Fatwa #2740
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
مدرسے میں عبادت گاہ بنی ہوئی ہےتوکیا اس میں جمعہ قائم کر سکتے ہیں؟
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
5,884
سوال (Question):
مدرسے میں عبادت گاہ بنی ہوئی ہےتوکیا اس میں جمعہ قائم کر سکتے ہیں؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
مدرسے میں عبادت گاہ بنی ہوئی ہےتوکیا اس میں جمعہ قائم کر سکتے ہیں؟
الجواب: حکم یہاں بھی وہی ہے کہ جمعہ ہو یا نماز پنجگانہ کی جماعت یہ مسجد میں قائم ہونی چاہیے۔ مسجد کااپنا حق ہے۔ اگر مسجدیں بھر جاتی ہیں اور مسجدوں میں جگہ تنگ ہو جاتی ہے اس وجہ سے مدرسے کے اندر بنے ہوئے عبادت خانے میں جمعہ قائم کیا جائے تو ان تین شرطوں کی رعایت کے(علاقے کا سب سے بڑا عالم جمعہ قائم کرے یا اس کی اجازت سے قائم کی جائے ۔اذن عام ہو کہ جو بھی مسلمان جمعہ کے لئے آنا چاہے آسکے ۔جمعہ کا خطبہ اور جمعہ ہونے سے پہلے گیٹ نہ بند کیا جائے) ساتھ وہاں بھی جمعہ قائم کر سکتے ہیں۔ نماز جمعہ صحیح اور درست ہوگی۔ لیکن اگر مسجدوں میں جگہ ہو، تنگی نہ ہو تو مدرسے میں یا مدرسے کے عبادت خانے میں نہ قائم کریں بلکہ مسجد میں حاضری دیں اس کی فضیلت اور اس کا اجر زیادہ ہے۔ کتبہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور ۔ ( ماخوذ از بزم سوالات )
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9