01
The questionSawaal
اصل سوالجناتوں کو ایصال ثواب کرنا کیسا ہے ؟ ایصال ثواب جائز ہے ؟
02
The responseAl-Jawab
عنوان ۔ جناتوں کو ایصال ثواب
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع مسئلہ ذیل میں ھیکہ قرآن مجید کی تلاوت کرکے اور سامنے کھانا پانی وغیرہ رکھ کرکے جناتوں کو ایصال ثواب کرنا درست ہے یانہیں؟ جواب مع حوالہ دیں.
المستفتی. محمد رضاءالرحمٰن بہرائچ شریف یوپی۔الجواب :
جواب سے پہلے بطور تمہید امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز کے فتاوی شریفہ سے ایک اقتباس پیش ہے ۔ تحریر فرماتے ہیں :” شرع شریف کا قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ جس چیز کو خدا ورسول اچھا بتائیں وہ اچھی ہے اور جسے برافرمائیں وہ بری ہے اور جس سے سکوت فرمائیں یعنی شرع سے نہ اس کی خوبی نکلے نہ برائی وہ اباحت اصلیہ پر رہتی ہے کہ اس کے فعل وترک میں ثواب نہ عقاب ۔ یہ قاعدہ ہمیشہ یاد رکھنے کا ہے کہ اکثر جگہ کام آئے گا ۔ آجکل مخالفین اہلسنت نے یہ روش اختیار کرلی ہے۔ جس چیز کو چاہا شرک، حرام، بدعت، ضلالت کہنا شروع کردیا اگر چہ وہ فعل صحابہ کرام یا تابعین عظام یا ائمہ اعلام سے ثابت ہو۔ اگر چہ وہ فعل اس نیک بات کے عموم واطلاق میں داخل ہو جس کی خوبیاں صریح قرآن مجید وحدیث شریف میں مذکور ہیں پھر سہرے وغیرہ رسمی باتوں کی تو کیا حقیقت ہے اور اس پر طرہ یہ ہوتا ہے کہ اہلسنت سے پوچھتے ہیں تم جو ان چیزوں کو جائز بتاتے ہو قرآن وحدیث میں کہاں جائز لکھا ہے حالانکہ ان کو اپنی خوش فہمی سے اتنی خبر نہیں کہ جائز کہنے والا دلیل خاص کا محتاج نہیں ۔ جو ناجائز کہے وہ قرآن حدیث میں دکھائے کہ ان افعال کو کہاں ناجائز کہا ہے۔ کیا اہلسنت پر لازم ہے کہ وہ جس چیز کو جائز ومباح بتائیں اس کی خاص صورت کا حکم صریح قرآن مجید واحادیث شریف میں دکھائیں اور تم پر کچھ ضرور نہیں کہ جس چیز کو حرام بدعت گمراہی کہو خاص اس کی نسبت ان حکموں کی تصریح کتاب وسنت میں دکھادو ان امور کی قدرے تفصیل مسئلہ قیام میں فقیر نے ذکر کی” (فتاوی رضویہ ج ٢٣ ص٦۵ نسخہ دعوت اسلامی ایپ ) اس اقتباس سے واضح ہوا کہ کسی چیز کے جائز ہونے کے لئے بس اتنا کافی ہے کہ شریعت مطہرہ نے اس سے منع نہ کیا ہو ۔ اب اسی اقتباس سے اصل سوال کا جواب حاصل ہوگیا کہ مومن جنوں کو ایصال ثواب کرنا جائز ہے’ کیوں کہ یہ تسلیم شدہ عقائد میں ہے کہ جنوں میں مومن بھی ہوتے ہیں’ کافر بھی’ نیک بھی ہوتے ہیں’ برے بھی ۔ بہار شریعت میں جنوں کے بیان میں ہے :” اِن میں مسلمان بھی ہیں اور کافر بھی ، مگر اِن کے کفّار انسان کی بہ نسبت بہت زیادہ ہیں ۔ اور اِن میں کے مسلمان نیک بھی ہیں اور فاسق بھی، سُنّی بھی ہیں ، بد مذہب بھی ، اور اِن میں فاسقوں کی تعداد بہ نسبت انسان کے زائد ہے ۔ (بہار شریعت حصہ اول) اب جب یہ ثابت ہے کہ جنوں میں مومن بھی ہیں اور کافر بھی ہیں ۔ تو مومن جنوں کو ایصال ثواب کرنا جائز ہوگا۔ہاں’ کافر جن کے لیے ایصال ثواب یا دعائے مغفرت حرام ہے ۔ اب چوں کہ انسانوں کی طرح کسی خاص جن کے اسلام وکفر کی ہمیں تحقیق نہیں’ اس لیے ایصال ثواب یوں ہی ہوسکتا ہے کہ مومن جنوں کو ہی کیا جائے ۔ کسی خاص جن کو نہ کیا جائے۔ یہاں یہ امر بھی پیش نظر رہے کہ ایک حدیث میں جنوں کو ہمارا بھائی کہا گیا ہے ۔ حدیث کی مشہور کتاب ترمذی شریف میں ہے:”لاتستنجوا بالروث ولا بالعظام فانہ زاد اخوانکم من الجن” (جامع الترمذی ۔ باب ما جاء فی کراہیة ما یستنجی بہ) اور دوسری حدیث میں ہے کہ اپنے بھائی کی نفع رسانی کی تدبیریں کرنی چاہیے۔حدیث شریف ہے :” من استطاع منکم ان ینفع اخاہ فلینفعہ”( الصحیح لمسلم باب استحباب الرقیۃ من العین) ان احادیث کریمہ سے بھی مومن جنوں کے ایصال ثواب کی اباحت ثابت ہوتی ہے ۔ ہذا ما ظہر لی والعلم بالحق عند اللہ تعالی واللہ تعالی وسبحانہ اعلم ۔ کتبہ: محمد نظام الدین قادری : خادم دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی۔یوپی۔ ١٩/شعبان المعظم ١۴۴٢ھ//٢/اپریل ٢٠٢١ء مزید مطالعہ کریں محراب کے اندر نماز کی امامت یو سکتی ہے یا نہیں
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.