Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #254 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 8.3K Views

وراثت سے متعلق ایک اہم مسئلہ ازحضرت مولانا کمال احمد علیمی

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

وراثت سے متعلق ایک اہم مسئلہ ازحضرت مولانا کمال احمد علیمی

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

وراثت سے متعلق ایک اہم مسئلہ

محترم حضرت مولانا کمال احمد

صاحب قبلہ علیمی نظامی

السلام. علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان. شرع متین مسئلہ ذیل میں

زید. کے دولڑکے. حامد.. اورمحمود زید اورانکی اہلیہ.کاانتقال ہوگیا.. محمودعیال.دار ہے حامد شادی.کے کچھ ہی.دن بعد فوت ہوگیا دریافت امر یہ.ہے کہ حامد کےترکہ.سے کتنا حصہ بیوہ.یعنی حامدمرحوم.کی.بیوی.کوملےگااورکتنا محمود کوملےگا

جواب.عنایت فرماکر عنداللہ. ماجورہوں

المستفتى

نثارالدین علیمی نظامی سسوبازار سنت کبیرنگر

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب

اس مسئلے کے حل کی دو صورتیں ہیں:

صورت اولی

بعد تقدیم ماتقدم علی الإرث صورت مسئولہ میں

متوفی کے کل ترکہ کو پہلے دو حصوں میں تقسیم کرلیں گے

ایک حصہ حامد کا اور ایک حصہ محمود کا

پھر میت ثانی کے کل ترکہ کو چار حصوں میں تقسیم کرلیں گے ایک چوتھائی یعنی ایک حصہ بیوی کا ہوگا اور باقی بچے ہوۓ تین حصے بطور عصبہ سگے بھائی کے لئے ہے

مسئلہ_________2×4 = 8

ابن [حامد] ______1 متوفی

ابن [محمود] ______1×4 = 4

میت ثانی : مسئلہ_______4__مافی الید 1

زوجہ_______ربع_ 1

اشقیقیق [محمود]____عصبہ__ 3

صورت ثانیہ

زید کی جائیداد کے آٹھ حصہ کرکے سات حصہ محمود کو اور ایک حصہ حامد متوفی کی بیوی کو دیں۔

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ :کمال احمد علیمی نظامی جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی

یکم محرم الحرام ١٤٤٣ھ

مطابق ١١/ اگست ٢٠٢١ء

الجواب صحیح : محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء جامعہ علیمیہ جمدا شاہی

https://chat.whatsapp.com/EDlApG7LoJx3fI9tdZ0x5n

عبدالجبار علیمی نیپالی مبلغ اسلام ریسرچ سینٹر

Kutubahu & Verified by:

<h2 style="direction: rtl;">وراثت سے متعلق ایک اہم مسئلہ</h2> <p style="direction: rtl;">محترم حضرت مولانا کمال احمد</p> <p style="direction: rtl;">صاحب قبلہ علیمی نظامی</p> <p style="direction: rtl;">السلام. علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ</p> <p style="direction: rtl;">کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان. شرع متین مسئلہ ذیل میں</p> <p style="direction: rtl;">زید. کے دولڑکے. حامد.. اورمحمود زید اورانکی اہلیہ.کاانتقال ہوگیا.. محمودعیال.دار ہے حامد شادی.کے کچھ ہی.دن بعد فوت ہوگیا دریافت امر یہ.ہے کہ حامد کےترکہ.سے کتنا حصہ بیوہ.یعنی حامدمرحوم.کی.بیوی.کوملےگااورکتنا محمود کوملےگا</p> <p style="direction: rtl;">جواب.عنایت فرماکر عنداللہ. ماجورہوں</p> <p style="direction: rtl;">المستفتى</p> <p style="direction: rtl;">نثارالدین علیمی نظامی سسوبازار سنت کبیرنگر</p> <p style="direction: rtl;">وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہ</p> <p style="direction: rtl;">الجواب بعون الملک الوھاب</p> <p style="direction: rtl;">اس مسئلے کے حل کی دو صورتیں ہیں:</p> <p style="direction: rtl;">صورت اولی</p> <p style="direction: rtl;">بعد تقدیم ماتقدم علی الإرث صورت مسئولہ میں</p> <p style="direction: rtl;">متوفی کے کل ترکہ کو پہلے دو حصوں میں تقسیم کرلیں گے</p> <p style="direction: rtl;">ایک حصہ حامد کا اور ایک حصہ محمود کا</p> <p style="direction: rtl;">پھر میت ثانی کے کل ترکہ کو چار حصوں میں تقسیم کرلیں گے ایک چوتھائی یعنی ایک حصہ بیوی کا ہوگا اور باقی بچے ہوۓ تین حصے بطور عصبہ سگے بھائی کے لئے ہے</p> <p style="direction: rtl;">مسئلہ_________2×4 = 8</p> <p style="direction: rtl;">ابن [حامد] ______1 متوفی</p> <p style="direction: rtl;">ابن [محمود] ______1×4 = 4</p> <p style="direction: rtl;">میت ثانی : مسئلہ_______4__مافی الید 1</p> <p style="direction: rtl;">زوجہ_______ربع_ 1</p> <p style="direction: rtl;">اشقیقیق [محمود]____عصبہ__ 3</p> <p style="direction: rtl;">صورت ثانیہ</p> <p style="direction: rtl;">زید کی جائیداد کے آٹھ حصہ کرکے سات حصہ محمود کو اور ایک حصہ حامد متوفی کی بیوی کو دیں۔</p> <p style="direction: rtl;">واللہ اعلم بالصواب</p> <p style="direction: rtl;">کتبہ :کمال احمد علیمی نظامی جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی</p> <p style="direction: rtl;">یکم محرم الحرام ١٤٤٣ھ</p> <p style="direction: rtl;">مطابق ١١/ اگست ٢٠٢١ء</p> <p style="direction: rtl;">الجواب صحیح : محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء جامعہ علیمیہ جمدا شاہی</p> <p style="direction: rtl;">https://chat.whatsapp.com/EDlApG7LoJx3fI9tdZ0x5n</p> <p style="direction: rtl;">عبدالجبار علیمی نیپالی مبلغ اسلام ریسرچ سینٹر</p>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...