صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2758 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

قرآن حکیم کی خصوصی ہدایت مرد،عورت کے لئے ۔ از۔ محمدقمرانجم قادری فیضی

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 8,322

سوال (Question):

قرآن حکیم کی خصوصی ہدایت مرد،عورت کے لئے ۔ از۔ محمدقمرانجم قادری فیضی

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

قرآن حکیم کی خصوصی ہدایت مرد،عورت کے لئے ۔ از۔ محمدقمرانجم قادری فیضی

اس دنیا کی معاشرتی زندگی میں مرد اور عورت ایک دوسرے کا زوج ہیں ایک دوسرے کا لباس ہیں ایک دوسرے کی آنکھوں کی نیند ہیں، دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں ،دونوں میں چولی دامن کا رشتہ ہے دونوں ایک دوسرے کے معاون اور مددگار ہیں، اس ناطے نہ مرد کو عورت پر برتری حاصل ہے اور نہ عورت کو مرد پر۔ آئیے اب دیکھتے ہیں کہ جب خاندان یا گھر کی معاشی ذمہ داری کا جو مرد کے بجائے عورت کے کاندھوں پر آتا ہے ۔ یا جو خواتین خاندان یا گھر کی معاشی یا اقتصادی حالات کو بہتر بنانے کے لئے مردوں کے ساتھ ساتھ خود بھی معاشی اور اقتصادی میدان میں کود پڑتی ہیں اس وقت مرد اور عورت کو قرآن کریم نے کیا ہدایات اور اصول مرتب کئے ہیں۔ [ وَقَرْنَ فِى بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ ٱلْجَٰهِلِيَّةِ ٱلْأُولَىٰ] ترجمہ۔اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بے پردہ نہ رہو جیسے اگلی جاہلیت کی بے پردگی۔۔(سورہ الاحزاب آیت 33) قرآن حکیم کا عورتوں کے کے لئے پہلا حکم یہ ہے کہ حتی الامکان اپنے گھروں میں رہو، اگر حالات گھروں میں رہنے کی اجازت نہیں دیتا تب گھر سے باہر نکلتے وقت دور جاہلیت کی طرح اپنے حسن و جمال اپنی آرائش و زیبائش کی نمائش نہ کرو ۔ اس آیت کریمہ میں “قرن فی بیوتکن” کے الفاظ آئے ہیں، یعنی اپنے گھروں میں قرار و سکون سے رہو، قرن ‘ق رر’سے مشتق ہے مفردات القرآن حصہ دوم میں راغب نے لکھا ہے کہ ‘قرنی مکانہ یقر قرارً’ کے معنی کسی مقام پر جم کے ٹھہرنا، اصل میں یہ ‘قَرُّ’ سے ہے جسکے معنی ہیں سردی ،کے، یعنی جو سکون چاہتی ہے تو اپنے گھروں میں رہو، سردیوں میں ہر چیز ساکن ہوجاتی ہے جم جاتی ہے اس سے مراد یہ ہے کہ اپنے گھروں میں جم کے رہو، عورتیں گھروں میں جم کے اس لئے رہیں تاکہ ان سے گھر والوں کو دلی سکون و قرار اور طمانیت حاصل ہو ، آیت کریمہ کے اس چھوٹے سے حصے پر ٹھنڈے دل سے غور کریں کہ قرآن پاک عورتوں کو گھر میں جم کے رہنے کے لئے کیوں کہہ رہا ہے، دوپہر کا وقت ہے تیزی سے لُو چل رہی ہے سورج اپنی تمازت کی کرنوں سے زمین کو جھلسا رہاہے بچے اسکول سے اِس تلملاتی دھوپ میں گھر آتے ہیں، ماں گھر میں نہیں ہوتی ہے بچوں کے ذہن پر ان کی زندگی پر ماں کی اس غیر حاضری کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟ انہیں یہاں لکھنے کی ضرورت نہیں۔ شام کا وقت ہے شوہر دن بھر کا تھکا ماندہ گھر میں داخل ہوتا ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ بیوی گھر میں موجود نہیں ہے تب اس کی ذہنی کیفیت کا عالم کیا ہوگا، اس کیفیت کو وہی محسوس کر سکتے ہیں جنھوں نے کڑوے گھونٹ پیئے ہیں، لہذا وہ خواتین جو اپنے گھروں میں آسودہ حال ہیں جن پر معاشی ذمہ داریاں عائد نہیں ہیں انہیں اپنے گھر والوں کو زیادہ وقت دینا چاہئے ۔ کیونکہ بازار سے سودہ سلف لانے کے لئے خادم ہوتے ہیں، لہذا تفریح طبع کے لئے ہر روز گھر سے نکلنا ایسی عورتوں کو زیبا نہیں دیتا ۔ اگر خدانخواستہ کسی ضروری کام سے باہر جانا پڑے تو اس صورت میں شوہر کو فون کرکے بتادیں یا بچوں کے لئے گھر میں ہدایت لکھ کر رکھ دیں تاکہ وہ مایوس نہ ہوں۔ اب وہ خواتین جو کسی نہ کسی مجبوری کے تحت گھر سے کام کرنے پر باہر نکلنے پر مجبور ہیں، یا وہ لڑکیاں جو اسکول اور کالج اور یونیورسٹی میں پڑھنے یا پڑھانے کی غرض سے جاتی ہیں ،ان کے ساتھ وہ عورتیں جو گھروں میں جم کے رہتی ہیں مگر کسی نہ کسی ضرورت کے تحت گھر سے باہر نکلتی ہیں ان تمام خواتین کو گھر سے باہر نکلنے کے آداب سکھائے جا رہے ہیں ۔ سورہ احزاب کی آیت کریمہ 33/ کا دوسرا حصہ ہدایات دیتا ہے ۔جب کسی ضرورت کے تحت گھر سے باہر نکلو تو دور جاہلیت کی طرح اپنے حسن و جمال آرائش و زیبائش کی نمائش کرتے ہوئے راستے پر مت چلو پھرو، اس آیت کریمہ میں لفظ تبرج کا استعمال ہوا ہے اس لفظ کا اردو مفہوم ہے کہ تکلفات سے ان جسمانی محاسن کو ظاہر کرنا جنکے اظہار سے قرآن پاک روکتا ہے۔ کیونکہ ایسا تبرج یا ایسا جسمانی اظہار مرد کی شہوت کو اکساتا ہے دور جاہلیت میں عورتیں راستے پر باریک اور چست لباس پہن کر نکلتیں، اس پہنے ہوئے لباس میں سے ان کا نہ صرف جسم جھلکتا بلکہ چھلکتا تھا وہ جسم کے ان حصوں کو کھلا رکھتیں جنہیں دیکھ کر مرد ان کی طرف راغب ہوتے اس پر طرہ یہ ہے کہ بناؤ سنگھار کرتیں، پھر ستم ظریفی یہ کہ اترا کر چلتیں، اور اپنی چال ڈھال سے راستہ چلنے والے نوجوانوں کو رِجھاتیں، مزید برآں دور جدید کا ماحول بھی یہی چل رہا ہے۔۔ قرآن حکیم کی مذکورہ آیت مقدسہ کے ذریعے دور جاہلیت کے اس طور و طریقے پر پابندی عائد کردی کہ گھر سے اس طرح نہ نکلو جس طرح دور جاہلیت میں عورتیں نکلا کرتی تھی، عورت گھر کی زینت ہے اور عربی زبان میں لفظ عورت کا مطلب ہی چھپا کر رکھنے کے ہیں اور انسانی فطرت ہے کہ وہ اپنی قیمتی متاع کو چھپا کر رکھتا ہے نہ کہ اس کی نمائش کی جائے۔ اسلام عورت کے بننے سنورنے یا فیشن کرنے پر قدغن نہیں لگاتا، بلکہ پردے اور حدود میں یہ سب کچھ کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ زیب و زینت کی جائے مگر حجاب کا خیال رکھا جائے، نا محرموں کے سامنے اس کی نمائش سے پرہیز کیا جائے، تاکہ معاشرے کے دیگر افراد کو گناہوں اور گمراہی سے بچایا جائے۔ شرم و حیا ہی تو دراصل عورت کا حقیقی زیور ہے، افسوس کہ ہم اسلام کی تعلیمات کو بُھلا چکے ہیں اسی وجہ سے تو ذلیل و رسوائی کی طرف چلتے جا رہے ہیں۔ قرآن مجید میں مرد و زن کے مابین احکامات حجاب کے بارے میں کئی آیت کریمہ شاہد ہیں۔ قرآن حکیم میں اللہ تعالی نے مرد و زن کے درمیان حجاب اور پردے داری کا واضح حکم فرمایا ہے۔ مسلمان مردوں کو حکم دیجئے کہ وہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں یہ ان کے لیے بہت ستھرا ہے، بے شک اللہ کو ان کے کاموں کی خبر ہے، اور مسلمان عورتوں کو حکم دیجئے اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ سنگھار نہ دکھائیں مگر جتنا خود ظاہر ہو اور دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں اور اپنا سنگھار ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں پر (کنزالایمان، ترجمہ سورہ النور۔آیت 30) نگاہوں کو جھکا کر رکھنے کا حکم یہ ثابت کرتا ہے کہ نامحرم مرد و زن کے مابین سب سے پہلا جو عمل بے حیائی کو فروغ دیتا ہے وہ اجنبی مرد و زن کا ایک دوسرے کو دیکھنا یا تکنا ہے۔ گویا نگاہوں کے راستے حیا کا پردہ چاک ہوتا ہے اور بے حیائی پھیلتی ہے۔ مغربی تہذیب و تمدن کی تقلید میں مگن روشن خیال افراد ہمارے معاشرے میں ان رجحانات کی تقلید کرتے نظر آتے ہیں کہ پردہ و حجاب بے معنی اور فرسودہ نظام کا حصہ ہیں جب کہ حقیقی پردہ نگاہوں کا ہوتا ہے۔ بے شک یہ بات درست ہے کیونکہ گناہ کی ترغیب سب سے پہلے آنکھ کے ذریعے سے ہی ہوتی ہے اور نگاہوں کا پردہ برقرار رکھنے کے لئے اس بات کو تسلیم کرنے کی اشد ضرورت ہے کہ مردو زن کا اختلاط، وقار سے عاری لباس، بناؤ سنگھار، اپنی آرائش و زیبائش اور خوبصورتی کا کھلے عام اظہار نگاہوں کو دعوت نظارہ پیش کرتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ رب العزت حکم فرماتا ہے کہ: اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں اور صاحبزادیوں اور مسلمان عورتوں سے فرما دیجئے کہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے منہ پر ڈالے رہیں (سور الاحزاب/آیت 54 کنزالایمان) آیت مبارکہ میں ‘جلابیبھن’ مذکور ہے یہ :ج،ل،ب: سے مشتق ہے۔ ابن فارس نے لکھا ہے کہ جلب کے بنیادی معنی کسی ایسی چیز یا جگہ کے ہیں جو دوسری چیز کو ڈھانپ لیں، این معنی تناظر میں اس کپڑے یا لباس کو جلباب کہتے ہیں جو عورت کے زیب تن کئے ہوئے لباس، آرائش، زیبائش کو ڈھانپتا ہے اس کے جسم کے نشیب و فراز وادیوں کہسار کو چھپاتا ہے ظاہر ہونے نہیں دیتا ہے ۔ المنجد میں جلباب کے معنی، قمیص یاچادر کے ہیں اس کی جمع جلابیب ہے، جلباب ڈوپٹے سے تھوڑا بڑا ہوتا ہے جس سے سر اور سینہ بآسانی چھپایا جا سکے۔ اسی بنیاد پر رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے آخری خطبے میں فرمایا تھا :لوگو دورِ جاہلیت کا ہر اَمر میں اپنے قدموں تلے روندتا ہوں، آج کل کی فیشن زدہ ماڈرن لڑکیوں اور عورتوں کو قرآن مجید اور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی یہ ایک عظیم الشان نصیحت ہے کاش وہ سمجھیں اور اس سے سیکھیں، کالج اور یونیورسٹی جانے کے لئے دفتر جانے کے لئے خرید و فروخت کرنے کے لئے بازار جانے سے قرآن کریم منع نہیں کرتا ہے مگر قرآن حکیم کہتا ہے کہ ایسا لباس زیب تن کرو جس سے تمہارے جسم کی نمائش نہ ہو، جس سے تمہارا حسن، تمہاری زینت ظاہر نہ ہو، اور تمہارے عصمت و عفت کو کوئی داغدار نہ کرسکے ۔ ٹھنڈے دل سے غور کیجئے موجودہ دور میں جس طرح عورتیں بن ٹھن کر راستوں اور بازاروں پر گھومتی پھرتی ہیں کیا ان کے ملبوسات سے دور جاہلیت کی نشاندہی نہیں ہوتی۔ اس آیت مبارکہ میں جلباب اوڑھنے یا پہننے کی غرض و غایت بھی بتادی کہ عورت پہچانی نہ جا سکے، عربوں میں جلباب اوڑھنے یا پہننے کی رسم کہاں سے آئی؟ یہ بازنیطی تہذیب کی صدائے بازگشت تھی اس قدیم تہذیب میں پردہ نیک اور بد عورت میں تمیز کرتا ہے پردہ کی وجہ سے مرد جان لیتا ہے کہ کون سی عورت نیک ہے اور کون سی عورت فاحشہ ہے لہذا تمام خواتین سے مودبانہ گذارش ہے کہ وہ گھر سے باہر نکلیں تو سر اور سینہ ضرور ڈھانپ لیں ،صرف برائے نام نہیں بلکہ مکمل طور سے کیونکہ جو چیز ظاہر کرنے کی نہیں بلا وجہ اس کا اظہار کیوں کریں ۔ آج کل ایک فیشن بن گیا ہے کہ مختصر دوپٹہ شانوں پر ڈال لیا جاتا ہے جس سے بآسانی نہ سر ڈھکتا ہے اور نہ ہی سینہ چھپتا ہے اس پر بالائے ستم یہ کہ جہاں آذان کی آواز کانوں میں پڑتی ہے وہاں دوپٹے کا ایک سرا فوراً سر پر رکھ لیا جاتا ہے اور آذان ختم ہوتے ہی وہی دوپٹہ سرک کر پھر دوبارہ شانوں پر آجاتا ہے، یہ ایک ناشائستہ حرکت ہے اس سے گریز کرنا لازمی ہے باریک مہین دوپٹہ استعمال کرنے کے بجائے ایسی چادر استعمال کرنی چاہئے جو ہمہ وقت سر کو ڈھانکے رکھے اور جسم کے نمایاں حصے کو چھپائے رکھے، قرآن مجید یہی کہتا ہے یہی اس کی ہدایت ہے اس ہدایت پر عمل کرنا ہر مسلم مرد وعورت کا فرض اولین ہے۔ نیم عریاں چست لباس اور ایسا پتلا لباس جس کے پہننے سے پہننے والا ننگا دکھائی دے، سختی سے قرآن و حدیث میں منع کیا گیا ہے، غیر محرم مردوں کے ساتھ آرائش و زیبائش کی نمائش کرنے سے سختی کے ساتھ روکا گیا ہے، پہنے ہوئے لباس، زینت آسائش و آرائش و زیبائش کو جلباب کے ذریعے چھپانا فرض اولین ہے ،مہین باریک دوپٹے کا چادر کا استعمال ممنوع ہے سر کو دوپٹے سے ڈھانکنے کی غرض وغایت بہترین اور بدترین عورت میں تمیز کے سوا کچھ نہیں ہے۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh