صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2696 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تبرکات کا دھندا  مصنوعی تبرکات کا بازار عروج پر ……

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 10,743

سوال (Question):

تبرکات کا دھندا  مصنوعی تبرکات کا بازار عروج پر ......

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

 تبرکات کا دھندا  مصنوعی تبرکات کا بازار عروج پر ……

محمد رضا مرکزی خادم التدریس والافتاء الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں 8446974711 آقائے کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت رکھنے والی اشیاء سے فیوض وبرکات حاصل کرنا اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور علمائے کرام وصلحا و صوفیاء کا طریقہ رہا ہے ….. لیکن اسی کو بزنس اور کمائی کا دھندا بنا لینا…. بھولے بھالے مسلمانوں کو گمراہ کرنا.. یہ کون سے دین کی تعلیم ہے ….. تبرکات کے تعلق سے بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے …. کسی بھی چیز کو تبرک بنانے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ و سلم کی طرف منسوب کرنے سے پہلے ہزار بار اس حدیث کو پڑھ لیں… الامان والحفیظ حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میری طرف جھوٹی بات منسوب نہ کرو۔ یقینا جس نے مجھ پر جھوٹ باندھا وہ جہنم میں داخل ہوگا۔ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے حضور نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: مجھ پر جھوٹ باندھنا ایسا نہیں جیسا کسی اور پر جھوٹ باندھنا۔ جو میرے متعلق جان بوجھ کر جھوٹ بولے وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔ عبدالمصطفی صاحب نے اچھا ہی نہیں بہت اچھا اور سچا لکھا ہے…. کوئی بھی کہیں سے بھی کھڑا ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ بال، نعلین اور کپڑا وغیرہ فلاں بزرگ کا ہے اور بھولے بھالے لوگ اس پر عقیدت اور مال کا چڑھاوا چڑھانا شروع کر دیتے ہیں۔ ہم تبرکات کی عظمت کا انکار نہیں کرتے لیکن فرضی تبرکات کا جس طرح بازار گرم ہے، اس سے اتفاق بھی نہیں کر سکتے۔ ہماری سنی عوام اتنی بھولی ہے کہ ایک سلائی مشین کی تصویر جس میں یہ لکھا ہوتا ہے کہ یہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا کی مشین ہے، اسے بھی عقیدت کے ساتھ عام کرنا شروع کر دیتے ہیں اور یہ تک نہیں سوچتے کہ اس مشین کا ایجاد کب ہوا۔ ہمارے ملک ہندستان میں درجنوں نعلین ایسے مل جائیں گے جن کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے ہیں۔ اب سوچنے والی بات ہے کہ اتنے نعلین ہندستان میں کہاں سے آ گئے؟ کیا یہ تبرکات کے نام پر دھندا نہیں ہے؟ کہیں سے سننے میں آیا کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام کے بالوں کی زیارت کروائی جا رہی ہے! علامہ اسید الحق قادری بدایونی نے لکھا تھا کہ کسی شہر کے بارے میں انھیں معلوم ہوا کہ جہاں اس تختی کی زیارت کروائی جا رہی ہے جس پر حسنین کریمین کا تحریری مقابلہ ہوا تھا جبکہ اس روایت کی ہی اصل نہیں ملتی۔ پھر آپ لکھتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہیں اس جنتی سیب کی بھی زیارت کروائی جانے لگے جس سے اس تختی کا فیصلہ ہوا تھا تو دنیا میں جنتی پھل دیکھنے کا شرف حاصل ہو جائے گا۔ (ملخصاً: نقد و نظر) ماضی قریب میں جن بزرگوں کا انتقال ہوا اور جو ابھی با حیات ہیں ان کے بھی تبرکات کے ساتھ عجیب و غریب معاملات ہو رہے ہیں۔ کوئی اپنے پیر کے بالوں کو موئے مبارک بول کر تقسیم کر رہا ہے اور پیر صاحب خاموش ہیں! کوئی کرتے اور عمامے کے کپڑوں کے ٹکڑے کو فروخت کر رہا ہے اور لوگ بڑی بڑی رقم دے کر اسے خرید رہے ہیں! ان سب کی حدوں کو پہچاننا ضروری ہے، اس طرح عقیدت میں حد سے بڑھنا درست نہیں ہے۔ تبرکات کی تعظیم ضروری ہے لیکن ہم آپ کی توجہ اس کے نام پر چل رہے دھندے کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔ اصل اور فرضی میں فرق کا شعور پیدا کریں اور اپنی عقیدت کا غلط استعمال ہونے سے بچائیں۔ کئی سال پہلے “تبرکات کا مذموم کاروبار” صدیق محترم مولانا افتخار الحسن رضوی صاحب نے ایک بہترین تجزیہ پیش کیا تھا… ملاحظہ کریں…. حالیہ دنوں میں ہند و پاک کے مسلمانوں میں تبرکات کا کلچر بہت عام ہوا ہے۔ متعدد خانقاہیں، علماء اور بعض پیر حضرات اس بزنس میں بڑھ چڑھ کر شریک ہیں۔ مثلا نبی کریم ﷺ کے “بال مبارک”، نعلین شریفین، عصا مبارک، قبرِ رسول ﷺ کی خاک، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی تلوار، امام حسین رضی اللہ عنہ کی دستار و عمامہ ، سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی علیہ الرحمہ کی پگڑی وغیرہ وغیرہ۔ یہ سلسلہ طویل ہے اور ایسے عجیب و غریب تبرکات بتائے جاتے ہیں کہ بندہ حیرت کی وادیوں میں گم ہو جاتا ہے۔ یہ حقیقت اچھی طرح سے سمجھ لیں کہ کل کائنات میں فقط اسطنبول (ترکی) میں موجود بعض تبرکات ایسے ہیں جن کی سند باقاعدہ محفوظ ہے، اس کے علاوہ دنیا بھر میں موجود تبرکات مشکوک ہیں۔ عرب کے خزرجی قبائل کے پاس کچھ تبرکات ہیں، انہی دو مقامات سے تبرکات بعض مواقع پر دنیا کے دیگر ممالک میں لے جائے جاتے ہیں اور زیارت کے بعد واپس محفوظ کر لیے جاتے ہیں۔ یہ معاملہ سنگین اور حساس ہے کہ کسی ایسی چیز کو رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کر دیا جائے جس کا تعلق حقیقت میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ نہیں ہے۔ امام بخاری علیہ الرحمہ نے اپنی صحیح میں ایک روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا؛ ”میرے اوپر جھوٹ بولنا کسی عام شخص پر جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے، جو شخص جان بوجھ کر میری جانب جھوٹی بات منسوب کرے تو اس کو چاہیے کہ اپنا ٹھکانہ جہنم بنالے“۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ رسول کریم ﷺ کے موئے مبارک صحابہ کرام علیہم الرضوان نے جمع فرمائے اور وہ بعد میں آنے والے لوگوں تک پہنچے، لیکن جس کثرت سے یہ بال ہند و پاک میں اب نظر آنے لگے ہیں یہ خلاف حقیقت ہے۔ یہ بات بھی حیران کن ہے کہ یہ تبرکات صرف ہند و پاک یا دنیا کے دیگر ممالک میں رہنے والے ہندوستانیوں اور پاکستانیوں ہی کے پاس ہوتے ہیں۔ اہل عرب اور افریقی مسلمان ان سے واقف نہیں یعنی جہالت کے اکثر مراکز ہند و پاک ہی میں واقع ہیں۔ نبی کریم ﷺ کی قبر شریف تک دنیا کے کسی حاکم بشمول سعودی حکام کی رسائی نہیں، تو پھر قبر رسول ﷺ کی مبارک خاک کا لوگوں تک پہنچنا کیسے ممکن ہے؟ روضہ شریفہ کے اندر خاک کا جمع ہونا ہی مشکل ہے، اس قدر صفائی کا انتظام، جالیاں، کنکریٹ کی دیواریں، اعلٰی دھاتی مواد کی حفاظی تہیں موجود ہوں تو وہاں تک خاک کیسے پہنچتی ہے؟ سیدنا علی کی ایک تلوار، یہ اتنے سارے لوگوں کے پاس کیسے پہنچی؟ سیدنا امام حسین پاک کا عمامہ شریف ؟؟؟ سر مبارک کے مقام تدفین پر اختلاف ہے اور یزیدی ملعونین نے جسمِ مبارک تو زخموں سے چور چور کر دیا تھا تو پگڑی کیسے بچا کر محفوظ کر لی گئی؟ اور اگر بچ بھی گئی تو اس قدر پگڑیاں تھیں کہ وہ دنیا کے مختلف مقامات پر پہنچا دی گئیں؟ تبرکات کا یہ بزنس کرنے والا طبقہ زمزم اور آب شفاء کے نام پر بھی عقیدتیں بٹورتا ہے۔ مثلا لوگوں کو بیوقوف بناتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ہمارے پاس ایک سو اکیس پانیوں کا مجموعہ ہے، جس میں رسول اللہ ﷺ کا لعاب مبارک شامل ہے۔ استغفر اللہ العظیم۔ سب سے بڑی شفاء زمزم کے پانی میں ہے، اس کے علاوہ دنیا میں کوئی بھی آب شفاء نہیں ہے۔ مدینہ سے بدر کے راستے پر واقع “بئر روحہ” معروف کنواں ہے، لیکن یہ بالکل بھی ثابت نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مصطفٰی جانِ رحمت ﷺ نے اس کنویں میں اپنا مبارک لعاب شامل فرمایا ہو۔ لہٰذا یہ من گھڑت روایت ہے۔ اسی طرح قبر رسول ﷺ پر موجود چادر اور غلافِ کعبہ کے تبرک بھی بیچے جاتے ہیں بلکہ غلافِ کعبہ کے دو دو دھاگے بیچے جاتے ہیں۔ یاد رکھیں اگر آپ کے اعمال و أفعال اور عقائد صالح و سلامت نہیں تو آپ زم زم کے کنویں میں بھی ڈبکیاں لگا لیں، اور کعبے کے اندر ہی داخل ہو کر رہنا شروع کر دیں، کچھ حاصل نہیں۔ اسلام میں بخشش اور حصول جنت کے کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے۔ ہند و پاک کے لوگ مذہبی عقیدت میں اندھے ہو جاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ مولوی اور پیر کی داڑھی اور پگڑی دیکھ کر دھوکے میں آ جاتے ہیں اور فورا عقیدت میں اندھے ہو جاتے ہیں۔ ہر وہ چیز جس کی نسبت رسول اللہ ﷺ سے کی جائے، اس کی مکمل تفتیش کریں، جب تک اس کی اصل سند اور صحت ثابت نہ ہو جائے ، ہرگز یقین نہ کریں۔ یہ خود ساختہ میڈ ان انڈیا اینڈ پاکستان تبرکات ہمیں نہ جنت میں لے جا سکتے ہیں، نہ ہمیں جہنم سے بچا سکتے ہیں، اپنے اعمال اچھے کریں اور قرآن و سنت کی اتباع کرتے ہوئے اللہ تعالٰی اور رسول اللہ ﷺ کا قرب حاصل کریں۔ اپنی عقیدت کسی کے ہاتھ مت بیچیں، ورنہ اسی اندھی عقیدت ہی کی وجہ سے ہند و پاک میں کئی مزارات میں گدھے اور کتے مدفون ہیں، اور بعض مزارات میں ہند و اور بھنگی چرسی مدفون ہیں۔ کتبہ: افتخار الحسن رضوی ۲ دسمبر ۲۰۲۰ قدم رسول تو ہند و پاک میں ہزاروں مقامات پر ہیں.. پتہ نہیں اتنے زیادہ قدم رسول پاک اور موئے مبارک ہندوپاک والوں کو کہاں سے مل گئے؟ حالانکہ ضرورت تو رسول کے نقش قدم پر چلنے کی تھی لیکن اسے چھوڑ کر ہم صرف زیارت کرنے اور کرانے کے لئے قدم رسول کی تلاش میں لگ گئے…. مارکیٹ میں تبرکات کیسے کیسے آ گئے ہیں ایک جھلک… سیدہ کائنات بی بی فاطمہ کا دوپٹہ.. اللہ خیر فرمائے جس کے آنچل کو چاند وسورج نے نہ دیکھا آج یہ جھوٹے مکار لوگ اس کی زیارت کرا رہے ہیں اللہ اکبر … امام احمد رضا علیہ الرحمہ نے کہا جس کا آنچل نہ دیکھا ماہ ومہر نے اس ردائے نزاہت پہ لاکھوں سلام ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ڈوپٹہ شریف بھی آگیا… سلائی مشین مزاراتِ کے پتھر غسل کا پانی چادر کا ٹکڑا پیر، بزرگ کے کپڑے، عمامے، عصا وغیرہ اصحاب رسول کے بال، زلف جھاڑو فلاں آستانے کا حسنین کریمین کے بال نبی کی تلوار وغیرہ وغیرہ اللہ جانے انہیں یہ تبرکات کہاں کہاں سے مل جاتے ہیں

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh