Verified guidance Authentic Islamic guidance, thoughtfully organised for everyday life.
Verified Hanafi Fiqh

شہوت کے ساتھ منی نکلنے سے غسل فرض ہے خواہ سوتے میں نکلے یا بیداری میں

شہوت کے ساتھ منی نکلنے سے غسل فرض ہے خواہ سوتے میں نکلے یا بیداری میں
Reference 321 September 18, 2025 10,074 views
اصل سوالشہوت کے ساتھ منی نکلنے سے غسل فرض ہے خواہ سوتے میں نکلے یا بیداری میں

شہوت کے ساتھ منی نکلنے سے غسل فرض ہے خواہ سوتے میں نکلے یا بیداری میں

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

سونے کی حالت میں احتلام ہونے والا تھا کہ وہ اٹھ گیا تب ہوا لیکن نہ اس کے کپڑے پر لگا اور نہ ہی اسکے بدن کے کسی حصے پر پر لگا تو کیا وہ شخص پاک ہے یا ناپاک حوالے کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں۔

المستفتی:حافظ عبدالمالک یاقوت گنج فرخ آباد یوپی

وعلیکم السلام و رحمۃاللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوہاب :

سوتے یا جاگتے میں شہوت کے ساتھ منی نکلنے سے غسل فرض ہوجاتا ہے۔ وجوب غسل کیلئے منی کے بدن یا کپڑے میں لگنے کا کچھ دخل نہیں لہذا وہ شخص ناپاک ہوگیا اس پر غسل فرض ہے۔

ہدایہ میں ہے”ﻭاﻟﻤﻌﺎﻧﻲ اﻟﻤﻮﺟﺒﺔ ﻟﻠﻐﺴﻞ ﺇﻧﺰاﻝ اﻟﻤﻨﻲ ﻋﻠﻰ ﻭﺟﻪ اﻟﺪﻓﻖ ﻭاﻟﺸﻬﻮﺓ ﻣﻦ اﻟﺮﺟﻞ ﻭاﻟﻤﺮﺃﺓ ﺣﺎﻟﺔ اﻟﻨﻮﻡ ﻭاﻟﻴﻘﻈﺔ”(ہدایہ،ج1،ص19)۔

ہندیہ میں ہے “ﺇﺫا اﺣﺘﻠﻢ ﺃﻭ ﻧﻈﺮ ﺇﻟﻰ اﻣﺮﺃﺓ ﻓﺰاﻝ اﻟﻤﻨﻲ ﻋﻦ ﻣﻜﺎﻧﻪ ﺑﺸﻬﻮﺓ ﻓﺄﻣﺴﻚ ﺫﻛﺮﻩ ﺣﺘﻰ ﺳﻜﻨﺖ ﺷﻬﻮﺗﻪ ﺛﻢ ﺳﺎﻝ اﻟﻤﻨﻲ ﻋﻠﻴﻪ اﻟﻐﺴﻞ ﻋﻨﺪﻫﻤﺎ ﻭﻋﻨﺪ ﺃﺑﻲ ﻳﻮﺳﻒ ﻻ ﻳﺠﺐ ﻫﻜﺬا ﻓﻲ اﻟﺨﻼﺻﺔ”(ج١، ص١٤)۔

بہار شریعت میں ہے”کسی کو خواب ہوا اور مَنی باہرنہ نکلی تھی کہ آنکھ کُھل گئی اور آلہ کو پکڑ لیا کہ مَنی باہر نہ ہو پھر جب تُندی جاتی رہی چھوڑ دیا اب نکلی تو غُسل واجب ہوگیا”(ج٢، ص٣٢٢)۔

واللہ تعالی اعلم

کتبہ : مفتی شان محمدالمصباحی القادری | ٢٥اکبوتر٢٠٢٠

D
Answered and reviewed by Darul Ifta Scholar Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.

Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.