میت کے علاتی بھائی اور بہن جزءِ اب میت میں داخل ہیں یا نہیں؟
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
میت کے علاتی بھائی اور بہن جزءِ اب میت میں داخل ہیں یا نہیں؟
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسٔلہ ذیل میں (۱)زید کی موت ہوئی اور اسکی اولاد میں صرف ایک بیٹی ہے اور ایک حقیقی بہن باحیات ہے اور حقیقی بھائی سب کے سب وفات پاچکے ہیں اور تین علاتی بھائی زندہ ہیں اور ایک علاتی بھائی اور ایک علاتی بہن بقید حیات نہ رہے ساتھ ہی یہ کی حقیقی بھتیجے اور بھتیجیاں باحیات ہیں (۲)میت کے علاتی بھائی اور بہن جزءِ اب میت میں داخل ہیں یا نہیں۔۔
جواب عنایت فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں ۔ سائل۔ محمد ضیاءالاسلام علیمی ۔
الجوابــــــــــــــــــــــــــــــ
(١) اگر واقعی اتنے ہی شرعی وارث ہیں جتنے سوال میں مذکور ہیں تو کفن دفن۔اور دیون(قرض وغیرہ ذمہ میں واجب چیزیں)ادا کرنے اور وصیت پوری کرنے کے بعد اس کی جائداد کے دو حصے کئے جائیں گے ۔ اور ان دوحصوں میں سے ایک حصہ بیٹی کو’ اور عصبہ مع الغیر ہونے کی وجہ سے ایک حصہ حقیقی بہن کو دیا جائے گا ۔ اس کے علاوہ علاتی بھائیوں اور حقیقی بھتیجوں کو حقیقی بہن کے عصبہ ہونے وجہ سے کچھ نہیں ملے گا۔ (حوالے: سراجی میں ہے : “اما لبنات الصلب فاحوال ثلاث’ النصف للواحدة”۔ اسی میں “اخوات لاب ” کے بیان میں ہے:”والاخوات لاب کالاخوات لاب وام” اور ” اخوات لاب وام” کے بیان میں ہے:”ولہن الباقی مع البنات او بنات الابن لقولہ علیہ السلام: ” اجعلوا الاخوات مع البنات عصبة” ہے :” نیز اسی سراجی میں ہے :”ویسقط بنوا العلات ایضا بالاخ لاب وام وبالاخت لاب وام اذا صارت عصبة” ) واللہ تعالی وسبحانہ اعلم۔
(٢) میت کے علاتی بھائی اور بہن بلا شبہہ جزء اب میت ہیں۔لیکن دونوں میں فرق یہ ہے کہ علاتی بھائی صرف عصبہ بنفسہ ہے اور علاتی بہن بعض حالات میں مقررہ حصہ والی ہے۔یعنی: اصحاب فرائض میں ہے اور بعض حالات میں عصبہ بالغیر اور بعض حالات میں عصبہ مع الغیر ہے۔ وللتفصیل یراجع الی کتب الفقہ ۔
وراثت کے مسائل اور زیادہ جاننے کے لیے کمنٹ کریں ۔ مفتیان کرام وراثت کے مسائل کا جواب دیں گے ۔
واللہ تعالی وسبحانہ اعلم۔
کتبہ : محمد نظام الدین قادری۔ خادم دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی۔بستی۔