Fatwa #2761
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
غیر مسلموں کے پوجا میں استعمال ہونے والے سامان بیچنا ؟
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
8,799
سوال (Question):
غیر مسلموں کے پوجا میں استعمال ہونے والے سامان بیچنا ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
غیر مسلموں کے پوجا میں استعمال ہونے والے سامان بیچنا ؟
حرام کی ٢ قسمیں ہیں : ١. حرام لذاتهٖ یا حرام لعینہ . ٢. حرام لغیرهٖ حرام لذاتہٖ وہ ہے جو اپنی ذاتی ضرر اور مفاسد کی وجہ سے حرام ہو اور یہ ضرر و مفاسد کبھی جدا نہ ہوتے ہوں۔ مثلاً زنا ، چوری ، قتل ، شراب نوشی وغیرہ حرام لغیرہ وہ حرام ہے جو اپنی اصل ذات کے اعتبار سے مشروع ہو ، اس میں فی نفسہ کوئی ضرر اور فساد نہ ہو ، بلکہ یہ کسی دوسری ضرر و فساد کے سبب حرام ہوتی ہے مثلا جمعہ کی اذان کے بعد بیع ( تجارت ) کرنا ، عیدین کے دن روزے رکھنا حرام ہیں ، مگر اپنی اصل کے اعتبار سے خرید و فرخت ( تجارت ) اور روزے رکھنا منع نہیں ۔ حرام لغیرہ کسی خارجی عارض کے سبب حرام ہوتی ہے جب وہ عارض ختم ہو جائے تو وہ چیز جائز ہو جاتی ہے ۔ جمعہ کی نماز ختم ہو جائے اور عید کے دن گزر جائیں تو تجارت و روزہ جائز ہو جائےگا ۔ مسائلمورتی بنانا اور بیچنا کیسا ؟
مورتی وغیرہ بنانا سخت حرام ہے کیوں کہ یہ صورت بنانا ہے اور مصور ( تصویر بنانے والے ) پر حدیث پاک میں لعنت آئی ہے ۔ یوں ہی دوسرے سے بنواکر اس کا بیچنا بھی سخت حرام کہ جس کا بنانا حرام اس کا بیچنا بھی حرام نیز یہ پوجا کرنے پر مدد کرنا ہے ، اور گناہ پر اعانت ( مدد ) حرام ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد پاک ہے : ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان یعنی گناہ اور زیادتی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو ( المائدۃ ٢ ) یہ حرام لذاتہ ہے ۔ ( فتاوی شارح بخاری ج ٢ ص ٥٧٢ پر اسی کے مثل مذکور ہے )غیر مسلموں کے تہوار اور پوجا کے استعمال ہونے والے سامان کی تجارت
غیر مسلموں کے تہواروں میں جو چیز پوجا میں استعمال ہوتے ہیں مثلا ناریل ، چندری وغیرہ تو یہ چیزیں فی نفسہ تو جائز ہیں ، کہ ناریل کھانے کی چیز ہے چندری اوڑھنی کی طرح ہے ، لیکن یہ چیزیں پوجا میں استعمال ہو رہی ہیں تو گویا ان کا بیچنا گناہ پر مدد کرنا ہے ، اور گناہ پر مدد کرنا ناجائز ہے ۔ یہ حرام لغیرہ ہے ۔راکھی بیچنا :
راکھی بھی ہندؤں کا مذہبی شعار بن چکا ہے اور صرف رکشابندھن میں ہی اس کا استعمال ہوتا ہے ، لہذا راکھی بیچنا بھی گویا گناہ پر مدد کرنا ہے ، اس کی تجارت بھی ناجائز ۔ ( فتاوی مرکز تربیت افتا ج ٢ ص ٢٣٨ )پٹاخہ کی تجارت
پٹاخہ بیچنا ، خریدنا دونوں حرام ، کیوں کہ یہ آتش بازی ہے ۔ اس کو بیچنا بھی گناہ پر اعانت ہے ۔ ( فتاوی مرکز تربیت افتا ج ٢ ص ٢٣٧ )ہولی کے رنگ کی تجارت
ہولی کے رنگ بیچنا بھی ناجائز ، کہ ہولی ہندؤں کا مذہبی شعار ہے ، رنگ بیچنا گناہ پر مدد ہوگا ۔کرسمس ڈے کے خاص کپڑوں کا حکم :
٢٥ دسمبر کو کرسمس ڈے میں استعمال ہونے والے خاص کپڑے بیچنا بھی ناجائز ، کیوں کہ یہ عیسائیوں کا مذہبی شعار ہے ۔ اور وہ کپڑا پہننا کفر ہے۔ یہ چیزیں حرام لغیرہ ہیں اگر ضرر و فساد دور ہو جائے تو بیچنا جائز ۔ مثلا پٹاخہ اگر آتش بازی کے لیے نہ ہو بلکہ کھیتوں سے نیل گائے وغیرہ جانور بھگانے کے لیے ہو جیسے کچھ لوگ ایسا کرتے ہیں تو پٹاخہ بیچنا جائز ہو جائےگا ۔ رنگ اگر ہولی کے علاوہ دوسری چیزیں رنگنے کے لیے ہوں تو جائز ۔ اسی قیاس پر اور چیزوں کو بھی سمجھا جا سکتا ہے ۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب پیش کش : محمد شہاب الدین علیمی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9