Fatwa #2782
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
کیا تقلید کرنا ضروری ہے ؟ مفتی محمد اویس القادری امجدی
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
4,100
سوال (Question):
کیا تقلید کرنا ضروری ہے ؟ مفتی محمد اویس القادری امجدی
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
Kya Taqleed Karna Zaroori hai / Taqleed Ki Ahmiyat
خالد کہتا ہے ائمہ کرام میں سے کسی کا بھی کوئی ایسا قول نہیں ملتا جس میں انہوں نے اپنی تقلید کرنے کا حکم دیا ہو بلکہ وہ اس سے منع کرتے تھے۔ تو معلوم ہوا مسلمانوں پر ٹھونسی جانے والی تقلید بعض ملاؤں کی اختراع کردہ ہے ۔ ائمہ کرام اس سے بری ہیں۔ محمود کہتا ہے کہ امام اعظم ابوحنیفہ، امام شافعی، امام مالک، اور امام احمد بن حنبل رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین میں سے کسی ایک کی فقہی تقلید دور حاضر میں جمہور امت مسلمہ کے لئے واجب ہے۔ اور ان کی تقلید سے آزاد رہنا مذہبی آوارگی اور گمراہی ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ مذکورہ دونوں اقوال میں کس کا مسلک و خیال صحیح ہے اور شریعت مطہرہ کی روشنی میں تحقیقی جواب عنایت فرمائیں؟ بينوا توجروا. الجواب:- محمود کا کہنا درست ہے بیشک ائمہ اربعہ رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین میں سے کسی ایک کی فقہی تقلید امت مسلمہ کے لئے واجب ہے اور ان کی تقلید سے دور رہنا مذہبی آوارگی و گمراہی ہے۔ اور خالد کا یہ کہنا غلط ہے کہ ائمہ کرام تقلید سے منع کرتے تھے کیوں کہ تقلید کے بغیر کوئی چارہ کار نہیں یہی وجہ ہے کہ جاہل اور پڑھے لکھے سب کے سب غیر مقلد اپنے مولویوں کی تقلید ضرور کرتے ہیں اس لئے کہ ظاہر ہے تجارت کرنے والے کھیتوں میں ہل چلانے والے اور گھسیارے، چرواہے وغیرہ سارے لوگ قرآن وحدیث سے مسئلہ نکالنے کی قدرت نہیں رکھتے تو وہ اپنے مولویوں کی طرف رجوع کرتے ہیں پھر وہ جو اپنے قیاس سے مسئلہ بتاتے ہیں اس پر عمل کرتے ہیں اسی طرح وہ اپنے مولویوں کی تقلید کرتے ہیں مثلا ایک غیر مقلد تانبہ کو چپل سے بیچنا چاہتا ہے تو ایک دوسرے کے برابر کم و پیش کر کے نقد اور ادھار دینا جائز ہے یا نہیں ؟ اسے معلوم کرنے کے لئے اس کو اپنے مولوی کی طرف رجوع کرنا پڑے گا اس لئے کہ اس مسئلہ کی وضاحت قرآن و حدیث میں موجود نہیں تو غیر مقلد مولوی خود قیاس کر کے مسئلہ بتائے گا۔ اور مقلد مولوی قرآن وحدیث کی روشنی میں اپنے امام کے بتائے ہوئے اور اس پر عمل کرتے ہوئے اس کی جائز اور ناجائز صورتوں کو واضح کرے گا۔ اسی طرح غیر مقلد اپنے علاقہ کے موجودہ مولوی کی تقلید کرتا ہے۔ اور مقلد ساری دنیا کے مانے ہوئے مجتہد عالم دین کی تقلید کرتا ہے۔ اب اگر غیر مقلد کہے کہ ہم اپنے مولوی کی تقلید نہیں کرتے بلکہ ان کی بات مانتے ہیں تو یہ غلط ہے اس لئے کہ وہ سب حجت و دلیل کے اہل نہیں۔ اور دلیل و حجت کے بغیر اپنے مولویوں کی بات مانتے ہیں اور اسی کو تقلید کہتے ہیں۔ حضرت علامہ سید شریف جر جانی رحمہ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں۔ التقليد عبارة عن قبول قول الغير بلا حجة و لا دليل – یعنی حجت و دلیل کے بغیر کسی کی بات مان لینے کو تقلید کہتے ہیں ( التعریفات صفحہ ۵۷) اور المنجد میں ہے یقال قلده في كذا، أي تبعه من غير تامل و لا نظر – یعنی غور وفکر کے بغیر اس نے اس کی پیروی کی اور رہے ان کے مولوی تو وہ بلا دلیل و حجت اپنے بڑوں کی بات مانتے ہیں اس طرح وہ ابن تیمیہ، این قیم اور قاضی شوکانی کی تقلید کرتے ہیں۔ جیسا کہ مشہور غیر مقلد نواب وحید الزماں نے لکھا ہے ”ہمارے اہل حدیث بھائیوں نے ابن تیمیہ اور ابن قیم اور شوکانی اور شاہ ولی اللہ اور مولوی اسمعیل صاحب کو دین کا ٹھیکیدار بنا رکھا ہے جہاں کسی مسلمان نے ان بزرگوں کے خلاف کسی قول کو اختیار کیا بس اس کے پیچھے پڑ گئے برا بھلا کہنے لگے۔ بھائیو ذرا غور کرو اور انصاف کرو کہ جب تم نے ابو حنیفہ، اور شافعی کی تقلید چھوڑ دی تو ابن تیمیہ اور ابن قیم اور شوکانی جوان سے بہت متاخر ( پیچھے پیداہوئے) ان کی تقلید کی کیا ضرورت ہے ( حیات وحید الزماں صفحہ ۱۰۲ بحوالہ شیشے کے گھر صفحہ ۲۰) لہذا جو تقلید کو بدعت اور گمراہی کہتے ہیں وہ خود بدعتی اور گمراہ ہیں ورنہ لازم آئے گا کہ امت مرحومہ کا سواد اعظم گمراہی پر ہے جن میں لاکھوں مسلمان بے شمار علمائے عظام و اولیائے کرام داخل ہیں مثلا حضور سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی بغدادی، سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری، حضرت خواجہ بهاءالدین نقشبندی، حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین اور سارے بزرگان دین۔ یہ ایسے مشایخ ہیں جن کی عظمت شان ، صلاح و تقویٰ اور صلاحیت دینی پر جمہور اہل سنت و جماعت متفقہ طور پر شاہد ہیں کہ یہ سب مجتہد نہیں تھے بلکہ مقلد ہی تھے تو کیا یہ لوگ گمراہ تھے (معاذ اللہ رب العلمین ) حالانکہ یہ لوگ ایسے نہ تھے اس لئے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا :ان الله لا يجمع امتى او قال امة محمد على ضلالة و يد الله على الجماعة من شذ شذ في النار وقال اتبعو السواد الاعظم فانه من شذ شذ في النار ” یعنی بیشک الله تعالى میری امت کو گمراہی پر جمع نہیں کرے گا اور خدائے تعالی کا دست قدرت جماعت پر ہے۔ جو جماعت سے لگا وہ آگ میں جا پڑا رواه الترمذي في ابواب الفتن من الجزء الثاني ص ۳۹۔ او ارشاد فرمایا کہ تم سواداعظم کی پیروی کرو بے شک جوان سے الگ ہوا وہ آگ میں جا پڑا ۔ لہذا لاکھوں خواص وعوام اہل اسلام مقلد مذہب گمراہ نہیں ہیں بلکہ یہ چند شخص منکرین تقلید گمراہ ہیں جو حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا من فارق الجماعة شبرا فقد خلع ربقة الاسلام عن عنقه ” یعنی جو شخص اسلام کی جماعت سے ایک بالشت بھر نکلا تو بیشک اس نے اسلام کا قلادہ اپنی گردن سے نکال دیا۔ رواہ احمد وابود داؤد۔ تعجب ہے ان صلی جاہلوں پر جولوگوں کو اپنی تقلید کی طرف بلاتے ہیں اور ائمہ مجتہدین کی تقلید سے ہٹاتے ہیں۔ اور تقلید اس لئے بھی ضروری ہے کہ جو ائمہ کا دامن نہ تھامے وہ قیامت تک کسی اختلافی مسئلہ کوحدیث شریف سے ثابت نہیں کر سکتا۔ مثلا اسی چیز کا ثبوت دے کہ کتا کھانا حلال ہے یا حرام کون سی حدیث میں آیا ہے کہ کتا کھانا حرام ہے آیت میں تو حرام کھانے کی چیزوں کو صرف چار پر حصر فرمایا مردار، رگوں کا خون ، خنزیر کا گوشت اور جو غیر خدا کے نام پر ذبح کیا جائے۔ تو کتا در کنار سور کی چربی ، گردے اور اوجھڑی کہاں سے حرام ہوگئی ۔ حدیث شریف میں ان کی تحریم نہیں آئی اور آیت میں لحم فرمایا جوان کو شامل نہیں ۔ لہذا عوام اور خواص کسی کو بھی تقلید سے چھٹکارا نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم. الجواب صحيح : جلال الدین احمد الامجدی كتبه : محمد اویس القادری امجدی ۲۲ ربیع النور ، 20 ھ
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9