Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #15 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 9.7K Views

امام ابن ابی الدنیا سوانح حیات

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

امام ابن ابی الدنیا سوانح حیات

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

امام ابن ابی الدنیا ایک نظر میں

نام و نسب: اامام ابن ابی الدنیا کا نام ابوبکر عبد اللہ بن محمد بن عبید بن سفیان بن قیس القرشی البغدادی ہے، لیکن آپ اپنے لقب ’’ابن ابی الدنیا‘‘ سے زیادہ مشہور ومعروف ہیں۔ ولادت: آپ ۲۰۸ھ مطابق۸۲۳ء میں شہر بغداد میں پیدا ہوئے۔

آپ کے اساتذۂ کرام:

آپ نے بہت سے علما ومشائخ عظام سے کسبِ علم کیا، ان میں سے چند کے نام یہ ہیں، (۱)آپ کے والد ماجد یہ خود زبردست محدث تھے۔ (۲)احمد بن ابراہیم الدورقی(۳) احمد بن جناب(۴) علی بن جعدہ محمد بن سلام جُمحی(۵) محمد بن صباح دولابی(۶) قاسم بن سلام(۷) امام بخاری(۸) امام ابوداؤد(۹) ابو حاتم الرزای(۱۰) اسماعیل القاضی(۱۱) ابو عبیدہ بن فضیل بن عیاض رضی اللہ تعالیٰ عنہم ودیگر متعدد محدثین سے آپ نے احادیث روایت کیں۔ تلامذہ: آپ سے علم حاصل کرنے والوں کی ایک طویل فہرست ہے۔ حارث بن اسامہ، ابن ماجہ، انھوں نے تفسیر میں آپ سے روایت کیا ہے، ابوبکر احمد بن سلمان النجار، احمد بن خزیمہ، ابو العباس بن عقدہ، ابو سہل بن زیاد، ابن حاتم، ابوبکر الشافعی، ابو بشر الدولابی،اور ان کے علاوہ کثیر محدثین نے بھی آپ سے احادیث روایت کیں اور شرف ِتلمذ حاصل کیا۔ فصاحت وبلاغت: استاد خیر الدین زر کلی آپ کی فصاحت وبلاغت کے سلسلے میں لکھتے ہیں: ’’ جامع اسلوب کے مالک، لوگوں کی طبع کے موافق گفتگو اور وعظ ونصیحت کرتے۔ خوف خداوندی کا ذکر کے رلا دینا اور وقت وماحول کے پیش نظر ہنسا دینا آپ کی اہم خاصیت تھی‘‘۔ (سیراعلام النبلاء ۴؍۲۶۰)

امام ابن ابی الدنیا علما ومشائخ کی نظر میں:

امام ابو حاتم نے کہا: بغدادی، صدوق ہیں۔ امام ابن جوزی نے کہا: ثقہ، صادق اور سیکڑوں کتب کے مصنف ہیں۔ امام ابن کثیر نے کہا: حافظِ احادیث، ہر فن میں عمدہ ونافع کتب کے مصنف اور صاحب مروت ہیں۔ امام حافظ ابنِ حجر نے کہا: صادق، حافظ احادیثِ کثیرہ و صاحب تصانیف کثیرہ۔ ابن ندیم نے کہا: پرہیزگار، عابد وزاہد، اخبار وروایات کے جاننے والے۔ قاضی اسماعیل کے پاس جب آپ کی وفات کی خبر پہنچی تو انھوں نے کہا: ’’ اللہ ابن ابی الدنیا پر رحم فرمائے، علم کا کثیر حصہ ان کے ساتھ اٹھ گیا‘‘۔ علامہ ابن تغردی نے کہا: عالم، زاہد، متقی اور عبادت گزار ہیں۔ ان کی بہترین تصنیفات ہیں۔ آپ نے ایسے فنون پر کتابیں تحریر کیں کہ بعد کے لوگ ان فنون میں آپ سے استفادہ کرنے والے ہیں۔ خلقِ کثیر نے ان سے احادیث روایت کی ہیں اور علما ان کی ثقاہت، سچائی اور ایمان داری پر متفق ہیں۔

تصنیفات:

آپ کی تصانیف بہت زیادہ ہیں۔ سیر اعلام النبلاء میں ابجد حروف کے لحاظ سے آپ کی تصنیفات مذکور ہیں، جو چار سو چار ۴۰۴ سے زائد ہیں، کچھ لوگوں نے اس سے بھی زائد لکھا ہے، لیکن یہ ہماری کم نصیبی ہے کہ بہت کم کتابیں مطبوعہ ہیں۔ ان میں سے چند یہ ہیں ۔ (۱)قضاء الحوائج(۲) حسن الظن(۳) الحکم(۴) الشکر(۵) الاخلاق (۶) الاخوان (۷)الامر بالمعروف(۸) الاضحیہ(۹) اعلام النبوۃ(۱۰) انزال الحاجۃ باللہ(۱۱)العقوبات(۱۲) الخمول (۱۳)الفرج بعد الشدۃ (۱۴)من عاش بعد الموت۔ وغیرہ وفات: ۲۸۱ھ میں آپ اپنے خالق حقیقی سے جاملے، آپ کی نماز جنازہ امام قاضی یوسف بن یعقوب نے پڑھائی اور بغداد میں شونزیہ نامی جگہ پر مدفون ہوئے اور مرجع خلائق ہیں۔ ؎ ابر رحمت ان کے مرقد پر گہر باری کرے نوٹ:یہ مختصرمعلومات کتاب سیر اعلام النبلاء از ص:۳۹۷تا۴۰۳ جلد ۳/اور اس کتاب کے ’’ترجمۃ المصنف‘‘ سے ماخوذ ہے۔   مزید مطالعہ کریں جناتوں کو ایصال ثواب کریں  

سوانح نگار : مولانا اظہر علیمی

Kutubahu & Verified by:

<h2>امام ابن ابی الدنیا ایک نظر میں</h2> <strong>نام و نسب:</strong> اامام ابن ابی الدنیا کا نام ابوبکر عبد اللہ بن محمد بن عبید بن سفیان بن قیس القرشی البغدادی ہے، لیکن آپ اپنے لقب ’’ابن ابی الدنیا‘‘ سے زیادہ مشہور ومعروف ہیں۔ ولادت: آپ ۲۰۸ھ مطابق۸۲۳ء میں شہر بغداد میں پیدا ہوئے۔ <h4> آپ کے اساتذۂ کرام:</h4> آپ نے بہت سے علما ومشائخ عظام سے کسبِ علم کیا، ان میں سے چند کے نام یہ ہیں، (۱)آپ کے والد ماجد یہ خود زبردست محدث تھے۔ (۲)احمد بن ابراہیم الدورقی(۳) احمد بن جناب(۴) علی بن جعدہ محمد بن سلام جُمحی(۵) محمد بن صباح دولابی(۶) قاسم بن سلام(۷) امام بخاری(۸) امام ابوداؤد(۹) ابو حاتم الرزای(۱۰) اسماعیل القاضی(۱۱) ابو عبیدہ بن فضیل بن عیاض رضی اللہ تعالیٰ عنہم ودیگر متعدد محدثین سے آپ نے احادیث روایت کیں۔ <strong>تلامذہ:</strong> آپ سے علم حاصل کرنے والوں کی ایک طویل فہرست ہے۔ حارث بن اسامہ، ابن ماجہ، انھوں نے تفسیر میں آپ سے روایت کیا ہے، ابوبکر احمد بن سلمان النجار، احمد بن خزیمہ، ابو العباس بن عقدہ، ابو سہل بن زیاد، ابن حاتم، ابوبکر الشافعی، ابو بشر الدولابی،اور ان کے علاوہ کثیر محدثین نے بھی آپ سے احادیث روایت کیں اور شرف ِتلمذ حاصل کیا۔ <strong>فصاحت وبلاغت:</strong> استاد خیر الدین زر کلی آپ کی فصاحت وبلاغت کے سلسلے میں لکھتے ہیں: ’’ جامع اسلوب کے مالک، لوگوں کی طبع کے موافق گفتگو اور وعظ ونصیحت کرتے۔ خوف خداوندی کا ذکر کے رلا دینا اور وقت وماحول کے پیش نظر ہنسا دینا آپ کی اہم خاصیت تھی‘‘۔ (سیراعلام النبلاء ۴؍۲۶۰) <h3> امام ابن ابی الدنیا علما ومشائخ کی نظر میں:</h3> امام ابو حاتم نے کہا: بغدادی، صدوق ہیں۔ امام ابن جوزی نے کہا: ثقہ، صادق اور سیکڑوں کتب کے مصنف ہیں۔ امام ابن کثیر نے کہا: حافظِ احادیث، ہر فن میں عمدہ ونافع کتب کے مصنف اور صاحب مروت ہیں۔ امام حافظ ابنِ حجر نے کہا: صادق، حافظ احادیثِ کثیرہ و صاحب تصانیف کثیرہ۔ ابن ندیم نے کہا: پرہیزگار، عابد وزاہد، اخبار وروایات کے جاننے والے۔ قاضی اسماعیل کے پاس جب آپ کی وفات کی خبر پہنچی تو انھوں نے کہا: ’’ اللہ ابن ابی الدنیا پر رحم فرمائے، علم کا کثیر حصہ ان کے ساتھ اٹھ گیا‘‘۔ علامہ ابن تغردی نے کہا: عالم، زاہد، متقی اور عبادت گزار ہیں۔ ان کی بہترین تصنیفات ہیں۔ آپ نے ایسے فنون پر کتابیں تحریر کیں کہ بعد کے لوگ ان فنون میں آپ سے استفادہ کرنے والے ہیں۔ خلقِ کثیر نے ان سے احادیث روایت کی ہیں اور علما ان کی ثقاہت، سچائی اور ایمان داری پر متفق ہیں۔ <h4> تصنیفات:</h4> آپ کی تصانیف بہت زیادہ ہیں۔ سیر اعلام النبلاء میں ابجد حروف کے لحاظ سے آپ کی تصنیفات مذکور ہیں، جو چار سو چار ۴۰۴ سے زائد ہیں، کچھ لوگوں نے اس سے بھی زائد لکھا ہے، لیکن یہ ہماری کم نصیبی ہے کہ بہت کم کتابیں مطبوعہ ہیں۔ ان میں سے چند یہ ہیں ۔ (۱)قضاء الحوائج(۲) حسن الظن(۳) الحکم(۴) الشکر(۵) الاخلاق (۶) الاخوان (۷)الامر بالمعروف(۸) الاضحیہ(۹) اعلام النبوۃ(۱۰) انزال الحاجۃ باللہ(۱۱)العقوبات(۱۲) الخمول (۱۳)الفرج بعد الشدۃ (۱۴)من عاش بعد الموت۔ وغیرہ وفات: ۲۸۱ھ میں آپ اپنے خالق حقیقی سے جاملے، آپ کی نماز جنازہ امام قاضی یوسف بن یعقوب نے پڑھائی اور بغداد میں شونزیہ نامی جگہ پر مدفون ہوئے اور مرجع خلائق ہیں۔ ؎ ابر رحمت ان کے مرقد پر گہر باری کرے نوٹ:یہ مختصرمعلومات کتاب سیر اعلام النبلاء از ص:۳۹۷تا۴۰۳ جلد ۳/اور اس کتاب کے ’’ترجمۃ المصنف‘‘ سے ماخوذ ہے۔   مزید مطالعہ کریں <a href="https://urdu.masailworld.com/%d8%ac%d9%86%d8%a7%d8%aa%d9%88%da%ba-%da%a9%d9%88-%d8%a7%db%8c%d8%b5%d8%a7%d9%84-%d8%ab%d9%88%d8%a7%d8%a8-%da%a9%d8%b1%d9%86%d8%a7-%da%a9%db%8c%d8%b3%d8%a7-%db%81%db%92/">جناتوں کو ایصال ثواب کریں</a>   <p style="text-align: center;"><strong>سوانح نگار : مولانا اظہر علیمی</strong></p>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...