صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2725 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

دوا کے ذریعے حمل کو روکنا کیسا ہے ؟ محمد اشفاق عالم امجدی علیمی

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 4,241

سوال (Question):

دوا کے ذریعے حمل کو روکنا کیسا ہے ؟ محمد اشفاق عالم امجدی علیمی

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

دوا کے ذریعے حمل کو روکنا کیسا

السلام علیکم ورحمتہ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ ہندہ کے پیٹ میں بچہ ہے اور چاہتی ہے اس کے بعد بچے نہیں لونگی سیزر کے ذریعے بندکر لونگی کیا ایسا کرنا درست ہے مدلل و مفصل جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی سائل: محمد رضوان عالم (آبادپور کٹیہار)

الجواب بعون الملک العزیز الوھاب

ہمیشہ حمل نہ ٹھہرنے کی دوا کا استعمال جائز نہیں البتہ وقتی طور پر ضرورۃ حمل کے استقرار کو روکنے کے لئے دوا یا انجکشن لینا جائز ہے لیکن ہمیشہ کے لیے بچہ نہ ہو یا انجکشن لینا ناجائز و حرام ہے۔ اور دوا استعمال کرنے کی صورت میں امت مسلمہ کی زیادتی کو روکنا ہے حالانکہ حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اس کی زیادتی کو پسند فرمایا لیکن اگر جانتی ہے کہ حمل ٹھہرنے کی وجہ سے اس کی صحت خراب ہو جائے گی یا چھوٹا بچہ ہے جس کی تندرستی دودھ نہ ملنے کی بناء پر خراب ہو جائے گی تو اس قسم کی مجبوری کے تحت وقتی طور پر حمل نہ ٹھہرنے کی دوا وغیرہ کا استعمال درست ہے ۔ اور ہمیشہ کے لیے بچہ پیدا کرنے کی طاقت ختم ہوجانے کے لئے ایسی چیز کا عمل میں لانا (یعنی دوا وغیرہ کا استعمال) حرام و ناجائز ہے۔ (فتاویٰ فقیہ ملت جلد2 صفحہ 333) صورت مسئولہ میں ہندہ اگر وقتی طور پر حمل نہ ٹھہرنے کی دوا استعمال کر رہی ہے تو جائز ہے اور اگر ہمیشہ کے لیے حمل کو بند کر رہی ہے تو ناجائز و حرام ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب کتبہ:محمد اشفاق عالم امجدی علیمی (بچباری آبادپور کٹیہار الھند) بانی: أمجدی مشن، المسائل بالدلائل گروپ

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh