قَبْلَہُ وَلَا بَعْدَہُ مِثْلَہ۔ ترجمہ :حضرت سیدناابراہیم بن محمدجو علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ہیں ان سے روایت ہے کہ حضرت سیدنامولا علی رضی اللہ عنہ جب حضورتاجدارختم نبوتﷺکا حلیہ بیان کرتے تو کہتے :نہ آپ بہت لمبے تھے نہ بہت چھوٹے قدکے، بلکہ لوگوں میں درمیانی قد کے تھے، آپ ﷺکے بال نہ بہت گھونگھریالے تھے نہ بالکل سیدھے، بلکہ ان دونوں کے بیچ میں تھے،نہ آپﷺ بہت موٹے تھے اور نہ چہرہ بالکل گول تھا، ہاں اس میں کچھ گولائی ضرورتھی، آپﷺ گورے سفید سرخی مائل، سیاہ چشم، لمبی پلکوں والے، بڑے جوڑوں والے اور بڑے شانہ والے تھے، آپﷺ کے جسم پر زیادہ بال نہیں تھے، صرف بالوں کا ایک خط سینہ سے ناف تک کھنچا ہوا تھا، دونوں ہتھیلیاں اور دونوں قدم گوشت سے پُر تھے جب چلتے زمین پر پیر ج کر چلتے، پلٹتے تو پورے بدن کے ساتھ پلٹتے، آپ ﷺکے دونوں شانوں کے بیچ میں مہر نبوت تھی، آپ ﷺخاتم النبیین تھے، لوگوں میں آپﷺ سب سے زیادہ سخی تھے، آپ ﷺکھلے دل کے تھے، یعنی آپ ﷺکا سینہ بغض وحسد سے آئینہ کے مانند پاک وصاف ہوتاتھا، اور سب سے زیادہ سچ بولنے والے ، نرم مزاج اور سب سے بہتر رہن سہن والے تھے، جو آپﷺ کو یکایک دیکھتا ڈرجاتا اور جو آپﷺ کو جان اور سمجھ کر آپ ﷺسے گھل مل جاتا وہ آپ ﷺسے محبت کرنے لگتا، آپﷺ کی توصیف کرنے والا کہتا:نہ آپﷺ سے پہلے میں نے کسی کو آپ ﷺجیسا دیکھا ہے اور نہ آپﷺ کے بعد ۔ (سنن الترمذی:محمد بن عیسی بن سَوْرۃ بن موسی بن الضحاک، الترمذی، أبو عیسی (۶:۳۵) انیسویں حدیث عَنْ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِیَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ، صَاحِبِ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ:سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، یَقُولُ: إِنِّی عَبْدُ اللَّہِ، وَخَاتَمُ النَّبِیِّینَ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ جوکہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکے صحابی ہیں فرماتے ہیں کہ میں نے حضورتاجدارختم نبوتﷺکوفرماتے ہوئے سناکہ میں اللہ تعالی کابندہ اورخاتم النبیین ہوں ۔ (المستدرک علی الصحیحین:أبو عبد اللہ الحاکم محمد بن عبد اللہ بن محمد بن حمدویہ بن نُعیم (۲:۴۵۳) بیسویں حدیث عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ:إِذَا صَلَّیْتُمْ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَأَحْسِنُوا الصَّلَاۃَ عَلَیْہِ، فَإِنَّکُمْ لَا تَدْرُونَ، لَعَلَّ ذَلِکَ یُعْرَضُ عَلَیْہِ، قَالَ:فَقَالُوا لَہُ:فَعَلِّمْنَا، قَالَ، قُولُوا:اللَّہُمَّ اجْعَلْ صَلَاتَکَ، وَرَحْمَتَکَ، وَبَرَکَاتِکَ عَلَی سَیِّدِ الْمُرْسَلِینَ، وَإِمَامِ الْمُتَّقِینَ، وَخَاتَمِ النَّبِیِّینَ، مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَرَسُولِکَ، إِمَامِ الْخَیْرِ، وَقَائِدِ الْخَیْرِ، وَرَسُولِ الرَّحْمَۃِ، اللَّہُمَّ ابْعَثْہُ مَقَامًا مَحْمُودًا، یَغْبِطُہُ بِہِ الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ، اللَّہُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ، وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ، کَمَا صَلَّیْتَ عَلَی إِبْرَاہِیمَ، وَعَلَی آلِ إِبْرَاہِیمَ، إِنَّکَ حَمِیدٌ مَجِیدٌ، اللَّہُمَّ بَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ، وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ، کَمَا بَارَکْتَ عَلَی إِبْرَاہِیمَ، وَعَلَی آلِ إِبْرَاہِیمَ، إِنَّکَ حَمِیدٌ مَجِیدٌ۔ ترجمہ :حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا:جب تم حضورتاجدارختم نبوتﷺپر درود پڑھو تو درود کو مزین کرو، تمہیں کیا معلوم کہ وہ آپ ﷺکے سامنے پیش کیا جاتا ہو، ساتھیوں نے کہا:ہمیں سکھا دیجئے(کہ کس طرح مزین کر کے درود پڑھیں )حضرت سیدناعبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا:یوں کہو: {اللَّہُمَّ اجْعَلْ صَلاَتَکَ وَرَحْمَتَکَ وَبَرَکَاتِکَ عَلَی سَیِّدِ الْمُرْسَلِینَ وَإِمَامِ الْمُتَّقِینَ وَخَاتَمِ النَّبِیِّینَ مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَرَسُولِکَ إِمَامِ الْخَیْرِ وَقَائِدِ الْخَیْرِ وَرَسُولِ الرَّحْمَۃِ اللَّہُمَّ ابْعَثْہُ مَقَامًا مَحْمُودًا یَغْبِطُہُ بِہِ الأَوَّلُونَ وَالآخِرُونَ اللَّہُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلَی إِبْرَاہِیمَ وَعَلَی آلِ إِبْرَاہِیمَ إِنَّکَ حَمِیدٌ مَجِیدٌ اللَّہُمَّ بَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلَی إِبْرَاہِیمَ وَعَلَی آلِ إِبْرَاہِیمَ إِنَّکَ حَمِیدٌ مَجِیدٌ} اے اللہ!اپنے درود، رحمت اور برکات نازل فرما، رسولوں کے سردار، متقین کے امام ،انبیاء کے خاتم محمدﷺپر جو تیرے بندے ، تیرے رسول، نیکی کے امام، نیکی کے رہبر اور رحمت کے رسول ہیں اے اللہ!انہیں مقام محمود پر فائز فرما جہاں ان پر پہلے اور پچھلے (سب جن اور انسان)رشک کریں گے۔ اے اللہ!سیدنامحمدﷺپر اورسیدنا محمدﷺکی آل پر رحمت نازل فر ماجس طرح تو نے حضرت سیدناابراہیم علیہ السلام پر اور ابراہیم علیہ السلام کی آل پر رحمت نازل فرمائی۔ بے شک تو قابل تعریف اور بزرگیوں والا ہے۔ اے اللہ! سیدنامحمدﷺ)اورسیدنا محمدﷺ)کی آل پر برکت نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم (علیہ السلام)پر اور ابراہیم (علیہ السلام)کی آل پر برکت نازل فرمائی۔ بے شک تو قابل تعریف اور بزرگیوں والا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابن ماجۃ أبو عبد اللہ محمد بن یزید القزوینی، وماجۃ اسم أبیہ یزید (ا:۲۹۳) اکیسویں حدیث عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:لَمَّا مَاتَ إِبْرَاہِیمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلَّی رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ:إِنَّ لَہُ مُرْضِعًا فِی الْجَنَّۃِ، وَلَوْ عَاشَ لَکَانَ صِدِّیقًا نَبِیًّا۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے:جب حضورتاجدارختم نبوتﷺکے شہزادے حضرت سیدناابراہیم رضی اللہ عنہ کا وصال شریف ہوا تو آپ ﷺنے فرمایا:ان کے لئے جنت میں ایک دودھ پلانے والی (کا انتظام)ہے۔ اگر وہ زندہ رہتے تو سچے نبی ہوتے۔ (سنن ابن ماجہ:ابن ماجۃ أبو عبد اللہ محمد بن یزید القزوینی، وماجۃ اسم أبیہ یزید (۱:۴۸۴) بائیسویں حدیث عَنْ عَائِشَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ:قَدْ کَانَ یَکُونُ فِی الْأُمَمِ قَبْلَکُمْ مُحَدَّثُونَ، فَإِنْ یَکُنْ فِی أُمَّتِی مِنْہُمْ أَحَدٌ، فَإِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ مِنْہُمْ قَالَ ابْنُ وَہْبٍ: تَفْسِیرُ مُحَدَّثُونَ: مُلْہَمُونَ۔ ترجمہ :حضرت ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺ نے ارشاد فرمایا:تم سے پہلے پچھلی اُمتوں میں محدث تھے۔ اگر اس امت میں کوئی محدث ہوگا تو وہ عمر بن الخطاب ہیں۔حضرت سیدنا ابن وہب نے کہا محدث اس شخص کو کہتے ہیں جس پر الہام کیا جاتا ہو۔ (صحیح مسلم : مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشیری النیسابوری (۴:۱۸۶۴) تئیسویں حدیث عَنْ سِمَاکٍ، أَنَّہُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَۃَ، یَقُولُ:کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ شَمِطَ مُقَدَّمُ رَأْسِہِ وَلِحْیَتِہِ، وَکَانَ إِذَا ادَّہَنَ لَمْ یَتَبَیَّنْ، وَإِذَا شَعِثَ رَأْسُہُ تَبَیَّنَ، وَکَانَ کَثِیرَ شَعْرِ اللِّحْیَۃِ، فَقَالَ:رَجُلٌ وَجْہُہُ مِثْلُ السَّیْفِ؟ قَالَ:لَا، بَلْ کَانَ مِثْلَ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ، وَکَانَ مُسْتَدِیرًا وَرَأَیْتُ الْخَاتَمَ عِنْدَ کَتِفِہِ مِثْلَ بَیْضَۃِ الْحَمَامَۃِ یُشْبِہُ جَسَدَہُ۔ ترجمہ :حضرت سیدنا سماک روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے حضرت سیدناجابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکے سر اورداڑھی کا آگے کا حصہ سفید ہو گیا تھا جب آپ ﷺتیل ڈالتے تو سفیدی معلوم نہ ہوتی اور آپ ﷺکی داڑھی بہت گھنی تھی۔ ایک شخص بولا کہ کیا آپ ﷺکا چہرہ مبارک تلوار کی طرح یعنی لمبا تھا؟ حضرت سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نہیں آپ ﷺکا چہرہ مبارک سورج اور چاند کی طرح اور گول تھا اور میں نے ختم نبوت کی مہر آپ ﷺکے کندھے پر دیکھی جیسے کبوتر کا انڈا ہوتا ہے اور اس کا رنگ جسم کے رنگ سے ملتا تھا۔ (صحیح مسلم : مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشیری النیسابوری (۴:۱۸۲۳) چوبیسویں حدیث فَأَخْبَرَنِی أَبُو ہُرَیْرَۃَ:أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ:بَیْنَمَا أَنَا نَائِمٌ، رَأَیْتُ فِی یَدَیَّ سِوَارَیْنِ مِنْ ذَہَبٍ، فَأَہَمَّنِی شَأْنُہُمَا، فَأُوحِیَ إِلَیَّ فِی المَنَامِ: أَنِ انْفُخْہُمَا، فَنَفَخْتُہُمَا فَطَارَا، فَأَوَّلْتُہُمَا کَذَّابَیْنِ، یَخْرُجَانِ بَعْدِی فَکَانَ أَحَدُہُمَا العَنْسِیَّ، وَالآخَرُ مُسَیْلِمَۃَ الکَذَّابَ، صَاحِبَ الیَمَامَۃِ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں:مجھے حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خبر دی ہے کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا:ایک دفعہ میں سورہا تھا کہ میں نے(خواب میں)اپنے دونوں ہاتھوں میں سونے کے دو کنگن دیکھے۔ مجھے ان کی وجہ سے بہت پریشانی ہوئی۔ مجھے خواب ہی میں وحی آئی کہ آپﷺ دونوں کو پھونک مار دیں۔ میں نے انھیں پھونکا تو وہ دونوں اڑگئے۔ میں نے اس خواب کی تعبیر یہ کی کہ میرے بعد دو کذاب ظاہر ہوں گے۔ ان میں سے ایک اسود عنسی تھا اور دوسرا مسیلمہ کذاب جو یمامہ کاتھا۔ (صحیح مسلم : مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشیری النیسابوری (۴:۱۷۸۱) پچیسویں حدیث عن أبی أمامۃ قال:قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی خطبتہ یوم حجۃ الوداع: أیہا الناس إنہ لا نبی بعدی ولا أمۃ بعدکم، ألا فاعبدوا ربکم، وصلوا خمسکم، وصوموا شہرکم، وأدوا زکاۃ أموالکم طیبۃ بہا أنفسکم، وأطیعوا ولاۃ أمرکم تدخلوا جنۃ ربکم۔ ترجمہ :حضرت سیدناابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے حجۃ الوداع کے خطبہ شریفہ میں فرمایا: اے لوگو!میرے بعد کوئی نبی نہیں اور نہ ہی تمہارے بعد کوئی اُمت، پس تم اپنے رب کی عبادت کرو اور پنج گانہ نماز قائم کرو اور اپنے پورے مہینے کے روزے رکھو اور اپنے اولوالامر کی اطاعت کرو، (پس)اپنے رب کی جنت میں داخل ہوجاؤ۔ (کنز العمال :علاء الدین علی بن حسام الدین ابن قاضی خان القادری الشاذلی (۵:۲۹۵) چھبیسویں حدیث عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیِّبِ، قَالَ:قُلْتُ لِسَعْدِ بْنِ مَالِکٍ إِنِّی أُرِیدُ أَنْ أَسْأَلَکَ عَنْ حَدِیثٍ، وَأَنَا أَہَابُکَ أَنْ أَسْأَلَکَ عَنْہُ، فَقَالَ:لَا تَفْعَ
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9