Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #291 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 4.9K Views

مفقود الخبر شخص کی جاءیداد کا کیا حکم ہے اور کس طرح تقسیم ہوگی؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

مفقود الخبر شخص کی جاءیداد کا کیا حکم ہے اور کس طرح تقسیم ہوگی؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

مفقود الخبر شخص کی جاءیداد کا کیا حکم ہے اور کس طرح تقسیم ہوگی؟

السلام علیکم ورحمتہ اللہ

عنوان :ایک شخص جس کا ذہنی توازن برقرار نہیں تھا تقریباً بارہ سال قبل کہیں گم ہو گیا ، تلاش بسیار کے بعد بھی اس کا کوئی پتہ نہ چل سکا والدین کا پہلے ہی انتقال ہوچکا تھا، شادی بھی نہیں ہوءی تھی۔ قریبی رشتے دار میں دو بھائی، چھ بہنیں اور بھا ئی بہن کی اولادیں ہیں۔ عرض یہ ہے کہ اب اس مفقود الخبر شخص کی جاءیداد کا کیا حکم ہے اور کس طرح تقسیم ہوگی؟۔۔

الجواب۔۔

           صورت مسؤلہ میں چونکہ اس شخص کی موت حقیقتاً یا حکماً متعین نہیں ہے، اس لیے اس کا حصہ روکا جائے گا، اگر واپس آجاتا ہے تو اس کو دے دیا جائے گا اور اگر اس کی موت متعین ہوجائے تو جس وقت سے وہ غائب ہے، اس وقت سے اس کو مردہ تصور کیا جائے گا اور اپنے مورث کی میراث میں اس کا حق نہیں ہوگا، بلکہ جو حصہ روکا گیا تھا، وہ مورث کے ورثاء کی طرف بقدرِ حصص لوٹا دیا جائے گا۔جیسا کہ عالمگیری،کتاب الفرائض میں ہے:”وأما الموقوف من ترکۃ غیرہ، فإنہ یرد علی ورثۃ ذلک الغیر، ویقسم بینہم کأن المفقود لم یکن”۔۔

کتبہ؛ محمد عمران القادری اشرفی جامعی۔

خادم جہانگیر اشرف دارالافتاء والقضاء

جامعہ معین السنہ پونچھ۔ جموں وکشمیر

Kutubahu & Verified by:

<h2 style="direction: rtl;">مفقود الخبر شخص کی جاءیداد کا کیا حکم ہے اور کس طرح تقسیم ہوگی؟</h2> <p style="direction: rtl;">السلام علیکم ورحمتہ اللہ</p> <p style="direction: rtl;"><em><strong>عنوان :ایک شخص جس کا ذہنی توازن برقرار نہیں تھا تقریباً بارہ سال قبل کہیں گم ہو گیا ، تلاش بسیار کے بعد بھی اس کا کوئی پتہ نہ چل سکا والدین کا پہلے ہی انتقال ہوچکا تھا، شادی بھی نہیں ہوءی تھی۔ قریبی رشتے دار میں دو بھائی، چھ بہنیں اور بھا ئی بہن کی اولادیں ہیں۔ عرض یہ ہے کہ اب اس مفقود الخبر شخص کی جاءیداد کا کیا حکم ہے اور کس طرح تقسیم ہوگی؟۔۔</strong></em></p> <p style="direction: rtl;"><em><strong>الجواب۔۔</strong></em></p> <p style="direction: rtl;">           صورت مسؤلہ میں چونکہ اس شخص کی موت حقیقتاً یا حکماً متعین نہیں ہے، اس لیے اس کا حصہ روکا جائے گا، اگر واپس آجاتا ہے تو اس کو دے دیا جائے گا اور اگر اس کی موت متعین ہوجائے تو جس وقت سے وہ غائب ہے، اس وقت سے اس کو مردہ تصور کیا جائے گا اور اپنے مورث کی میراث میں اس کا حق نہیں ہوگا، بلکہ جو حصہ روکا گیا تھا، وہ مورث کے ورثاء کی طرف بقدرِ حصص لوٹا دیا جائے گا۔جیسا کہ عالمگیری،کتاب الفرائض میں ہے:"وأما الموقوف من ترکۃ غیرہ، فإنہ یرد علی ورثۃ ذلک الغیر، ویقسم بینہم کأن المفقود لم یکن"۔۔</p> <p style="direction: rtl;"><strong>کتبہ؛</strong> <strong>محمد عمران القادری اشرفی جامعی۔</strong></p> <p style="direction: rtl;"><strong>خادم جہانگیر اشرف دارالافتاء والقضاء</strong></p> <p style="direction: rtl;"><strong>جامعہ معین السنہ پونچھ۔ </strong><strong>جموں وکشمیر</strong></p>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...