وہابیہ دیابنہ اور گستاخ رسول کے پیچھے نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے ؟
سوال (Question):
کیا فرماتے ہیں علما ئےکرام و مفتیان شرع متین ان مسائل کے بابت کہ تحصیل نگروٹہ قصبہ کپور گڑھ عرصہ دراز سے اہل سنت وجماعت کی پنجگانہ ایک مسجد شریف ہے لیکن بعد میں فضل حسین ولد رحم دین ساکن کپور گڑھ نامی ایک شخص نے وہابیت و دیوبندیت کو اختیار کر لیا اور اب اس مذکورہ نامی شخص کا لڑکا جس کا نام خلیل احمد دیوبند کے ایک ادارے سے فارغ التحصیل ہونے کا دعوے دار ہے اور اس کے باپ نے اور لڑکے نے زبردستی مسجد میں نماز پڑھانا شروع کیا ہوا ہے محلے کے معزز لوگوں نے منع کیا لیکن وہ مسجد میں فتنہ کرانا چاہتے پیں چند ایام قبل اسی محلے کے لوگوں نے ایک میٹنگ طلب کی اور مسجد کو آباد کرنے کےلیے مشورہ کیا گیا اسی اثناء میں فضل حسین کے لڑکے خلیل نے نبی کرہم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں کچھ نازیبا کلمے کہے جن میں ایک گستاخانہ جملہ یہ کہا کہ نبی کرہم صلی اللہ علیہ وسلم انپڑھ ہیں تو اس پر لوگ بھڑک اٹھے اور لوگوں نے کہا کہ ہم سنی مسلمان ہیں اس کے پیچھے نماز ہرگز نہیں پڑھیں گے۔
1، تو کیا کسی دیوبندی بدمذہب کو امام بنانا اور ان کے پیچھے نماز پنجگانہ، نماز جمعہ،یا نماز عید پڑھنا جاٸز ہے۔
2، دیوبندی عقاٸد والوں کے ساتھ کھانا پینا اٹھنا بیٹھنا ختمات معظمات میٍں بلانا یا ان بدمذہبوں کے کسی پروگرام میں شرکت کرنا کیسا ہوگا۔ مزید دیوبدیوں کے عقاٸد کفریہ بھی تحریر کٸے جاٸیں تاکہ سنی عوام کے عقاٸد حقہ کا تحفظ ہوسکے ۔
(۳)مسجد کی زمین تقریبا ساٹھ سال قبل جمال الدین نامی شخص کے والد نے مسجد کے نام وقف کی تھی۔ لیکن اب جمال الدین مسجد کی زمین کے پچاس لاکھ قیمت مانگتا رہا ہے جو کہ یہ دیوبندیوں کی ایک ناپاک سازش ہے ۔ تو کیا وقف شدہ زمین کی قیمت مانگنا درست ہے؟ یا منع۔ دلاٸل کے ساتھ جواب رقم فرماٸیں ان مذکورہ بالا تمامی باتوں کا مدلل و مفصل قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرما کر شکریہ کا موقعہ دیں
المستفتیان:۔ (۱) امانت علی ولد کاکا (۲) محمد شریف ولد محمد شریف سائیں (۳) محمد یوسف ولد یوسف محمد اللہ دتا
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
باسمه تعالى وتقدس الجواب بعون الملك الوهاب:۔
وہابیہ دیابنہ اپنے عقائد باطلہ کی بنیاد پر کافر ومرتد ہیں ان کو امام بنانا ہرگز ہرگز جائز نہیں ان کے پیچھے کسی کی کوئی نماز نہیں ہوسکتی خواہ فرض ہو یا نفل۔ اہل سنت وجماعت پر لازم ہے کہ کسی سنی صحیح العقیدہ امام کو مقرر کریں۔
فتاوی رضویہ میں ہے:
” دیوبندیہ کی نسبت علمائے کرام حرمین شریفین نے بالاتفاق فرمایا کہ وہ کافر ومرتد ہیں۔ اور شفائے قاضی عیاض وبزازیہ ومجمع الانھر ودرمختار وغیرہا کے حوالے سے فرمایا من شک فی کفرہ وعذابہ فقد كفر (جس نے اس کے کفر و عذاب میں شک کیا وہ بھی کافر ہوگیا “(ج ۶ ص ۶۲۱، مترجم) نیز اسی میں ہے ” وہابی کے پیچھے کوئی نماز فرض خواہ نفل کسی کی نہیں ہوسکتی “(حوالہ سابق ص ۶۲۰) نیز اسی میں ہے” اہلسنت پر فرض ہے کہ اپنا امام سنی صحیح العقیدہ جمعہ وعیدین کے لیے مقرر کریں وہابی کے پیچھے نماز باطل محض ہے اور شہروں میں جمعہ کا ترک حرام ہے”(حوالہ سابق ص ۶۲۱)والله تعالیٰ أعلم
(۲)وہابیہ دیابنہ ہر طرح کے بد مذہب کے ساتھ کھانا پینا اٹھنا بیٹھنا وغیرہ کسی طرح کا میل جول رکھنا قطعا جائز نہیں۔ حدیث شریف میں ہے “ان مرضو فلا تعودوھم و ان ماتوا فلا تشھدوهم وان لقیتموھم فلا تسلموا عليهم ولا تجالسوھم ولاتشاربوھم ولا تواکلوھم ولا تناکحوهم ولا تصلوا عليهم ولا تصلوا معھم” (یعنی بد مذہب اگر بیمار پڑیں تو ان کی عیادت نہ کرو، اگر مرجائیں تو ان کے جنازہ میں شریک نہ ہو ،ان سے ملاقات ہوتو ان سے سلام نہ کرو، ان کے پاس نہ بیٹھو ،ان کے ساتھ پانی نہ پیو ، ان کے ساتھ کھانا نہ کھاؤ ان کے ساتھ شادی بیاہ نہ کرو، ان کے جنازہ کی نماز نہ پڑھو اور ان کے ساتھ نماز نہ پڑھو) یہ حدیث مسلم، ابو داؤد ،ابن ماجہ،عقیلی اور ابن حبان کی روایات کا مجموعہ ہے (انوار الحدیث ص ۷۵)وہابیوں دیوبندیوں کے کفریہ عقائد و عبارات یہ ہیں۔ مثلا وہابیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ معاذ اللہ ثم معاذاللہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے زیادہ علم شیطان اور ملک الموت کو ہے- اور حضور علیہ السلام کے لیے شیطان کے برابر علم ماننا شرک کرنا ہے جیسا کہ اسی گروہ کے ایک مولوی خلیل احمد انبھیٹوی نے لکھا ہے اور جس کی تصدیق و تائید رشید احمد گنگوہی نے کی ہے:
“شیطان و ملک الموت کا حال دیکھ کر عالم محیط زمین کا فخر عالم کو خلاف نصوص قطعیہ کے بلا دلیل محض قیاس فاسدہ سے ثابت کرنا شرک نہیں تو کونسا ایمان کا حصہ ہے۔ شیطان وملک الموت کو یہ وسعت نص سے ثابت ہوئی فخر عالم کی وسعت علم کی کون سی نص قطعی ہے کہ جس سے تمام نصوص کو ردکر کے ایک شرک ثابت کرتا ہے” (براہین قاطعہ ص ۵۱ کتب خانہ اعزازیہ دیوبند)اور یہ عقیدہ ہے کہ معاذاللہ ثم معاذاللہ حضور صلى اللہ تعالى علیه وسلم آخری نبی نہیں ہیں بلکہ ان کے بعد دوسرا نبی آسکتا ہے جبکہ پوری امت مسلمہ کا اس بات پر اجماع ہے کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام آخری نبی ہیں ان کے بعد کوئی دوسرا نبی نہیں آسکتا۔ دیوبندی جماعت کے سرغنہ مولوی قاسم نانوتوی نے لکھا ہے:
“بلکہ اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی صلی اللہ تعالى علیه وسلم کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا چہ جائے کہ آپ کے معاصر کسی اور زمین میں یا فرض کیجئے اسی زمین میں کوئی اور نبی تجویز کیا جائے” ( تحذیرالناس ص ۴۳ / دار الکتاب دیوبند یوپی )اور یہ عقیدہ ہے کہ معاذ اللہ ثم معاذ اللہ جیسا علم غیب حضورصلی اللہ تعالى علیه وسلم کو ہے ایساعلم غیب تو زید وعمر بلکہ ہر بچے بلکہ پاگلوں اور جانوروں کو بھی حاصل ہے-
دیوبندیوں کے حکیم الامت مولوی اشرف علی تھانوی نے لکھا ہے: آپ کی ذات مقدسہ پر علم غیب کا حکم کیا جانا اگر بقول زید صحیح ہوتو در یافت طلب یہ امر ہے کہ اس غیب سے مراد بعض غیب ہے یاکل غیب اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اسمیں حضور کی ہی کیا تخصیص ہے ایسا علم غیب تو زید وعمر بلکہ ہرصبی و مجنون بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کے لیے بھی حاصل ہے” ( حفظ الایمان ص ۱۵/دار الکتاب دیوبند، یوپی) ہم نے یہاں اختصار کے پیش نظر وہابیوں دیوبندیوں کے وہ کفری اقوال نقل کیے ہیں جن پر علمائے عرب وعجم نے ان کے کافر ہونے کا فتوی دیا اور جو ان کے کفری اقوال سے آگاہ اور باخبر ہونے کے بعد ان کے کفر میں شک کرے اس کے کفر کا بھی فتوی دیا۔(تفصیل کے لیے حسام الحرمین اور المستند المعتمد دیکھیں) ورنہ تو ان کی اور بہت سی گستاخانہ عبارتیں ہیں- والله تعالی أعلم
(۳) وقف شدہ چیز کی قیمت مانگنا ہرگز جائز نہیں کیونکہ جو چیز وقف ہوجاتی ہے وہ بندے کی ملک سے نکل کر الله رب العزت کی ملک میں داخل ہوجاتی ہے لہذا اس کی بیع نہیں ہوسکتی، علاقے کے اہل سنت وجماعت پر لازم ہے کہ ہر ممکن کوشش کرکے مسجد کو وہابیوں دیوبندیوں کے قبضہ سے بچائیں۔درمختار میں ہے”فاذا تم ولزم لا يملك ولا يعار ولا يرهن” اور “لا يملك” کے تحت ردالمحتار میں ہے”أي لا يكون مملوكا لصاحبه ولا يملك: أي لا يقبل التمليك لغيره بالبيع ونحوه لاستحالة تمليك الخارج عن ملكه ولا يعار،ولا يرهن لاقتضائهما الملك”(در مختار مع رد المحتار/ج ۶ ص ۵۳۹)
بہار شریعت میں ہے:
“وقف کا حکم یہ ہے کہ نہ خود وقف کرنے والا اس کا مالک ہے نہ دوسرے کو اس کا مالک بنا سکتا ہے نہ اس کو بیع کرسکتا ہے نہ عاریت دے سکتا ہے نہ اس کو رہن رکھ سکتا ہے”(ج ۲ ح ۱۰ ص ۵۳۳ /مكتبة المدينه دعوت اسلامی)
فتاوی رضویہ میں ہے:
“مسلمانوں پر فرض ہے کہ حتی المقدور ہر جائز کوشش حفظ مال وقف ودفع ظلم ظالم میں صرف کریں اور اس میں جتنا وقت یا مال ان کا خرچ ہوگا یا جو کچھ محنت کریں گے مستحق اجر ہوں گے قال تعالی لا یصیبھم ظمأ ولا نصب ولا مخمصة الى قوله تعالى الا كتب لهم به عمل صالح”(ج ۶ ص۳۵۰)والله تعالیٰ أعلم بالصواب
کتبہ:۔ محمد ارشاد رضا علیمیؔ غفرلہ خادم دار العلوم رضویہ اشرفیہ ایتی راجوری جموں وکشمیر
۴/محرم الحرام ۱۴۴۷ھ مطابق ۳۰/جون ۲۰۲۵ء
الجواب صحیح: محمد نظام الدین قادری خادم درس وافتا دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی