Fatwa #2723
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
٢بیویوں ٥بیٹیوں ٣بیٹوں میں ترکہ کیسے بٹےگا؟
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
13,923
سوال (Question):
٢بیویوں ٥بیٹیوں ٣بیٹوں میں ترکہ کیسے بٹےگا؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
٢بیویوں ٥بیٹیوں ٣بیٹوں میں ترکہ کیسے بٹےگا؟
مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔ زید کا انتقال ہوگیا اس کے وارثین یہ ہیں دو بیویاں پانچ بیٹیاں اور تین بیٹے ان سب میں زید کا ترکہ کیسے تقسیم ہوگا ؟ المستفتیہ: فرزانہ شیخ ادریسی کرناٹک ۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب -بعون الملک الوھاب- صورت مسئولہ میں بعد تقدیم ماتقدم و انحصار ورثہ فی المذکورین کل جائداد منقولہ و غیر منقولہ کے ١٧٦ حصے کریں گے پھر اس میں سے گیارہ گیارہ حصے بیویوں کو اور چودہ چودہ حصے بیٹیوں کو اور اٹھائیس اٹھائیس حصے بیٹوں کو دیں گے۔ قرآن پاک میں ہے: “فَاِنۡ کَانَ لَکُمۡ وَلَدٌ فَلَہُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَکۡتُمۡ” (سورۃ النساء: ١٢) ترجمہ: پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا (یعنی تمہاری بیویوں کا) تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں (کنز الایمان) اور آیت نمبر ١١ میں ہے: یُوۡصِیۡکُمُ اللّٰہُ فِیۡۤ اَوۡلَادِکُمۡ ٭ لِلذَّکَرِ مِثۡلُ حَظِّ الۡاُنۡثَیَیۡنِ (سورۃ النساء: ١١) ترجمہ: اللہ تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے میں بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے (کنزالایمان) سراجي میں ہے: “ومع الابن للذكر مثل حظ الانثيين وهو يعصبهن” اھ (ص٢١، باب معرفۃ الفروض و مستحقیھا ، فصل فی النساء ، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی) بیٹی بیٹے کے ساتھ ہو تو “بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے” اور بیٹا بیٹیوں کو عصبہ بنادیتا ہے۔ واللہ تعالیٰ ورسولہﷺ اعلم بالصواب۔ کتبہ: محمد صدام حسین برکاتی فیضی ٢٩ ربیع الغوث ١٤٤٥ھ مطابق ١٤ نومبر ٢٠٢٣ء
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9