بڑے جانور میں قربانی کے شرکا اور جیون بیمہ سے متعلق ایک اہم مسئلہ از کمال احمد علیمی نظامی
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
بڑے جانور میں قربانی کے شرکا اور جیون بیمہ سے متعلق ایک اہم مسئلہ
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ حضور مسلہ یہ ہےکہ
کیا ایک بڑے پورے جانور میں
ایک ہی نام سے قربانی ہو سکتی ہے؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ
آج کل جو چل رہا ہے لوگ اپنے بچوں کے نام سے بیما پولیسی کراتے ہیں پانچ سال یا دس سال یا پندرہ سال کے لئے جسمیں ہر سال پانچ ہزار یا چھ سات ہزار بھرنا پڑتا ہے
تو اس میں ایک سال میں وہ پیسہ ہمکو بیس سے پچیس یا تیس ہزار ملتا ہے تو کیا ایسا کرنا کیسا ہے
مستفتی
قمر الدين احمد اسلام پورہ بستی
الجواب :
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہ
١ – ایک بڑے جانور میں زیادہ سے زیادہ سات افراد کی طرف سے قربانی ہو، اور سات سے کم دو ،تین ، چار، پانچ اور چھ افراد کی طرف سے بھی ہوسکتی ہے، خواہ سب کا حصہ برابر برابر ہو یا کم وبیش، بس صرف ایک شرط ہے کہ کسی بھی شریک کا حصہ ساتویں حصہ سے کم نہ ہو، کیوں کہ ساتویں حصہ سے کم میں تقرب جائز نہیں۔ یوں ہی ایک کی طرف سے بھی پورے جانور کی قربانی جائز ہے، بدائع الصنائع میں ہے :
” ولا يجوز بعير واحد ولا بقرة واحدة عن أكثر من سبعة، ويجوز ذلك عن سبعة أو أقل من ذلك، وهذا قول عامة العلماء”.(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع 5/ 70)
یعنی ایک اونٹ یا گاے سات سے زائد لوگوں کی طرف سے جائز نہیں، ہاں سات یا اس سے کم لوگوں کی طرف سے جائز ہے، یہی عام علما کا قول ہے۔
فتاوی عالم گیری میں ہے:
“فِي أَضَاحِي الزَّعْفَرَانِيِّ وَلَوْ كَانَتْ الْبَدَنَةُ أَوْ الْبَقَرَةُ بَيْنَ اثْنَيْنِ فَضَحَّيَا بِهَا اخْتَلَفَ الْمَشَايِخُ فِيهِ، وَالْمُخْتَارُ أَنَّهُ يَجُوزُ، وَنِصْفُ السُّبْعِ تَبَعٌ فَلَا يَصِيرُ لَحْمًا”(فتاوی عالم گیری ج۵ الباب الثامن فیما یتعلق بالشرکة فی الضحایا)
صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:
“جب قربانی کے شرائط مذکورہ پائے جائیں تو بکری کا ذبح کرنا یا اونٹ یا گائے کا ساتواں حصہ واجب ہے۔ ساتویں حصہ سے کم نہیں ہوسکتا بلکہ اونٹ یا گائے کے شرکا میں اگر کسی شریک کا ساتویں حصہ سے کم ہے تو کسی کی قربانی نہیں ہوئی یعنی جس کا ساتواں حصہ یا اس سے زیادہ ہے اس کی بھی قربانی نہیں ہوئی۔ گائے یا اونٹ میں ساتویں حصہ سے زیادہ کی قربانی ہوسکتی ہے۔ مثلاً گائے کو چھ یا پانچ یا چار شخصوں کی طرف سے قربانی کریں ہوسکتا ہے اور یہ ضرور نہیں کہ سب شرکا کے حصے برابر ہوں بلکہ کم و بیش بھی ہوسکتے ہیں ہاں یہ ضرورہے کہ جس کا حصہ کم ہے تو ساتویں حصہ سے کم نہ ہو” (بہار شریعت ح١۵ ص ٣٣٧).
٢ – ہندوستان میں جیون بیمہ کرانا جائز ہے، بشرطیکہ آدمی کو یقین یا ظن غالب ملحق بہ یقین ہو کہ وہ کم از کم اتنی قسطیں جمع کر لے گا کہ اس کا پیسہ نہیں ڈوبے گا، اگر اسے ڈر ہے کہ اتنی قسطیں جمع نہیں کرپائے گا تو اس کے لیے ناجائز ہے، چنانچہ فتاوی بحرالعلوم میں ہے :
جیون بیمہ اپنی اصل کے اعتبار سے قمار ہے اس میں نقصان اور نفع دونوں کا ہی خطرہ ہے اس لئے شرع مطہرہ نے اس کو حرام قرار دیا ۔
لیکن اعلی حضرت فاضل بریلوی قدس سرہ نے” فتاوی رضویہ ج ٧ ص ١١٣” میں تحریر فرمایا کہ اگر جیون بیمہ کمپنیوں کے سب مالکان غیر مسلم ہوں اور اس میں بیمہ کرانے والے کو کسی قسم کی غیر شرعی پابندی لازم نہ ہو اور مسلمان کا اس میں فائدہ ہی فائدہ ہو تو یہاں ہندوستان میں اس کی اجازت ہے”
(فتاوی بحر العلوم ج ٤ص ٩٦)
واللہ اعلم بالصواب وھوالھادی الی الصواب
کتبہ کمال احمد علیمی نظامی جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی
الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری خادم درس و افتاء جامعہ علیمیہ جمدا شاہی