Fatwa #2667
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
حالت غصہ میں اپنی زوجہ کو طلاق کی نیت کیے بغیر کہا کہ تو مجھ پر حرام ہے جا یہاں سے جہاں تیری مرضی ہے
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
7,775
سوال (Question):
حالت غصہ میں اپنی زوجہ کو طلاق کی نیت کیے بغیر کہا کہ تو مجھ پر حرام ہے جا یہاں سے جہاں تیری مرضی ہے
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
حالت غصہ میں اپنی زوجہ کو طلاق کی نیت کیے بغیر کہا کہ تو مجھ پر حرام ہے جا یہاں سے جہاں تیری مرضی ہے کیا طلاق ہو جائے گی ؟
السلام علیکم و رحمتہ الله تعالٰی وبرکاۃ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں ذید نے حالت غصہ میں اپنی زوجہ کو طلاق کی نیت کیے بغیر کہا کہ تو مجھ پر حرام ہے جا یہاں سے جہاں تیری مرضی ہے اب امر طلب یہ ہے کہ اس حالت میں زوجہ پر کونسی طلاق واقع ہوگی اور اگر کسی صورت میں وہ رجعت کرنا چاہتا ہے تو ہوگی کہ نہیں اگر ہوگی تو کیا مہر جدید بھی اس میں شرط ہو گا کہ نہیں اگر مہر جدید ہوگا تو اس کی رقم کیا ہوگی با تفصیل وضاحت فرمائیں عین کرم نوازی ہوگی السائل محمد عبدالغنی اشرفی القادری،الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں اس کی بیوی پر ایک طلاق بائن پڑے گی اور نکاح ختم ہوجائے گا، اب اگر عدت کے دوران یا عدت گزرنے کے بعد میاں بیوی دونوں باہم رضامندی سے دوبارہ ساتھ رہنا چاہیں تو نئے مہر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں تجدید نکاح کرسکتے ہیں، نکاح کے بعد آئندہ کے لیے شوہر کے پاس دو طلاق کا اختیار باقی رہے گا۔ الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) ۔کتاب الطلاق ۔باب الکنایات ۔جلد4ص518مکتبہ فیصل دیوبند ۔ “ومن الألفاظ المستعملة: الطلاق يلزمني، والحرام يلزمني، وعلي الطلاق، وعلي الحرام فيقع بلا نية للعرف. (قوله: فيقع بلا نية للعرف) أي فيكون صريحاً لا كنايةً، بدليل عدم اشتراط النية وإن كان الواقع في لفظ الحرام البائن؛ لأن الصريح قد يقع به البائن كما مر، لكن في وقوع البائن به بحث سنذكره في باب الكنايات، وإنما كان ما ذكره صريحاً؛ لأنه صار فاشياً في العرف في استعماله في الطلاق لايعرفون من صيغ الطلاق غيره ولايحلف به إلا الرجال، وقد مر أن الصريح ما غلب في العرف استعماله في الطلاق بحيث لايستعمل عرفاً إلا فيه من أي لغة كانت، وهذا في عرف زماننا كذلك فوجب اعتباره صريحاً كما أفتى المتأخرون في أنت علي حرام بأنه طلاق بائن للعرف بلا نية مع أن المنصوص عليه عند المتقدمين توقفه على النية”. فقط والله أعلم کتبہ:محمد عمران القادری اشرفی جامعی ۔ خادم جہانگیر اشرف دارالافتاوالقضا۔ جامعہ معین السنہ ڈینگلہ پونچھ ۔جموں وکشمیر۔ جواب صحیح ہے ۔۔ حضرت مفتی شہاب الدین اشرفی جامعی ۔ صدر شعبئہ افتا جامع اشرف کچھوچھہ مقدسہ یوپی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9