صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2672 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

کیا دوسرا نکاح یعنی شادی کرنے کئے پہلی بیوی کی اجازت ضروری ہے ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 8,367

سوال (Question):

کیا دوسرا نکاح یعنی شادی کرنے کئے پہلی بیوی کی اجازت ضروری ہے ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

کیا دوسرا نکاح یعنی شادی کرنے کئے پہلی بیوی کی اجازت ضروری ہے ؟

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام کہ ایک شخص نے ایک شادی کی ہے،اب وہ دوسری شادی بھی کرنا چاہتا ہے۔اگر اس کی پہلی بیوی اسے نکاح ثانی کی اجازت نہ دے تو شریعت کی رو سے وہ دوسرا نکاح کر سکتا ہے یا نہیں؟

الجواب

قرآن کریم نے آزاد مرد کو چار شادیاں کرنے کی اجازت دی ہے۔ اس میں پہلی بیوی کی رضا مندی یا عدم رضا مندی کو کوئی دخل نہیں ہے۔البتہ قانونی پیچیدگیوں سے بچنے کے لئے اجازت لے لے۔ ایک سے زائد شادیوں میں یہ تاکید فرمائی ہے کہ جب چند بیویاں ہوں تو ان میں عدل کرے۔سب کے ساتھ یکساں برتاؤ اور بودوباش رکھے،اوراگر برابری نہیں کرے گا تو اس پر حدیثوں میں سخت وعیدیں ہیں۔اگر انصاف نہیں کر سکتا پھر دوسری شادی کرنے کی اجازت نہیں۔ کن چیزوں میں کس طرح عدل وانصاف کرنا ہے،اس کے لیے کسی معتمد سنی مفتی صاحب کے پاس جا کر یا فون کر کے تفصیلی معلومات لے لی جائے۔ واللہ اعلم بالصواب کتبہ : مفتی محمد کامران عطاری مدنی 

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh