Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #317 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 9.5K Views

متیمم کا سوتے ہوے پانی پر گزر ناقض وضو نہیں | تیمم کے مسائل

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

متیمم کا سوتے ہوے پانی پر گزر ناقض وضو نہیں | تیمم کے مسائل

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

متیمم کا سوتے ہوے پانی پر گزر ناقض وضو نہیں

السلام علیکم و رحمۃ اللہ علیہ

سوال : مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص حالت تیمم سواری پر سوتے ہوے پانی کے پاس سے گزر جاے تو اس کا تیمم ٹوٹ جائیگا یا نہیں جواب عنایت فرمائیں مع حوالہ کرم ہوگا۔

المستفتی:محمد ارشد القادری غازی آباد

وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوہاب :

                    پانی کے قریب سے سوتے ہوے گزنا ناقض تیمم نہیں تیمم حدث کا ہو یا جنابت کا گزرنے والا سوار ہو یا پیدل البتہ نیند اس حد کی ہے جس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے تو حدث کا تیمم ٹوٹ جاےگا نیند کے سبب نہ کہ پانی کے پاس سے گزرنے کے سبب۔

ہندیہ میں ہے “ﻭﻟﻮ ﻣﺮ ﺑﻤﺎء ﻭﻫﻮ ﻧﺎﺋﻢ ﻓﺎﻷﺻﺢ ﺃﻧﻪ ﻻ ﻳﻨﺘﻘﺾ ﻋﻨﺪ اﻟﻜﻞ ﻛﺬا ﻓﻲ اﻟﺰاﻫﺪﻱ” (ج١،ص٣٠)

بہار شریعت میں ہے “پانی کے پاس سے سوتا ہوا گذرا تیمم نہیں ٹوٹا ہاں اگر تیمم وُضو کا تھا اور نیند اس حد کی ہے جس سے وُضو جاتا رہے تو بیشک تیمم جاتا رہا مگر نہ اس وجہ سے کہ پانی پر گذرا بلکہ سو جانے سے اور اگر اونگھتا ہوا پانی پرگذرا اور پانی کی اطلاع ہو گئی تو ٹوٹ گیا ورنہ نہیں”(ح٢،ص٣٦٤)۔

واللہ تعالی اعلم

کتبہ : مفتی شان محمد المصباحی القادری | ٢١جولائی٢٠١٩

Kutubahu & Verified by:

<h2 style="direction: rtl;">متیمم کا سوتے ہوے پانی پر گزر ناقض وضو نہیں</h2> <p style="direction: rtl;">السلام علیکم و رحمۃ اللہ علیہ</p> <p style="direction: rtl;"><strong>سوال : مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص حالت تیمم سواری پر سوتے ہوے پانی کے پاس سے گزر جاے تو اس کا تیمم ٹوٹ جائیگا یا نہیں جواب عنایت فرمائیں مع حوالہ کرم ہوگا۔</strong></p> <p style="direction: rtl;">المستفتی:محمد ارشد القادری غازی آباد</p> <p style="direction: rtl;">وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ</p> <h3 style="direction: rtl;">الجواب بعون الملک الوہاب :</h3> <p style="direction: rtl;">                    پانی کے قریب سے سوتے ہوے گزنا ناقض تیمم نہیں تیمم حدث کا ہو یا جنابت کا گزرنے والا سوار ہو یا پیدل البتہ نیند اس حد کی ہے جس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے تو حدث کا تیمم ٹوٹ جاےگا نیند کے سبب نہ کہ پانی کے پاس سے گزرنے کے سبب۔</p> <p style="direction: rtl;">ہندیہ میں ہے "ﻭﻟﻮ ﻣﺮ ﺑﻤﺎء ﻭﻫﻮ ﻧﺎﺋﻢ ﻓﺎﻷﺻﺢ ﺃﻧﻪ ﻻ ﻳﻨﺘﻘﺾ ﻋﻨﺪ اﻟﻜﻞ ﻛﺬا ﻓﻲ اﻟﺰاﻫﺪﻱ" (ج١،ص٣٠)</p> <p style="direction: rtl;">بہار شریعت میں ہے "پانی کے پاس سے سوتا ہوا گذرا تیمم نہیں ٹوٹا ہاں اگر تیمم وُضو کا تھا اور نیند اس حد کی ہے جس سے وُضو جاتا رہے تو بیشک تیمم جاتا رہا مگر نہ اس وجہ سے کہ پانی پر گذرا بلکہ سو جانے سے اور اگر اونگھتا ہوا پانی پرگذرا اور پانی کی اطلاع ہو گئی تو ٹوٹ گیا ورنہ نہیں"(ح٢،ص٣٦٤)۔</p> <p style="direction: rtl;">واللہ تعالی اعلم</p> <p style="direction: rtl;"><strong>کتبہ : مفتی شان محمد المصباحی القادری | ٢١جولائی٢٠١٩</strong></p>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...