کہ میت کو کفن پہنانے کے بعد اس کا فوٹو لیکر لوگوں کے درمیان پھیلا نے سے میت کو عقاب یا ثواب پہنچے گا یا نہیں ؟
سوال (Question):
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
کہ میت کو کفن پہنانے کے بعد اس کا فوٹو لیکر لوگوں کے درمیان پھیلا نے سے میت کو عقاب یا ثواب پہنچے گا یا نہیں ؟
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام مسلہ ذیل میں۔ کہ میت کو کفن پہنانے کے بعد اس کا فوٹو لیکر(اس حال میں کہ میت کا چہرہ کھلا ہو) لوگوں کے درمیان پھیلا نے سے میت کو عقاب یا ثواب پہنچے گا یا نہیں ؟ اور ایسا کرنا اسلام کے رو سے جائز ہے یا نا جائز؟؟؟ اور ایسا کرنے والا گنہگار ہوگایا نہیں؟؟؟ اس کا جواب برائے مہربانی ضرور عنایت فرمائیں۔ من جانب محمد حضیفہ وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب اللہم ہدایۃالحق والصواب
صورت مسئولہ میں زندہ اور مردہ دونوں آدمی کی تصویر کھینچنا ممنوع ہے، لہذا جو بعض لوگ کرتے ہیں کہ وہ تدفین سے پہلے مردے کی تصویر کھینچتے ہیں یہ حرام ہے۔ حدیث شریف میں تصویر کھینچنے والوں کے بارے میں سخت وعید وارد ہوئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: إنّ أشد الناس عذاباً عند الله يوم القيامة المصورون یقیناً تصویر بنانے والوں کو اللہ تعالیٰ کے یہاں قیامت کے دن سب سے سخت عذاب دیا جائے گا۔ البتہ اگر کسی نے از خود مرحوم کی تصویر کھینچ کر اپنے پاس رکھ لی تھی تو اب اس کا گناہ مرحوم کو نہیں ہوگا، بلکہ خود اس تصویر رکھنے والے کو ہوگا۔ البتہ مرحوم نے اگر اس کی وصیت کی ہو یا اس کی خواہش ظاہر کی ہو تو یہ اس کا عمل ہوگا، اس لیے یہ اس کے لیے مواخذے کا سبب ہوسکتاہے۔واللہ تعالیٰ ورسولہ الاعلیٰ اعلم بالصواب