Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #247 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 7.1K Views

تقسیم وراثت سے متعلق ایک اہم مسئلہ از کمال احمد علیمی نظامی جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

تقسیم وراثت سے متعلق ایک اہم مسئلہ از کمال احمد علیمی نظامی جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

تقسیم وراثت سے متعلق ایک اہم مسئلہ کتبہ کمال احمد علیمی نظامی جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی

السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ

سوال ۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین مسئلہ ذیل میں کہ۔

زید نے دو شادی کی تھی پہلی بیوی سے ایک بیٹا اور 4 بیٹیاں تھیں جن میں سے 3 لڑکی کا انتقال ہو گیا(نکاح بعد) اور پہلی بیوی کے انتقال کے بعد زید نے دوسری شادی کی جس سے ایک بیٹی اور 4 بیٹے ہیں ۔

زید کا انتقال ہو گیا ہے اور اِس وقت 2 بیٹی اور 5 بیٹے اور ایک بیوی ہے۔ انکی وراثت کس طرح تقسیم ہوگی۔

کیا 3 بیٹیوں کے انتقال کے بعد انکے لڑکے لڑکیوں (زید کے ناتی نتنی) کا بھی وراثت مین کچھ حصہ ہے۔

برائے کرم جلد از جلد جواب عنایت فرمائیں کرم نوازش ہوگی۔

سائل ۔ محمد ارمان علی قادری علیمی گونڈہ مقیم حال ممبئی


وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہ

الجواب بسم الذی یھدی الی الصواب

مسئلہ _________8×12= 96

زوجہ ___ ثمن_____1×12= 12

بنتین ___ عصبہ__7____14 ÷2= 7_7

خمسۃابناء__عصبہ7___70 ÷5= 14_14

وضاحت مسئلہ

صورت مسئولہ میں بعد تقدیم ما تقدم علی الإرث وانحصار الورثۃ فی المذكورين زید کی جائیداد کے چھیانوے حصے کیے جائیں گے جن میں ١٢/بیوی کو، ١٤/١٤ حصے ہر بیٹے کو اور ٧/٧حصے ہر بیٹی کو ملیں گے.

تقسیم میراث کا ایک طریقہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جائیداد کے آٹھ حصے کرکے ایک بیوی کو دے دیا جائے، پھر باقی ٧/حصوں کو بارہ حصے کرکے ہر بیٹے کو دو دو حصہ اور ہر بیٹی کو ایک ایک حصہ دیا جائے.

چوں کہ وراثت کا حق اسی لڑکے اور لڑکی سے متعلق ہوتا ہے جو مورث کی موت کے وقت زندہ ہو، اس لئے 3 بیٹیاں جو پہلے ہی انتقال کرگئیں ہیں ان کا ترکہ سے کچھ حصہ نہیں تو نواسے اور نواسیوں کو بھی ترکہ سے حصہ نہیں ملے گا.

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ کمال احمد علیمی نظامی جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی

الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری خادم درس و افتاء جامعہ علیمیہ جمدا شاہی

Kutubahu & Verified by:

<h2 style="direction: rtl;">تقسیم وراثت سے متعلق ایک اہم مسئلہ کتبہ کمال احمد علیمی نظامی جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی</h2> <p style="direction: rtl;">السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ</p> <p style="direction: rtl;">سوال ۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین مسئلہ ذیل میں کہ۔</p> <p style="direction: rtl;">زید نے دو شادی کی تھی پہلی بیوی سے ایک بیٹا اور 4 بیٹیاں تھیں جن میں سے 3 لڑکی کا انتقال ہو گیا(نکاح بعد) اور پہلی بیوی کے انتقال کے بعد زید نے دوسری شادی کی جس سے ایک بیٹی اور 4 بیٹے ہیں ۔</p> <p style="direction: rtl;">زید کا انتقال ہو گیا ہے اور اِس وقت 2 بیٹی اور 5 بیٹے اور ایک بیوی ہے۔ انکی وراثت کس طرح تقسیم ہوگی۔</p> <p style="direction: rtl;">کیا 3 بیٹیوں کے انتقال کے بعد انکے لڑکے لڑکیوں (زید کے ناتی نتنی) کا بھی وراثت مین کچھ حصہ ہے۔</p> <p style="direction: rtl;">برائے کرم جلد از جلد جواب عنایت فرمائیں کرم نوازش ہوگی۔</p> <p style="direction: rtl;">سائل ۔ محمد ارمان علی قادری علیمی گونڈہ مقیم حال ممبئی</p> <hr /> <p style="direction: rtl;">وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہ</p> <p style="direction: rtl;">الجواب بسم الذی یھدی الی الصواب</p> <p style="direction: rtl;">مسئلہ _________8×12= 96</p> <p style="direction: rtl;">زوجہ ___ ثمن_____1×12= 12</p> <p style="direction: rtl;">بنتین ___ عصبہ__7____14 ÷2= 7_7</p> <p style="direction: rtl;">خمسۃابناء__عصبہ7___70 ÷5= 14_14</p> <p style="direction: rtl;">وضاحت مسئلہ</p> <p style="direction: rtl;">صورت مسئولہ میں بعد تقدیم ما تقدم علی الإرث وانحصار الورثۃ فی المذكورين زید کی جائیداد کے چھیانوے حصے کیے جائیں گے جن میں ١٢/بیوی کو، ١٤/١٤ حصے ہر بیٹے کو اور ٧/٧حصے ہر بیٹی کو ملیں گے.</p> <p style="direction: rtl;">تقسیم میراث کا ایک طریقہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جائیداد کے آٹھ حصے کرکے ایک بیوی کو دے دیا جائے، پھر باقی ٧/حصوں کو بارہ حصے کرکے ہر بیٹے کو دو دو حصہ اور ہر بیٹی کو ایک ایک حصہ دیا جائے.</p> <p style="direction: rtl;">چوں کہ وراثت کا حق اسی لڑکے اور لڑکی سے متعلق ہوتا ہے جو مورث کی موت کے وقت زندہ ہو، اس لئے 3 بیٹیاں جو پہلے ہی انتقال کرگئیں ہیں ان کا ترکہ سے کچھ حصہ نہیں تو نواسے اور نواسیوں کو بھی ترکہ سے حصہ نہیں ملے گا.</p> <p style="direction: rtl;">واللہ اعلم بالصواب</p> <p style="direction: rtl;"><span style="font-size: 20px;"><strong>کتبہ کمال احمد علیمی نظامی جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی</strong></span></p> <p style="direction: rtl;"><span style="font-size: 20px;"><strong>الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری خادم درس و افتاء جامعہ علیمیہ جمدا شاہی</strong></span></p>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...