Fatwa #2648
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
کیا پرساد کھانا جائز ہے ؟
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
5,655
سوال (Question):
کیا پرساد کھانا جائز ہے ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
کیا پرساد کھانا جائز ہے ؟
اسلام علیکم و رحمتہ اللہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں۔، ہنود جو اپ نے معبودان باطلہ کو طعام شیرنی و غیرہ چڑھاتے ہیں ۔، اور اس کو پرشاد نام رکھتے ہیں۔، اس کا کھانا حلال ہے یا نہیں ۔ بینوا توجروا و علیکم السلام و رحمتہ اللہالجواب ھو الھادی الی الصواب
اس پرشاد کو ہنود اگر تصدقا بانٹ رہے ہوں۔ تو ہر گز نہ لے مگر یہ کی بضرورت شدیدہ کے صدقہ کے طور پر لینے میں مسلمان کی ذلت اور گویا کافر کا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بالا کرنا ہے ۔ نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: اونچا ہاتھ نیچے ہاتھ سے بہتر ہے۔اور دینے والا ہاتھ اونچا ہے مانگنے والا ہاتھ نیچا ہے ۔، اسی وجہ سے بلا ضرورت شدیدہ پرشاد نہ لیا جائے ۔ایک ایسے ہی سوال کے جواب میں۔، امام اہلسنت سیدی اعلی حضرت فرماتے ہیں پرشاد بھوگ کا لینا حلال ہے لعدم المحرم(حرمت کی دلیل نہ ہونے کی وجہ سے۔ت)مگر مسلمان کو احتراز چاہئے لخبث النسبۃ(نسبت خباثت کی وجہ سے )عالمگیریہ میں ہے: مسلم ذبح شاۃ المجوسی لبیت نارھم اوالکافر لالھتہم توکل لانہ سمی اﷲ تعالٰی ویکرہ للمسلم کذا فی التاتارخانیۃ ناقلا عن جامع الفتاوٰی۔ اقول: فاذا حلت ھذہ وھی ذبیحۃ فالمسئول عنہ اولٰی بالحل۔ اگر کسی مسلمان نے آتش پر ست کی بکری اس کے آتشکدہ کے لئے یا کافر کے جھوٹے خداؤں کے لئے ذبح کر ڈالی تو اسے کھایا جائے گا(یعنی کھانا چاہے تو کھاسکتاہے)اس لئے کہ مسلمان نے اس پر خدا کا نام لیاہے لیکن ایسا کرنا مسلمان کے لئے مکروہ ہے تاتارخانیہ میں جامع الفتاوٰی کے حوالہ سے اسی طرح منقول ہے،۔اقول:(میں کہتاہوں)جب یہ ذبیحہ ہونے کے بعد حلال ہے تو پھر جس مسئلہ کے متعلق سوال کیا گیا وہ بطریق اولٰی حلال ہے۔ اور شیخ محقق رحمۃ اﷲ تعالٰی نے مجمع البرکات میں فرماتے ہیں: مایاتی المجوس فی نیروز ھم من الاطعمۃ یحل اخذ ذلك ولا حتراز عنہ اسلم کذا فی مطالب المومنین ناقلا عن الذخیرۃ اقول فاذا کان الاحتراز عن ھذا اسلم مع انہ لیس الاطعاما صنعہ لیوم زینتہم فالمستفسر عنہ اجدر بالاحتراز واحری کما لا یخفی۔ آتش پرست اپنی عیدمیں جو کھانے وغیرہ لاتے ہیں ان کالینا حلال ہے ہاں البتہ ان سے بچنا زیادہ سلامتی کی راہ ہے۔اسی طرح مطالب المومنین میں ذخیرہ کے حوالے سے منقول ہے ،اقول(میں کہتاہوں)جب اس سے بچنا زیادہ سلامتی ہے باجود کہ یہ صرف وہ کھانا ہے جو انھوں نے اپنی زیب وزینت کے دن کے لئے تیار کیا ہے لہذا جس کے متعلق سوال کیاگیا وہ بچنے کے زیادہ قابل اور لائق ہے جیسا کہ پوشیدہ نہیں اگر کفار اس پرشاد کو بطور تصدق بانٹ رہے ہوں جب تو ہر گز پاس نہ جائے مگر بضرورت شدیدہ کہ صدقہ کے طور پر لینے میں معاذ ﷲ مسلمان کی ذلت اور گویا کافر کے ہاتھ اس کے ہاتھ پر بالا کرنا ہے۔حضور صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: الیدالعلیا خیر من الید السفلی والید العلیا ھی المنفقۃ والید السفلی ھی السائلۃ اخرجۃ الشیخان وغیرھما عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔وﷲ تعالٰی اعلم۔ اونچا ہاتھ نیچے ہاتھ سے بہتر ہے اور دینے والا ہاتھ اونچا ہے اور مانگنے والا نیچا،(بخاری،مسلم اور ان دو کے علاوہ باقی لوگوں نے عبدﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے اس کی تخریج کی۔ وﷲ تعالٰی اعلم ۔ فتاوی رصویہ 21 جلد صفح 697 مزید فرماتے ہیں مشرکین اپنے بتوں کے لئے سانڈ چھوڑتے اسے سائبہ کہتے جسے کان چیر کر چھوڑتے اسے بحیرہ کہتے اور ان جانوروں کو حرام جانتے،الله تعالٰی نے ان کو رد فرمایا کہ: ” مَا جَعَلَ اللہُ مِنۡۢ بَحِیۡرَۃٍ وَّلَا سَآئِبَۃٍ وَّلَا وَصِیۡلَۃٍ وَّلَا حَامٍ ۙ وَّلٰکِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا یَفْتَرُوۡنَ عَلَی اللہِ الْکَذِبَ ؕ وَ اَکْثَرُہُمْ لَا یَعْقِلُوۡنَ الله نے مقرر نہیں کیا ہے کان چرا ہوا اور نہ بحار اور نہ وصیلہ اور نہ حامی،ہاں کافر لوگ الله پر جھوٹا افتراء باندھتے ہیں اور ان میں اکثر نرے بے عقل ہیں، یعنی یہ باتیں الله نے تو ٹھہرائیں نہیں لیکن کافر ان پر جھوٹ باندھتے ہیں،تو ان جانوروں کو حرام بنانا کافروں کاقول۔ اور قرآن مجید کے خلاف ہے۔اور آیہ مااہل بہ لغیر ﷲ اس جانور کے لئے ہے جس کے ذبح میں غیر خدا کا نام پکارا جائے، چھوڑے ہوئے جانور سے اسے کوئی تعلق نہیں نہ کہ مٹھائی تك پہنچے،یہ تعصب وہابیوں کے جاہلانہ خیال ہیں کہ”جانداریا بے جان ذبیحہ ہو یا غیر،جس چیز کو غیر خدا کی طرف منسوب کرکے پکاریں گے حرام ہوجائیں گی”ایسا ہو تو ان کی عورتیں بھی ان پر حرام ہوں کہ وہ بھی انھیں کی عورتیں کہہ کر پکاری جاتی ہیں الله تعالٰی کا نام ان پر نہیں لیا جاتا،ایسے بیہودہ خیالوں سے بچنا لازم ہے۔ہاں بت کے چڑھاوے کی مٹھائی پر شاد مسلمانوں کو نہ لینا چاہئے کہ کافر اسے صدقہ کے طور پر بانٹتے ہیں،وہ لینا ذلت بھی ہے اور معاذالله جو چیز انھوں نے تعظیم بت کے لئے بانٹی اس کا ان کے موافق مراد استعمال بھی ہے کتبہ : مفتی دانش حنفی صاحب
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9