صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2779 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

صرف دستخط کروا لینے سے نکاح ہو جائے گا یا نہیں ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 11,349

سوال (Question):

صرف دستخط کروا لینے سے نکاح ہو جائے گا یا نہیں ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

Sirf Sign Karwa Lene Se Nikah Ho Jayega Ya Nahi

سوال :سگنیچر لے لی جائے تو کیا نکاح ہو جائے گا زبان سے نہیں کلوایا قبول نامے پر نکاح نامے پہ دستخط دلہن نے بھی کر دی اور دولہانے بھی کر دی تو کیا نکاح ہو جائے گا؟ الجواب : ایجاب اور قبول دونوں کا ایک مجلس میں ہونا ضروری ہے اور جس مجلس میں ایجاب اور قبول ہو اس مجلس میں دو گواہ بھی رہیں جو سن رہے ہوں تو اگر دونوں ایک مجلس میں ہوں جس مجلس میں شوہر نے ایجاب پر دستخط کیا اسی مجلس میں عورت نے قبول کر لیا اور اسی مجلس میں گواہوں نے دیکھ لیا تو مجھے امید ہے کہ نکاح ہو جائے گا۔ لیکن زبانی طور پر یہ ہوتا ہے کہ لڑکی کے پاس گواہ جاتے ہیں وکیل پہنچتے ہیں وہاں ان سے سائن لے کر اقرار کرا کے لے اتے ہیں پھر مسجد میں ا ٓجاتے ہیں اور یہ دوسری مجلس ہو جاتی ہے اور یہاں اس سے قبول کروایا جاتا ہے یہ طریقہ ہے ابھی۔ تو یہ جو طریقہ ہے اس میں عورت کے ذریعے قاضی وکالت نکاح حاصل کرتا ہے عورت وکیل بناتی ہے کہ وہ اس عورت کا نکاح فلاں بن فلاں سے اتنے مہرکے عوض میں کر دیں ۔تو وکالت کے لیے وہ مجلس ضروری نہیں ہوئی، ابھی آئے مجلس میں تو یہاں لڑکی تو نہیں آئی لیکن لڑکی کا وکیل ہے مجلس میں۔ لڑکی کے وکیل نے یعنی قاضی صاحب نے یا مولانا صاحب نے ایجاب کیا اسی مجلس میں فورا لڑکے نے قبول کر لیا اور اس ایجاب و قبول دونوں کو گواہان بھی سن رہے ہیں اور باقی مسجد بھی سن رہی ہے لہذا یہ نکاح صحیح ودرست ہے ۔ کتبہ :مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور ۔(سوال جواب شیشن سے ماخوذ)

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh