صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2778 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

کسی بات پر توبہ کرنا اور دل میں یہ سوچنا کہ اگر میں دوبارہ یہ کروں گا تو کافر ہو جاوں گا اس کے لئے کیا حکم ہے ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 11,240

سوال (Question):

کسی بات پر توبہ کرنا اور دل میں یہ سوچنا کہ اگر میں دوبارہ یہ کروں گا تو کافر ہو جاوں گا اس کے لئے کیا حکم ہے ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

Tauba karne ke baad dobara wahi gunah karna

کیا فرماتے ہیں مفتیان دین و ملت اس مسئلہ میں کہ جوا باز نے توبہ کی پھر مزید توبہ پر ثابت قدم رہنے کے لئے دل میں سوچا کہ اگرمیں دوبارہ جوا کھیوں تو معاذ اللہ کافر ہوجاوں جبکہ اسے یقین تھا کہ اگر میں دوبارہ جوا کھیل بھی لوں گا جب بھی مسلم ہی رہوں گا ۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا جوا باز دوبارہ جوا کھلنے سے کافر ہو جائے گا؟ بالفرض اگر ہو گیا تو اس نے تو بہ تجدید ایمان تجدید نکاح کیا مگر وہ جس پیر سے مرید ہے ان کا انتقال ہو چکا ہے اور وہ انہیں سے بیعت رہنا چاہتا ہے۔ لہذا صورت مسئولہ میں کوئی ایسی صورت ہے کہ وہ اس بیعت پر برقرار رہے؟ یا اس پر کی تجدید بیعت کا کوئی طریقہ نکل سکتا ہے؟ بینو توجروا الجواب :- سید نا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی رضی عنه ر به القوی تحریر فرماتے ہیں۔ جنہوں نے یہ اقرار کیا تھا کہ جو ایسا کرے وہ کلمہ شریف اور قرآن شریف سے پھرے۔ پھر اس اقرار سے پھر گئے ۔ ان میں سے جس کے خیال میں یہ ہو کہ واقعی ایسا کرنے سے قرآن مجید اور کلمہ طیبہ سے پھر جائے گا اور یہ سمجھ کر ایسا کیاوہ کافر ہو گیا۔ اس کی عورت نکاح سے نکل گئی۔ نئے سرے سے اسلام لائے ۔ اس کے بعد عورت اگر راضی ہو تو اس سے دوبارہ نکاح کرے ورنہ مسلمان اسے قطعا چھوڑ دیں۔ اس سے سلام و کلام اس کی موت وحیات میں شرکت سب حرام ۔ اور جو جانتا تھا کہ ایسا کرنے سے قرآن مجید یا کلمہ طیبہ سے پھر نا نہ ہوگاوہ گنہگار ہوا اس پرقسم کا کفارہ واجب ہے – كقوله هُوَ بَرِئَ مَنَ اللهِ وَ رَسُولِهِ إِنْ فَعَلَ كَذَا ( فتاوی رضویہ جلد پنجم صفحہ ۹۵۹) لہذا صورت مسئولہ میں اگر واقعی جواباز کو اس بات کا یقین تھا کہ میں دوبارہ جوا کھیلنے کے بعد بھی مسلمان ہی رہوں گا تو وہ کافر نہ ہوگا بلکہ مسلمان ہی رہے گا. البتہ ایسی غلط بات دل میں سوچنے اور توبہ کے بعد دوبارہ جوا کھیلنے کے سبب سخت گنہ گار مستحق عذاب نار ہوا توبہ کرے اور آئندہ ایسے برے کام سے دور رہنے کا عہد کرے. واللہ اعلم کتبہ : رضی الدین احمد برکاتی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh